4

علم عمل کا متقاضی ہے

انسان کی شخصیت،اخلاق،سیرت اور کردار کی تعمیر وتشکیل میں نمایاں اور اہم رول اس کی تعلیم و تربیت کا ہو تا ہے ۔علم کی تعریف یا اس کے اوصاف کا احاطہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے۔ علم کے ذریعے انسان کو اخلاقی بلندی ملتی ہے۔ خیالات میں پاکیزگی آتی ہے۔ کردار کی پختگی حاصل ہوتی ہے۔ سیرت میں نکھار پیدا ہوتا ہے۔ مزاج میں نرمی پیدا ہوتی ہے۔ انداز میںشائستگی رونما ہوتی ہے۔ تعلیم ایک اچھے شہری کی پہچان عطا کرتی ہے۔ زندگی کو سنوارتی۔ غور و فکر پروان چڑھتا ہے ۔ اپنے خاکی ہونے کا احساس ہمہ وقت رہتا ہے ۔خدا تعالیٰ کی بزرگی کا اعتراف اور جواب دہی کا خوف پیدا ہوتا ہے۔ تعلیم کا مقصد ذہنی، جسمانی اور روحانی ارتقاء حاصل کرنا ہے۔جنگ بدرمیں جنھوںنے فدیہ دیا۔ انھیںرہا کر دیا گیا۔ جوفدیہ نہیں دے سکے انھیں محمدؐ نے مسلمانوں کوعلم سکھانے کی سزا سنائی ۔ اس واقعہ سے علم کی اہمیت کا بہ خوبی اندازہ ہوتاہے۔

پہلے نبی آدم ؑ کو اللہ نے ساری چیزوں کے نام سکھائے ۔خاتم المرسلین محمد ﷺ کو مبعوث کیا تو انھیں مخاطب کرنے والاپہلا جملہ تھاـ ۔اقراء بسم ربک (العلق:۱) ’’ پڑھ اپنے رب کے نام سے ‘‘ حدیث پاک ہے: ’’ہر مسلمان مرد و عورت پر علم حاصل کرنا فرض ہے ۔‘‘ (ابن ماجہ:) قرآن و حدیث کی تعلیم اصل علم ہے لیکن ذریعہ معاش کو بھی علم کا ہی نام دیا گیا ہے ۔ اس لیے اس کی اہمیت بھی اپنی جگہ مسلّم ہے۔ علم حاصل کرنا فرض ہے تو گویا عبادت ہے۔خدا نے اپنے نبیؐ کو جس نظام حیات کی تعلیم دی وہ سراسر انسانوں کے لیے راہ ِ نجات ہے۔آج بھی علم کا وہی مقام ہے مگر چند مفاد پرست طبقوں نے اس کی ہیئت بگاڑ دی ہے ۔اس کے مقاصد میں ملاوٹ کر دی ہے ۔تاریخ شاہد ہے کہ جنھوں نے علم کا مقصدحصول دولت بنایا ۔ ان کی موت کے سا تھ ہی ان کا نام و نشان جہاں سے مٹ گیا۔جن کے حصولِ علم کا مقصد اخلاق و کردار کی تعمیر ،ذہنی وُسعت، معاشرے کی فلاح و بہبودی اور شخصیت کا ارتقاء تھا۔ وہ آج بھی اپنے بلند کارناموں کی و جہ سے د رخشاں ہیں ۔

Knowledge Explosion نے علوم کے مختلف فیلڈ قائم کئے ہیں ۔ روز نئے نئے ایجادات انسانی عقل کو متحیر کر رہی ہیں۔ اپنی فیلڈ کا انتخاب نہایت آسان ہو گیا ہے۔ اس میں مسلمانوں نے بھی نمایاں مقام حاصل کیا ہے ۔بالخصوص مسلم لڑکیاں جس قدر تعلیمی میدان میں سرگرم نظر آتی ہیں شاید پہلے ایسا کبھی نہ ہوا ہو۔ لڑکیوں میں جہاں تعلیمی بیداری آئی ہے۔ وہیں ان کے اندر مساوات اور مسابقت کا جذبہ بھی پیدا ہوا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی خود مختاری اور خود سری نے بھی اپنا سر اٹھایا ہے۔ تعلیم حاصل کرنا اگرچہ ایک بڑی ضرورت اور اچھی بات ہے مگر اس کا مقصد یکسر تبدیل کر دینا درست نہیں ہے۔ لڑکیاں بے شک اعلیٰ ومعیاری تعلیم حاصل کریں۔ ہنر سے آراستہ ہوں۔ خود کفیل بنیں۔ ضرورت پڑنے پر گھر والوں کی بھی کفالت کر سکیں مگر تعلیم کا مقصد خدارا حصول دولت نہ بنائیں۔ اس بات کو خاطر میں لائیں کہ معیاری تعلیم حا صل کرا علی عہدے پر فائز ہوں گی۔ ڈاکڑ، پروفیسر، پائلٹ، انجینئر، آئی ٹی فیلڈ، Compitition غرض کوئی فیلڈ ہو ہم سے خالی نہ ہو۔ اس کے ذریعے اپنے اخلاق،سیرت و کرداراورشخصیت کا ارتقا ء کریں گی۔ پاکیزہ گھریلو نظام قائم کریں گی ۔ گھر ،معاشرہ ، اور ملت کی خدمت کریں گی۔ اشاعت دین میںاہم رول نبھائیں گی ۔ صنف نازک کے لیے تو علم حاصل کرنا اور بھی ضروری ہے کہ اس کی گود میں قوم پلتی ہے۔ بقول علامہ اقبال ؒ ’’ جس علم سے عورت اپنی خصوصیات کھو دیتی ہے وہ علم نہیں موت ہے۔‘‘

’’ تم میں ہر ایک راعی ہے اور اپنی رعیت کے بارے میں جوابدہ ہے ۔ عورت اپنے شوہر اور اس کے بچوں کی راعی ہے۔‘‘ (بخاری شریف)

نیت میں اخلاص ہوگا تو مقصد میں کامیابی ضرور ملے گی ۔ دنیا و آخرت دونوں سنور جائیں گی۔ انشاء اللہ۔ ہما را ایک مشن ہے ۔ وہ مشن جو انبیاء کرام کا تھا ۔ صحابہ ء کرام کا تھا۔جس میں صحابیات شانہ بہ شانہ ان کے ساتھ تھیں۔اس مشن کی ذمہ داری مرد و زن دونوں پر عائد ہوئی ہے ۔ ہم نے بھی ’’الست بربکم‘‘ کا جواب ’’قالو بلا‘‘ سے دیا تھا۔ اس کی ربوبیت کا اقرار کیا تھا تو اس معاہدہ کو بھی پورا کرنا ہوگا۔ ربِ کائنات نے قرآن پاک پندرہ پارہ مردوں پر اور پندرہ پارہ عورتوں کے لیے نازل نہیں کیا ۔بلکہ پورا کا پورا قرآن دونوں کو یکساں طور پر ملا تو پھر اشاعت دین کے معاملے میں مسلم خواتین خود کوکمزور کیوں سمجھیں ؟

دراصل مغرب پرستی نے ہمیں ذہنی طور پر مفلوج کر دیا ہے ۔ یہ بات ذہن میں گھرّ کر گئی ہے کہ اعلی و معیاری تعلیم سے دولت کی حصولیابی آسان ہو جاتی ہے۔ اس لیے ایسا علم حاصل کریں جس سے زندگی آرام و آسائش سے گزرے۔ ملازمت میں آسانی ہو ۔اسلام دولت کمانے سے قطعی نہیںروکتا مگر اس کو مقصد بنا نا غلط ہے۔ اگر دنیا میں دولت مند اشخاص کی فہرست تیار کی جائے تو سر فہرست حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی ہو ں گے۔خود محمد ﷺ نے فرمایا: ’’مجھے ابو بکر کے مال نے جتنا فائدہ پہنچایا کسی کے مال نے نہیں پہنچایا۔‘‘ یہ بھی یاد رکھیں کہ جب تک ہماری تعلیم کا رشتہ کتاب آسمانی و سنت اور فقہ و شریعت سے نہ وابستہ ہو، اس وقت تک یہ طرز تعلیم ہمارے لیے مفید نہیں ہو سکتا۔اس کی ایک حقیقی مثال ’’ایک فردکی رہنمائی میںتنظیم ریاستی سطح پر نمایاں مقام حاصل کرتی ہے۔رفقا انھیںمبارک باد دے رہے ہیں۔ دوسر ا فرد کہتا ہے۔ Tallentوہاں دکھانا چاہئے جہاں پیسہ ملتا ہو۔‘‘ یہ ہے چودہ سالہ جدید تعلیم کا حاصلـ۔

قرآن پاک میں اللہ رب العزت اپنے بندوں کو مخاطب کرتے ہیں۔

’’اے ایمان والوں ! تم اپنے آپ کی حفاظت کرو ، کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی گمراہ تم کو ہدایت پانے کے بعد نقصان پہنچا دے ۔‘‘ ( المائدہ : ۰۵ا)

ایسی خواتین و لڑکیاں جو معاشی تنگی میںمبتلا ہوںیا کمانے والا صرف ایک ہو اور افراد زیادہ ہوں ۔وہ گھریلو نظام کو چلانے کے لیے ملازمت کر سکتی ہیں ۔اس بات کی اجازت اسلام دیتا ہے ۔ بلکہ اس میں اجر و ثواب بھی ہے۔لیکن والدین کی اجازت اور اسلامی شعائرکی پابندی کے ساتھ۔ اُم المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی مثال ہمارے سامنے ہے ۔ جو مسلم خواتین کے لیے بہترین نمونہ ہیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ جن سے صحابہء کرام فقہ و مسائل دریافت کرنے جاتے تھے ۔وہ بھی علم ہی تھا۔ جن کو اللہ نے ساری ضروریات کی چیزیں دے رکھی ہوں۔ اُن خواتین و لڑکیوں کا محض شوق یا وقت گزاری کے لیے ملازمت کرناکسی بھی نکتے سے جائز نہیں۔ یہ شوق اور فرصت کا استعمال ایسا بوال کھڑا کرتا ہے کہ معاشرہ پراگندہ ہو کر رہتا ہے۔ ایسا فتنہ جنم لے گا جو اپنوں سے دور کر دے گا۔ جس کا حاصل ذلت و رسوائی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اس وقت پچھتانے کا موقع بھی نہیں ملتا ہے۔آپ اللہ کی رحمت ہیں۔رحمت کو زحمت کہنے کا موقع کسی کو نہ دیں ۔

ایک سوال ایسے لوگوں کا ہو سکتا ہے کہ کیا اتنی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنے وقت اور صلاحیت کو برباد کریں ؟ ہر گز نہیں ۔ آپ کا وقت نہایت قیمتی ہے ۔آپ پر جو ذمہ داری عائد کی گئی ہے وہ بھی بہت بڑی ہے۔ بیک وقت آپ کو ایک سعادت مند بیٹی، مثالی بہن ، شریکِ راحت و و فا شعاربیوی اور عظیم ماں کا کردار نبھانا ہے ۔سب سے بڑی بات اسلام کو آج آپ کی سخت ضرورت ہے ۔ آپ سے اسلام ایک تقاضا کر رہا ہے اسے پورا کریں ۔ دین اسلام کو Man Power کے ساتھ Money Powerکی بھی اشد ضرورت ہے۔ وقت کا اس سے بہترین استعمال اور کیا ہو سکتا ہے؟ دینی کاموں اور تبلیغ اسلام میں خود کو مصروف و مشغول رکھیں۔ چند نکات پیش ہیں۔

٭ گھر اور پڑوسیوں کے بچوں کو عربی و اردو کی تعلیم دیں۔

٭ گھر پر Computer اورInternet ہو تو بڑوں اور بچوں کو بقدر ضرورت اس کی تعلیم دیں ۔

٭Art & Craft کی ٹریننگ دے سکتی ہیں۔

٭ خواتین و طالبات کے درمیان بلا سودی ٹرسٹ قائم کر سکتی ہیں ۔

٭ خواتین و طالبات کے درمیان First Aidکی تعلیم دے سکتی ہیں بالخصوص میڈیکل کی طا لبات۔

٭اجتماعات کا باقاعدگی سے نظم کریں۔

٭ جن کا حلقہ وسیع ہے وہ خصوصی طور پر غیر مسلم بہنوں میں کام کریں۔

٭ اپنے سرکل میں (پکوان پر)Dish Compitition کر سکتی ہیں ۔

٭ مطالعہ پر وقت صرَف کریں۔

٭ مضمون نویسی کے ذریعے بھی اشاعت دین کا کام انجام دیا جا سکتا ہے۔٭ یتیم بچوں اور بیوائوں کی خدمت بھی ضروری ہے ۔

٭ بازار میں ایسی کتابیں دستیاب ہیں جو Self Deffenceکے طریقے بتاتی ہیں ۔ بچیوں کو اس کی ٹریننگ دے سکتی ہیں۔

٭ ہر ماہ کم از کم ایک بارget together پروگرام یا گشتی پروگرام ضرور کریں۔

ایسی خواتین و لڑکیاں جو گھر اور باہر کی ذمہ داری سنبھال رہی ہوتیں ہیں ۔ ڈیپریشن کا شکا ر ہوتی ہیں ۔ ہر وقت ٹینشن میں مبتلا رہتی ہیں۔ان کی گھریلو زندگی متاثر ہوتی ہے۔شوہر اور گھر والوں سے ناچاقی رہتی ہے۔ ان سب کا برُا اثر ان کے معصوم بچوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔ وہ والدین کی غیر موجودگی میں چڑچڑے ہو جاتے ہیں ۔اپنی من مانی کرتے ہیں ۔ بڑوں کی روک ٹوک برداشت نہیں کرتے۔نتیجتاً بد تمیز،بد زبان اور بدادبی میں ان کا نام شمار کیا جاتا ہے ۔ بچے ماں کی محبت سے محروم ہو جاتے ہیں۔ یہ محرومی ان میں احساس کمتری پیدا کرتی ہے،۔۔۔ ۔

دراصل مسلم خواتین کو ترقی کے خواب دکھا کر تنزلی کا شکار بنایا جا رہا ہے تو انھیں ہی آگے بڑھ کر اس تنزلی کامنھ توڑ جواب دینا ہوگا۔کہنا ہوگا کہ ہماری جو شناخت اسلام نے ظاہر کر دی ہے ہم وہی بنیں گی۔ آزادی ء نسواںاور حقوق ِنسواں جیسے کھوکھلے نعروں سے ہم اپنی جنت چھوڑ کر جہنم کی راہ نہیں چلیں گی۔تمہاری ترقی ، تمہاری آزادی، تمہاری تہذیب، تمہاری ذہن سازی ،تمہاری کامیابی اور تمہاری سازش کا حصہ ہم نہیں بننے والی۔ ان سے کہہ دیجئے کہ ’ ہم بیٹیاں اسلام کی‘۔

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر ناز آفرین (رانچی یونیورسٹی، رانچی)

تبصرہ کیجیے