توہمات کا شکار معاشرہ

مجھے کچھ ضروری خریداری کرنا تھی۔ اکیلے پن کے خیال سے میں نے اپنی پڑوسن کو ہمراہ لے لیا۔ ابھی ہم چند قدم ہی آگے بڑھے ہوں گے کہ اچانک سامنے سے ایک کالی بلی آگئی۔ میری پڑوسن نے استغفار پڑھا اور وہیں رک گئیں۔ میں نے حیرت سے انہیں دیکھا۔

’’بھئی آج کا پروگرام ملتوی ہی کر دو تو بہتر ہے۔‘‘ انہوں نے فکر مندی سے کہا:

’’مگر کیوں۔‘‘ میں نے دریافت کیا۔

’’ارے بھئی کالی بلی جو راستہ کاٹ گئی ہے۔ یہ اچھا شگون نہیں ہوتا۔ خدانخواستہ ہم راستے میں کسی مصیبت میں نہ پھنس جائیں۔‘‘

’’مگر خالہ یہ سب تو جہالت کی باتیں ہیں۔‘‘ میں نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی۔

’’نہ بھئی تم اپنی علمیت اپنے پاس ہی رکھو، میں تو چلی گھر واپس۔‘‘ انہوں نے قطعی انداز میں کہا اور واپس مڑ گئیں اور میں ہکا بکا انہیں دیکھتی رہ گئی۔

یہ کوئی ایک واقعہ نہیں۔ ہماری روز مرہ زندگی ایسے ان گنت واقعات سے بھری پڑی ہے۔ حقیقت میں زمانہ جہالت کی باتیں ہیں جب وہ لوگ بت پرستی میں مبتلا تھے۔ دین اسلام پوری طرح پھیلا نہ تھا اور لوگوں کا عقیدہ شرک پر تھا۔ انہوں نے فرضی اور من گھڑت باتیں نہ صرف سوچ رکھی تھیں بلکہ سختی سے ان پر عمل پیرا بھی ہوتے تھے کہ فلاں وجہ سے فلاں کام خراب ہوگیا۔ ان کی زندگی کے اہم فیصلے ان توہمات کے بل بوتے پر ہی ہوتے تھے۔ ان کے نزدیک تقدیر یا مشیت خداوندی کی کوئی اہمیت نہ تھی۔ لوگوں کو شعور نہ تھا اور اس وقت کے پس منظر میں یہ باتیں کسی حد تک زیب دیتی ہیں۔

مگر آج کے مادی دور میں لوگ تعلیم یافتہ اور باشعور ہیں، جدید ٹکنالوجی میں سانس لے رہے ہیں۔ ایمان کی روشنی سے ان کے دل و دماغ منور ہیں، لیکن پھر بھی سینکڑوں توہمات کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے ہوئے ہیں اور ان پر عمل پیرا ہیں۔ ایسا صرف مشرقی معاشرے میں ہی نہیں بلکہ مغربی دنیا کے ترقی یافتہ ممالک بھی ان توہمات کی زد سے باہر نہیں اور وہاں کے لوگ بھی بہت سے اوہام کا شکار ہیں۔ مثال کے طور پر تیرہ کا ہندسہ، جسے مغربی ممالک میں منحوس تصور کیا جاتا ہے اور حتی الامکان کوشش کی جاتی ہے کہ عملی زندگی میں کسی طور پر تیرہ کے ہندسے سے سامنا نہ ہو۔

اکثر لوگ آنکھ پھڑکنے کو اچھی یا بری بات سے تعبیر کرتے ہیں۔ وہ دائیں آنکھ پھڑکنے سے خوف زدہ اور غمگین ہوجاتے ہیں کیوں کہ لوگوں کے خیال میں دائیں آنکھ کا پھڑکنا برا شگون ہے۔ کوئی بری خبر سننے میں آتی ہے یا کوئی ناخوشگوار حادثہ پیش آتا ہے اور اگر بائیں آنکھ پھڑکے تو سمجھتے ہیں کہ کوئی نہ کوئی خوشی کی خبر منتظر ہوگی۔ اس طرح بعض لوگ کہتے ہیں کہ برتن ٹوٹنے پر افسوس نہیں کرنا چاہیے کیوں کہ اس طرح آنے والی بلا ٹل جاتی ہے۔

عموماً ان تمام توہمات کو بڑے بوڑھوں سے منسوب کیا جاتا ہے کہ فلاں کام نہیں کرنا چاہیے کیوں کہ بڑے بوڑھے منع کرتے ہیں لیکن ان بڑے بوڑھوں کے دماغ میں یہ باتیں آئیں کہاں سے؟ کہا جاتا ہے کہ یہ سب یہ باتیں ہندو تہذیب و معاشرے سے مسلم سماج میں آتی ہیں۔ سماجی زندگی میں ان سے قربت کے نتیجے میں مسلمانوں نے بھی ہندوؤں کی ثقافت، ان کی رسوم و رواج اور بہت سے طور طریقے اپنا لیے ہیں۔ ان کی روز مرہ زندگی میں ہندوانہ توہمات کا عمل دخل بڑھتا گیا اور اوہام نسل در نسل منتقل ہوتے رہے۔ آج دنیا چاند پر پہنچ چکی ہے لیکن لوگ چھوٹی چھوٹی بے جان چیزوں پر اپنی تقدیر کا انحصار کیے بیٹھے ہیں۔

نفسیات کے ایک پروفیسر کہتے ہیں کہ زیادہ تر توہمات کم عقلی اور کم علمی کی پیداوار ہیں اور اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انسان کے اندر ہمیشہ ایک خوف پوشیدہ ہوتا ہے۔ یہ خوف اسے مختلف وہموں میں مبتلا کرتا ہے، لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگوں کی اخلاقی تربیت ہو، انہیں مذہبی شعور ہو اور ان کا ایمان مضبوط ہو کیوں کہ ایمان کے ڈگمگانے ہی سے غلط قسم کے عقائد جنم لیتے ہیں۔

بہت سے لوگ دنوں کو بھی مختلف خانوں میں بانٹتے ہیں۔ کوئی دن اچھا تو کوئی دن برا۔ ایک دن کسی کام کا ہونا باعث غم تو کسی کام کا ہونا باعث خوشی ہوتا ہے۔ کئی گھرانوں میں اس بات پر بڑی سختی سے عمل کیا جاتا ہے۔ ان تمام باتوں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ ایک مسلمان کا ایمان ہے کہ موت اور زندگی، خوشی اور غم صرف خدا کے اختیار میں ہے، لیکن اس کے باوجود لوگ توہمات کے اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں۔ ان کے ارادے اور عقیدے کمزور ہیں اور وہ کوئی بات عقل اور حقیقت کی کسوٹی پر نہیں رکھتے۔

ایک نہایت افسوس ناک پہلو یہ بھی ہے کہ بہت سے گھرانوں میں شادی کی رسموں میں کسی بیوہ کو شریک ہونے کا موقع نہیں دیا جاتا اور کہا جاتا ہے کہ اس کی نحوست کا سا یہ نئی دلہن پر پڑے گا تو اس کا سہاگ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ بیوہ ہونے میں اس بے چاری کا اپنا کیا قصور ہے۔ کیا اس نے خود یہ سب کیا ہے؟ آخر اس سے نفرت کا سبب کیا ہے حالاں کہ ہمارے مذہب میں بیوہ سے شادی کرنا سنت اور ثواب کا کام ہے۔

توہمات کا سبب انسان کی ضعیف الاعتقادی ہے جو بے یقینی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے، لہٰذا جس معاشرے میں بے یقینی اور ضعیف الاعتقادی ہوگی وہاں توہمات کو ابھرنے کا موقع ملے گا۔

دراصل جب بھی کوئی معاشرہ توازن اور فطری اصولوں سے دور ہوتا ہے تو وہاں کے افراد بے یقینی میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ بے یقینی کی دوسری وجہ مادی آسائشوں کے حصول کی دوڑ ہے، جس کی وجہ سے فرد کی کردار سازی پر توجہ کم ہوگئی ہے۔ آج کے والدین اولاد کو تمام آسائشیں تو مہیا کردیتے ہیں مگر اخلاقی تربیت پر بہت کم توجہ دیتے ہیں لہٰذا ان کی شخصیت کی تعمیر نہیں ہو پاتی اور ان کا ایمان کمزور ہو جاتا ہے۔ یہیں سے غلط عقائد جنم لیتے ہیں۔

اوہام پرستی ہمارے معاشرے کی جڑوں میں پھیلی ہوئی ہے اور لوگوں نے اسے اپنی زندگی کا حصہ بنا رکھا ہے۔ بہت سے خیالات انسان کو خوش فہمی میں مبتلا کردیتے ہیں او ران میں اکثر سمجھ دار اور پڑھے لکھے لوگ بھی وقتی طور پر مبتلا ہوجاتے ہیں۔ تو بہتر ہے کہ ان سب توہم پرست خیالات سے بچا جائے تاکہ ہمارا معاشرہ ان برائیوں سے پاک رہے۔

شیئر کیجیے
Default image
زہرہ ایوب