رسولِ پاکؐ کا اسلوبِ گفتگو

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تعلیم و تربیت لاثانی و لازوال ہے۔ ان کا انداز کلام واضح اور صاف تھا اور یوں ٹھہر ٹھہر کر مخاطب ہوتے کہ اگر کوئی چاہتا تو ایک ایک لفظ گن سکتا تھا اور وہ دل میں اترتے جاتے تھے۔ آواز نہ اتنی پست رکھتے کہ سننے میں دشواری ہو اور نہ اتنی بلند کہ سماعت پر گراں گزرے۔

اس کے ساتھ ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تعلیم و تربیت انتہائی مشفقانہ بھی تھا۔ حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ میں دس سال حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہا لیکن ایک بار بھی آپ نے نہ مارا، نہ ڈانٹا اور نہ ہی جھڑکا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ بچوں پر شفقت اور بڑوں کا ادب کرنے کا درس دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اندازِ کلام اور طریقۂ تعلیم کی چند خصوصیات کا تذکرہ درج ذیل ہے:

مختصر اور جامع انداز

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تعلیم قرآن پاک سے ملتا جلتا ہے۔ اور قرآن پاک میں بھی یہ فرمایا گیا کہ آپ وہی بات آگے پہنچاتے ہیں جس کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کی جاتی ہے۔ قرآن عظیم الشان کا انداز بھی مختصر اور جامع ہے۔ خصوصاً ابتدائی سورتیں انتہائی مختصر تھیں اور چھوٹی چھوٹی آیات پر مشتمل تھیں۔ اس طرح آپﷺ کی تعلیمات بھی بہت مختصر ہیں لیکن تشنگی بھی محسوس نہیں ہوتی اور کوزے میں دریا سمو دیا گیا ہے۔ مثلاً بلغو عنی ولو آیۃ ’’میری بات آگے پہنچاؤ چاہے ایک آیت ہی کیوں نہ ہو۔‘‘ الصدق ینجی والکذب یہلک ’’سچائی نجات دلانے والی اور جھوٹ ہلاکت میں ڈالنے والا ہے۔ بعض احادیث تو محض دو یا تین الفاظ پر مشتمل ہیں مثلاً: العلم سلاحی ’’علم میرا ہتھیار ہے۔‘‘ الجہاد خلقی ’’جہاد میری خصلت ہے۔‘‘ الحب اساسی ’’محبت میری بنیاد ہے وغیرہ۔

امثال و تمثیل

قرآنِ کریم میں جگہ جگہ مثالیں دے کر بات کو سمجھایا اور واضح کیا گیا ہے۔

اللہ کی راہ میں صدقہ دینے کی مثال یوں بیان کی ہے کہ اسے اللہ اس طرح بڑھاتا ہے جیسے ایک دانہ سے ایک پودا نکلتا ہے۔ اس کی سات بالیں ہوتی ہیں اور ہر بال پر سودانے اگتے ہیں۔ اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنی بات مثالوں سے واضح فرماتے۔ کیوں کہ یہ طریقہ تعلیم انتہائی عام فہم ہے اور مثال سے بات سمجھانے میں جہاں آسانی ہوتی ہے وہاں سمجھنے میں بھی سہولت ہوتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا کہ میری مثال ایسی ہے کہ جیسے کسی شخص نے آگ لگائی ہو اور اس سے ماحول روشن ہوگیا ہو، تاہم اس میں پروانے گر رہے ہوں وہ لپک لپک کر پروانوں کو آگ میں گرنے سے بچا رہا ہے۔ لیکن وہ ہیں کہ گر رہے ہیں۔ اسی طرح میں تمہیں کمر سے پکڑ پکڑ کر آگ سے دور لے جا رہا ہوں لیکن تم ہو کہ اس میں گر رہے ہو۔ اسی طرح ختم نبوت کے بارے میں کہا کہ میری اور دیگر پیغمبروں کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے انتہائی خوب صورت عمارت بنائی ہو لیکن اس میں ایک اینٹ کی جگہ باقی ہو۔ میرے آنے سے یہ اینٹ عمارت میں لگ گئی اور وہ عمارت مکمل ہوگئی، لہٰذا میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

پوائنٹس کا استعمال

نبیؐ اپنی بات سامع کے سامنے پوائنٹس وار رکھتے تھے کہ وہ اس کے ذہن میں ترتیب وار سما جائیں اور وہ بھول نہ سکے۔ اسی طرح دوران گفتگو اعداد کا استعمال فرماتے۔ مثلاً دو باتیں منافق میں پیدا نہیں ہوسکتیں حسن اخلاق اور دین کی سمجھ۔ پھر فرمایا کہ منافق کی تین نشانیاں ہیں۔ اس طرح یہ بھی کہا کہ پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو۔ ایک اور حدیث میں فرمایا کہ مجھے میرے رب نے دس باتوں کا حکم دیا ہے۔ فرمایا دو کلمے زبان پر تو بہت آسان ہیں لیکن ترازو میں سب سے زیادہ بھاری ہیں۔ یہ بھی فرمایا جو مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ اس پر دس مرتبہ رحمت بھیجتا ہے۔ ایک اور حدیث میں فرمایا کہ جس نے پانچ چیزوں کی توہین کی وہ پانچ چیزوں سے محروم رہا وغیرہ۔

دلکش اندازِ بیان

بیان کی دل کشی و رعنائی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو سے واضح ہوتی۔ بعض جگہ تو یہ انتہا تک پہنچی ہوئی نظر آتی ہے مثلاً :

٭ بخیل اللہ سے دور، لوگوں سے دور، جنت سے دور اور جہنم کے قریب ہے جب کہ سخی اللہ کے قریب، لوگوں کے قریب، جنت کے قریب اور جہنم سے دور ہے۔

٭مومن کا چہرہ ہشاش بشاش مگر دل غمگین رہتا ہے۔

٭ میں عیش و سہولت کی زندگی کیسے گزاروں جب کہ اسرافیل علیہ السلام صور منہ میں لے کر، کان لگائے، سر جھکائے انتظار کر رہے ہیں کہ کب صور پھونکنے کا حکم ہوتا ہے۔

٭ رحمت کسی سے چھینی نہیں جاتی مگر اس سے جو بدبخت ہو۔

٭ تم لوگ جنت میں جا نہیں سکتے، جب تک مومن نہیں بنتے اور تم مومن نہیں بن سکتے، جب تک باہم محبت نہ کرو۔ کیا میں تمہیں وہ تدبیر نہ بتاؤں جس سے تم آپس میں محبت کرنے لگو۔ آپس میں سلام کو پھیلاؤ۔

٭ حیا ایمان کا پھل ہے اور ایمان جنت میں لے جائے گا۔

٭ پہلوان وہ نہیں جو حریف کو پچھاڑ دے بلکہ پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت نفس کو قابو میں رکھے۔

سوالات

سمجھنے سمجھانے کے عمل میں سوال کی اہمیت سے کسے انکار ہے۔ طالب علم کا سوال کرنا اس کے ذوق کا عکاس ہوتا ہے اور طالب علم سے سوال کرنے کا مقصد اس کی توجہ حاصل کرنا ہے۔ چناں چہ قرآن و حدیث میں سوال کثرت سے آتے ہیں: ’’کیا تم نے ایسا شخص دیکھا ہے جو روز جزا کو جھٹلاتا ہے؟‘‘ ’’کیا تم نے ایسا شخص دیکھا ہے کہ جسے خواہشات نے باؤلا کر دیا ہے؟‘‘ ’’کیا تم نے دیکھا ہے کہ ہم نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا سلوک کیا؟‘‘ ’’کیا علم والے اور بغیر علم والے برابر ہوسکتے ہیں؟‘‘ وغیرہ۔

اسی طرح رسولِ پاکؐ بھی سوالیہ انداز اپنایا کرتے تھے: ’’کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جس سے تم آپس میں محبت کرنے لگو؟‘‘ آپؐ نے ایک موقع پر پوچھا: ’’جانتے ہو مفلس کون ہے؟‘‘ چناں چہ صحابہ بھی آپؐ کی سنت کے مطابق سوال کیا کرتے تھے اور یہی سوالات علم کے فروغ کا باعث ہوئے اور ان سے ہمارے بہت سے پیچیدہ مسائل حل ہوئے۔

غرض پیارے نبیصلی اللہ علیہ وسلم کا پیارا انداز تعلیم و تربیت ضرور اپنانا چاہیے اور یہ ہر استاد اور طالب علم کے لیے مشعل راہ ہے۔

اندازِ تاکید

قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے بات کو پرزور کرنے کے لیے تکرار اور قسم کا طریقہ استعمال کیا ہے مثلاً: القارعۃ، مالقارعۃ و ما ادراک ما القارعۃ۔ اسی طرح والعصر، والتین والزیتون اسی طرح اللہ کے رسول بھی اپنے ساتھیوں کو متوجہ کرتے، باتوں کو ذہن میں بٹھانے اور تاکید قائم کرنے کے لیے یہی انداز استعمال فرماتے۔ ایک مرتبہ آپ نے فرمایا:

اس کی ناک خاک آلود ہو، اس کی ناک خاک آلود ہو، اس کی ناک خاک آلود ہو۔ تین بار آپ نے جب یہی جملہ فرمایا تو صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ کس کی ناک خاک آلود ہو۔ آپ نے فرمایا: جو بڑھاپے کی حالت میں ماں باپ یا ان میں سے کسی ایک کو پائے اور جنت پکی نہ کرلے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی گفتگو اور اپنے طریقہ کار میں ہمیشہ مخاطب کی سطح اور اس کے فہم کا بھی لحاظ رکھا۔ بچوں سے گفتگو ہلکی پھلکی اور لطیف ہوتی۔ سرداروں اور بڑوں سے آپ ان کے اسلوب زبان میں بات کرتے، جس قبیلہ کے لوگ ہوتے ان کا لہجہ اختیار کرتے۔

اسی بدو اور ان پڑھ لوگوں سے نرمی کے ساتھ عام اور سادہ انداز میں ایسی گفتگو فرماتے کہ ہر کوئی اسے سمجھ لیتا اور گفتگو کا مدعا اور مفہوم اس پر واضح ہو جاتا تھا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
Jamil Sarwer