حجاب کے نام

تعلیم یافتہ ماں

فروری کا حجاب اسلامی ہاتھوں میں ہے۔ سارے ہی مضامین پسند آئے۔ حضورِ پاک ﷺ کی ازدواجی زندگی بہت اچھا لگا۔ اس کے علاوہ باورچی خانہ اور حفظانِ صحت سے متعلق مضمون ہر گھر کے لیے رہ نما اور مفید ہے۔ بچوں میں تعلیمی صلاحیت کی کمی اور اس کا تدارک بہت مفید رہا۔ مذکورہ مضمون پڑھ کر اندازہ ہوا کہ اگر والدین خصوصاً ماں تعلیم یافتہ ہو تو نہ صرف اپنے بچے کی بہتر نگہ داشت کرسکتی ہے بلکہ وہی کمی اور کم زوری کی صورت میں خصوصی توجہ کے ذریعے بچے کی صلاحیت کو پروان چڑھا سکتی ہے۔

ہم اپنے سماج میں دیکھتے ہیں کہ بچوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا جاتا ہے اور والدین یہ شکایت کرتے سنے جاتے ہیں کہ ’’وہ پڑھتا ہی نہیں‘‘، ’’کند ذہن ہے‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ ان لاپرواوالدین کو کون بتائے کہ بچے کا نہ پڑھنا در اصل والدین کی جہالت او ران کی ناکامی ہے۔

ایک تعلیم یافتہ ماں کی گود سے کبھی جاہل نسل نہیں پروان چڑھ سکتی اور ایک تعلیم یافتہ ماں بچے کی تعلیم و تربیت کے محاذ پر عامل اور ناکام نہیں ہوسکتی۔ ضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ خواتین حقیقت میں تعلیم یافتہ ہوں اور بچوں کی تعلیم و تربیت کو اپنی ترجیح تصور کریں۔

غزالہ انجم

مراد آباد (یوپی)

ایک مشورہ

ماہ نامہ حجابِ اسلامی میں کئی سالوں سے بلا ناغہ پڑھ رہی ہوں۔ رسالہ معیاری اور اس قابل ہے کہ ہر مسلم گھر میں اس کو پڑھا جائے۔ رسالہ میں بعض نہایت اہم موضوعات پر رہ نمائی فراہم کی جاتی ہے۔ یہ سلسلہ جاری رکھتے ہوئے اس میں خواتین سے متعلق شرعی احکامات کا خاص سلسلہ شروع کیا جائے تو بہتر ہوگا۔

قانتہ رباح

(بذریعہ ای-میل)

قرآن کی معاشرتی ہدایات

مارچ کا حجاب اسلامی دیکھ کر بہت اچھا لگا۔ ٹائٹل کا نیا انداز خوب ہے۔ ویسے جب سے حجاب کا سائز بدلا ہے رسالہ اور زیادہ جاذب نظر ہوگیا ہے۔

مذکورہ شمارے میں ڈاکٹر ظفر الاسلام اصلاحی صاحب کا مضمون کافی پسند آیا۔ انہوں نے قرآن کی جن معاشرتی تعلیمات کا ذکر کیا ہے اگر ہم انہیں اپنی زندگی میں نافذ کریں تو بہت سارے مسائل خود ہی حل ہو جاتے ہیں۔

امید ہے کہ اس طرح کے دینی موضوعات پر اہل قلم قارئین کی رہ نمائی کرتے رہیں گے۔

شفیق انور (گیا)

(بذریعہ ای-میل)

اسلامی تہذیب

حجابِ اسلامی وقت پر مل رہا ہے۔ مضامین اچھے ہیں۔ رسالہ نے سماجی اور معاشرتی اقدار کو بچانے اور اسلامی تہذیب و ثقافت کو مستحکم کرنے کا جو مشن اٹھایا ہے وہ قابل تحسین ہے۔ اس سلسلے میں گزشتہ مہینے امجد عباس کا مضمون قارئین کو دعوتِ غور و فکر دینے والا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ سائنس و ٹکنالوجی کی تیز رفتار ترقی کے اس دور میں سماجی اقدار و روایات بھی تیزی سے اپنی جگہ چھوڑ رہی ہیں بلکہ ملیامیٹ ہو رہی ہیں۔ مسلم معاشرہ بھی اس کی زد میں ہے۔اور اگر ان حقائق سے لوگوں کو آگاہ نہ کیا گیا تو وہ بھی اس کا شکار ہوجائیں گے۔

ایسے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ محفوظ رکھنے کے لیے اسلام اور اسلامی تہذیب و ثقافت کو مضبوطی سے تھامیں۔ اشرف علی اشرف

پداپلی (کریم نگر)

شیئر کیجیے
Default image
شرکاء