نیند

بے خوابی… خراب صحت کے لیے الارم

ایک سائنسی ریسرچ کے مطابق دنیا کا ہر چوتھا فرد بے خوابی کا شکار ہے تقریباً چالیس فیصد لوگ اپنی نیند سے غیر مطمئن اور پریشان ہیں۔ مردوں کے نسبت عورتیں اس مسئلے سے زیادہ دو چار ہیں۔

نیند کے مسائل کئی صورتوں میں سامنے آتے ہیں:

٭نیند کا دیر سے آنا۔ ٭ سوکر اٹھنے پر بھی تازہ دم محسوس نہ کرنا۔

٭ گہری نیند کا نہ آنا۔

وجوہات

اگر آپ کو نیند صحیح سے نہیں آتی یا مکمل بے خوابی کی شکایت ہے تو اس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں اور ان میں سے اسی فیصد وجوہات نفسیاتی ہیں۔ ایک ریسرچ کے مطابق ۳۵ فیصد لوگ ڈپریشن، مینیا، ٹینشن اور ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔بعض لوگوں کے لاشعوری موت کا خوف ہوتا ہے، یا چوری کا دھڑکا لگا رہتا ہے۔

اس کے علاوہ کوئی لاشعوری کشمکش بھی بے خوابی کا سبب ہوسکتی ہے۔ ماضی کے صدمات بھی نیند کو متاثر کرتے ہیں۔

بعض لوگوں کو ڈراؤنے خواب آتے ہیں جو کبھی یاد رہ جاتے ہیں اور کبھی بھول جاتا ہے۔ اگر ایسی حالت میں آنکھ کھل جائے تو دوبارہ اس خوف سے نیند نہیں آتی کہ کہیں دوبارہ ڈراؤنا خواب نہ آجائے۔

بعض اوقات کسی پریشانی کی وجہ سے نیند نہ آئے مگر بعد ازاں بے خوابی کی عادت بن جاتی ہے۔

اس کے علاوہ بیرونی عوامل مثلاً روشنی اور شور و غل وغیرہ بھی نیند کو متاثر کرتی ہے۔

بے خوابی دور کرنے کے چند اصول

بعض دفعہ نیند ہماری ہی غلط اندازِ زندگی کی وجہ سے روٹھ جاتی ہے۔ یہاں ہم چند ایسی باتوں کے بارے میں بتائیں جو نیند لانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

٭ سونے سے تین گھنٹے قبل سگریٹ، چائے اور کافی نہ پئیں۔ ٭ سونے سے قبل گرم دودھ پی لیں۔ اگر ممکن ہو تو نیم گرم پانی سے غسل کرلیں۔

٭ روزانہ شام کے وقت تھکا دینے والی کوئی ورزش کریں۔ ٭اپنے بستر کو ممکن حد تک آرام دہ بنائیں، کمرے کو روشنی اور شور و غل سے بچائیں۔

٭ سوتے وقت ٹی وی دیکھنا صحت کو خراب کرتا ہے کیوں کہ ہمارا ذہن مصروف رہے گا تو نیند کیسے آئے گی۔ اگر مطالعہ سونے میں مدد دیتا ہے تو کوئی حرج نہیں۔

٭ اگر نیند نہ آئے تو بار بار گھڑی نہ دیکھیں، اس سے آپ کو یہ احساس رہے گا کہ آپ کم سوئے ہیں اور یہ احساس آپ کے ذہن کو تازہ دم نہیں ہونے دے گا۔

٭ صبح اٹھنے کا ایک ہی وقت مقرر کرلیں۔ چاہے آپ جلدی سوئیں یا دیر سے مگر ہر صورت ایک ہی وقت اٹھیں۔ اس کے لیے الارم استعمال کرسکتی ہیں۔

٭سب سے اہم بات یہ کہ رات کی نیند کی کمی دن میں ہرگز پوری نہ کریں،

٭ اس وقت تک بستر پر ہرگز نہ جائیں، جب تک نیند نہ آئے۔ جب نیند کا زیادہ غلبہ ہو تو فوراً بستر پر لیٹ جائیں۔ ٭ نیند کے وقت کھانے پیسے یا ایسی کوئی Activity سے گریز کریں جس سے آپ کی نیند غائب ہوجائے۔

چند عملی طریقے

جسم کو ریلیکس کریں اس کے لیے بیس سے تیس منٹ کے لیے ایک پرسکون جگہ کا انتخاب کریں، جہاں شور و غل نہ ہو۔ بستر پر لیٹ جائیں، بازو اور ٹانگیں ایک دوسرے پر نہ چڑھائیں، آنکھیں بند کرلیں۔ آہستہ آہستہ لمبے اور گہرے سانس لیں، اپنی توجہ سینے، کمر اور پیٹ پر سانس کی حرکت پر مرکوز رکھیں، جسم کو ڈھیلا چھوڑ دیں، دائیں ہاتھ کی مٹھی کو مضبوطی سے بند کرلیں اور انگلیوں، انگوٹھے، انگلیوں کے جوڑ، ہاتھ اور ہاتھ کے پشت کے تناؤ پر توجہ مرکوز کریں۔ مٹھی بند رکھیں اور اپنی توجہ کو کلائی اور کہنی کے نیچے والے بازو کے حصے کے تناؤ کے احساس کی طرح لے جائیں۔ توجہ تناؤ کی طرف رکھتے ہوئے ایک دم مٹھی کو ڈھیلا چھوڑ دیں، ڈھیلا چھوڑنے سے ایک دم جسم گرم اور بھاری سا محسوس کریں گے۔ یہ ریلیکسیشن کی علامت ہے، آہستہ آہستہ سانس لیتے رہیں۔ یہی عمل باری باری دونون ہاتھوں پر کرنے کے ساتھ ساتھ جسم کے باقی حصوں میں بھی تناؤ پیدا کر کے ڈھیلا چھوڑ کر ریلیکس کریں۔

سونے کے بارے میں نہ سوچیں اور نہ ہی دن بھر کی سرگرمیوں کے بارے میں فکر مند ہوں بلکہ خوش گوار واقعات اور مقامات کے بارے میں سوچیں۔

دوسرا طریقہ

یہ طریقہ نہایت موثر ہے، آپ شعوری کوشش کریں کہ آپ زیادہ سے زیادہ دیر تک جاگیں۔ رد عمل کے اصول کے تحت آپ کو نیند آنا شروع ہوجائے گی۔

تیسرا طریقہ

اگر فکر مندی، پریشانیاں اور خیالات کی یلغار آپ کی نیند کو ڈسٹرب کرتی ہیں تو اپنی پریشانیوں اور تفکرات کو شام کو ہی کاغذ پر تفصیل سے لکھ لیں اور ساتھ ہی اس کا ممکنہ حل بھی تاکہ رات کو آپ اس مسئلے کے متعلق بالکل نہ سوچیں۔ اپنے تفکرات کو بستر پر لے کر نہ جائیں تاہم اگر ذہن بار بار پریشانی کی طرف جا رہا ہے تو اپنے آپ کو بتائیں کہ بہرحال کیوں کہ صبح سے پہلے آپ ان کا کچھ نہیں کرسکتے۔ لہٰذا اس وقت سوتو سکتے ہیں۔

ریلیکس کرنے کے بعد ایک خالی سیاہ اسکرین کا تصور ذہن میں لائیں، خیالات کو ذہن سے نکال کر اس سیاہ خالی اسکرین کو دیکھتے رہیں۔ کوشش کریں کہ یہ اسکرین سیاہ ہی رہے۔ اور اگر پندرہ منٹ تک نیند نہ آئے تو فوراً اٹھ جائیں کسی دوسرے کمرے میں چلے جائیں، کوئی کام کریں، خط لکھیں، مطالعہ کریں یا کوئی ناپسندیدہ کام کریں، بستر پر نہ لیٹیں جب تک کہ نیند نہ آئے، یاد رکھیں رات کو کتنی ہی دیر تک جاگیں لیکن صبح مقررہ وقت پر اٹھیں اور دن کو نیند کی کمی پوری کرنے کے لیے ہرگز نہ سوئیں۔

شیئر کیجیے
Default image
مسز ثوبیہ عمران

تبصرہ کیجیے