فروٹ ٹافی

کھٹی میٹھی گولیاں اور ٹافیاں اسکول جانے والی عمر کے بچوں کی مرغوب خوراک ہوتی ہیں۔ یہ مٹھائیاں کلیتاً نشاستہ دار اشیاء (چینی، نشاستہ، گڑ وغیرہ) کے اجزاء پر مشتمل ہوتی ہیں۔ ڈاکٹر صاحبان ان گولیوں کو بچوں کے دانتوں اور پیٹ کے لیے مضر قرار دیتے ہیں۔ اس کے باوجود دنیا بھرف میں تیار ہونے والی خوراک کی مصنوعات میں ان کی مقدار کم و بیش بیس (۲۰) فیصد ہے، تاہم ماہرین خوراک و صحت نے اس رجحان کو تبدیل کرنے کے لیے فروٹ ٹافی کو رواج دینے کی تجویز پیش کی ہے۔ جس سے مٹھاس کی خواہش پوری ہونے کے ساتھ ساتھ بچوں کو اہم غذائی اجزاء مثلا لحمیات، روغنیات، نمکیات، حیاتین وغیرہ بھی میسر آجائیں گی۔ ان ٹافیوں کی تیاری میں گودے دار پھلوں کو استعمال کیا جاتا ہے۔ ہمارے یہاں اس قسم کی ٹافیوں کی تیاری کے لیے امرود، آم اور کیلے کا گودا استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ماہرین خوراک نے فروٹ ٹافی تیار کرنے کے لیے مختلف تجربات کے بعد درج ذیل طریقہ وضع کیا ہے۔ تازہ اور غذائیت سے بھرپور پھل کو کاٹ چھانٹ کر تیار کرلیا جاتا ہے۔ پھر پانچ منٹ کے لیے بھاپ یا ابلتے پانی میں رکھنے کے بعد ۴۰ سیکنڈ کے لیے انتہائی ٹھنڈے پانی میں ڈبو دیا جاتا ہے تاکہ گودا نکالنے کے لیے تیار پھل کا ظاہری رنگ خراب کرنے والے مادے کو ختم کیا جاسکے۔ گھریلو پیمانے پر مصنوعات کی تیاری کے لیے بھاپ وغیرہ کے بجائے 0.1 فیصد پوٹاشیم میٹا بائی سلفائیٹ کے محلول میں ڈبو کر یہ مقصد حاصل کیا جاسکتا ہے۔ گودا نکالنے کے لیے سٹین لیس سٹیل کی جالی والی مشین، یا چھلنی بھی استعمال کی جاسکتی ہے۔ امرود کا گودا نکالنے کے لیے پھل کو آٹھ سے دس حصوں میں کاٹ کر اس کے آدھے وزن کے برابر پانی ڈال کر ہلکی آنچ پر گرم کیا جاتا ہے اور ململ کے کپڑے سے گودا اور بیج علیحدہ علیحدہ کر لیے جاتے ہیں۔ آم اور کیلے کا گودا نکالنے کے لیے پہلے ان پھلوں کا چھلکا الگ کرلیا جاتا ہے۔ آم کی گٹھلی بھی گودا نکالتے وقت علیحدہ کرلی جاتی ہے۔

ان پھلوں سے فروٹ ٹافیاں تیار کرنے کے لیے مختلف غذائی اشیاء درج ذیل تناسب سے شامل کی جاتی ہیں۔

امرود کی ٹافیاں

۱- امرود کا گودا = ۵۳ فیصد

۲- چینی= ۳۰ فیصد

۳- گلو کوز = ۵ فیصد

۴- خشک دودھ = ۲ء۶ فیصد

۵- بناسپتی گھی= ۵ فیصد

۶- ست لیموں = ۸ء۰ فیصد

آم کی ٹافیاں

۱- آم کا گودا= ۵۴ فیصد

۲- چینی= ۲۷ فیصد

۳- گلوکوز= ۴ فیصد

۴- خشک دودھ= ۱۰ فیصد

۵- بناسپتی گھی = ۵ فیصد

کیلے کی ٹافیاں

۱- کیلے کا گودا=۵۰ فیصد

۲- چینی= ۳۲ فیصد

۳- گلوکوز =۷ فیصد

۴- خشک دودھ= ۵ فیصد

۶- ست لیموں= ایک فیصد

گودے کو گاڑھا کرنے کے لیے اسے اسٹین لیس اسٹیل کے برتن میں پکایا جاتا ہے۔ جب گودا اپنے اصل حجم کے ایک تہائی کے برابر رہ جائے تو پکانے کا عمل بند کر دیا جاتا ہے اور اس میں باقی کے اجزاء یعنی چینی، گلوکوز، دودھ، گھی اور ست لیموں شامل کر کے اچھی طرح ملایا جاتا ہے۔ اب ایک مرتبہ پھر اسے پکایا جاتا ہے حتی کہ اس کا حجم گودے کے اصل حجم کے برابر رہ جائے اس کے پکے ہوئے مواد کو لکڑی یا اسٹین لیس اسٹیل کے پلیٹ فارم پر تھوڑا سا گھی لگا کر آدھے سینٹی میٹر کی موٹائی میں پھیلا دیا جاتا ہے۔ اگر ضرورت محسوس ہوتو پھیلانے سے پہلے پھل کی مناسبت سے اس میں خوشبو بھی شامل کرلی جاتی ہے۔ اب اسے دو گھنٹے کے لیے ٹھنڈا کرنے اور سیٹ ہونے کے لیے رکھ چھوڑتے ہیں۔ ٹھنڈا ہونے پر چھری سے کاٹ کر مناسب سائز کی ٹافیاں بنالی جاتی ہیں۔ اس وقت ٹافیوں میں پانی کی خاصی مقدار موجود ہوتی ہے۔ اس پانی کو پانچ سے چھ فیصد تک لانے کے لیے ۵۰ ڈگری سینٹی گریڈ پر سکھایا جاتا ہے۔ تیار ہونے پر ٹافی کو مناسب رنگ کی پلاسٹک میں لپیٹ دیا جاتا ہے۔ یہ ٹافی کاغذ کے بغیر غیر برساتی موسم میں چھ سے آٹھ ہفتے تک ذخیرہ کی جاسکتی ہے۔ تاہم کاغذ کے ساتھ لمبے عرصے تک محفوظ رہتی ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر وزیر حسین شاہ