آپ کی شخصیت اور خود اعتمادی

اپنے اوپر اعتماد ایک معنی میں زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔ ہمارے اندازوں کی قوت ہماری پیش بینی کی صلاحیت، ہمارے خوف اور خدشات کی زد میں آکر اسی طرح متاثر ہوتی ہیں کہ ہم اپنی ذات کے قیدی بن جاتے ہیں۔ اور ہم دوسروں کے ساتھ گھلنے ملنے میں جس قدر احتیاط کریں گے، جس قدر کم خطرات لیں گے اسی قدر زندگی پر یقین کم ہوتا جائے گا۔ حالاں کہ زندگی ہم سے خود اعتمادی اور اپنے اوپر بھروسے اور مکمل بھروسے کا مطالبہ کرتے ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس صورت حال میں ہم کیا کرسکتے ہیں کہ ہمارا اپنے پر اور دوسروں پر اعتماد بحال ہوسکے اور اس ضمن میں ایک مثبت رویہ ہمارے اندر پیدا ہوسکے۔

٭ اپنے ساتھ اور دوسروں کے ساتھ ہمدردانہ رویہ رکھا جائے۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر آپ کوئی اچھا کام کریں یا آپ کے لیے کوئی اچھا کام کرے تو اس کی تعریف کریں۔ قابل تعریف کام کرنے پر آپ کو خود کو بھی مبارک باد دینی چاہیے۔ اپنی کارکردگی پر مسرت محسوس کرنا بھی ایک طرح کی تعریف ہے اور دوسروں کے اچھے کام کو سراہنا وسیع القلبی کا مظہر ہے۔ اور وسیع القلبی کا تقاضا ہے کہ اپنی اور دوسروں کی کوتاہیوں پر نہیں سخت روش نہ اپنائیں۔ اسی طرح وہ صلاحیتیں اور وہ جوہر جو ہمارے اندر موجود ہیں ہم انہیں بھی ذہن میں رکھیں گویا یہ بھی ایک طرح سے خود کو سراہنے کے معنی میں آنے والی بات ہے۔

٭ اپنے اندر نئے خیالات، نئے خواب اور نئی امنگیں ابھاریں، نیز موجودہ زندگی میں تحریک لائیں اور سرگرمیوں کو وسعت دیں۔ جب ہم اپنے لیے نئی راہیں کھولتے ہیں تو یوں سمجھئے کہ ہم اپنے اعتماد کو بڑھاتے ہیں۔ اس طرح ہم اپنی ذات پر شبہ کر رہے ہوتے ہیں تو وہ گھٹتا ہے۔ اپنی ذات پر اعتماد ایک روشنی ہوتی ہے کہ اس میں ہم چیزوں کو زیاہ بہتر دیکھنے لگتے ہیں اور ہمارے اندر منفی سوچیں کم ہوجاتی ہیں۔ ہماری نگاہیں دنیا کی اشیا کے روشن پہلو کی طرف اٹھنے لگتی ہیں۔

٭ لیکن صرف مثبت خیالات اور خواب دیکھنے سے کام نہیں چلتا۔ ارادے اور خواب ہمیں تبھی فائدہ پہنچاتے ہیں جب ہم ان پر کچھ کام بھی کریں۔ منصوبے صرف سوچے جانے کے لیے نہیں ہوتے ان پر عمل بھی ضروری ہوتا ہے۔ جب ہم کسی اچھے منصوبے کو ترک کردیتے ہیں تو اس سے ہمارے اندر کے شکوک و شبہات بڑھ جاتے ہیں۔ جب ہم نئے آئیڈیاز پر عمل پیرا ہوتے ہیں تو ہمارے اندر اپنے پر اعتماد بڑھتا ہے۔ زندگی میں آگے بڑھنے کے جذبے کی بہت اہمیت ہے۔ اور ترقی کے لیے جذبہ عمل ضروری چیز ہے۔

٭ یہ سیکھنا بھی ضروری ہے کہ حال میں کس طرح رہا جاتا ہے۔ بے شک عزائم بہت اچھی چیز ہیں۔ مگر ساتھ ہی یہ بھی نہ بھولنا چاہیے کہ زندگی لطف اندوز ہونے کے لیے بھی ہوتی ہے۔ عزائم کے لیے زندگی کو بدمزہ کرنا بھی مناسب نہیں۔ حال میں زندہ رہنے کا مطلب ہوتا ہے کہ ہم ان چھوٹے چھوٹے اقدامات سے بھی لطف اٹھائیں جو ہم ہر روز زندگی کی بہتری کے لیے اٹھاتے ہیں تاہم ہمیں اپنے لیے چند طویل المیعاد عزائم بھی رکھنے چاہیے۔

٭ ہمیشہ یاد رکھیں کہ زندگی ہر لمحہ مقابلے کی فضا سے دوچار رہتی ہے اور یہ ایسی باتوں سے بھری ہوتی ہے جو سبق آموز ہوتی ہیں۔ مقابلے کی فضا ہمیں اکساتی رہتی ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ موثر اور بارسوخ بنیں، خود کو سنواریں اور لائق بنائیں۔ یہ باتیں ہمیں ہوش مندی عطا کرتی ہیں۔ ہماری ہر ناکامی ہمیں ایک سبق دیتی ہے۔ کچھ کرنا اور کچھ نہ کرنا سکھاتی ہے۔ اس لیے اس سے بھی فائدہ اٹھایا جاسکتاہے۔

٭ اپنے اندر حسِ مزاح پیدا کریں۔ خوش مزاجی ایک بہت اچھی صفت ہوتی ہے۔ یہ ایک قوت ہوتی ہے۔ سنجیدگی کو ہر وقت خود پر نہ طاری کریں۔ ہمارا عالم یہ ہوتا ہے کہ اگر ہمارے پاس کوئی اپنا مسئلہ نہ ہوتو دنیا کے مسئلوں میں خود کو گھسا کر اپنی مسرت تباہ کرتے رہتے ہیں۔ زندگی کے ڈرامے کی خوش مزاجی سے دیکھئے۔ ہنسنا ہنسانا سیکھئے۔

مندرجہ بالا اقدامات ایک معنی میں مسرت کی کلید کیے جاسکتے ہیں۔ زندگی میں اعتبار، مسرت، جستجو اور ہوش مندی کے رنگ بھرنے کے لیے ان پر آج سے ہی عمل شروع کردیں۔ یہ بہت آسان سے اقدامات ہیں۔ مگر بہت دیرپا اور عمدہ نتائج کے حامل ہیں۔ ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تئیس سالہ نبوت کے بعد کی زندگی کو دیکھئے کتنی تکلیفیں اور مسائل ہیں۔ مگر ذات اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکراتے ہوئے تکلیفیں برداشت کرنا سکھایا۔ اس کا راز یہی ہے کہ جو پیغام آپ لائے تھے اس پر یقین کامل تھا۔

خود اعتمادی اور عملی جدوجہد جب باہم ملتے ہیں تو کامیابی قدم چومتی ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر شفیق احمد