ماں کی خوراک اور بچے کی صحت

صحت مند بچے کی ولادت کے لیے ماں کی خوراک کو ہمیشہ سے ہی اہمیت حاصل رہی ہے۔ معالجین یہ بات سختی سے کہتے ہیں کہ بچے کی صحت کا دار و مدار اس بات پر ہوتا ہے کہ حمل کے دوران ماں کی خوراک کتنی زیادہ صحت بخش تھی؟

کیمبرج یونیورسٹی کے طبی ماہرین کا دعویٰ ہے کہ ایک بچہ اس دنیا میں آنے کے بعد کتنی عمر پاتا ہے اور کتنی صحت مند زندگی بسر کرتا ہے، اس بات کا انحصار اس بات پر ہے کہ بچے کے شکم مادر میں ہونے کے عرصے کے دوران ماں کی خوراک کیا تھی۔ اگر ماں کی خوراک متوازن، صحت بخش اور حیاتین سے بھرپور تھی تو یہ یقین کرلینا بالکل درست ہے کہ بچہ بھی صحت مند زندگی گزارے گا۔ اس کے برعکس اگر حمل کے دوران ماں نے خوراک کا خاص خیال نہ رکھا اور اس کی غذا غیر متوازن اور بڑی حد تک حیاتین سے خالی رہی ہے تو پھر اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ نہ صرف ماں اپنی زندگی اور صحت کو داؤد پر لگا رہی ہے بلکہ اس کی جسمانی قوت میں کمی، زچگی کو پیچیدہ اور دورانِ ولادت اس کی اپنی زندگی کے لیے خطرہ بھی بن سکتی ہے۔ اگر وہ بخیر و خوبی بچے کو جنم دینے میں کامیاب ہو بھی جائے تب بھی نہ صرف مستقبل کے تین چار سالوں کے دوران اس کی صحت بہت حد تک بگڑ سکتی ہے بلکہ اس بات کا بھی احتمال رہتا ہے کہ بچہ کم وزن پیدا ہو اور اس بات کا بھی خدشہ ہے کہ زندگی کے ابتدائی چار پانچ سالوں کے دوران وہ جسمانی قوتِ مدافعت کم ہونے کے سبب خطرناک امراض کا شکار ہوکر خدانخواستہ زندگی سے ہی ہاتھ نہ دھو بیٹھے۔

واضح رہے کہ ہر سال دنیا بھر میں لاکھوں بچے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں، جن کا سب سے بڑا سبب کم وزن کے ساتھ پیدا ہونا اور قوتِ مدافعت میں کمی ہے اور اسی سبب خطرناک امراض کا شکار ہوجاتے ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ دورانِ حمل ماں کی کمزور خوراک بھی ہر سال لاکھوں کی تعداد میں دوران زچگی زچہ کو موت کے منہ میں پہنچا دیتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس کی بنیادی وجہ دورانِ حمل ماں کی کمزور خوراک ہی ہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ان اموات میں سب سے بڑا حصہ دنیا کے ترقی پذیر ممالک کا ہے، جن میں جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک بھی شامل ہیں۔

۸۰ کے عشرے کے آخر میں برطانیہ کے ایک طبی محقق ڈاکٹر ڈیوڈ ہار کر کی اس موضوع پر تحقیق بھی شائع ہوئی تھی۔ ڈاکٹر ڈیوڈ نے اپنی اس تحقیق میں کہا تھا کہ بچے اور ماں کی خوراک کے درمیان بہت اہم رشتہ ہے۔ ماں کی خوراک اگر کمزور اور غیر متوازن ہو تو بچہ کم وزن پیدا ہوتا ہے۔ اگر بچے کا وزن پیدائش کے وقت کم ہو تو بڑا ہونے پر اس میں امراضِ قلب اور ہائی بلڈ پریشر کے عارضے جنم لے سکتے ہیں۔ اس لیے ماؤں کو چاہیے کہ دورانِ حمل وہ صحت مند خوراک استعمال کریں تاکہ ان کے شکم میں پرورش پانے والے بچے کو درکار اجزا ضرورت کے مطابق مل سکیں۔ معالجین کا کہنا ہے کہ دورانِ حمل ماں جو خوراک استعمال کرتی ہے، اس کے صحت بخش اجزا تین گھنٹے کے اندر اندر بچے کے جسم کا حصہ بن جاتے ہیں۔

گائناکالوجسٹ کہتی ہیں کہ دورانِ حمل خواتین کا وزن بڑھنے لگتا ہے، جس سے بعض خواتین پریشان ہوجاتی ہیں، تاہم فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ دورانِ حمل عورت کو عام حالات کے مقابلے میں زیادہ کیلوریز کی ضرورت پڑتی ہے، اور اسی وجہ سے وزن بھی بڑھ جاتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق وزن میں اضافہ پانی، لحمیات اور پوٹاشیم کی وجہ سے ہوتا ہے، کیوں کہ عام عورت کے مقابلے میں حاملہ عورت کی غذا میں ان عناصر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔

دورانِ حمل ایک عورت کو روز مرہ کی معمول کی خوراک کے مقابلے میں کچھ زائد حراروں کی ضرورت ہوتی ہے اور اضافی غذا میں شامل قدرتی عناصر کے سبب زچہ کا وزن بڑھنے لگتا ہے لیکن جونہی زچگی سے فراغت ہوتی ہے اور خوراک معمول پر لوٹتی ہے تو بڑھا ہوا وزن بھی قدرتی طریقے سے کم ہونے لگتا ہے، تاہم اگر ماں بچے کو اپنا دودھ پلا رہی ہے تو اسے ڈائٹنگ سے مکمل پرہیز کرنا چاہیے کیوں کہ اس سے ماں کے دودھ پر اثر پڑتا ہے۔ ساتھ ساتھ ماں کو دورانِ حمل اور بعد از زچگی اپنی خوراک کا بہت زیادہ خیال رکھنا چاہیے۔ اسے ایسی غذا استعمال کرنی چاہیے جس میں حیاتین اور قدرتی معدنیات اور کیلشیم کی مقدار زیادہ ہو تاکہ اس کی کھوئی ہوئی توانائی لوٹ سکے اور وہ مستقبل میں کسی طبی پیچیدگی سے دوچار نہ ہو۔

ماہرین کی جانب سے ماؤں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ دورانِ حمل غذا پر زیادہ توجہ دیں، کیوں کہ اس دوران جسم میں ہونے والی تبدیلیوں کے باعث اکثر خواتین ’بھوک نہیں لگتی یا ’کھانے کو دل نہیں کرتا‘ یا ’ابکائیوں‘ سے بچنے کے لیے اس طرح کی باتیں کر کے کھانے سے دور ہونے لگتی ہیں، جو کہ غلط رجحان ہے۔ اس طرح وہ نہ صرف اپنی صحت بلکہ ہونے والے بچے کو بھی نقصان پہنچا رہی ہوتی ہیں۔

چند مشورے

وہ خواتین جو ماں بننے کے مرحلے میں ہیں اگر وہ ان مشوروں پر عمل کریں تو نہ صرف یہ ان کے لیے بلکہ ہونے والے بچے کے لیے بھی مفید ثابت ہوں گے۔

٭ صبح سویرے نیند سے بیدار ہونے کے بعد فوراً بستر سے اٹھنے سے گریز کریں اور تقریباً پندرہ بیس منٹ تک بستر پر لیٹی رہیں اور اس دوران کوئی توس یا ایک دو بسکٹ کھالیں اور پھر بستر سے نیچے اتریں۔

٭ بستر سے اترنے کے فوراً بعد تیز تیز قدموں سے چلنے سے گریز کریں۔ یاد رکھیں کہ نیند سے بیدار ہونے اور بستر سے اٹھے کے بعد جسم اور دماغ کو متوازن ہونے میں کچھ دیر لگتی ہے۔

٭ حمل کے ایام میں اپنے قریب یا پاس کچھ بسکٹ وغیرہ ہمیشہ رکھیں اور جہاں ہلکی سی بھوک محسوس ہو دو تین بسکٹ کھالیں ورنہ خالی پیٹ متلی اور ابکائیاں زیادہ بھی آسکتی ہیں۔

٭ حمل کے شروع کے دو تین ماہ میں جو ابکائیاں آتی ہیں، ان سے پریشان نہ ہوں اور ابکائیاں روکنے کے لیے اپنی مرضی سے کوئی دوا نہ لیں بلکہ معالج کی ہدایت پر عمل کریں۔

٭ ناشتہ، دوپہر اور رات کا کھانا نہایت سکون اور اطمینان سے کھائیں۔ کھانا کھاتے ہوئے پرسکون رہیں اور کوشش کریں کہ اس دوران نہ اٹھیں۔

٭کھانے پینے کے فوراً بعد تیزی سے حرکت کرنے یا چلنے پھرنے سے گریز کریں۔

٭ کوشش کریں کہ خالی پیٹ نہ رہیں بلکہ دن میں کئی بار تھوڑا تھوڑا کچھ نہ کچھ کھاتی رہیں۔ واضح رہے کہ ایک وقت میں بہت زیادہ کھالینے کے مقابلے میں وقفے وقفے سے تھوڑا تھوڑا کر کے کھانے سے غذا جلدی ہضم ہوجاتی ہے اور اس کے اجزا بھی بچے تک جلدی پہنچ جاتے ہیں۔ اس لیے دن کے تین مقررہ کھانوں کے علاوہ بھی کچھ نہ کچھ کھاتی پیتی رہیں۔

٭ دوران حمل لحمیات کی خاصی اہمیت ہے۔ اس لیے غذا میں ایسی چیزیں استعمال کریں کہ جس میں لحمیات ہوں، خصوصاً رات کے کھانے میں لحمیات والی خوراک کا ہونا ضروری ہے۔

٭ مصنوعی طور پر تیار کردہ مشروبات کا استعمال ترک کردیں ار پانی و پھلوں کا جوس زیادہ استعمال کریں۔ ایسے پھل اور سبزیاں استعمال کریں جن میں پانی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔

٭ ٹھوس اور مائع غذائیں ایک ساتھ استعمال نہ کریں۔ مثال کے طور پر ٹھوس خوراک کھائی ہے تو اس کے تقریباً بیس منٹ سے آدھا گھنٹے کے بعد مائع اشیا کا استعمال کریں۔

٭ زیادہ چکنائی اور چربی والے کھانوں سے پرہیز کریں۔ خصوصاً فاسٹ فوڈ سے دور رہیں۔

٭دورانِ حمل قبض کا رہنا ٹھیک نہیں۔ اس لیے کوشش کریں کہ بے چھنے آٹے کی روٹی استعمال کریں اور ایسی اشیا کے استعمال سے پرہیز کریں جن کے کھانے سے قبض ہوسکتا ہے۔

٭ کیفین کی مقدار اپنے اندر رکھنے والے مشروبات کا استعمال ترک کردیں۔

٭ گھٹن کے ماحول میں نہ رہیں۔ سوتے ہوئے کھڑکیاں یا کم از کم روشن دان ضرور کھلا رکھیں۔ باورچی خانے میں کام کرتے ہوئے کھڑکیاں کھلی رکھیں تاکہ دھواں یا سالن کی مہک آپ کے جی کو نہ متلائے۔

٭جذباتی طور پر پرسکون رہنے کی کوشش کریں۔ ذہن کو دباؤ سے آزاد رکھیں اور جسمانی آرام کا زیادہ خیال رکھیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ چہل قدمی یا کم از کم گھر میں گھومنا پھرنا ہی ترک کردیں۔ تازہ ہوا میں چہل قدمی معمول بنالیں۔ تازہ ہوا میں گہرے گہرے سانس بھی لیتی رہا کریں۔ چہل قدمی کے دوران تیز تیز قدموں سے نہ چلیں۔

٭ آپ کے معالج نے جو حیاتین (وٹامنز) کی گولیاں اور دیگر ادوایات تجویز کی ہیں انہیں باقاعدگی سے استعمال کریں۔

٭ وٹامن سی اور فولاد کی زیادہ مقدار رکھنے والے پھل مثلاً کِنو اور سیب وغیرہ زیادہ کھائیں۔

٭دودھ، دہی میں کیلشیم کی زیادہ مقدار ہوتی ہے اور دورانِ حمل یہ بچوں کی ہڈیوں کی تشکیل کے لیے نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے دودھ دہی سمیت کیلشیم کی زیادہ مقدار اپنے اندر رکھنے والی چیزوں کا استعمال باقاعدگی سے کریں۔

٭ناشتے میں ایسا دلیہ استعمال کریں، جس میں سو فیصد فولک ایسڈ اور فولاد شامل ہو۔ دلیہ چھلکے والا استعمال کریں مثلا گندم یا جئی (Oat) کا دلیہ زیادہ بہتر ہوتا ہے، کیوں کہ اس میں ریشہ (Fiber) بھی شامل ہوتا ہے۔

٭مصنوعی شکر کی مقدار کم استعمال کریں۔ مٹھائی وغیرہ بھی بہت زیادہ نہ کھائیں۔

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر فریدہ شیخ