بچے کا ایک نفسیاتی مسئلہ

آج جس تیزی سے ہمارا سماج بدل رہا ہے اسی رفتار سے ہماری سوچ بھی بدلتی جا رہی ہے۔ اس تبدیلی کا سب سے گہرا اثر ہمارے بچوں پر پڑ رہا ہے۔ آج کل کے بچے اپنی عمر اور اپنی صلاحیت سے زیادہ سوچتے ہیں اور کئی بار تو وہ ایسی بات کہہ جاتے ہیں، جن کی امید بھی کوئی نہیں کرسکتا۔ ایسا کیوں ہو رہا ہے کہ بچے اپنی عمر سے جلدی بڑے ہو رہے ہیں؟ یعنی ان کی سوچ ان کی عمر سے کہیں زیادہ آگے ہوتی جا رہی ہے۔ آئیے جانتے ہیں بچوں میں آئی اس تبدیلی کی آخر کیا وجہ ہے۔

بایو لوجیکل وجہ

بچوں کے دماغ کا ایک حصہ ہے، جسے پری فنٹل ایریا کہا جاتا ہے، اس میں سب سے زیادہ رد عمل ہوتا ہے۔ یہ حصہ بچے کے ذہن میں آنے والی کسی بھی بات پر اپنا رد عمل فوراً ظاہر کر دیتا ہے۔ جس کی وجہ سے اس کے اندر جاننے کا عمل روز بروز زور پکڑتا جاتا ہے۔

ماہر نفسیات کی رائے

سنگل فیملی کے بڑھتے رجحان نے بچوں کو ضرورت سے زیادہ آزاد اور خود پر منحصر رہنا سکھا دیا ہے۔ ماں باپ دونوں کے نوکری پیشہ ہونے کی وجہ سے بچوں کو گھر پر زیادہ رہنے کا موقع ملتا ہے اور وہ اپنا زیادہ وقت ٹی وی، موبائل یا پھر انٹرنیٹ پر ہی گزارتے ہیں۔ ٹی وی، انٹرنیٹ ان کے سامنے تمام باتیں کھلے طو رپر پیش کر دیتا ہے۔ کیوں کہ وہ یہ نہیں جانتا کہ اسے آپریٹ کرنے والا کون اور کس عمر کا ہے۔ اس کے علاوہ میڈیا جس طرح نیوز اور پرچار کو پیش کرتا ہے اس میں چھپانے لائق کچھ بچتا ہی نہیں۔ اس طرح بچوں میں چیزوں کے متعلق آدھی ادھوری جانکاری پروان چڑھنے لگتی ہے کیوں کہ آج کل کے بچے میں جاننے کا جذبہ اس قدر بیدار ہوچکا ہے کہ وہ ہر میدان کی تمام باتوں کو جلد سے جلد جان کر آگے بڑھنے کی فکر میں لگا رہتا ہے۔ دوسری طرف کا سچ یہ ہے کہ انہیں یہ پتہ نہیں ہوتا کہ انہیں کیا جاننا چاہیے اور کیا نہیں جاننا چاہیے۔

تبدیلی کی وجہ

ان کے بچپن کی سوچ کو بدلنے میں سب سے زیادہ معاون میڈیا ہے۔

(الف) گھر اور اسکول کے ماحول کا بھی بچے پر گہرا اثر پڑتا ہے۔

(ب) پہلے بچے کو جو چیز چار سال کی عمر میں پتہ چلتی تھی وہ آج دو سال کی عمر میں مل جاتی ہے یعنی موجودہ تعلیم دینے کا طریقہ بھی بچوں کی ذہنی تبدیلی میں ایک اہم رول ادا کر رہا ہے۔

(ج) انٹرنیٹ جیسی نئی تکنیک کی سہولیت، لیپ ٹوپ، موبائل وغیرہ کا زیادہ استعمال۔ بھی ایک عنصر ہے۔

اٹینسن ڈیسوسٹ ہائی پر کائی نیٹکس ڈس آدر:

اگر بچوں کی ان باتوں پر جلد ہی دھیان نہیںدیا گیا تو وہ ذہنی بیماری کا شکار ہوجائیں گے۔

اگر آپ کا بچہ زیادہ ٹی وی دیکھتا ہے جس کی وجہ سے ڈھنگ سے پڑھائی نہیں کر پاتا اور ایسا ہونے پر اسے ٹی وی پر دکھتی تمام باتیں یاد رہتی ہیں اور پڑھائی سے متعلق کچھ یاد نہیں رہتا تو اسی بیماری کو اے ڈی ایم یعنی اٹنٹینسن ڈیسوسٹ کائی ٹینکس ڈس آڈر کہا جاتا ہے۔ اس بیماری کے شکار بچے زیادہ تر اپنے آپ میں ہی مگن رہتے ہیں یا تو وہ ٹی وی دیکھتے ہیں یا انٹرنیٹ سے چپکے رہتے ہیں۔ ان کا اپنی فیملی اور اپنے پرائے سے کچھ لینا دینا نہیں رہتا۔ ایسے حالات میں بچوں کے Sexual Activityپر دھیان دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔

علاج

اگر بچہ واقعی اے ڈی ایچ کا شکا رہوگیا ہے تو اسے کسی اچھے ماہر نفسیات کے سینٹر لے جائیں۔ وہاں اس طرح کے بچوں کو میڈیشن کے علاوہ سائیکولوجیکل، فیزیکل کئی طرح کے ٹریٹمنٹ دیے جاتے ہیں۔

اسی طرح کے سنٹر میں بچوں کو وورغلا کر ان کے کسی پسندیدہ موضوع پر بات کرتے ہوئے ان کا برتاؤ جاننے کی کوشش کی جاتی ہے ساتھ ہی ماں باپ کی کونسلنگ کے ذریعہ انہیں بتایا جاتا ہے کہ وہ بچوں کی کس طرح دیکھ بھال کریں۔ ان کے ساتھ کس انداز میں بات کریں۔

اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا بچہ بھی اپنی معصومیت اور اپنے بچپن کا پورا لطف اٹھائے اور اس کو مستقبل میں کسی طرح کی کوئی پریشانی نہ آئے تو اسے وقت کے ساتھ ساتھ پورا پیار بھی دیں۔ صرف اچھی اور مہنگی فرمائشوں کو پورا کرنے سے ہی آپ ذمہ داری سے فارغ نہیں ہوجاتے اسے تو آپ کے پیار اور ساتھ کی ضرورت ہے۔ اگر آپ انہیں وہ سب دیتے ہیں تو آپ کے بچے صحیح معنوں میں بچے ہی رہیں گے اور اپنے عمر کی حد کو کبھی پار نہیں کریں گے۔

ماں باپ کیا کریں؟

۱- ماں باپ کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی عادتوں پر پورا دھیان رکھیں۔ اگر ان میں کسی طرح کی تبدیلی آرہی ہو تو اس کی طرف توجہ ضرور دیں۔

۲- اگر بچہ آپ سے کوئی سوال پوچھتا ہے تو اسے یہ کہہ کر بالکل نہ ٹالیں کہ یہ جاننے کی تمہاری عمر نہیں ہے بلکہ کسی دوسرے طریقے سے اسے یہ بات سمجھائیں کیوں کہ آپ کے نہ بتانے پر اس بات کو آپ سے چھپاکر جاننے کی کوشش کرے گا۔

۳-اگر بچہ اپنے عمر سے بڑی کوئی بات کرتا ہے تو اسے سمجھائیں کہ اسے اس طرح کی باتیں نہیں کرنی چاہیے۔

۴- کبھی کبھی والدین بچوں کی کہی گئی کسی بات کو مذاق کا موضوع بنا کر بار بار دہراتے ہیں اور جب بچے پر اس کا اثر ہونے لگتا ہے تو اسے ڈانٹ دیتے ہیں۔ ایسا بچوں کے ساتھ کبھی نہ کریں بلکہ ایک دوست کی طرح اس سے باتیں کریں اور ان کو ان کے طریقہ سے ہی سمجھائیں۔ـ

شیئر کیجیے
Default image
سہیل جامعی، دربھنگہ