بچے

بچوں کی تعلیم پر ٹی وی کے مضر اثرات

ایک سروے کے مطابق اونچے طبقے کے ۴۷ سے ۶۸ فیصد بچے، درمیانی طبقے کے ۲۳ سے ۶۲ فیصد بچے اور غریب طبقے کے ۵۵ فیصد بچے روزانہ تین سے چار گھنٹے ٹی وی دیکھتے ہیں۔ ایک دوسرے سروے کے مطابق ان میں سے ۶۳ سے ۹۰ فیصد بچوں کو ٹی وی کے اصل پروگراموں کے مقابلے میں اشتہار دیکھنے سے زیادہ دلچسپی ہوتی ہے۔ اس کا احساس مختلف استعمال کی اشیاء بنانے والے صنعتی اداروں کو بھی ہوگیا ہے اس لیے وہ اپنی مصنوعات کو بازار میں مقبول بنانے کے لیے خاص طور سے ایسے اشتہارات تیار کراتے ہیں جو بھولے بھالے دل و دماغ پر قبضہ کرسکیں کیوں کہ انہیں وہ اپنے گاہکوں کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ ان اشتہارات کا سب سے زیادہ اثر بچوں کے اخلاق و کردار پر پڑ رہا ہے وہ اشتہارات کی نقل میں لکھنے و پڑھنے میں دل لگانے کے بجائے کھیل کود اور کرتب بازی میں زیادہ دھیان دینے لگے ہیں۔ ان کی نظر میں اچھی ماں وہ ہے جو ان کی ہر خواہش کے آگے سر جھکا دے اور شاندار باپ وہ ہے جو ان کی کسی فرمائش پر انکار نہ کرے۔

ہم کہتے تو یہ ہیں کہ بچے ملک و سماج کا مستقبل ہیں لیکن اس مستقبل کی تعمیر و تشکیل پر توجہ نہیں دیتے۔ جو بچے خیالی تصورات و بے جا خواہشات میں مبتلا ہوکر اپنا وقت ضائع کرتے ہیں بھلا وہ کیسے ہمارے مستقبل کا اثاثہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ ہم مشرق کے لوگ مغرب اور اس کی ترقیات کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ کر ان کی نقل کرنا تو چاہتے ہیں لیکن مغربی ملکوں کے تجربات سے فائدہ اٹھانے پر دھیان نہیں دیتے۔

ٹیلی ویژن کے بچوں پر مضر اثرات کے شکار ہم سے کافی پہلے مغربی ممالک ہوچکے ہیں۔ اس لیے انہوں نے اس کا منصوبہ بند طریقے سے مقابلہ بھی کیا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مغرب کے ان تجربات کو ہمارے یہاں بھی پیش نظر رکھا جائے۔ اس سلسلے کی روشن مثال سویڈن اور ناروے وغیرہ نے پیش کی ہے جہاں بارہ سال سے کم عمر کے بچوں کو سامنے رکھ کر بنائے گئے استہارات پر روک لگادی گئی ہے۔ اسی طرح امریکہ میں بچوں کے ٹی وی دیکھنے کی حوصلہ شکنی کی جا رہی ہے۔ ایک جائزے کے مطابق ۱۹۶۰ کے بعد سے بچوں کی ٹی وی بینی میں بیس فیصد تک کمی آگئی ہے۔ مغربی ملکوں میں سب سے زیادہ تشویش اس بات کو لے کر ظاہر کی جا رہی ہے کہ ٹی وی پروگرام بچوں کی تعلیم کو بہت متاثر کر رہے ہیں۔ یورپ و امریکہ کے ماہرین تعلیم، نفسیات اور عمرانیات کی طرف سے جب اس پر خصوصی تحقیق کی گئی تو انہیں اندازہ ہوا کہ ٹی وی اسکرین کے سامنے زیادہ وقت صرف کرنے والے بچوں کی تعلیم ہی برباد نہیں ہوتی، بلکہ والدین سے ان کے تعلقات میں بھی فرق آتا ہے۔ بچوں اور ان کے ماں باپ کے درمیان کا فاصلہ بڑھتا ہے۔ پہلے بچے رات کو سوتے وقت اپنے بڑے بوڑھوں کے سامنے ہنستے بولتے اور ان سے کہانیاں و قصے سنتے تھے۔ کئی وہ باتیں پوچھ لیتے تھے جو انہیں معلوم نہیں ہوتی تھیں، ان مواقع سے بچوں کو سیکھنے اور سمجھنے میں کافی مدد ملتی تھی۔ ان کا دماغ سوچنے اور عمل کرنے کے قابل بنتا تھا۔ اب والدین اور بچوں کا باہم مل بیٹھنا ٹی وی کی نذر ہوگیا ہے اور بچوں کے سیکھنے کے مواقع پر ٹی وی کی تفریحات غالب آگئی ہیں۔

پہلے بچے جو وقت اسکول کے علاوہ اپنے گھروں میں پڑھنے لکھنے اور اسکول کا ہوم ورک کرنے میں گزارتے تھے اب وہ ٹی وی دیکھ کر ضائع کر رہے ہیں، نرسری اور پرائمری اسکولوں کے ٹیچروں نے ایسے بچوں کی عادت و اطوار کا مشاہدہ کیا تو انہیں اندازہ ہوا کہ پہلے بچوں میں تخلیقی اور فکری یعنی سوچنے و سمجھنے کی صلاحیت زیادہ تھی اور وہ اپنے لیے کھیل خود ایجاد کرلیا کرتے تھے۔ جب سے ٹی وی ان پر حاوی ہوا ہے وہ سوچنے اور اختراع کرنے کے بجائے وہی کرنے لگے ہیں جو ٹی وی ان سے کہتا ہے یا جو وہ ٹی وی پر دوسروں کو کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ بچوں میں محنت و کوشش کی عادت بھی کم ہو رہی ہے، جب وہ آدھے گھنٹے کے ٹی وی پروگرام میں بڑے سے بڑے مسئلے کا اطمینان بخش عمل نکلتا ہوا دیکھ لیتے ہیں تو اس سے ان میں کچھ کرنے اور آگے بڑھنے کے بجائے تساہل پیدا ہوتا ہے جو ان کی جسمانی و ذہنی صحت کو نقصان پہنچا رہا ہے اور اس کے اثرات ان کے تعلیمی کیریئر پر بھی پڑ رہے ہیں۔

آپ کہیں گے کہ میں یہاں ٹیلی ویژن کے صرف منفی پہلو گنانے جا رہے ہیں۔ اور بچوں کی تخلیقی، تعلیمی صلاحیتوں کو ٹی وی سے جو نقصان پہنچ رہا ہے اسی پر میرا سارا زور ہے۔ جی نہیں ٹی وی کے کچھ مثبت پہلو بھی ہیں اور ان میں سب سے اہم یہ ہے کہ بچہ ٹی وی پروگرام دیکھ کر دنیا کے حالات و کوائف سے واقف ہو جاتا ہے۔ اس کی معلومات کے ساتھ ساتھ بولنے کی صلاحیت بڑھتی ہے۔ اس کے الفاظ کے ذخیرے میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اگر وہ ٹی وی کے تعلیمی و تربیتی پروگراموں میں دلچسپی لے تو بڑھنے لکھنے میں اس کے لیے یہ مددگار ثابت ہوسکتے ہیں لیکن ٹی وی کے تعمیری ن تائج کے مقابلے میں نقصان دہ پہلو کچھ زیادہ ہیں۔ اس لیے بہتر یہ ہوگا کہ ٹی وی کو بچوں کے لیے قطعی ممنوع قرار دینے کے بجائے اس کا استعمال محدود کر دیا جائے، وہ اپنے فرصت کے لمحات میں اصلاحی سبق آموز اور صاف ستھرے تفریحی پروگرام دیکھیں۔ سرپرستوں کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ ٹی وی کو بچوں پر حاوی نہ ہونے دیں۔ خود ساتھ بیٹھ کر اچھے ٹی وی پروگرام بچوں کو دکھائیں اور ان کے جو منفی پہلو ہوں ان کے نقصان بھی بچوں پر واضح کر دیں۔ خاص طور پر بچوں کے مطالعے یا اسکول کا ہوم ورک کرنے اور اسی طرح کے دوسرے ضروری کاموں کا جو وقت ہے اس میں بچوں کو ٹی وی سے دور رکھیں۔

یاد رکھئے جن گھروں میں ٹیلی ویژن گھنٹوں چلتا رہتا ہے تو صوتی آلودگی سے بچوں کی سماعت پر اس کا برا اثر پڑتا ہے۔ امریکہ میں ۳۰ سے ۳۵ فیصد بچے اسی لیے بہرے پن کا شکار ہوگئے ہیں۔ کتنے ہی بچوں کی بینائی خراب ہوچکی ہے اور انہیں کم عمری میں عینک کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بچے کچی مٹی کی طرح ہوتے ہیں جس سانچے میں چاہیں آپ انہیں ڈھال سکتے ہیں مگر اس کے لیے ان کے بڑوں کو بھی خود کو تھوڑا بدلنا پڑے گا۔ تبھی آپ ان کی صحیح نگرانی اور رہبری کرسکتے ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ اپنی مشغول زندگی کا کچھ وقت بچوں کے لیے فارغ کریں اور ان کے ساتھ بیٹھ کر ایسے ٹی وی پروگرام دیکھیں جو معیاری ہوں۔ اسی طرح بچوں کے تعلیمی کیریئر پر ٹی وی کے مضر اثرات کا مقابلہ کر کے اس کی خوبیوں سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر مرضیہ عارف

تبصرہ کیجیے