3

کاش

وہ نوجوان آج ضمانت پر رہا ہونے والا تھا، جیسے ہی سنٹرل جیل کا دروازہ کھلا دوسرے قیدیوں کے ساتھ وہ بھی باہر نکلا۔ اس کا چھوٹا بھائی اور معصوم بہن چیتے کی طرح دوڑ کر اس سے لپٹ گئے وہ آگے بڑھ کر ماں کی پیشانی چومنے لگا۔ ماں نے گلے لگا لیا۔ اس نے روتے ہوئے کہا: ’’امی جان خد اکی قسم میں بے قصور ہوں میں نے ایسی حرکت نہیں کی۔‘‘بیٹا مجھے یقین کامل ہے تو ایسا کر ہی نہیں سکتا۔ تو اگر اقرار جرم بھی کرتا تب بھی میں نہ مانتی۔ مجھے اپنے مالک پر اور میرے خون پر فخر ہے۔ بیٹا روؤ مت اسے اللہ کی آزمائشیں سمجھ کر صبر کا دامن تھام رکھو۔‘‘ ماں یوں دلاسا دیتی رہی وہ گھر جانے کے لیے دوسری طرف پلٹے بھی نہ تھے ایک آٹو حاضر خدمت تھا۔ پتہ بتانے سے قبل وہ کہہ رہا تھا ’’ماں جی میں جانتا ہوں وہی مکان جو دوا خانے کی گلی کے بائیں جانب۔‘‘ آٹو تیزی سے گزرتا ہوا کارپوریٹ ہاسپیٹل تک پہنچا وہاں کا ماحول کچھ اور ہی تھا۔ گلی کا راستہ بند تھا، آٹو سے اترنا ہی مناسب تھا جیسے ہی ماں نے بٹوے سے پیسے نکالے، آٹو ڈرائیور نے بڑے ادب سے کہا یہ کیا کر رہی ہیں آپ؟ یہ بہادر نوجوان بے قصور ہے ہم سب جانتے ہیں بھگوان یہ بلا ٹال دے ہمیں خدمت کا موقع دیجئے وہ کچھ لیے بغیر محض دعاؤں کی برکت لے کر چلا گیا۔

ہاسپیٹل کے سامنے عجیب سا منظر تھا۔ لوگ جمع تھے، ایک دکھی ماں بری طرح رو رہی تھی۔ ’’ارے کوئی بھگوان کے لیے بچاؤ میرے لعل کو‘‘ یہ لو میرے سارے زیورات ساری دولت بھگوان کے لیے میرے لعل کو بچاؤ۔‘‘ وہ دیوانوں کی طرح ادھر سے ادھر دوڑ رہی تھی، اس کا شوہر ادھر ڈاکٹروں سے الجھ رہا تھا، ’’لے لو جتنی چاہے اتنی دولت لاکھ دس لاکھ دس کروڑ جتنا چاہے لے لو میرے بیٹے کو بچاؤ۔‘‘ وہ نیم پاگل ہوا جا رہا تھا۔ ’’ڈاکٹر ڈاکٹر بچا لو میرے بیٹے کو ورنہ میں آگ لگا دوں گا اس ہاسپیٹل کو۔‘‘ سینئر ڈاکٹر نے خشکی سے کہا جو کچھ کروگے وہ بعد کی بات ہے مسٹر پہلے جاؤ اور خون کا انتظام کرو۔ اس نے مزید کہا اگر دولت سے سب کچھ ہوتا تو قدیم زمانے کے بڑے بڑے بادشاہ اور دولت مند لوگ اب تک زندہ رہتے۔ دوا خانے کا اسٹاک ختم ہونے کو تھا وہ لاتا بھی تو کہاں سے لاتا، اور جس علاقہ میں بلڈ بینک ہیں وہ شہر کے اس حصہ میں ہیں جو سخت کرفیو کے زد میں ہے۔

ادھر اس ماں کا دل بھر آیا بیٹے سے کہا، بیٹا تمہارا بلڈ گروپ …ابھی بات پوری بھی نہ ہوئی کہ فرماں بردار فرزند نے کہا ’’یہی گروپ، میں بھی یہی چاہتاتھا‘‘ ہم جانتے ہیں بیٹا کہ وہ وہی ہیں مگر بیٹا جا جلدی جا کہیں دیر نہ ہوجائے۔‘‘ جیسے ہی وہ دوا خانے کے اس حصہ میں گیا جہاں خون لیا جاتا ہے۔ ڈاکٹروں نے مسکراتے ہوئے استقبال کیا اور کہا You are welcome Mr sajid khan کیوں نہ کرتے وہ اس دوا خانے کا مستقبل بلڈ ڈونر جو ٹھہرا۔

تقریباً آدھا گھنٹہ دوا خانے پر موت کا سا سناٹا چھایا رہا، جیسے ہی آپریشن تھیڑ کھلا ڈاکٹروں کی مخصوص ٹیم باہر نکلی اب کی بار وہ ذرا مطمئن لگ رہے تھے۔ منتظر ماں باپ کو ڈاکٹروں نے بتایا اب تشویش کی بات نہیں خطرہ ٹل گیاخون جو وقت پر مل گیا۔ دونوں نے ہاتھ جوڑ کر شکریہ ادا کیا، جواب میں سینئر ڈاکٹر نے کہا، شکریہ ہمارا نہیں اس نوجوان کا ادا کرو جس نے وقت پر اپنا خون دے کر تمہارے لاڈلے کی جان بچائی، جیسے ہی وہ شکریہ ادا کرنے گئے پہچان گئے یہ وہی نوجوان ہے جس کو ایک سازش کے تحت پھنسا کر انہوں نے جیل بھجوا دیا تھا، کیسے آگے بڑھتے پتھر بنے کھڑے رہے، زبان گنگ ہوگئی ادھر وہ نوجوان چند لمحوں بعد والدہ بھائی بہن کے ساتھ ڈاکٹروں سے اجازت لے کر روم کے پچھلے دروازہ سے گھر کے لیے نکل گیا۔

دوسرے ہفتہ کورٹ نمبر دو میں جہاں مقدمہ چل رہا تھا جیسے ہی ملزم ساجد خان کا نام پکارا گیا ایک عجیب منظر عدالت کے کمرے میں سامنے آیا۔ مدعی نے اپنے وکیل کے ذریعہ ایک عرضی جج کو پیش کی اور خود گواہ کے کٹہرے میں کھڑا ہوکر گڑگڑاتے ہوئے اعتراف گناہ کیے جا رہا تھا، کہہ رہا تھا جج صاحب مجھے گولی سے اڑا دیں، پھانسی دے دیں یہ نوجوان معصوم ہے بے گناہ ہے، ہم نے چند پیسوں کی خاطر دوسروں کے بہکاوے پر یہ حرکت کی اس کے بعد ایک کے بعد ایک تمام دیگر گواہ کٹہرے میں آکر اقرار جرم کیے جا رہے تھے۔ آخر میں وہ عورت بھی حاضر ہوئی جس نے اس نوجوان پر جھوٹا الزام لگایا تھا، وہ روتے ہوئے کہے جا رہی تھی یہی وہ نوجوان ہے جس نے میری عزت بچانے کی خاطر ان غنڈوں کو تن تنہا مار بھگایا تھا، جج نے بیچ میں مداخلت کرتے ہوئے کہا اور تم نے اس کا یہ صلہ دیا؟ کیا کرتی جج صاحب گھر میں فاقے چل رہے تھے شرابی شوہر ایک ہفتہ سے لاپتہ تھا بچے بھوک سے بلک رہے تھے میں کچھ کمانے باہر نکلی کہ یہ حادثہ ہوا، ان غنڈوں نے میرے ایک ہاتھ میں پرچی اور دوسرے ہاتھ میں نوٹوں کی گڈی تھما دی اور دھمکی دی اگر میں اس پرچی پر دستخط نہ کروں تو وہ سرِ عام اس کی عصمت تار تار کر دیں گے۔ اور میری آغوش میں میرے معصوم بچوں کی لاشیں ہوں گی، کیا کرتی جج صاحب مجھے سخت سے سخت سزا دیں تاکہ آئندہ کوئی استری ایسا جرم نہ کرے۔

دوسرے دن معزز جج نے فیصلہ سنایا، ساجد خان کیوں کہ معصوم اور بے گناہ ہے اس لیے عدالت اسے باعزت بری کرتی ہے۔ جج نے پولیس کی سخت سرزنش کی اور حکم دیا کہ ان خاطیوں کے خلاف FIR درج کریں جنہوں نے عورت کے ساتھ زیادتی کی تھی اور عدالت برخاست ہوگئی۔ سب جا رہے تھے اچانک نہ جانے کدھر سے زخمی کی ماں ہرنی کی طرح دوڑ کر آئی اور اس نوجوان کی قدم بوسی کرتی جا رہی تھی، ساجد کی ولدہ نے اسے اٹھایا اور گلے لگا کر کہا کیا کر ر ہی ہو؟ کہیں ماں اور خالہ میں فرق بھی ہوتا ہے۔‘‘ اس دھرتی پر ایسا نہیں ہوسکتا کہ کوئی ماں احسان کے بدلے بیٹے کی قدم بوسی کرے۔ دلاسا دیتے ہوئے کہا مت روؤ بہن سب کا مالک اللہ ہے، میرے بیٹے نے کون سا احسان کیا ہے، یہ اس کا فرض تھا سو اس نے پورا کیا، فرض کا ادا کرنا احسان نہیں ہوتا! اللہ تمہارے بیٹے کو جلد صحت کاملہ اور عاجلہ عطا کرے، یہ دعا دیتے ہوئے وہ آگے نکل گئے۔

سب یہ منظر حسرت سے دیکھ رہے تھے، کوئی کہہ رہا تھا کیا آج بھی دنیا میں ایسے لوگ ہیں؟ کسی نے کہا ایسے لوگوں کی بدولت ہی یہ دنیا قائم ہے، ادھر کونے میں بیٹھا شہر کا دادا دیوانوں کی طرح بال نوچتے ہوئے پکار رہا تھا، کاش! میں آدمی ہوتا، کاش میں انسان ہوتا… کاش …

شیئر کیجیے
Default image
محمد مصطفی علی انصاری

تبصرہ کیجیے