جانور

یہ بات میری طالب علمی کے زمانے کی ہے۔ میں رات کو اپنے کسی امتحان کی تیاری کے لیے انگریزی کا یہ جملہ مستقل رٹ رہا تھا "Man is a social animal”۔ شایدمیری ماں میری وجہ سے جاگ رہی تھیں۔ وہ آکر میرے پاس بیٹھ گئیں۔

’’بیٹا تم اتنی دیر سے بس ایک ہی بات رٹ رہے ہو۔ اس کا مطلب کیا ہے؟‘‘

اور پھر انہوں نے پورا جملہ خود دہرایا۔ میںنے تعجب کے ساتھ ان کو دیکھا کیوں کہ وہ تھوڑی سی اردو اور عربی کے علاوی کچھ نہیں جانتی تھیں۔ قبل اس کے کہ میں ان کو اس جملے کا مطلب بتلاتا تو انہوں نے مجھے سرزنش بھی کی کہ جب یہ ان کو یاد ہوگیا تو میں اپنا وقت کیوں ضائع کر رہا ہوں۔ بہرحال میں نے ان کو اس کا مفہوم بتایا کہ ’’انسان اپنی ہی کمیونٹی یا سوسائٹی میں رہنے والا ایک جانور ہے۔‘‘ میری بات سن کر وہ ہنس پڑیں۔

’’یہ کس بے وقوف نے لکھا ہے بیٹے؟ انسان تو انسان ہی رہے گا، جانور کیسے ہوسکتا ہے؟‘‘

اپنے علم اور سمجھ کے مطابق انہوں نے ایک بہت بڑا سوال میرے سامنے رکھ دیا تھا۔ لیکن اس وقت میری عقل بھی بہت مختصر تھی اس لیے میں ان کو جواب نہ دے پایا۔ بات تو ختم ہوگئی لیکن ان کا سوال میرے دماغ میں ایک کیڑے کی طرح رینگ گیا۔

برسوں بعد جب امی بھی اللہ کو پیاری ہوچکی تھیں اور میں اپنی سرکاری ملازمت کی بدولت مختلف شہروں کی خاک چھان رہا تھا، معاف کیجئے گا خاک چھاننا تو میں نے بطور محاورہ استعمال کر دیا ورنہ اپنے ریٹائرمنٹ سے قبل میں جہاں تھا وہاں تو خاک کا تصور بھی نہیں تھا، بس صرف قدرتی مناظر، حسین وادیاں اور شفاف پانی کی جھیلیں تھیں۔ حد نگاہ تک سبزہ زار تھے۔ اتنی خوب صورت جگہ کہ دل نے آرزو کی کہ بس یہیں سے ریٹائر ہوا جائے اور اسی جگہ کو اپنا مستقل مسکن بنا لیا جائے۔ لیکن اگر ہر آرزو پوری ہوجائے تو اس لفظ کے معنی ہی بدل جائیں گے۔ وہاں ٹرانسفر ہوئے چند ہی دن ہوئے تھے کہ اس تازہ ہوا کو بارود کی بونے مسموم کرنا شروع کر دیا اور کہیں نہ کہیں سے گولی بم کے دھماکوں کی خبریں آنے لگیں۔ لیکن یہ سب میری رہائش گاہ سے دور ہو رہا تھا اس لیے میں زیادہ متاثر نہیں ہوا۔

ایک دن صبح کے اخبار نے مجھے چونکا دیا کیوں کہ گزشتہ رات میرے گھر سے کچھ ہی فاصلے پر دہشت گردوں نے ایک مکان پر حملہ کر کے پورے خاندان کو ختم کر دیا تھا، جس میں عورتیں اور معصوم بچے بھی شامل تھے اور اب سارے علاقے میں کرفیو لگا ہوا تھا۔ اس دن بچے بھی اسکول نہیں گئے اور ہم دن بھر گھر میں رہ کر حملے کے بعد کی کارگزاریاں ٹی وی پر دیکھتے رہے۔

میرا تقرر چوں کہ محکمہ انفارمیشن کے ایک عہدے پر تھا اس لیے تمام خصوصی اور Sevsitive خبروں کی اطلاع مجھے براہِ راست بھی مل جاتی تھی جن کو میں اپنی پرسنل ڈائری میں بھی نوٹ کرلیتا تھا۔ آج کے واقعے کو بھی میں نے خاص طور پر نوٹ کرلیا تھا۔ میں اور بیگم دونوں بظاہر ٹی وی کے سامنے بیٹھے تھے لیکن ذہنی طور پر پریشان تھے۔ کسی طرح دن تو گزر گیا لیکن رات کو بیگم نے آہستہ سے اس شہر سے ٹرانسفر کی بات میرے کانوں میں ڈال دی۔ جہاں تو ان کی خواہش تھی کہ ملازمت کے بقیہ دن یہیں گزارے جائیں اور اب حالات سے ایک دم فرار کی بات؟ بہرحال میں نے انکی بات ہنسی میں ٹال دی۔

’’میڈم یہ ااپ کا ناشتہ نہیں ہے کہ جب دل چاہے بریڈ بٹر کھلوا دیا اور جب دل چاہا پراٹھے کا ناشتہ کرا دیا۔ ابھی تو اس شہر میں آئے چند ماہ ہوئے ہیں، کم از کم تین سال تو رکنا ہی پڑے گا۔‘‘

’’تو پھر ان حالات میں بچوں کی تعلیم کا کیا ہوگا؟‘‘

ایک اور چبھتا ہوا سوال: میں نے ان کو اطمینان دلا دیا لیکن فکر مند میں بھی تھا کیوں کہ اب یہ حادثات آئے دن ہونے لگے تھے۔ رات کو بیگم نے ہم سب کی زندگیوں کو اللہ کے سہارے چھوڑا اور سب سوگئے۔ نہ جانے کتنی رات گزری تھی کہ گولیوں اور دھماکے کی آواز نے ہم کو جگا دیا۔ گھر کی بجلی بھی غائب تھی۔ بیگم نے کسی طرح ماچس اور موم بتی ڈھونڈی تب ہم ایک دوسرے کی صورت دیکھ سکے۔ بیگم نے فوراً جائے نماز بچھا دی۔

کسی طرح صبح ہوئی تو اخبار بھی ندارد تھا اور ٹیلی فون لائن بند۔ کھڑکی سے باہر دیکھا تو سامنے فوجی گاڑیاں اور بندوق بردار کھڑے تھے۔ اعلان ہوا رہا تھا کہ پورے علاقے میں کرفیو ہے کیوں کہ دہشت گردوں نے محلہ کے ایک بڑے سیاسی لیڈر کو اسی کے گھر میں قید کر دیا ہے اور اب وہ وہیں سے فائرنگ کر رہے ہیں۔ دوپہر تک بجلی کی سپلائی بحال ہوگئی تب ٹی وی کی تازہ خبروں سے پتا چلا کہ اب سارے دہشت گرد مارے جاچکے ہیں لیکن انہوں نے بھی اپنی آخری گولی غالباً اس لیڈر پر ہی استعمال کرلی کیوں کہ گھر میں اس کی لاش ملی۔ اس کے بعد کرفیو کی مدت بڑھا دی گئی اور پورے محلے کی ضروریات زندگی کا سامان فوجی گاڑیوں کے ذریعے گھروں میں پہنچانے کا انتظام کر دیا گیا۔ بیگم کچن کے کام کے بعد سارا وقت جائے نماز پر گزارتی تھیں۔ مجھے ان حالات میں امی بہت یاد آئیں۔ کاش وہ ہوتیں تو ان کے سوال کا جواب ان کو مل گیا ہوتا کہ انسان جانور کیسے بن جاتا ہے۔

تین چار دن اسی حالت میں گزر گئے کہ اچانک بیگم کی طبیعت خراب ہوگئی۔ ان کو سانس لینے میں دقت محسوس ہو رہی تھی۔ میںنے اپنا وزیٹنگ کارڈ سامنے کھڑے ہوئے افسر کو اشارے سے بلا کر دکھایا اور اسے صورت حال بتلائی۔ وہ شریف انسان تھا۔ اس نے فوراً وائر لیس پر کسی کو اطلاع دی اور پھر تھوڑی ہی دیر میں آرمی کی ایمبولینس آگئی جس میں بچے اور میں کچھ مختصر سا ضروری سامان لیے بیگم کے ساتھ ہی اسپتال چلے گئے۔ وہاںپتا چلا کہ ان کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے۔ یہ سن کر میں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ وہ جو بھی کرتا ہے بہتر ہی ہوتا ہے، ورنہ اس جہنم سے باہر آنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ وقت پر میڈیکل ایڈ ملنے سے ان کو چار پانچ دن میں ہی ٓئی سی یو سے جنرل وارڈ میں منتقل کر دیا گیا۔ لیکن ایک بری خبر بھی دی گئی کہ اب دو دن بعد وہ گھر واپس جانے کے لائق ہوجائیں گی۔ یہ خبر ہم دونوں کے لیے پریشان کن تھی۔ ایسے نازک وقت میں بیگم نے زندگی میں پہلی بار نہایت عقل مندی کی بات کی:

’’آپ گھبرائیے نہیں۔ شام تک اللہ پھر کوئی راہ نکال دے گا۔‘‘

اور ہوا بھی یہی کہ شام کو پھر انہیں سانس لینے میں دقت محسوس ہونے لگی۔ ساتھ ہی پیٹ میں شدید درد بھی اٹھا۔ اس لیے ان کو دوبارہ آئی سی یو میں منتقل کر دیا گیا۔ وہاں کئی قسم کے ٹسٹ ہونے کے باوجود ڈاکٹروں کو بظاہر کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آئی، اس لیے انہوں نے دہلی کے کسی بڑے اسپتال کو کیس ریفر کر دیا اور ہم دوسرے ہی دن دہلی بھیج دیے گئے اور مجھے محکمہ کی جانب سے بیوی کی دیکھ بھال کے لیے ایک ماہ کی خصوصی چھٹی بھی مل گئی۔

یہ بھی اتفاق ہے کہ دہلی میں میری بیوی کا مائکہ بھی تھا، اس لیے کچھ علاج اور کچھ ماحول کی تبدیلی سے ان کی حالت بتدریج نارمل ہوگئی۔ لیکن میری پریشانی میں اضافہ ہو رہا تھا کیوں کہ ایک ماہ کی چھٹی اب ختم ہو رہی تھی اس لیے گھر میں سب کی رائے یہ ہوئی کہ میری سروس اب بیس سال سے زیادہ ہوچکی ہے۔ اس لیے مجھے اب ریٹائرمنٹ لے لینا چاہیے۔ میں نے اس رائے پر عمل بھی کرلیا۔

ریٹائرمنٹ کے بعد کئی سال گزر گئے۔ دونوں بیٹے تعلیم مکمل کرکے سرکاری ملازمت میں آگئے۔ میں خود عمر کے اس پڑاؤ پر تھا جہاں پہنچ کر ہر شخص ماضی کی طرف لوٹتا ہے۔ اتفاق سے ایک رات سونے سے قبل ٹی وی پر ایک مولانا صاحب نظر آئے جو شب برأت کے سلسلے میں تقریر فرما رہے تھے کہ اس مقدس رات کو نیک روحیں اپنی اپنی قبروں سے باہر آکر اپنے اعزا کی منتظر ہوتی ہیں۔ یہ سن کر مجھ پر عجیب کیفیت طاری ہوگئی اور مجھے امی یاد آگئیں کیوں کہ کئی سال میں اپنے وطن نہیں گیا تھا جہاں ان کی قبر تھی۔ میں نے فوراً تہیہ کرلیا کہ آئندہ چند دنوں میں وہاں ضرور جاؤں گا اور پھر مجھے ان کا سوال بھی یاد آگیا جو میری طالب علمی کے زمانے میں انہوں نے کیا تھا اور میں اس کا جواب نہ دے سکا تھا۔

میں نے اپنی ذاتی ڈائری سے اس پورے عرصے کی ان اہم خبروں کا انتخاب کیا جو امی کے سوال کے جواب کے لیے ضروری تھیں اور پھر میں نے ان کی قبر پر حاضری دی۔ ثواب پہنچانے کے بعد میں نے امی کی روح سے عرض کیا کہ آپ کے ایک سوال کا قرضہ میرے ذمے ہے۔ آج میں وہی ادا کرنے آیا ہوں کہ انسان جانور کیسے بن جاتا ہے؟

’’امی! یوں تو گزشتہ تقریباً ساٹھ سال میں ہزارہا واقعات ایسے ہوئے ہیں جن سے انسانیت شرمسار ہوئی لیکن میں آپ کی روح کو اس گندی دنیا میں زیادہ دیر روک کر تکلیف نہیں دینا چاہتا۔ اس لیے چند منتخب ثبوت پیش کر رہا ہوں اور یہی آپ کے سوال کا جواب ہیں۔ آپ کے اس دنیا سے رخصت ہونے کے بعد سب سے افسوسناک اور حیوانیت سے بھرا ہوا واقعہ یہ ہے کہ انسان نما جانور کے ایک جم غفیر نے سیکڑوں سال پرانی ایک عبادت گاہ کو شہید کر دیا اور پھر اس یک طرفہ جنگ کو جیتنے کا جشن بھی منایا۔ چوں کہ ردعمل دکھانے والے گنتی میں کم تھے اور جانور زیادہ اس لیے جمہوریت جیت گئی۔ اصل بات یہ ہے امی کہ طاقت کا نشہ انسان کو جانور بنا دیتا ہے جیسے کہ دنیا کے ایک بہت ہی طاقت ور جانور نے صرف اپنی ضد اور انا کی تسکین کے کے لیے ہزاروں ٹن بارود کی بارش کر کے دو زندہ ملکوں کو موت کی نیند سلا دیا۔ مجھے افسوس ہے کہ آپ کو اپنے سوال کا جواب پانے کے لیے اتنا انتظار کرنا پڑا۔ کیا آپ کو یقین آئے گا کہ ایک غیر ملک کے رہنے والے انسان اور اس کے کمسن بیٹے کو چند جانوروں نے ایک کار میں بند کر کے زندہ جلا دیا۔ یہ ہزاروں میل دور آکر ہمارے سماج کے ان بے بس اور لاچار مریضوں کا علاج کرتے تھے جن کو ہم نے کبھی انسان ہی نہیں سمجھا۔ زندہ انسانوں کو جلانے کا یہ کھیل آگے بڑھ کر ٹرین کی ایک بوگی تک پہنچا جس کو باہر سے تیل اور پٹرول چھڑک دیا گیا اور اس کے اندر کے سارے مسافر جل کر کوئلہ بن گئے۔ چند سر پھرے جانوروں نے اس وحشیانہ جرم کا بدلا سرکاری طور پر ہزاروں بے قصور انسانوں کو جلا کر یا قتل عام کر کے لیا۔ حد یہ ہے کہ ایک مجبور حاملہ عورت کا پیٹ چاک کر کے اس کے اندر پلنے والی روح کو نکال کر نذر آتش کر دیا گیا۔ امی! واقعات کی فہرست تو لمبی ہے لیکن مجھے سسکیوں کی جو آوازیں سنائی دے رہی ہیں ان سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کو یہ سن کر تکلیف پہنچ رہی ہے۔‘‘

اچانک میں نے اپنے کندھے پر ایک ہاتھ محسوس کیا۔ مڑ کر دیکھا تو ایک نوجوان میرے قریب کھڑا تھا اور اس کے پاس ایک وہیل چیئر پر ایک نہایت خوبصورت چار پانچ سال کا بچہ بیٹھا تھا جس کے دونوں پاؤں گھٹنے کے پاس سے کٹے ہوئے تھے: ’’انکل! اب بس کیجئے، ورنہ میری چیخ نکل جائے گی۔ـ‘‘

نوجوان نے مجھ سے التجا کی اور پھر اس نے شاید میرے حیرت زدہ چہرے کو پڑھ لیا۔

’’انکل! یہ میرا بیٹا ہے اور وہ سامنے والی قبر اس کی ماں کی ہے۔ دو سال قبل یہ دونوں ایک دکان پر کھڑے ٹافیاں خرید رہے تھے کہ پاس ہی کھڑی ہوئی ایک کار میں بلاسٹ ہوا جس میں بہت سی جانیں ضائع ہوئیں۔ ان میں اس کی ماں بھی تھی اور اب یہ معصوم ہر شب برأت پر اپنی ماں سے ملنے آتا ہے۔ اسی حادثے میں یہ عمر بھر کے لیے معذور ہوگیا۔‘‘

اتنا کہہ کر وہ نوجوان بے اختیار رو پڑا۔ قبرستان کا ماحول اور بھی پراسرار ہوگیا۔ میری آواز بھی حلق میں پھنس کر رہ گئی۔ میں کہنا چاہتا تھا کہ دیکھئے امی، انسان کے جانور بن جانے کا جیتا جاگتا ثبوت یہ ہے اور اب آپ سے اجازت لینے سے قبل یہ درخواست ہے کہ آپ اس گورِ غریباں کی تمام نیک روحوں کے توسط سے اس مالک دو جہاں سے دعا فرمائیں کہ آیندہ سال جب میں یہاں حاضری دوں تو میرے پاس اس طرح کی کوئی خبر نہ ہو اور کوئی دوسرا معصوم اپنے والدین سے ملنے ان حالات میں یہاں نہ آئے۔ لیکن میں یہ سب کچھ کہہ نہ سکا کیوں کہ وہ نوجوان اپنے بچے کے ساتھ ہی مجھے قبرستان سے باہر لے آیا تھا۔ lll

(ماخوذ از کتاب نما)

شیئر کیجیے
Default image
عارف محمود