تعلیم نسواں

لڑکیوں کی تعلیم کی اہمیت

عورت کے بغیر کسی معاشرے کا تصور ممکن نہیں ہے، عورت نصف انسانیت اور نصف حیات ہے،مرد اور عورت دونوں ایک دوسرے کے محتاج ہیں ،ایک کے بغیر دوسرے کی زندگی ادھوری ہے،دونوں کا انحصار ایک دوسرے پر ہے۔ قرآن نے اس بات کو یوں کہا ہے: ’’مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے ولی ہیں۔‘‘

عورت ہی گھر کو جنت کا نمونہ بناتی ہے،جس طرح مرد گھر کی حفاظت کرتا ہے اسی طرح سلیقہ مند بیوی بھی گھر کی محافظ ہوتی ہے۔

اسی لئے عورت کا تعلیم یافتہ اور باکردار ہونا بے حد ضروری ہے کیونکہ آنے والی نسل کی تہذ یب اور تربیت کی ذمہ داری اسی کے کاندھوں پر ہوتی ہے۔ اگر عورت تہذیب یافتہ ہوگی تو پورا معاشرہ تہذیب یافتہ ہوگا۔کچھ لوگ لڑکیوں کی تعلیم و تربیت پر خاص توجہ نہیں دیتے اور یہ کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے کہ لڑکی پڑھ لکھ کر کیا کرے گی یہ کتنا بھی پڑھ لے مگر اسے گھر میں رہ کر ہی کام کاج کرنا ہے۔ وہ نادان لوگ اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ یہی بچی آئندہ چل کر نسلوں کی مربی اور معمار بنے گی اور یہ جو کچھ ہوگی آئندہ نسلیں بھی وہی ہوں گی۔ وہ تعلیم یافتہ ہے تو آئندہ نسلیں تعلیم یافتہ اور مہذب ہوں گی۔ اگر وہ جاہل و ناخواندہ اور غیر مہذب ہے تو نئی نسل کے مہذب اور تعلیم یافتہ ہونے کا سوال ہی نہیں ہوتا۔ اسی لئے عورت کو وہ تمام سہولتیں اور حقوق ملنا چاہئے جس کے ذریعے اپنی شخصیت کو ایک مضبوط پیڑ کی طرح قائم رکھ سکے ،اور بعد میں اس کے ذریعے پرو رش پانے والی نسلیں مضبوط ٹہنیوں کی طرح اپنے آپ کو محفوظ رکھ سکیں۔ اس دنیا میں بہت سے انقلابات آئے جیسے بہت سے مذاہب وجود میں آئے اوربہت سی تہذیبیں نمودار ہوئیں۔ ان سب کے پھیلانے اور مستحکم کرنے میں عورت نے مردوں کا برابر ساتھ دیا۔

اسی طرح عورت پیدائش سے لیکر موت اور زندگی کی مختلف منزلوں اور راہوں میں مختلف حیثیت سے مردوں کا برابر ساتھ دیتی ہیں۔ماں کی شکل میں وہ بچوں کی پہلی استاد ہوتی ہے اور شوہر کی زندگی بھر کی رفیق بن کر گھر کی تمام ذمہ داریوں کا بوجھ سنبھالتی ہے سماج کو صحیح طریقے سے چلانے کا آدھا کردار عورت کا ہوتا ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ ایک عورت کی تعلیم و تربیت مرد کے مقابلہ میں زیادہ اہم اور ضروری ہے۔ ایک مفکر نے اسی اہمیت کو جان کر کہا تھا:

’’جب تم ایک لڑکے کو پڑھاتے ہو تو صرف ایک لڑکا پڑھتا ہے۔ لیکن جب تم ایک لڑکی کو تعلیم دیتے ہو تو گویا تم ایک نسل کو تعلیم یافتہ بناتے ہو۔‘‘ بات حقیقت ہے کہ ایک تعلیم یافتہ عورت کی گود سے جاہل، ناخواندہ اور غیر مہذب نسل کی پرورش کا تصور محال ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
ماریہ مشتاق

تبصرہ کیجیے