وہ اپنے پرایوں کے کام آنے والا

اس بڑھیا کی بھی عجیب شان تھی۔ وہ یکا و تنہا جا رہی تھی۔ اپنا گھر بار چھوڑ کر، اپنا دیس، اپنا وطن ترک کر کے کہ جس میں اس نے اپنا بچپن اور لڑکپن، جوانی اور بڑھاپا سب کچھ گزار دیا تھا۔ جس میں وھ پلی بڑھی اور جوان ہوئی تھی اور جس میں اس نے اپنی زندگی کیصبحیں و شامیں، بہاریں و خزائیں دیکھی تھیں۔ لیکن آج وہ ایک عجیب مقصد لے کر اٹھی تھی۔ اس نے اکیلے ہی گھر کے ساز و سامان کو سمیٹا،ایک میلی سی چادر میں ڈالا اور پھر گٹھڑی بنا کر سر پر رکھ کر شہر سے باہر ویرانے کی طرف چل دی تھی۔ اس کا مقصد اپنا گھر بچانا نہیں بلکہ آبائی دھرم بچانا تھا اور وہ یہ سوچ کر اتنی عظیم قربانی دے رہی تھی کہ آباء و اجداد کا دھرم بچانے کے لیے یہ معمولی قربانی ہے۔

سارا شہر اور سارا بازار اسے اس حالت میں دیکھ رہا تھا کہ وہ اتنا زیادہ بوجھ اٹھائے ہوئے ہے کہ اس کی ہمت جواب دے رہی ہے، ٹانگیں لڑکھڑا رہی ہیں، سانس پھول رہا ہے، پسینہ سر سے لے کر پاؤں تک آرہا ہے اور یہ سارے ہٹے کٹے تماش بین منہ کھولے دیکھے جا رہے تھے لیکن کوئی بھی نہ تو اس کی خیریت پوچھ رہا تھا اور نہ ہی وزن اٹھانے کی زحمت کر رہا تھا اور بڑھیا بھی سب سے بے نیاز چلی جا رہی تھی اور ان خود غرضوں کی عقل کا ماتم کرنے اور ان کی بے حسی پر افسوس کرنے کے بجائے وہ اپنی قربانی پر شاداں و فرحاں تھی کہ عمر کے اس آخری حصے میں وہ ’’مرتد‘‘ ہوکر نہیں مر رہی۔

ایسے میں ایک وجیہہ او رخوب صورت نوجوان آگے بڑھا اس نے بڑھیا کو سلام کیا اور بڑھیا کی گٹھڑی خود اٹھالی۔ بڑھیا کی جان میں جان آئی، سانسیں بحال ہونے لگیں، پسینہ خشک ہونے لگا، محبت اور تشکر کے جذبات امڈ آئے اور وہ اس خدائی مدد پر حیران و ششدر رہ گئی اور سوچنے لگی کہ اب نہ تو مذہب کو خطرہ رہا اور نہ ہی جان کو۔ نوجوان آنکھیں جھکائے بڑھیا کے پیچھے جا رہا تھا پھر اس نے پوچھ ہی لیا کہ اماں! آپ کدھر جا رہی ہیں؟ بڑھیا کے لیے یہی تو ایک سوال تھا جو کہ اس کے دل کی آواز تھا۔ وہ بولی، میں نے سنا ہے کہ مکہ میں ایک شخص آیا ہے جو لوگوں کو ان کے مذہب سے بھٹکا رہا ہے۔ میں اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی تھی۔ یہی سوچا کہ مذہب کو بچانے کے لیے یہ بستی چھوڑ دوں۔

بڑھیا داستان سنا چکی تو نوجوان زیر لب مسکرایا۔ مگر اس کی کسی بات کا جواب نہ دیا۔ بڑھیا کے سامان کو اپنے کاندھوں پر اٹھائے اور نظریں جھکائے آگے جاتا رہا۔ بڑھیا رہ رہ کر سوچنے لگی، اس بستی میں میرے ہی آبائی مذہب کے ماننے والے سارے موجود ہیں۔ کیا وہ سب میری طرح کمزور اور ضعیف ہیں یا ان کا اخلاق و کردار بھی کمزور ہوگیا ہے۔ ان میں کوئی بھی تو ایسا نہیں کہ جو میرا سامان اٹھانے کی پیش کش کرتا؟ یہ کیسے لوگ ہیں؟ اور یہ نوجوان جسے میں جانتی ہوں اور نہ وہ مجھے، اس نے مجھے دیکھتے ہی میرا سامان لپک کر اٹھا لیا۔

ابھی سوچوں میں وہ غلطاں تھی کہ اس کی منزل آگئی۔ نوجوان نے آرام سے گٹھڑی رکھی اور سلام کر کے چلنے لگا۔ لیکن بڑھیا نے کہا کہ تم کون ہو، اپنا نام تو بتادو؟ اس نے جواب دیا اماں! میں وہی محمد ہوں کہ جس سے بچنے کے لیے آپ اپنے گھر سے نکل کھڑی ہوئی ہیں۔ بڑھیا نے یہ سنا تو اس کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔ آنکھیں حیرت سے پھٹنے لگیں۔ انگلی اس نے ہونٹوں تلے دبالی اور کہنے لگی اگر تم محمدﷺ ہو تو میں تیرے دین پر ایمان لاتی ہوں۔ یہ کہہ کر اس نے کلمہ شہادت پڑھ لیا۔

آج بھی اس دور میں بوڑھیاں موجود ہیں اور نوجوان بھی۔ یہ بوڑھیاں مشرک و ملحد بھی ہیں اور مومن و مسلمان بھی انہیں سامان سے لدا تھیلا گلیوں اور بازاروں میں آتے جاتے ہم روزانہ دیکھتے ہیں۔ لیکن افسوس کہ محمدﷺ سے محبت کا دم بھرنے کے باوجود اس کی ہمت نہیں کر پاتے کہ ان کی مبارک سنت کو زندہ کر سکیں۔ اگر بوجھ اٹھانے کی ایک سنت سے کٹر کافر عورت کا جو مذہب کی خاطر ہجرت کر رہی تھی، اس دور میں دل موم کیا جاسکتا ہے تو اس کی تاثیر آج بھی باقی ہوگی۔ قربان جائیں اس عظیم ہستی پہ کہ جس نے اپنے مبارک عمل کے ذریعے ہمارے لیے بہت کچھ چھوڑا ہے اور افسوس ہے ان کے پیروکاروں پر جو اسی کے بتائے ہوئے راستے کو اپنانے کی جرأت نہیں کرپاتے۔ کاش ہم اللہ سے توفیق طلب کرتے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر محمد یعقوب