پڑوسی کے حقوق

انسان اسی حالت میں مطمئن اور پْرسکون زندگی گزار سکتا ہے جب اس کو قریبی تعلق رکھنے والوں کا تعاون اور باہمی اعتماد اور محبت و ہمدردی حاصل رہے۔ اور یہ خوش گوار تعلقات کے ذریعہ ہی حاصل ہو سکتا ہے۔معاشرے میں جس سے تعلق ہر وقت رہتا ہے وہ ہمسایہ اور پڑوسی ہے۔اس لیے اس میں مسلم اور غیر مسلم کا فرق مٹادیا گیا صرف انسانی رشتہ کا لحاظ رکھا گیا اور حق جوار کی بحسن و خوبی ادائیگی کی دیں اتنی تاکید کی گئی کہ بروایت ترمذی حضور نبی اکرم نے فرمایا :’’جبرائیل مجھے ہمسائے کے بارے میں اتنی تاکید کرتے ہیں کہ میں نے یہ سمجھا کہ اسے وارث قرار دیا جانے والا ہے۔‘‘

حق ہمسائیگی کی پاسداری کا ثبوت فقہ اسلامی میں حق شفعہ ہے،جوہمسایہ کو ہمسایہ کی جائیداد و غیر منقولہ پر شریعت اسلامی نے قائم کیا ہے۔ اس کی رو سے کسی جائیداد کی فروخت کے وقت ہمسایہ کو سب سے پہلے اس کی خریداری کا حق حاصل ہے۔حضور نبی اکرم نے ’حق جوار‘کے بارے میں اتنی تاکید فرمائی کہ ارشاد ہوا:’’قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھوں میں میری جان ہے کوئی بندہ مومن نہیں ہو سکتا جب تک اپنے ہمسائے کیلئے بھی وہی نہ چاہے جو اپنے لئے چاہتا ہے۔‘‘ (مسلم)

دوسرے موقع پر ارشاد ہوا کہ ’’قیامت کے دن سب سے پہلے ہمسایوں کا مقدمہ پیش ہو گا۔‘‘(مشکوٰۃ)

اللہ تعالیٰ نے سورۃ النساء میں پڑوسی کے حقوق بیان فرمایا ارشاد ہوا۔’’رشتہ دار، ہمسایوں اور ہم سفر کے ساتھ نیک سلوک کرو۔‘‘

اس لئے مسلمانوں کے لئے ضروری قرار پایا کہ اس حسن سلوک میں غیر مسلم ہمسائے بھی شریک ہیں اس کی وضاحت خود رسول اکرم نے فرمائی۔’’غیرمسلم ہمسائے کا ایک حق ہے مسلمان ہمسائے کے دو حق اور مسلم رشتہ داروں کے تین حق ہیں۔‘‘

قرآن و سنت سے مندرجہ ذیل حقوق کا ثبوت ملتا ہے اور ادئیگی کی تاکید کی گئی ہے۔ رسول اللہ کا ارشاد ہے ہر مسلمان کے لئے ضروری قرار دیا گیا کہ وہ اپنے پڑوسیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔

ضرور ت کے وقت ہمسائے کی مددکرنا فرض ہے اور ایسے موقع پر بخل سے کام لینا جائز نہیں۔ ’’اگر ہمسایہ تجھ سے قرض مانگے تو اسے قرض دے اگر تجھ سے مدد طلب کرے تو اس کی مدد کر اور اگر اسے کوئی ضرورت ہو تو اْسے پورا کر۔‘‘انتہا تو یہ ہے کہ اگر ہمسائے کے گھر فاقہ ہو تو خود کھا لینا جائز نہیں۔

حضور اکرم نے فرمایا :’’وہ شخص مومن نہیں جو خود تو پیٹ بھر کر کھائے اور اس کا ہمسایہ بھوکا رہے۔‘‘نیز اگر ہمسایہ بیمار ہو تو اس کی مزاج پْرسی ضروری ہے اور اسے جس طرح کی مدد کی ضرورت ہو مدد دینا لازم ہے۔

اسلام میں ہمسایوں کو ایک دوسرے کی عزت و آبرو کی حفاظت کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور ہمسائے کی بیوی کے ساتھ زنا دس گناہ عذاب کا مستحق قرار پایا۔اسی طرح چوری حرام ہے مگر ہمسائے کے گھر میں چوری دس گھروں میں چوری سے بدتر ہے۔(بخاری)

ہمسایوں کو تحفے بھیجنے کا حکم یوں دیا گیا کہ ان سے پیار محبت میں اضافہ ہوتا ہے اور آپس کے تعلقات میں استواری اور خوشگواری پیدا ہوتی ہے اور یہی وجہ تھی کہ رسول اکرم نے فرمایا :’’ہمسائے کی بھیجی ہوئی چیز کو حقیرنہ سمجھو خواہ وہ بہت ہی معمولی سی ہو۔‘‘اسی لئے حکم دیا کہ پھل خریدے تو اپنے ہمسائے کے گھر بھیجے اور اس کی استطاعت نہیں ہے تو اس کا اظہار نہ کرو۔یعنی چھلکے اور فضلہ اس طرح باہر نہ پھینکو کہ ہمسائے کے بچے اسے دیکھ کر محرومی کے احساس سے دو چار ہوں۔اگر ہمسائے کا انتقال ہو جائے تو اس کے جنازے میں شرکت ضروری ہے اور اس سلسلے میں ممکنہ تعاون کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

ایک روایت سے ہمسائے کے حقوق کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔کسی صحابیؓ نے حضور اکرم سے عرض کیا کہ فلاں عورت نفل نمازیں بہت پڑھتی ہے اور نفل روزے بہت رکھتی ہے اور صدقہ دیتی ہے جس کیلئے وہ مشہور ہے لیکن اپنی بدزبانی سے پڑوسیوں کو آزردہ کرتی ہے۔یہ سن کر حضور اکرم نے فرمایآوہ جہنم میں جائے گی۔پھر اس صحابی نے عرض کیا کہ فلاں عورت نفل روزے کم رکھتی ہے اور نفل نمازیں بھی بہت کم پڑھتی ہے اور پنیر کے کچھ ٹکڑے صدقہ کرتی ہے لیکن اپنی زبان سے ہمسایہ کو تکلیف نہیں پہنچاتی تو حضور اکرم نے ارشاد فرمایا کہ ’’وہ جنت میں جائے گی۔‘‘

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم صحبت یافتہ نبوت تھے اور چلتے پھرتے کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کی سند تھے اس لیے ضروری معلوم ہوتا ہے اس موضوع پر ان کا عمل بھی دیکھا جائے جو تاریخ اسلام میں درج ہے۔احادیث مذکورہ سے صلہ رحمی اور رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کی کافی حد تک وضاحت ہو جاتی ہے۔ دراصل رشتہ داری کا پاس اور لحاظ رکھنا ضروری ہے جس میں قطعاً اپنے حسن سلوک کا بدلہ پانے کی نیت نہ ہو بلکہ صرف اللہ کی رضا اور اتباع سنت کے تحت کی جائے۔صلہ رحمی صرف مالی امداد تک محدود دنہیں بلکہ اس میں روحانی اور اخلاقی امداد بھی شامل ہے۔

فتح مصر کے دوران حضرت عمر و بن العاصؓ نے فوج کو کوچ کرنے کا حکم دیا جب سپاہی خیمے اکھاڑنے لگے تو انہوں نے دیکھا کہ ابن العاصؓ کے خیمے پر کبوتری نے گھونسلا بنا لیا ہے اور انڈے دے رکھے ہیں۔ انہو ںنے فرمایا کہ یہ کبوتری ہماری ہمسایہ ہے جب تک انڈوں سے بچے نکل کر اڑنے کے قابل نہ ہو جائیں خیمہ بحال رہنے دو اور اس کے آشیانہ کی حفاظت کے لئے ایک محافظ مقرر فرمادیا۔ کچھ مدت بعد جب واپس تشریف لائے تو خیمہ کے گرد ایک شہر بسا پایا جس کا نام فسطاط یعنی خیمہ رکھا گیا۔ یہ نام اور واقعہ دنیا والوں کے سامنے ہمسائیگی کے حقوق کی رعایت کی بہترین مثال ہے۔ ہمیں ان احکام کو سامنے رکھ کر اپنا محاسبہ کرنا چاہئے کہ ہم کس حد تک اس کی تعمیل کر رہے ہیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ندرت شاہین