ماؤں کے مختلف رول

ماں انسانوں کی پہلی درسگاہ اور اخلاق و کردار کا سانچہ ہے، جس میں انسانوں کی زندگیاں ڈھلتی اور عظمتوں، بلندیوں اور کارہائے نمایاں کی بنیادی رکھی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ہر عظیم انسان کی عظمت اور اس بلند پایہ کارناموں کے پیچھے ماں کی شفقت، رہنمائی اور وہ تربیت ضرور رہی ہے جو بچپن میں اسے حاصل ہوئی۔ اس حیثیت سے ماں اگر اپنی ذات کی اہمیت کا ادراک کرے اور اپنی شخصیت کو ایک مکمل اور کارگر ماں کی حیثیت سے تیار کرلے تو نہ صرف یہ اس کی معراج ہوگی بلکہ اس کی گود میں پلنے والی نسل کی بلند مرتبوں اور کارگہہ حیات میں کارہائے نمایاں انجام پانے کا ذریعہ بھی ہوگی۔

اس کے برخلاف غافل، بے سلیقہ، فن تربیت و تعلیم سے ناآشنا اور ماں کے فرائض و واجبات سے ناواقف عورت نہ صرف یہ کہ اپنی نسلوں کو فکری و عملی افلاس اور زندگی کے میدان میں ناکامیوں کی کھائی میں دھکیلنے کا سبب بنے گی۔ ذرا ان ماؤں کی طرف نظر اٹھا کر دیکھیے جو پارٹ ٹائم مائیں ہیں یا جن کو زندگی کی تگ ودو اور عیش و عشرت لذات زندگی کی حرص نے گم کردئہ راہ بنادیا۔ ان کی نسلوں کا کیا حال ہے۔ مغربی دنیا اس کی واضح مثال ہے جہاں ماؤں کی شفقت و محبت اور تربیت و نگرانی سے محروم بچے جرائم کی دنیا کے بڑے بڑے ڈان بن رہے ہیں اور حکومتوں اور اپنے معاشروں کے لیے درد سر ہی نہیں بلکہ سماج کا کینسر بن رہے ہیں۔

ذیل میں ماں کی شخصیت کے چند پہلوؤں کا تذکرہ کیا جاتا ہے تاکہ ہماری خواتین ان پہلوؤں کا بھر پور جائز لیں اور اپنی شخصیت کو ان پہلوؤں سے مضبوط، مستحکم اور کامل بنانے کی فکر کریں۔

(۱) شفقت و محبت

ماں کی شخصیت کا سب سے اہم اور نمایاں پہلو اس کی اولاد کے لیے شفقت و محبت ہے۔ ماں کی فطری شفقت و محبت ہی وہ خوبی ہے جو پیدائش کے وقت سے لے کر آخری دم تک اولاد کی خدمت میں مصروف رہتی ہے۔ اولاد کی محبت میں ایک ماں کیسی کیسی مشقتیں اٹھاتی ہے بلکہ اپنی زندگی، اپنی خواہش اور عیش و آرام کو اولاد کی محبت پر قربان کردیتی ہے۔یہی وجہ ہے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایاہے۔

’’اور تمہارے رب نے فیصلہ کردیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو۔ اگر تمہارے پاس ان میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اف، تک نہ کہو اور نہ انہیں جھڑکو اور ان سے اچھے انداز میں بات کرو اور ان کے لیے خاکساری اوررحمت کے بازو جھکائے رہو اور (ان کے لیے دعا کرو) کہ اے میرے رب ان پر رحمت فرما جس طرح انھوں نے بچپن میں (شفقت و محبت سے) ہماری پرورش کی۔‘‘

ایک مرتبہ کسی صحابی نے اللہ کے رسول سے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول میرے سب سے زیادہ حسنِ سلوک کا مستحق کون ہے؟ آپ نے تین مرتبہ فرمایا تمہاری ماں اور پھر چوتھی مرتبہ پوچھنے پر فرمایا تمہارا باپ۔ ایک مرتبہ اللہ کے رسول صحابہ کی مجلس میں تشریف فرما تھے۔ آپ نے لوگوں سے تین مرتبہ کہا : ’’کیا میں تمہیں بڑے گناہوں میں سب سے بڑے گناہ سے آگاہ نہ کروں۔ صحابہ نے کہا ضرور یا رسول اللہ! اس پر آپ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھرانا اور والدین کی نافرمانی و حق تلفی۔

قرآن کی یہ آیت اور اللہ کے رسول ﷺ کی یہ تعلیمات یقینا والدین کے حقوق، ان کی عظمت اور ان کی نافرمانی کی وعید بیان کرتی ہیں لیکن ان سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ مائیں خصوصاً اور والدین عام طور پر ان اوصاف سے اپنی زندگیوں کو متصف کریں جو انہیں اس عظمت سے سرفراز کرتی ہیں۔

تعلیم و تربیت

ماں کی شخصیت کا دوسرا اہم اور نمایاں پہلو اولاد کی مربی اور ان کی رہنما کا ہے۔ ماں کی گود میں ہی کردار کی بلندی بھی پلتی تھی اور اخلاقی پستی بھی۔ وہیں حق گوئی اور عدل و انصاف کی بنیاد بھی پڑتی ہے اور بے ایمانی اور ظلم و زیادتی کی ابتدا بھی ہوتی ہے۔ وہیں خدا خوفی اور انسانیت سے محبت کے جذبات بھی پروان چڑھتے ہیں اور طغیان و بغاوت اور مجرمانہ ذہنیت کی بھی شروعات ہوتی ہے۔ دنیا میں عدل و انصاف قائم کرنے، ظلم کو مٹانے اور انسانیت کو فلاح و کامرانی سے ہم کنار کرنے کا عزم و حوصلہ بھی ملتا ہے اور دولت و شہرت کمانے اور اعلیٰ افسر بننے کی خواہش بھی پیدا کی جاتی ہے۔ شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا کردار بھی وہیں سے آتا ہے اور تاریخ ہند کا بلند پایہ ڈاکو سلطانہ بھی اپنے فن کی شروعات وہیں سے کرتا ہے۔ خیر اور اچھائی کی پرورش بھی وہیں سے شروع ہوتی ہے اور شروبرائی کا پودا بھی اسی جگہ سے لگ جاتا ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ ماں اپنی گود میں کون سے جذبات پروان چڑھاتی اور کون سے طبقہ کی پرورش کرتی ہے۔

عام ماؤں کی ترجیحات، افکار و خیالات اور زندگی کے ارادے اور عزائم کچھ بھی ہوں ایک اسلام پسند ماں کی شخصیت کا نمایاں پہلو یہی ہے کہ وہ اپنی اولاد کی ایسی صالح تربیت چاہتی ہے جو اسے دنیا میں خیرو فلاح اور عدل و انصاف کے قیام کا ذریعہ بنادے، کردار کی بلندی اور اخلاق میں رفعت ہو اور آخر کار وہ آخرت میں خود بھی کامیاب ہو اور ماں باپ کے لیے صدقہ جاریہ بنے اور اس وقت جب ان کا زندگی سے رشتہ کٹ جائے تو ان کے لیے دعائے خیر کرے۔

ایک مرتبہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے ہمراہ کہیں جارہے تھے۔ راستہ میں ایک گھر سے گزر ہوا جہاں چولہا جل رہا تھا۔ ایک چھوما سا بچہ رینگتا ہوا چولہے کی آگ کی طرف بڑھ رہا تھا اور قریب تھا کہ وہ آگ میں ہاتھ ڈال دے کہ اس کی میں دوڑتے ہوئے آئی اور اسے گود میں اٹھالیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ لوگو! کیا یہ ماں اپنے بچہ کو آگ میں جلتا ہوا دیکھ سکتی ہے؟ صحابہ نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟ اس پر آپ نے فرمایا کہ اگر یہ ماں اپنے بچہ کو آگ میں جلتا ہوا نہیں دیکھ سکتی تو پھر اسے چاہیے کہ وہ اپنے بچہ کو جہنم کی آگ سے بچانے کے لیے بھی فکر مند ہو۔

ایک مسلمان اور صاحبِ ایمان ماں کی شخصیت اسی حیثیت سے عام ماؤں سے ممتاز اور منفرد ہے کہ وہ اپنی اولاد جہنم کی آگ سے بچانے کی فکر کرتی ہے اور اس کی ایسی صالح تربیت کے لیے کوشاں ہوتی ہے جو آخرت میں اسے جہنم کے بجائے جنت میں لے جانے کا ذریعہ بنے۔ یہی بات ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں توجہ دلائی ہے:’’لوگو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو جہنم کی آگ سے بچاؤ۔‘‘

(۳) ماں بہ حیثیت داعیہ

اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’لوگو! تم میں ہر ایک ذمہ دار اور نگراں ہے اور اس سے اس کے ماتحتوں کے بارے میں سوال ہوگا۔ عورت ذمہ دار اور نگراں ہے شوہر کے گھر کی اور اس کی اولاد کی اور اس سے ان کے بارے میں پوچھا جائے گا۔‘‘

ماں کی شخصیت کا یہ پہلو اور زیادہ پھیلا ہوا اور وسیع ہے جس میں محبت و شفقت اور تعلیم و تربیت کی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ وہ تمام ذمہ داریاں بھی آتی ہیں جو ایک نگراں کی حیثیت سے کسی انسان پر عائد ہوتی ہیں۔ ماں اولاد کی نگران ہے یعنی یہ اس کی شخصیت کا بنیادی پہلو ہے کہ وہ اولاد کے تمام امور پر متوجہ رہے۔ ان کے لباس و ضروریات زندگی سے لے کر ان کے اخلاق و کردار، حلقہ یاراں اور دوست احباب اور ان کے معاملات و اندازِ زندگی تک پر نظر رکھنا ماں کی ذمہ داری قرار پاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی روشنی میں یہ بات بھی ہمارے سامنے آتی ہے کہ ایک ماں خود کو اولاد کے لیے بہترین نگراںاور ان کی ضروریات کے لیے بہترین منتظم ثابت کرے۔

شیئر کیجیے
Default image
نور النساء (اورنگ آباد)