ایبولا کا مہلک حملہ

پچھلے چند ماہ کے دوران مغربی میڈیا میں ایبولا وائرس سے پھیلنے والی بیماری نے کافی ہلچل مچا رکھی ہے۔ یہ ایک وبائی مرض ہے جس کا فی الوقت کوئی علاج دستیاب نہیں۔ اسی امر نے خصوصاً نازک مزاج امریکی عوام کو خوفزدہ کر دیا ہے۔ جب امریکا میںاس وبا یا چھوت کے چار کیس دریافت ہوئے، تو مریضوں سے اچھوت جیساسلوک کیا گیا۔

اس میں شک نہیں کہ ایبولا وائرس وسیع پیمانے پر پھیل سکتا ہے، مگر یہ فی الوقت اتنا ہلاکت خیز نہیں جتنا اسے ظاہر کیا گیا۔ اس کے مقابلے میں ایڈز وائرس اب تک پندرہ لاکھ انسانوں کی جانیں لے چکا۔ جبکہ ایبولا وائرس کی حالیہ وبا کے باعث تادم تحریر پانچ ہزار سے زیادہ مرد و زن زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

بہرحال دین اسلام کی رو سے ہر انسان کی جان قیمتی ہے۔ اسی لیے اسلام پہلا مذہب ہے جس نے بنی نوع انسان کو وبائی امراض کی ہلاکت آفرینی سے خبردار کیا۔ نبی کریمؐ کا ارشاد مبارک ہے: ’’مسلمانو! اگر تمھیں معلوم ہو کہ ایک مقام پر وبا پھیل چکی، تو اس طرف کا رخ نہ کرو۔ اور اگر تمھارے علاقے میں وبا پھیل جائے، تو کسی دوسری جگہ کا رخ نہ کرو۔‘‘ (صحیح بخاری)

درج بالا مقدس حدیث میں پہلی بار قرنطینہ (Quarantine) کا تصور پیش کیا گیا۔ یعنی جو فرد وبا کا شکار ہے، اسے صحت مند انسانوں سے الگ جگہ پر رکھا جائے۔ ایک اور حدیث مبارک ہے: ’’جو فرد وبا میں مبتلا ہو جائے، وہ صحت مند انسانوں کے قریب نہ جائے۔‘‘ یہ حدیث بھی نظریہ قرنطینہ پیش کرتی ہے تاکہ تندرست انسان اپنی جانیں چھوت سے محفوظ رکھ سکیں۔

وائرس جرثومے (Germ) کی ایسی قسم ہے جو صرف زندہ خلیے ہی میں پلتا بڑھتا ہے۔ وائرسوں کی پانچ ہزار اقسام دریافت ہو چکیں اور ان کی لاکھوں ذیلی قسمیں ہیں۔ کئی وائرس انسانی خلیوں میںداخل ہو کر انسان کو متفرق بیماریوں مثلاً چیچک، خسرہ، فلو، ایڈز، ہیپاٹائٹس وغیرہ میں مبتلا کرتے ہیں۔ انہی خطرناک وائرسوں میں ایبولا وائرس بھی شامل ہے۔

ایبولا وائرس کی پانچ اقسام ہیں… سوڈان، سینڈی بیوگو، تائی فوریسٹ، ایبولا اور ریسٹون۔ ان میں سے اوّل الذکر اقسام انسانوں کو نشانہ بناتی ہیں۔ اور ان میں سے سب سے خطرناک ایبولا وائرس ہے۔ ریسٹون وائرس بندروں میں بخار پیدا کرتا ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ افریقا میں پائی جانے والی پھل (Fruit) چمگادڑوں کے ذریعے ایبولا وائرس انسان تک پہنچا۔ دراصل کسی وجہ سے یہ وائرس پھل چمگادڑ کے جسم میں پہنچ کر اسے نقصان نہیں پہنچاتا… گویا وہ چمگادڑ کو اپنی کمین گاہ بنا لیتا ہے۔ جسم میں وائرس پل بڑھ کر اس ممالیہ کے خون و تھوک میں پھیل جاتا ہے۔

اب چمگادڑ کوئی پھل کھائے، تو وائرس بذریعہ تھوک اس سے لگ جاتا ہے۔ بعدازاں کوئی بھوکا انسان یہ پھل کھا لے، تو ایبولا وائرس اس کے بدن میں پہنچ گیا۔ اسی طرح کسی انسان کے ہاتھوں میں زخم ہے۔ اور کسی طرح مردہ چمگادڑ کا خون زخم پر لگا تو تب بھی وائرس اسے چمٹ جائے گا۔ یاد رہے، افریقا میں پھل چمگادڑ کا گوشت کھایا جاتا ہے۔ تاہم گوشت پکانے سے ایبولا وائرس زندہ نہیں رہتا۔

کئی افریقی باشندے بندروں کا گوشت بھی کھاتے ہیں۔ اگر بندر ایبولا وائرس کی حامل پھل چمگادڑ کا ادھ کھایا پھل کھا لے، تو وائرس اس کے بدن میں بھی جا پہنچے گا۔ پھر بندر کا خون، تھوک یا پسینا بھی کسی انسان کو ایبولا وائرس کا شکار بنا سکتا ہے۔ گویا یہ وائرس متاثرہ چمگادڑ، بندر، ہرن یا انسان کے صرف مائع جات (تھوک، خون، قے، پاخانہ، آنسو، پیشاب، دودھ وغیرہ) سے دوسرے کو منتقل ہوتا ہے۔

اگر ایک ایبولا وائرس بھی کسی انسانی یا حیوانی جسم میں داخل ہو جائے، تو وہ قریب ترین خلیے میں جا گھستا ہے۔ تب وائرس اپنا جینیاتی مواد خلیے میں خارج کرتا ہے۔ یہ جینیاتی مواد خلیے کی مشینری اپنے قبضے میں لے کر اپنی نقل تیار کرنے لگتا ہے۔ یوں آنے والے وقت میں ہزاروں لاکھوں ایبولا وائرس پیدا ہو جاتے ہیں۔

انسانی جسم میں وائرس داخل ہونے کے بعد عموماً دو دن بعد ابتدائی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ انسان بخار، تھکن اور اعصاب و ہڈیوں میں درد محسوس کرتا ہے۔ پھر گلے میں تکلیف جنم لیتی ہے۔ بعدازاں قے آتی ہے اور پیٹ بھی درد کا نشانہ بنتا ہے۔ مریض سانس بمشکل لیتا اور گھبراہٹ کا شکار رہتا ہے۔ ساتویں دن اندرونی یا بیرونی اعضا سے خون نکلنے لگتا ہے۔ انسان دو ہفتے کے اندر اندر صحت یاب نہ ہو، تو عموماً موت ہی اس کا مقدر بنتی ہے۔

شناخت

مرض کے ابتدائی دنوں میں یہ جاننا مشکل ہوتا ہے کہ یہ ایبولا وائرس کا پیدا کردہ ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ٹائیفائیڈ اور ملیریا میں بھی درج بالا جسمانی علامات جنم لیتی ہیں۔ بہرحال ابتدائی دنوں میں ایبولا وائرس کی شناخت کے لیے یہ چار طبی امتحان استعمال ہوتے ہیں:

٭ پی سی آر یعنی ( Polymerase chain reaction )

٭ وائرس کی علیحدگی ( Virus isolation)

٭ انٹی جن۔ کیسپچر انزائم۔ لنکڈ امیونوسوربنٹ ایلسا (Elisa) ٹیسٹنگ۔

٭ آئی جی ایم ایلسا (Igm Elisa)

علاج

ایبولا وائرس سے جنم لینے والے مرض کی دوا تا حال نہیں بنائی جا سکی۔ ایک وجہ یہ ہے کہ مرض نے غریب افریقی ممالک میں جنم لیا۔ چونکہ وہاں مہنگی ادویہ کی کھپت کم ہے،اس لیے کسی مغربی دوا ساز ادارے نے مرض کی ویکسین تیار کرنے میں دلچسپی نہیں لی۔ یہ مادہ پرستی کا بڑا منفی پہلو ہے۔

بہرحال جسے یہ موذی مرض چمٹ جائے، اسے علیحدہ مقام پر رکھا جاتا اور مائع جات اور جسمانی درد کم کرنے والی دوائیں دی جاتی ہیں۔

مریض کی دیکھ بھال کرنے والے اور ڈاکٹر خصوصی لباس پہنتے ہیں تاکہ ایبولا وائرس انھیں شکار نہ بنا سکے۔ گو یہ وائرس ہوا کے ذریعے ایک سے دوسرے میںمنتقل نہیں ہوتا تاہم بطور احتیاطی تدبیر نقاب، دستانے، گائون اور عینک پہنی جاتی ہے۔

تاریخ

ایبولا وائرس کا پہلا ریکارڈ شدہ حملہ جون1976 میں سامنے آیا۔ تب جنوبی سوڈان کے شہر، زارا (Nzara) میں ایک اسٹور کیپر ایبولا وائرس کا شکار ہوا۔ وہ30جون کو اسپتال پہنچا اور 6جولائی کے دن چل بسا۔

ایبولا وائرس کے اس حملے نے 482انسانوںکو متاثر کیا۔ ان میں سے 151اپنی جان سے گئے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے عملے نے کئی مریضوں کی جانیں بچائیں۔ تاہم وہ اس پراسرار مرض کی ماہیت نہیں جان سکے۔

اگلے ہی مہینے، اگست میں زائرے (جمہوریہ کانگو) میں ایبولا وائرس کی نئی وبا پھوٹ پڑی۔ اس نے گائوں کے ایک ہیڈ ماسٹر، مابالو لوکیلا کو اپنا پہلا شکار بنایا۔ یہ بھی وائرس کے ہاتھوں اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

۸ستمبر۱۹۷۶کو لوکیلا کی موت واقع ہوئی۔ بعدازاں جن مرد و زن سے لوکیلا کا میل ملاپ رہا تھا، وہ بھی مرض میں مبتلا ہو کر مرنے لگے۔ جلدہی وائرس نے علاقے میں تباہی مچا دی۔ یہ گائوں علاقہ یمبوکو میں واقع تھا۔ صدر زائرے، موبوتو سیکو نے وہاں مارشل لا لگا دیا۔ علاقے میں 550 دیہات آباد تھے۔ وہاں مقیم سبھی باشندوں کو علاقہ چھوڑنے سے منع کر دیا گیا۔ بعدازاں عالمی ادارہ صحت کے ڈاکٹروں نے مریضوں میں بذریعہ ٹیسٹ نیا وائرس دریافت کیا۔ قریب ہی بہتے ایبولا دریا کے نام پر اسے ایبولا وائرس کہا گیا۔

یمبوکو میں318 افراد اس وائرس کی وجہ سے بیمار ہوئے۔ ان میں سے 280چل بسے۔ ایبولا پھر وقتاً فوقتاً انسانوں پر حملے کرتا رہا۔ تمام حملے افریقی ممالک میں ظہور پذیر ہوئے۔ مارچ 2014 میں عالمی ادارہ صحت نے خبر دی کہ گنی میں ایبولا وائرس نئی قیامت مچا رہا ہے۔

گنی میں وبا ایک دو سالہ بچے سے پھیلی جو دسمبر ۲۰۱۳ میں ہلاک ہوا تھا۔ جن لوگوںنے بچے کی دیکھ بھال کی تھی، وہ پھر مرض میں مبتلاہوئے۔ ان سے وبا پھیلتی چلی گئی۔حتیٰ کہ پڑوسی ممالک، سیرالیون اور لائبیریا جا پہنچی۔ ان تینوں غریب ممالک میں ڈاکٹروں کی شدید کمی ہے۔ نیز عوام حفظان صحت کے اصولوں سے آگاہ نہیں۔ ان عوامل نے وبا پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا۔

اگست 2014 میں وبا نائیجریا تک پھیل گئی۔ پھر سنیگال اور مالی میں بھی مریض سامنے آئے۔ 30ستمبر کو امریکا میں ایبولا وائرس کا پہلا مریض رپورٹ ہوا۔ وہ آٹھ دن بعد چل بسا۔ یہ لائبیریا سے آنے والا تھامس ڈنکسن تھا۔

بعدازاں ڈنکسن کے علاج میں شامل دو نرسوں میں بھی ایبولا وائرس پایا گیا۔انہی کیسوں نے امریکا میں ہلچل مچا دی۔ امریکی و مغربی میڈیا نے راتوں رات ایبولا وائرس کو ایسا خوفناک عفریت بنا دیا جو انسانی جانوں کے درپے ہے۔

تاہم دونوں نرسیں صحت یاب ہو گئیں۔ مغربی افریقا میں مریضوںکا علاج کرنے والے امریکی ڈاکٹر، کریک اسپنر میں بھی ایبولا وائرس پایا گیا مگراس کی حالت بھی اب تسلی بخش ہے۔ گنی سے پھوٹنے والی وائرس کی حالیہ وبا نے مجموعی طور پر ۲۶۸،۱۳ مرد و زن کو نشانہ بنایا۔ ان میں سے پانچ ہزار بدنصیب چل بسے۔ اس وبا کا حملہ ابھی جاری ہے اور خدشہ ہے، مزید کئی ہزار انسان اس کے ہاتھوں لقمہ اجل بن سکتے ہیں۔

ایبولا وائرس کی پہلی وباکو تقریباً چار عشرے بیت چکے۔ اگر یہ وبا امریکا یا کسی یورپی ملک میں پھوٹی ہوتی، تو یقینا اب تک اس کا علاج دریافت ہو جاتا۔ مگرغریب ممالک میں جنم لینے کے باعث ادویہ ساز اداروں نے اس پر توجہ نہ دی۔ ان اداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ انسانی جان کو روپے پیسے پر مقدم سمجھیں۔ عقل، شعور، اخلاقیات اور مذہب اسی بات کی ترویج کرتے ہیں۔

شیئر کیجیے
Default image
ابو صارم