میتھی غذا بھی دوا بھی

میتھی مختلف کھانوں کو خوشبو دار اور ذائقے دار بنا نے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ اچار کے مسالے میں میتھی کے بیج ڈالے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ یونانی اور آیورویدک دوائوں میں اسے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا سالن پیشاب آور ہے۔ میتھی موسم سرما کے امراض ‘ کمر درد ‘تلی کے ورم اورگنٹھیا وغیرہ میں نافع ہے۔ میتھی کے بیج بادی امراض میںمفید ہیں۔ چہرے کے دغ دھبوں کے دور کرنے کے لیے اکثر اْبٹنوں میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔

میتھی کے بیجوں کو پانی میں پیس کر ہفتے میںکم ازکم دوبار ایک گھنٹا تک سر پر لگا کر دھو نے سے بال لمبے اور گرنا بند ہو جاتے ہیں۔ امراض نسواں میں تخم میتھی کا استعمال کیا جاتا ہے۔ بچہ دانی کے ورم‘ درد اور دیگر گائنی کے امراض میں موثر ہے۔ میتھی پیٹ کے چھوٹے کیڑوں(چنونوں) کو مارتی ہے، ہاضمہ درست کرتی ہے۔ بلغمی مزاج والوں کے لیے بہت مفید ہے۔ سردی سے محفوظ رکھتی ہے۔ دیہات میں بچے کی پیدائش کے بعدزچہ کو اس کے لڈو بنا کر کھلائے جاتے ہیں۔

آنتوں کی کمزوری سے اگر دائمی قبض ہو تو میتھی کا سفوف گڑ ملا کر صبح و شام پانچ گرام پانی کے ساتھ کھانے سے کچھ دنوں تک نہ صرف دائمی قبض دور ہو گی بلکہ جگر کو بھی طاقت ملے گی۔ میتھی شوگر اور گنٹھیا میں بھی بہت مفید ہے۔ اس کے لیے میتھی کے تازہ پتے 10گرام پانی میں پیس کر صبح نہار منہ استعمال کریں۔

ذیابیطس (شوگر ) اور میتھی کی کرامات

ذیابیطس کے علاج میں میتھی کو انتہائی موثر پایا گیا ہے۔ راشٹر یہ پوشن انو سندھان حیدر آباد کے ڈاکٹر آرڈی شر ما ورگھورام اور دیگر ڈاکٹروں پر مشتمل کمیٹی عرصہ دراز سے ذیابیطس کے علاج کے سلسلے میں تحقیقات کر رہی تھی۔ انھوں نے ہزاروں مریضوں کو تخم میتھی استعمال کروایا۔ اس کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق میتھی کے بیج ذیابیطس اور دل کے امراض میں مفید ہیں۔ میتھی کے بیج روزانہ 20 گرام درد رے پیس کر کھانے سے صرف دس دن کے اندر ہی پیشاب اور خون میں شکر کی مقدار کم ہو جاتی ہے۔ اگرچہ علامات مرض میںکمی ہونے سے مریض کو خود بھی فائدے کا اندازہ ہو جاتا ہے لیکن بہتر ہے کہ ہر دس دن بعد شوگر کا باقاعدہ ٹیسٹ کروا لیا جائے۔

شوگر کے تناسب سے میتھی کے بیج کا استعمال 100 گرام روزانہ تک بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں میتھی کے بیج دال کی طرح یا کسی سبزی میں ملا کر پکا کے بھی استعمال ہو سکتے ہیں۔

شوگر کے مریضوں کو میتھی کے بیج استعمال کروانے کا میرا طریقہ یہ ہے کہ میتھی کے بیجوں کو دردرا پسو ا لیتا ہوں اور صبح دوپہر شام 10-10گرام سادہ پانی سے استعمال کرواتا ہوں۔ اس کے استعمال کے کوئی مضر اثرات نہیں ہیں۔

مذکورہ بالا کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق میتھی کے بیجوں کا استعمال ذیابیطس میں انتہائی مفید ہے۔ اس دوران چاول ، آلو ، گوبھی ، اروی کیلا اور دیگر میٹھی اشیا سے پرہیز ضروری ہے۔

صبح کی سیر بھی لازمی ہے اور یاد رہے کہ میتھی کے استعمال کے دوران ایلو پیتھک ادویہ استعمال ہو رہی ہو ں تو کوئی حرج نہیں۔

شیئر کیجیے
Default image
حکیم ایم اے خالد