BOOST

سوال آپ کے جواب ہمارے

س: عورتوں کے قبرستان جانے کے بارے میں ہمارے یہاں بحث چل رہی ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ حرام ہے اور ہمارے ایک بھائی جو عالم بھی ہیں وہ کہتے ہیں جائز ہیں؟

جواب: ابتدا میں آں حضرتﷺ نے اپنے اصحاب کو زیارتِ قبور سے مطلق منع فرما دیا تھا۔ اس لیے کہ ان کا جاہلیت کا زمانہ تھا۔ اس بنا پر ان کے شرک و بدعات میں مبتلا ہونے کا اندیشہ تھا۔ لیکن جب انہوں نے دین کو اچھی طرح سمجھ لیا اور توحید اور شرک و بدعات کے حدود سے خوب واقف ہوگئے تو آپ نے انہیں اس کی اجازت دے دی۔ حضرت بریدہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’میںنے پہلے تم لوگوں کو زیارت قبور سے روکا تھا، اب تم ایسا کرسکتے ہو۔‘‘ (صحیح مسلم، کتاب الجنائز، حدیث نمبر۹۷۷)

ترمذی کی روایت میں ہے کہ ساتھ ہی آپ نے یہ بھی فرمایا:

’’اس لیے کہ زیارتِ قبور سے آخرت کی یاد تازہ ہوگی۔‘‘

حدیث بالا کا خطاب عام ہے۔ اس میں مرد و عورت کی کوئی تفریق نہیں ہے۔ لیکن بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آں حضرتؐ نے عورتوں کو زیارتِ قبور سے روکا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں:

’’اللہ کے رسولﷺ نے زیارتِ قبور کے لیے جانے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔‘‘ (ابوداؤد)

ترمذی کی ایک دوسری روایت میں جو حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے، زائرات کی جگہ ’زوارات‘ (یعنی کثرت سے زیارتِ قبور کے لیے جانے والی عورتیں) کا لفظ ہے۔ (کتاب الجنائز:حدیث نمبر ۱۰۵۶)

عورتوں سے متعلق ان احادیث کی وجہ سے بعض علماء نے ان کے لیے زیارت قبور کو مکروہ قرار دیا ہے۔ لیکن بعض دیگر علماء مردوں کی طرح عورتوں کے لیے بھی زیارتِ قبور کی اجازت دیتے ہیں۔ (ملاحظہ کیجیے الموسوعۃ الفقیہۃ، ۲۴/۸۸) ان کا استدلال درج ذیل احادیث سے ہے:

(۱) حضرت عبد اللہ بن ابی ملیکہؓ فرماتے ہیں کہ ام المومنین حضرت عائشہؓ ایک مرتبہ قبرستان سے واپس آئیں۔ میں نے عرض کیا: اے ام المومنین، آپ کہاں سے تشریف لا رہی ہیں؟ فرمایا: اپنے بھائی عبد الرحمن کی قبر کے پاس سے۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسولﷺ نے تو زیارتِ قبور سے منع کیا ہے۔ فرمایا: ہاں پہلے آپؐ نے منع کیا تھا، لیکن بعد میں اس کی اجازت دے دی تھی۔ اس روایت کو حاکم اور بیہقی نے روایت کیا ہے اور ذہبی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

(۲) ام المومنین حضرت عائشہؓ سے ایک طویل حدیث مروی ہے، جس کے آخر میں ہے کہ انہوں نے رسول اللہﷺ سے دریافت کیا: میں قبرستان جاؤں تو وہاں کیا کہوں؟ آں حضرتﷺ نے انہیں دعا سکھائی۔ (صحیح مسلم، کتاب الجنائز حدیث:۲۷۴)

(۳) حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت اپنے بچے کی قبر پر بیٹھی رو رہی تھی۔ وہاں سے اللہ کے رسولﷺ گزرے تو آپ نے فرمایا: ’’اللہ سے ڈرو اور صبر کرو۔‘‘ اس نے کہا: آپ کو میری مصیبت کا کیا اندازہ! بعد میں اس عورت کو بتایا گیا کہ یہ اللہ کے رسولؐ تھے تو وہ بہت گھبرائی۔ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور معذرت کرنے لگی کہ میں آپ کو پہچانا نہیں تھا۔ آپؐ نے فرمایا: انما الصبر عند الصدمۃ الاولی (بخاری)

’’صبر تو حادثہ کے وقت قوتِ برداشت کا نام ہے۔‘‘

علامہ ابن تیمیہؒ نے اس موضوع پر مفصل بحث کی ہے۔ انہوں نے علماء کے اختلافات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بعض علماء کے نزدیک عورتوں کے لیے زیارتِ قبور کی اجازت ہے۔ لیکن خود ابن تیمیہؒ نے اپنا نقطہ نظر اس کے برخلاف پیش کیا ہے اور اس کے دلائل دیے ہیں۔ (ملاحظہ کیجیے فتاویٰ ابن تیمیہ: ۲۴/۳۴۳-۳۵۶)

علامہ قرطبیؒ فرماتے ہیں: ’’حدیث میں زیارتِ قبور کرنے والی، جن عورتوں پر لعنت بھیجی گئی ہے ان سے مراد وہ عورتیں ہیں، جو کثرت سے ایسا کرتی ہیں۔ اس لیے کہ اس سے حقوقِ زوجیت کی پامالی، بے پردگی، رونا پیٹنا اور دیگر مفاسد پیدا ہوتے ہیں۔ اس بنا پر کہا جاسکتا ہے کہ اگر یہ مفاسد نہ ہوں تو عورتوں کے لیے زیارتِ قبور کی اجازت میں کوئی مانع نہیں ہے۔ اس لیے کہ زیارِ قبور کا ایک فائدہ یہ بتایا گیا ہے کہ اس سے موت کی یاد تازہ ہوتی ہے اور اس کی مردوں اور عورتوں دونوں کو ضرورت ہے۔‘‘

علامہ شوکانیؒ علامہ قرطبیؒ کی اس تشریح و تطبیق پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’عورتوں کے لیے زیارتِ قبور کے موضوع پر بظاہر متعارض احادیث کے درمیان اس انداز سے جمع و تطبیق مناسب ہے۔‘‘ (ملاحظہ کیجیے فقہ السنہ، السید سابق، ۱/۵۶۶، ۵۶۷)

اس تفصیل سے واضح ہے کہ عبرت و موعظت، رقت قلب، موت اور آخرت کی یاد دہانی کے مقصد سے خواتین کبھی کبھی قبرستان جاسکتی ہیں۔ البتہ جنازہ کے ساتھ ان کا قبرستان جانا ممنوع ہے۔ حضرت ام عطیہؒ فرماتی ہیں:

’’ہمیں جنازہ کے ساتھ جانے سے منع کیا گیا ہے لیکن اس معاملے میں سختی نہیںکی گئی ہے۔‘‘ (بخاری)

اس سلسلے میں فیصلہ کن بات وہ ہے، جو علامہ ابن تیمیہؒ نے فقہاء کے حوالے سے کہی ہے کہ ’’اگر کسی عورت کو اپنے بارے میں یہ اندیشہ ہوکہ اگر وہ قبرستان جائے گی تو اس کے منہ سے غلط باتیں یا غلط حرکتیں سزد ہوسکتی ہیں تو اس کا قبرستان جانا بلا اختلاف ناجائز ہے۔‘‘ (فتاویٰ ابن تیمیہ، ۳۴/۳۵۶) (ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی)

 س: ہمارے ایک عزیز کسی کام سے دہلی گئے تھے وہیں ان کا انتقال ہوگیا۔ تدفین بھی وہیں ہوئی۔ بیوہ کا میکہ وہیں ہے جب کہ سسرال دوسری جگہ ہے۔ وہ عدت کے لیے سسرال جانا چاہتی ہے کیا یہ مناسب ہے؟

ج: اس عورت کے لیے جائز ہے کہ اپنے شوہر پر اپنی بقیہ مدت سوگ گزارنے کے لیے اپنے ولی کے گھر یا اپنے لیے کسی دوسری پرامن جگہ منتقل ہوجائے اگر اس کو اپنی جان یا آبرو کا خطرہ ہو اور کوئی اس کا محافظ وہاں نہ ہو۔ لیکن اگر دست درازی اور ظلم و زیادتی سے محفوظ ہو اور محض اپنے گھر والوں سے قریب رہنا چاہتی ہے تو پھر اس کا منتقل ہونا مناسب ہے، بلکہ اس پر واجب ہے کہ اپنی مدت سوگ پوری ہونے تک اپنی جگہ قیام پذیر رہے، بعد ازاں اپنے محرم کے ساتھ جہاں جانا چاہتی ہے جائے۔ (دار الافتاء کمیٹی)

 س: ایک طالبہ کے شوہر کا انتقال ہوگیا کیا اس کو عدت گزارنا لازم ہے نیز وہ کالج میں زیر تعلیم ہے تو کیا وہ اپنی پڑھائی جاری رکھ سکتی ہے؟

ج: بیوی پر واجب ہے کہ اپنے شوہر کی وفات پر چار ماہ دس دن اپنے گھر میں عدت گزارے جس میں وہ شوہر کے انتقال کے وقت موجود تھی کہیں اور رات نہ گزارے اور خوشبو، سرمہ، زیب و زینت کے کپڑے اور بناؤ سنگار کی چیزوں کے استعمال سے اجتناب کرے جو اس کی تزئین و آرائش کا باعث ہوں اور لوگوں کو دعوت نظارہ دیں، ہاں ضرورت کے تحت دن میں اس کو باہر نکلنا جائز ہے، اس بنا پر مذکورہ طالبہ اپنی ضرورت کے تحت تحصیل علم کے لیے کالج جاسکتی ہے، بشرطیکہ ان زیب و زینت کی چیزوں سے اجتناب کرے جو مردوں کے لیے باعث فتنہ ہیں اور اس سے شادی کا پیغام دینے کا سبب ہیں۔(دار الافتا کمیٹی)

شیئر کیجیے
Default image
ادارہ

تبصرہ کیجیے