تعلیم

بچوں میں تعلیمی صلاحیت کی کمی

والدین بچے کے لیے اہم ترین معلم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کا کردار بچے کی ذات کے لیے بنیادی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ عام طور پر بچے میں کسی قسم کی کمزوری یا عدم استطاعت کا احساس سب سے پہلے والدین ہی کو ہوتا ہے۔ اس صورت حال میں والدین مختلف اقسام کے رد عمل کا اظہا رکرتے ہیں۔ بعض والدین ماہرین کے فیصلوں پر شک کرتے ہیں اور بعض اسے قسمت کا لکھا سمجھتے ہیں اور بعض بچے کو قصور وار گردانتے ہیں، تاہم درست طریقہ یہ ہے کہ اگر کوئی مسئلہ ہے تو اسے تسلیم کیا جائے اور بچے کی ہر ممکن مدد اور اس سے تعاون کو یقینی بنایا جائے۔

والدین کو چاہیے کہ وہ بچے کی بھلائی کے لیے اپنے کردار کو سمجھیںکیوں کہ بچہ مکمل طور پر والدین پر انحصار کرتا ہے۔ ایسے بچے کی بر وقت مدد کرنا چاہیے۔ بر وقت تشخیص مشکلات کو بہت حد تک کم کردے گی۔ بچوں کی نشو و نما کے بارے میں ضروری معلومات حاصل کرنی چاہیے۔ اس سے والدین کو اندازہ ہوسکے گا کہ کس عمر میں بچے کو کیا کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ والدین کو بچے کی حرکات و سکنات پر نظر رکھنی چاہیے۔ اس کی کم زوریوں اور غیر معمولی صلاحیتوں کو پہچاننے کی کوشش کرنی چاہیے۔

بعض بچے ابتدائی عمر میں اپنی تعلیمی کارکردگی میں کمزور واقع ہوتے ہیں اور بدقسمتی سے والدین اور اساتذہ دونوں ہی اس کے حقیقی اسباب و وجوہات کا پتہ لگانے کی کوشش نہیں کرتے۔

اساتذہ ایسے بچے کی مشکلات کو عام طور پر سمجھ نہیں پاتے اور ایسے بچے ان کے غصے کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ روایتی طریق تدریس ہے۔ جس کے کوئی مثبت نتائج برآمد نہیں ہوتے۔ آخر کار اس بچے کو بگڑا ہوا، سست، ضدی، ناقابل تدریس اور نکما وغیرہ گردانا جاتا ہے۔ تعلیمی عدم استطاعت نہ تو کوئی بیماری ہے اور نہ لاعلاج مسئلہ۔ ایسے بچوں کو زیادہ توجہ اور بہتر نگہ داشت کی ضرورت ہوتی ہے لہٰذا اگر اسے اساتذہ کی بھرپور توجہ حاصل ہوجائے تو وہ جلد یا ذرا دیر سے تعلیم حاصل کرنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔ جہاں تک طریق تدریس کا تعلق ہے، اس کے لیے چند بنیادی اصول پیش کیے جاتے ہیں۔

۱- تعلیمی مواد کا انتخاب بڑی احتیاط سے کرنا چاہیے تاکہ احساس ناکامی شروع ہی سے نہ پیدا ہوسکے۔ نصاب کا ہر مرحلہ، دوسرے مرحلے سے بخوبی مربوط ہونا چاہیے، کیوںکہ اگر کوئی رابطہ نامکمل رہ جائے گا تو اس کو عبور کرنا خاصا دشوار ہوگا۔

۲- سبق نسبتاً چھوٹے چھوٹے ہونے چاہئیں، کیوںکہ اگر سبق لمبا ہو تو بچوں کی دلچسپی جاتی رہے گی۔

۳- سبق کے دوران میں سمعی و بصری امدادی اشیاء کو زیادہ سے زیادہ استعمال کرنا چاہیے۔ اس کے علاوہ تصویریں، ماڈل، چارٹ وغیرہ کا استعمال لازماً ہونا چاہیے۔

۴- جو سبق بھی ان بچوں کو پڑھایا جائے وہ بچوں کے ذاتی تجربوں سے مربوط ہونا چاہیے تاکہ نیا سبق ان کے لیے بے معنی نہ رہے۔ اس طرح سے وہ نہ صرف سبق سمجھ سکیں گے بلکہ اس سے لطف اندوز بھی ہوسکیں گے۔

۵- کھیل ڈرامے، آرٹ اور موسیقی بھی پڑھنے کا عمدہ محرک ثابت ہوتے ہیں۔ تعلیمی صلاحیت کی کمی میں بچوں کے لیے ہر وہ طریقہ مفید ثابت ہوتا ہے جس کی بنیاد، تعلیم بذریعہ کھیل پر ہو۔

۶- اسکول میں خوش گوار ماحول کا قیام نہایت ہی ضروری ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو بچے کی جذباتی نشو و نما کو جو قدرے غیر پختہ ہوتی ہے، ٹھیس پہنچتی ہے۔

۷-کامیاب تجربوں کی مدد سے بچوں کی حوصلہ افزائی بہت ضروری ہے، ناکامی کا احساس، پڑھنے لکھنے کے لیے کبھی بھی محرک ثابت نہیں ہوا ہے۔ کوشش یہی ہونی چاہیے کہ بچے تعلیم سے دل برداشتہ نہ ہونے پائیں۔

۸- ایسے بچوں کو اصلاحی تعلیم سے مستفید ہونے میں مدد دی جاسکتی ہے جس کے تحت:

٭ ایسی چیز تلاش کریں جس میں بچہ بہتر ہو۔

٭ ہوم ورک کم دیں۔

٭ تحریری کام میں املا کے بجائے نفس مضمون پر توجہ دیں۔

٭ جب بھی ممکن ہو زبانی جوابات میں غلطی کی نشان دہی کریں۔

٭ لمبے الفاظ پڑھائے ہوئے پنسل سے نشان لگا کر چھوٹے ٹکڑوں (Syllables) میں تقسیم کریں۔

٭الفاظ کا درست تلفظ ادا کرنے میں بچے کی مدد کریں۔

٭ایسے بچوں کو نصابی کتاب میں سے دیکھ کر کام کرنے کی اجازت دیں۔

٭اہم الفاظ تختہ سیاہ پر واضح طور پر لکھیں۔

٭ بچے کو کام مکمل کرنے کے لیے مناسب وقت دیں۔

٭ بچہ اگر سب کے سامنے بلند آواز میں پڑھنے سے گریز کرتا ہے تو اسے مجبور نہ کریں۔

٭ دوسرے بچوں کے ساتھ موازنہ نہ کریں۔ اس سے احساس کمتری پیدا ہوگا۔

٭ لکھائی کا انداز بدلنے پر مجبور نہ کریں۔

یہاں چند ایسے لوگوں کا ذکر ضروری ہے جو تعلیمی عدم استطاعت یا تعلیمی صلاحیت میں کمی کے باوجود بروقت مدد کیوجہ سے بہت بلند مقام تک پہنچے۔ اس سے والدین کو یہ اندازہ ہوگا کہ بروقت اور موثر تدابیر اور اقدامات ان کے بچے کا مستقبل سنوار سکتے ہیں۔ مشہور شائنس داں البرٹ آئن اسٹائن نے تین سال کی عمر تک بولنا نہیں سیکھا تھا اور حساب میں کم زور اور بولنے میں دقت محسوس کرتا تھا۔

ایڈسن جس کی ایجادات کی فہرست بڑی طویل ہے، بچپن میں ذہنی معذور سمجھا گیا تھا۔ ڈاکٹر فریڈ جے ایسٹائن، موجودہ دور کے عالمی شہرت یافتہ بچوں کے نیورو سرجن بچپن میں تعلیمی عدم استطاعت کا شکار رہے تھے۔

شیئر کیجیے
Default image
ندرت شاہین

تبصرہ کیجیے