دنیا میں ناقص چیزوں کے وجود کی مصلحت

دنیا میں ناقص چیزوں کے وجود سے متعلق مجھے سب سے زیادہ صحیح جواب وہ معلوم ہوتا ہے جو سیدنا مسیح علیہ السلام نے اپنے ایک شاگرد کو دیا تھا۔ شاگرد نے حضرت مسیح علیہ السلام سے پوچھا تھا کہ اے استاذ! دنیا میں یہ پیدائشی اندھے کیوں پائے جاتے ہیں؟ آخر انہوں نے پیدا ہونے سے پہلے کیا گناہ کیا جس کی ان کو یہ سزا ملی ہے؟ حضرت مسیح علیہ السلام نے جواب میں فرمایا کہ اندھے اس لیے پیدا کیے گئے ہیں تاکہ آنکھ والوں کو بصیرت حاصل ہو۔

حضرت مسیح علیہ السلام کے اس جواب سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ دنیا میں اگر اندھے، لنگڑے، اپاہج، کوڑھی اور مفتور العقل پائے جاتے ہیں تو اس کی وجہ نہ تو قدرت کی مشین کی خرابی ہے اور نہ یہ ہے کہ انہوں نے کچھ جرائم کیے تھے، جن کی سزا میں وہ ناقص پیدا کیے گئے ہیں۔ بلکہ ان کے وجود سے مقصود اہل دنیا کے لیے درسِ عبرت مہیا کرنا ہے۔ اس دنیا کو اس کے خالق نے اس کے وجود ہی میں ایک بہترین درس گاہ کی شکل میں ترتیب دیا ہے جس میں انسان کی آنکھیں کھولنے، اس کے دل کو بیدار رکھنے اور اس کی عقل کو رہ نمائی دینے کے لیے قدم قدم پر اسباب و سامان موجود ہیں۔انسان خدا شناسی اور حقیقت رسی کے لیے جن چیزوں کا محتاج ہے، وہ ساری چیزیں اس گھر کے اندر ہی جمع کر دی گئی ہیں۔ اس کی ایک ایک اینٹ پر حقیقت کا کوئی نہ کوئی نقش کندہ ہے۔

انسان کا حال آپ دیکھتے ہیں کہ اس کو جو چیز ملی ہوئی ہے، وہ سمجھتا ہے کہ یہ تو اس کو ملنی ہی تھی۔ وہ آنکھ کو، ہاتھ کو، پاؤں کو، عقل کو، صحت کو، غرض ہر چیز کو اپنا حق، اپنی ملکیت اور اپنی جائیداد سمجھنے لگتا ہے اور اس حماقت میں مبتلا ہوکر بالکل فرعون بن بیٹھتا ہے۔ جن نعمتوں کو پاکر اسے اپنے خالق و مالک کا شکر گزار بننا تھا، ان کے گھمنڈ میں وہ اتراتا اور اکڑتا ہے، جن قوتوں اور صلاحیتوں سے متمتع کیے جانے کے سبب سے اسے اپنے رب کی بندگی اور اطاعت میں سرگرم ہونا تھا، ان کو وہ اپنے رب ہی کی نافرمانی اور اسی کے خلاف بغاوت میں استعمال کرتا ہے۔ ایسے اندھوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے قدرت نے یہ انتظام کیا ہے کہ اس نے مادرزاد اندھے بھی پیدا کردیے ہیں تاکہ اگر وہ دیکھنا چاہیں تو دیکھ سکیں کہ خدا چاہتا تو انہیں بھی اسی حالت میں وہ پیدا کرسکتا تھا، لیکن یہ محض اس کا فضل و احسان ہے کہ اس نے ان کو آنکھوں والا بنایا۔ اسی طرح مذکورہ بالا قسم کے سائنس زدہ لوگوں کو سبق دینے کے لیے قدرت نے بہت سے پاگل اور دیوانے بھی بنا چھوڑے ہیں، تاکہ اگر یہ چاہیں تو سبق حاصل کرسکیں کہ قدرت کے کارخانے میں یہ نمونے ڈھالنے والے سانچے بھی موجود تھے، لیکن یہ محض اس کا احسان ہے کہ ان کو اس نے عقل کی نعمت سے نوازا۔

غور کیجیے کہ یہ کتنی عظیم تعلیم ہے جو دنیا کی یہ ناقص چیزیں ان لوگوں کے لیے فراہم کر رہی ہیں جو ہر قسم کے خلقی نقص سے پاک ہیں۔ یہ ناقص چیزیں ایک طرف تو ہمیں اس بات کا سبق دیتی ہیں کہ قدرت کی یہ عظیم نعمتیں ہمیں بغیر کسی استحقاق کے محض اس کے فضل سے ملی ہوئی ہے۔ اگر یہ نہ ملتیں تو کوئی نہیں تھا جو ہمیں یہ نعمتیں دے سکتا۔ ہمارا حال بھی آج یہ ہوتا کہ ہم سڑکوں کے کنارے بیٹھے ہوئے ہر گزرنے والے کے سامنے دست سوال دراز کرتے ہوتے۔ دوسری طرف یہ اس بات کا سبق دیتی ہیں کہ اللہ کی نعمتوں کا حق یہ ہے کہ وہ ان لوگوں کے کام آئیں جو ان نعمتوں سے محروم ہیں۔

آدمی اگر دنیا کی ناقص الخلقت چیزوں کو کھلی آنکھوں سے دیکھے تو اسے ہر چیز زبان حال سے یہ کہتی ہوئی سنائی دے گی۔

دیکھو مجھے جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو

میری سنو جو گوش حقیقت نیوش ہو

لیکن افسوس یہ ہے کہ آنکھیں رکھنے والوں میں عبرت نگاہی کا فقدان ہے اور کان رکھنے والے حقیقت نیوشی سے محروم ہیں۔

ممکن ہے گفتگو کے اس موقع پر آپ کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ قدرت نے ایک کو سبق دینے کے لیے دوسرے کو کیوں مصیبت میں مبتلا کر دیا؟ اس سوال کے جواب میں، میں یہ عرض کروں گاکہ یہ کیوں کے بعد کیوں کا سلسلہ اگر شروع ہوگیا تو یہ سلسلہ لامتناہی ہوجائے گا۔ اس کائنات کے بنانے والے نے یہی پسند فرمایا ہے کہ اس میں ایک کو دوسرے سے آزمائے کذالک فتنا بعضہم ببعض(الانعام:۵۳)۔ انسان کی آزمائش اس میں ہے کہ ایک غریب، دوسرے کو تونگر، ایک کو کمزور، دوسرے کو قوی، ایک بینا اور دوسرے کو نابینا ہوکر اپنے رب کا کیسا وفادار بندہ رہتا ہے۔

میں اس سلسلے میں جو بات عرض کرسکتا ہوں، وہ صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کسی بندے کو اگر اپنی کسی نعمت سے محروم رکھا ہے تو اس نعمت کی ذمہ داریوں اور مسئولیتوں سے بھی اس کو بری رکھا ہے۔ اب یہ راز اس دنیا میں نہیں بلکہ آخرت میں کھلے گا کہ خوش قسمت وہ ہے جس نے آنکھیں پائیں، لیکن ان کا حق ادا نہیں کیا یا وہ خوش قسمت ہے جس کو نہ آنکھیں ملیں نہ ان کے حق کے بارے میں اس سے سوال ہوا۔

علی ہذا القیاس یہ راز بھی آخرت ہی میں کھلے گا کہ جنہوںنے ملی ہوئی نعمتوں کا حق ادا کیا ہے، ان کو اللہ تعالیٰ اپنی ان نعمتوں کا کیا معاوضہ دیتا ہے جن سے اس نے اس دنیا میں ان کو محروم رکھا۔ میں تو اجمالی طور پر صرف یہ ایمان رکھتا ہوں کہ جو لوگ آنکھیں پاکر دنیا میں اندھے بنے رہے، آخرت میں ان کے مقابل میں شاید وہ لوگ اچھے رہیں جو آنکھوں سے محروم رہے۔ اسی طرح میں اس بات پر بھی ایمان رکھتا ہوں کہ جنہوں نے ملی ہوئی نعمتوں کا دنیا میں حق ادا کیا ہوگا، وہ نہ ملی ہوئی نعمتوں کا آخرت میں انشاء اللہ وہ صلہ پائیں گے کہ نہال ہوجائیں گے۔

رہا آپ کا یہ سوال کہ اس دنیا میں شر کا وجود کیوں ہے؟ تو اس کا جواب میرے نزدیک یہ ہے کہ اس دنیا میں شر محض کا وجود سرے سے ہے ہی نہیں۔ یہاں شر جو کچھ پایا جاتا ہے، اس کی حیثیت شر محض کی نہیں ہے، بلکہ وہ کسی خیر سے ضمناً پیدا ہو جاتا ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے انسان کو اختیار کا شرف عطا فرمایا ہے جو ایک عظیم خیر ہے، لیکن انسان اس خیر کو غلط استعمال کر کے اس سے بہت سے شر پیدا کرلیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ انسان کے پیدا کیے ہوئے بہت سے شرور کو اس دنیا میں جینے یا غالب ہونے کا موقع اگر دے دیتا ہے تو یہ بھی اس وجہ سے نہیں کہ شر سے اس کو کوئی محبت ہے، بلکہ یہ تو اس وجہ سے دے دیتا ہے کہ اس نے ازل سے یہ قانون بنا رکھا ہے کہ وہ باطل کو بھی اتنی مہلت دے گا جتنی مہلت میں وہ اپنا پیمانہ بھر لے اور خدا کے سامنے پیش کرنے کے لیے اس کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہ جائے یا اس وجہ سے دیتا ہے کہ اس کے ذریعے سے وہ کسی خیر کی تربیت کرنا یا اس کو نشو و نما دینا چاہتا ہے۔

میں نے ’شر محض‘ کا جو لفظ استعمال کیا ہے، اس کو اچھی طرح سمجھ لیجیے۔ سب سے بڑا شر جس کو آپ شر محض قرار دے سکتے ہیں، وہ تو شیطان ہے، لیکن شیطان کیا چیز ہے؟ جنوں اور انسانوں کے اندر کے وہ افراد جو خود گمراہ ہیں اور دوسروں کو گمراہ کرتے ہیں، وہی شیطان ہیں۔ اب غور کیجیے کہ جنات و انسان بجائے خود تو شر نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے تو ان کو نہایت اچھی صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے، لیکن یہ خود اپنے ارادہ سے ابلیس کے نقش قدم کی پیروی کر کے گمراہ ہوتے ہیں اور پھر اس کی امت میں شامل ہوکر دوسروں کو گمراہ کرتے ہیں۔

شیئر کیجیے
Default image
امین احسن اصلاحی