استاد کی توجہ کا مرکز؟

پرنسپل کی حیثیت سے میری سب سے زیادہ توجہ اساتذہ پر تھی۔ کیوںکہ کسی اسکول کی کارکردگی کا انحصار اساتذہ پر ہوتا ہے اور وہ علم کی میراث آئندہ نسل میں منتقل کرتے ہیں۔

ڈگری اور تعلیم کے لحاظ سے تو سارے استاد خوب تھے لیکن استاد کی قابلیت قدرے مختلف چیز ہوتی ہے اور ان کی کارکردگی اسی قابلیت کی مرہون ہوتی ہے۔

اسکول کے تمام معاملات کو یکے بعد دیگرے دیکھنے کے بعد ضرورت کے مطابق تبدیلی لاکر سارے نظام کو میں نے موثر بنا لیا تھا لیکن استادوں کا معاملہ ذرا زیادہ وقت کا طالب تھا۔ چناں چہ میں باری باری ہر استاد کو توجہ میں لے کر یہ دیکھنے کی کوشش میں مصروف ہوگیا کہ کون میرے معیار کے مطابق مناسب ہے، کس میں کمی ہے اور کون ناقابل قبول ہے۔

اس دوران ایک صاحب نے مجھے بہت زیادہ متاثر کیا۔ وہ انتہائی کم گو اور اپنے کام سے کام رکھنے والے تھے۔ ایسے لوگوں سے معاملات میں کچھ دشواری پیش آتی ہے لیکن یہ میرے فرائض میں شامل تھا لہٰذا میں اپنی جستجو میں لگا رہا۔

وہ نویں اور دسویں کلاس کو حساب پڑھاتے تھے۔ انہیں اس کا طویل تجربہ تھا۔ ان کی صلاحیت میں کوئی کلام نہیں ہوسکتا۔ میں نے استاد کی جس قابلیت کا ذکر کیا ہے وہ ان میں میری توقع سے بھی زیادہ تھی۔ بلکہ مجھے اپنی ساری زندگی کی معلمی اور مدرسی کا تجربہ کم محسوس ہونے لگا۔ ایک پرنسپل کی حیثیت سے میں اس کا اظہار نہیں کرسکتا لیکن میں ان کی تعریف کیے بغیر بھی نہیں رہ سکتا۔

میرا طریقہ کار یہ تھا کہ میںکلاس کے دوران پچھلے بینچوں پر بیٹھ جاتا اور استاد کی کارکردگی کا بغور مطالعہ کرتا رہتا۔

میںیہ بھی جانتا تھا کہ چند استاد میرے اس طریقہ کار کو پسند نہیں کرتے تھے لیکن اپنی ناپسندیدگی کا اظہار نہیں کرسکتے تھے۔

ان صاحب کے علاوہ اسکول کے تمام استادوں کو ان طلبہ کی طرف زیادہ ملتفت پاتا جو کلاس میں صلاحیت کے لحاظ سے سب سے آگے ہوتے۔ بہت تھوڑے سے متوسط طلباء کی طرف نظر کرتے جب کہ کمزور اور پس ماندہ (تعلیمی لحاظ سے) کی طرف کوئی بھی توجہ نہیں دیتا۔

جب کہ وہ صاحب نہ صرف کمزور طلبا پر توجہ دیتے بلکہ انہیں اس وقت تک چین نہ آتا جب تک وہ انہیں پوری کلاس کے برابر نہ لے آتے۔ وہ اگلا سبق اس وقت تک شروع نہ کرتے جب تک کلاس کا ایک ایک طالب علم پچھلے سبق پر حاوی نہ ہو جاتا۔ چوں کہ ان کے پاس ایک پیریڈ کا محدود وقت ہوتا لہٰذا انہوں نے ایک اور طریقہ وضع کیا کہ ایک کمزور طالب علم اور ایک ذہین طالب علم کی جوڑی بنا دی اور اس طرح کلاس کے ذہین طلبہ اپنے کمزور ساتھیوں کی کمزوری دور کروانے میں لگے رہتے۔ اس کا دوہرا فائدہ ہوتا۔ اول درجے کے طلبہ میں اعتماد پیدا ہوتا کہ وہ پڑھا سکتے ہیں کیوں کہ کسی دانشور نے کہا ہے کہ پڑھنے کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ پڑھایا جائے اور پڑھانے کے لیے اس موضوع پر عبور حاصل کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔

ان کے اس طریقہ کار کو میں نے دوسرا اساتذہ کے لیے مثال بنانے کی کوشش کی لیکن جس خلوص اور جذبے سے وہ صاحب کام کرتے تھے دوسروں کے پاس اس جذبے اور خلوص کی کمی تھی لہٰذا نتائج مختلف ہوتے۔

حساب ایک ایسا مضمون ہے جس میں طلبہ زیادہ سے زیادہ نمبر حاصل کرسکتے ہیں۔ بورڈ کے امتحان میں ہمارے اسکول کے تقریباً نصف طلبہ حساب میں سو فیصد نمبر حاصل کرتے تھے اور باقی بھی ۹۰ فیصد کے قریب قریب نمبر حاصل کرلیتے۔ یہ سب کچھ انہی کے دم سے تھا۔

وہ دسویں کلاس کو حسب معمول حساب پڑھا رہے تھے، بلکہ طلبا کو بورڈ کے امتحان کی تیاری کروا رہے تھے۔ میں داخل ہوا اور پانچ منٹ کا وقت طلبہ سے گفتگو کے لیے ان سے مستعار لیا۔ انہوں نے بخوشی اجازت دے دی اور خود پچھلے بینچ پر جا بیٹھے۔ اس دن میں نے طلبہ سے کئی باتیں کہیں ان میںایک بات یہ تھی کہ آپ خوش نصیب ہیں کہ حساب کے طالب علم ہیں اور اس سے بھی بڑی خوشی کی بات یہ ہے کہ آپ کو اس کے لیے بہترین معلم ملا ہے۔ ان سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنا آپ کا کام ہے۔

ایک روز چھٹی ہوگئی تھی۔ تمام استاد جانے کی تیاری کر رہے تھے۔ میں نے ان صاحب کو روک لیا۔ وہ متجسس نگاہوں سے مجھے دیکھ رہے تھے۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا۔ انہوں نے سپاٹ لہجے میں کہا: ’’میں اپنی تعریفوں سے خوش نہیں ہوتا۔‘‘

’’میں بھی بے جا تعریف کا قائل نہیں‘‘ میں نے جواب دیا۔

میں صرف یہ جاننا چاہتا ہوں کہ بہترین نتائج کے لیے ہمیں اپنی مساعی میں اور کیا شامل کرنا چاہیے؟

میری سنجیدگی کو بھانپتے ہوئے انہوں نے معمول سے ہٹ کر ذرا کھل کر بات کی۔ وہ گویا ہوئے: ’’آج طلبہ میں یکسوئی شدید فقدان ہے۔ وہ کلاس میں موجود ہوکر بھی کلاس میں نہیں ہوتے۔ ان کے دماغ میں بیک وقت کئی قسم کی کھچڑی پک رہی ہوتی ہے اور وہ ذہنی انتشار کا شکار ہوتے ہیں۔ لہٰذا وہ کلاس کی کارروائی صد فیصد قبول نہیں کرتے۔ اگرچہ استعداد کی کمی بھی ایک عنصر ہوسکتا ہے۔ لیکن اگر ہم طلبہ میں مکمل یکسوئی پیدا کرنے میں کامیاب ہوجائیں تو بہتر نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ میں ایک مثال سے اپنی بات واضح کرتا ہوں۔ جیومیٹری کی کلاس میں اقلیدس کا ایک تھیورم دائرے سے متعلق پڑھا رہا تھا۔ بلیک بورڈ میں دائرہ بنا ہوا تھا۔ تین مرتبہ دہرانے کے بعد بھی آدھی کلاس اس تھیورم کو سمجھنے سے قاصر تھی۔

میں تھیورم چھوڑ کر بچوں سے مخاطب ہوا کہ اگر اس وقت ساری کائنات تمہارے لیے سمٹ کر اس دائرے میں آجائے۔ تمہیں دائرے کے علاوہ اور کچھ نظر نہ آئے حتی کہ کلاس اور میں بھی غائب ہوجاؤں۔ یعنی اس درجے کے ارتکاز کی ضرورت ہے۔

جب بچوں نے میرے مشورے پر عمل کیا تو نتائج بہت بہتر تھے۔ اس روز گفتگو پر آمادہ دیکھ کر میں نے پوچھ ہی لیا کہ آپ کے اس جذبے اور لگن کامحرک کیا ہے؟

وہ خاموشی سے دور خلاؤں میں گھورنے لگے اور ایک وقفے کے بعد گویا ہوئے۔

’’میں بھی عام استادوں کی طرح ایک استاد تھا۔ میں اپنا کام ایمان داری سے کرتا تھا لیکن مجھے اس سے غرض نہیں تھی کہ طلبہ کتنا قبول کرتے ہیں اور کتنا نہیں۔ خصوصاً بیک بینچزسے مجھے کوئی سروکار نہیں ہوتا تھا۔ ان میں ایک نوجوان خورشید بڑا ہی خوب صورت اور روشن روشن چہرے والا لیکن پڑھائی میں اس کی دلچسپی نہ ہونے کے برابر تھی۔ امتحان میں وہ بری طرح فیل ہوا اور رزلٹ والے دن ہی اس نے خود کشی کرلی۔ جوان بچے کی موت سے گھر میں کہرام بپا تھا۔ اسکول کی نسبت سے میں بھی جنازے میں شریک تھا۔ میرا ضمیر مجھے ملامت کر رہا تھا۔ ظاہر ہے میں خورشید کو واپس نہیں لاسکتا تھا لیکن میںنے تہیہ کرلیا کہ آئندہ کسی خورشید کو غروب نہیں ہونے دوں گا۔‘‘

اس کے بعد میری خصوصی توجہ ان پچھلی نشستوں پر ہوتی ہے۔ میرے لیے انتہائی ہمت افزا بات ہے کہ تھوڑی سی توجہ اور کلاس کے ذہین لڑکوں کے ساتھ جوڑی بنانے کے بعد نتائج خاطر خواہ ظاہر ہوئے۔

میںنے کہا ایک خورشید نے آپ کو راہ دکھا دی۔

بولے نہیں بلکہ اس نے مجھے میرے فرائض یاد دلائے۔ استاد روحانی باپ ہوتا ہے اور ایک باپ اپنے بچوں سے کیوں کر غافل ہوسکتا ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
نجیب عمر