رزّاق کی رزّاقیت کے واقعات

اللہ کریم کے بے شمار صفاتی ناموں میں سے ایک ’’الرزاق‘‘ بھی ہے، یعنی رزق دینے والا! رب کائنات قرآن پاک میں جگہ جگہ فرماتے ہیں کہ اللہ ہی رزق دینے والا ہے۔ اللہ بے حساب رزق دینے والا ہے۔ وہ جس کا چاہے رزق کشادہ کرے اور جس کا چاہے کم کر دے۔ اللہ سب سے اچھا رزق دینے والا ہے۔ دیگر رزق دینے والے خود سے کچھ دینے پہ ہرگز قادر نہیں، انھیں بھی اللہ رب العزت نے ہی یہ توفیق بخشی کہ وہ مخلوقِ خدا کی ظاہراً یا مخفی مدد کر سکیں۔

ہمارے اردگرد بھی ہزاروں واقعات ایسے بکھرے ہوئے ہیں جو ہمیں اللہ تعالیٰ کی رزاقیت کا ثبوت بہم پہنچاتے ہیں۔ اپنے مشاہدات کی روشنی میں چند واقعات کا ذکر پیش ہے۔

٭٭

٭ میں نے ایک کمپنی میں چالیس سال ملازمت کی ہے اور حال ہی میں سبکدوش ہوا ہوں۔ ایک روز دفتر میں بیٹھا کام کر رہا تھا کہ ایک لڑکا آیا جس کی عمر انیس بیس سال کے قریب تھی۔ سلام کے بعد تعارفی کارڈ پیش کیا۔ وہ ہمارے ادارے کے جنرل منیجر کا تھا۔ کارڈ پر مجھے پیغام دیا گیا تھا ’’اِس کی مدد کرو۔‘‘میں نے لڑکے کو کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور پوچھا کہ تمھیں کس قسم کی مدد درکار ہے؟ اس نے کہا ’’مجھے ملازمت چاہیے۔‘‘

میں نے اسے بتایا ’’میں اس حیثیت میں نہیں کہ کسی کوملازمت پر لگا یا نکال سکوں۔ جنرل منیجر خود بڑے اختیارات کا مالک ہے۔ سارے دفاتر اس کے ماتحت ہیں۔ جب وہ تمھیں ملازمت نہیں دے سکتا تو میں کیسے دلوا سکتا ہوں؟ اس نے تمھیں ٹالنے کی کوشش کی ہے۔‘‘

میں نے پھر اس سے پوچھا کہ تم جنرل منیجر صاحب کے پاس کس طرح پہنچے؟ اس نے بتایا ’’میرا تعلق غازی پور سے ہے۔ میرے والدین کا انتقال ہو چکا۔ چھوٹی چار بہنیں ہیں۔ میٹرک کرنے کے بعد میں آیا اور ایک بیکری میں ملازم ہو گیا۔ رات کو بیکری ہی میں سوتا ہوں۔ کام مشکل طلب ہے۔ مگر میں مزید پڑھ رہا ہوں۔ کچھ عرصہ قبل انٹر کا امتحان دیا ہے۔ ہمارے گائوں کا ایک ٹھیکیدار جنرل منیجر کی کوٹھی بنا رہا ہے۔ اسی کے وسیلے سے جنرل منیجر سے ملا۔ انھوں نے آپ کے پاس بھیج دیا۔‘‘

یہ سن کر میں نے کہا ’’بھائی! رزق دینے والی صرف اللہ کی ذات ہے، نہ میں ہوں اور نہ جنرل منیجر! فی الحال میں اس حیثیت میں نہیں کہ تمھیں روزگار دے سکوں۔‘‘

اس کے چہرے پر مایوسی پھیل گئی اور بددل ہو کر کھڑا ہو گیا۔ اس کی مایوسی اور چہرے کے تاثرات دیکھ اور گھریلو حالات سن کر مجھ میں رحم کا جذبہ پیدا ہو گیا۔ میں نے اسے بیٹھنے کو کہا اور پوچھا ’’تم نماز پڑھتے ہو؟‘‘

اس نے کہا کہ کبھی کبھی پڑھ لیتا ہوں۔ میں نے اسے بتایا کہ اگر تم رزق پانے اور اپنے مسائل کا حل چاہتے ہو تو آج سے نماز شروع کر دو۔ ایک چھوٹا سا وظیفہ بھی بتایا اور کہا کہ پندرہ روز بعد آنا۔ ان شاء اللہ رب کریم کوئی سبیل نکال دے گا۔

جب وہ چلا گیا تو میں سوچنے لگا کہ پندرہ روز بعد میں اسے کہاںسے روزگار دلائوں گا؟ نہ اس کی زیادہ تعلیم ہے اور نہ کوئی تجربہ، جسمانی طور پر بھی کمزور ہے۔ یہ حالات مدنظر رکھتے ہوئے میں دعا کرتا رہا کہ اسے بہتر رزق مل جائے۔ چند روز بعد مجھے جنرل منیجر کا خط ملا کہ ادارہ آپ کے دفتر میں ٹیلی فون ایکسچینج لگا رہا ہے۔ اس کے لیے جگہ، فرنیچر وغیرہ کا انتظام کر کے فوری طور پر مطلع کیجیے تاکہ کام شروع کیا جائے۔

میں نے تمام سامان کا انتظام کر کے جنرل منیجر کو لکھ دیا ’’ہم نے مطلوبہ اشیا خرید لی ہیں۔ اب ٹیلی فون ایکسچینج چلانے کے لیے ایک آپریٹر (Operator) کی ضرورت ہے۔ اس کا بھی بندوبست ہو چکا۔ اس کے تقرر کی اجازت مرحمت فرمائیے۔‘‘ چند روز بعد اس کی منظوری آ گئی۔

جب وہ لڑکا آیا تو میں نے کہا کہ تمھاری نوکری کا انتظام ہو چکا۔ تم نے ٹیلی فون آپریٹر بننا ہے۔ جو لوگ ایکسچینج لگانے آئیں گے، تم ان سے کام سیکھ لینا۔ آسان کام تھا۔ اس نے چند ہی روز میں کام سیکھ لیا اور مستعدی سے اپنی ڈیوٹی انجام دینے لگا۔

میں نے اس سے کہا ’’دیکھو تم نے اللہ تعالیٰ کو یاد کیا اور رب تعالیٰ نے تمھارے رزق کا انتظام کر دیا۔ اللہ تعالیٰ کو زیادہ سے زیادہ یاد کرو تاکہ تمھارے رزق میں مزید اضافہ ہو سکے۔‘‘ اس نے میری بات پر عمل کیا اور اپنی تعلیم بھی جاری رکھی۔ کئی ماہ یہ سلسلہ جاری رہا۔ ایک رات اتفاقاً بجلی ضرورت سے زیادہ آئی، تو ٹیلی فون ایکسچینج ہائی وولٹ کے باعث جل گیا۔ اسے ٹھیک کرنے کی خاطر ہزارہا روپے درکار تھے۔ کچھ دفتری مسائل کی وجہ سے معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا۔ یوں اس لڑکے کا روزگار جاتا رہا۔

اس دوران وہ انٹر پاس کر چکا تھا۔ میں نے ساتھی آفیسر کو کہہ کر اْسے اس کے شعبے میں بھرتی کرا دیا۔ لڑکا وہاں محنت سے کام کرتا رہا اور بی۔اے کر لیا۔ اس واقعہ کا دلخراش پہلو یہ ہے کہ یہ لڑکا چار سال بعد کسی کام کے سلسلے میں جنرل منیجر کے پاس گیا۔ اس نے پرانے ٹھیکیدار کے حوالے سے اپنا تعارف کرایا اور بتایا ’’آپ نے اپنا تعارفی کارڈ مجھے حبیب صاحب کے نام دیا تھا۔ انھوںنے مجھے روزگار دلوا دیا۔ میںنے اپنی تعلیم جاری رکھی اور ملازمت بھی کرتا رہا۔ اب میں ایم۔اے کر رہا ہوں۔ آپ کے تعاون پہ شکرگزار ہوں۔ ایک مہربانی اور کریں کہ مجھے مستقل کر دیں تاکہ میرا مستقبل محفوظ ہو جائے۔‘‘

جنرل منیجر نے کہا ’’پہلے یہ بتائو کہ جب تم ڈیلی ویجز پر ملازم ہوئے تو تم نے کتنے روپے دیے؟‘‘

لڑکے نے کہا:

’’میں نے کسی کو ایک پیسا بھی نہیں دیا۔‘‘

انھوں نے کہا ’’کمپنی میں ڈیلی ویجز پر ملازم کرانے کا معاوضہ ۵۰ہزار روپے ہے۔ اگر کسی نے نہیں لیے تو یہ روپے مجھے لا کر دو ورنہ میں تمھیں نوکری سے نکال دوں گا۔‘‘ یہ سن کر لڑکا قدرتاً پریشان ہو گیا۔ میرے پاس آ کر رونے لگا کہ اب کیا ہو گا؟ میں اتنی بڑی رقم کہاں سے لائوں؟

میں نے کہا ’’تمھیں ان کے پاس جانے کی ضرورت نہیں تھی۔ اس کے کرپٹ کردار سے سب لوگ واقف ہیں۔ اب تم انھیں جا کر بتائو، میں نے ایک جگہ کمیٹی ڈال رکھی ہے۔ اب ان سے درخواست کی ہے کہ پہلے مجھے دے دیں۔ لہٰذا دو ماہ بعد کمیٹی مل جائے گی۔ تب میں آپ کو پیسے دوں گا۔‘‘

چناںچہ وہ جنرل منیجر کے پاس گیا اور دو مہینے بعد ۵۰ہزار روپے دینے کا وعدہ کر کے چلا آیا۔اس کی خوش قسمتی کہ ڈیڑھ ماہ بعد ہی ادارے نے اچانک جنرل منیجر کو زبردستی ریٹائر کر دیا۔ یوں اس کی جان بخشی ہو گئی۔ وہ لڑکا ماشااللہ ایم۔اے کر گیا۔ شادی ہو گئی، بال بچے دار ہوا۔ اب اللہ کے فضل سے خوش حال زندگی گزار رہا ہے۔

٭٭

ہمارے منیجنگ ڈائریکٹر کی کوٹھی تعمیر ہو رہی تھی۔ میرے ذمے وہاں ضروری سامان پہنچانا تھا۔ اس مقصد کے لیے مجھے دو پک اپ گاڑیاں دی گئیں۔ صبح ایم۔ڈی مجھے پیسے وغیرہ دیتے، میں شام کو حساب کر کے باقی رقم حوالے کر دیتا۔ میرے ساتھ کام کرنے والے دو ڈرائیور ڈیلی ویجز پر گزشتہ پانچ سال سے ملازم تھے۔ ان کی ملازمت مستقل ہونے کا کوئی امکان نہ تھا۔ ایک روز وہ ڈرائیورکہنے لگے ’’آپ ایم۔ڈی سے روز ملتے ہیں۔ کبھی ہمارے مستقبل کے بارے میں بھی بات کر لیں۔ اگر ہمیں مستقل ملازمت مل جائے تو مہربانی ہو گی۔‘‘

میں نے کہا ’’مناسب موقع دیکھ کر بات کروں گا۔‘‘ ایک روز شام کو ایم۔ڈی کے ساتھ بیٹھا چائے پی رہا تھا۔ ان کا موڈ اچھا تھا۔ میں نے موقع غنیمت جانتے ہوئے ان ڈرائیوروں کے متعلق بات کی اور بتایا ’’یہ لوگ گزشتہ پانچ سال سے ڈیلی ویجز پر کام کر رہے ہیں۔ اگلے ماہ ایڈمن منیجر نے ڈرائیوروں کو انٹرویو کے لیے بلایا ہے لیکن انھیں بلاوا نہیں ملا۔ ان کا حق پہلے بنتا ہے۔‘‘ انھوں نے اسی وقت ڈرئیوروں کو بلایا اور ان سے کچھ سوالات پوچھے۔ پھر مجھے کہا ’’ان دونوں کو صبح لے کر میرے دفتر آ جائیے۔ میں معاملے کی تحقیق کرتا ہوں۔‘‘

دوسرے روز میں ان لوگوں کو لیے ایم۔ڈی کے پاس پہنچ گیا۔ انھوں نے فوری طور پر ایڈمن منیجر کو بلایا اور ان سے کہا ’’آپ نے ان لوگوں کو انٹرویو پر کیوں نہیں بلایا؟ ان کا حق پہلے ہے۔‘‘ وہ بولے ’’ہمارے پاس وزیروں اور دیگر بڑے لوگوں کی سفارشیں آ جاتی ہیں، ہم مجبور ہیں۔‘‘

ایم ڈی نے کہا ’’ان لوگوں سے میں بات کر لوں گا۔جتنے لوگ ڈیلی ویجز پر کام کررہے ہیں، پہلا حق ان کا ہے۔ انھیں انٹرویو کال لیٹر فوری طور پر جاری کیجیے اور میرٹ پر فیصلہ دیجیے۔‘‘

کچھ عرصہ بعد وہ دونوں مستقل ہو گئے۔ یوں ان کا مستقبل روشن ہو گیا۔ چند ماہ قبل ان ڈرائیوروں میں سے ایک ڈرائیور، بابا رحمت مجھے ملا۔ اس نے بتایا ’’سر ہم تو مستقل ہوئے ہی تھے، ہماری اولادیں بھی کمپنی میں ملازمت کررہی ہیں اور انھیں بھی پکی نوکری مل چکی۔ یہ سب اللہ کا کرم ہے اور اس کی ’’رزاقیت‘‘ کا منہ بولتا ثبوت۔‘‘

٭٭

ملازمت کے دوران دفتر سے چھٹی کے بعد جب گھر آتا تو راستے میں ایک دکان سے مٹھائی لیتا۔ دکانداربڑا بااخلاق تھا۔ میری اس سے دوستی ہو گئی۔ اس کے دوچار چھوٹے موٹے کام بھی کیے، تو وہ میرا معتقد ہو گیا۔ ایک روز شام کو اس کا فون آیا ’’آپ سے کل بہت ضروری کام ہے۔ یہ ہر صورت کرنا ہے۔ میری عزت کا سوال ہے۔‘‘

میں نے سوچا شاید پیسوں وغیرہ کی ضرورت ہو گی۔ لیکن جب وہ دوسرے روز میرے دفتر آیا تو اس کے ساتھ ایک لڑکا تھا۔ اس نے بتایا ’’یہ میرا خالہ زاد بھائی ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ اس کے پاس دو ٹیکسیاں تھیں۔ یہ مالی طور پر بڑا مستحکم تھا لیکن بووجوہ اس کے مالی حالات خراب ہو گئے۔ اب اسے اپنے محکمے میں ڈرائیور کی ملازمت دلوا دیں۔‘‘ یہ کہہ کر وہ دفتر سے باہر چلا گیا۔ بڑی مشکل سے اسے واپس بلوایا اور بتایا ’’رزق دینے والی صرف اللہ کی ذات ہے، میںنہیں۔ ہو سکتا ہے اس کا رزق کہیں اور لکھا ہو۔‘‘

بہرحال میں نے لڑکے سے کہا کہ ایک ہفتے بعد آئو۔ لیکن اس دوران نماز کی پابندی کرنا، اللہ بہتر کرے گا۔ اتفاق سے ہفتے بعد ایک گڈز ٹرانسپورٹر کسی سرکاری کام سے میرے پاس آیا۔ اس کی ٹرانسپورٹ کمپنی سے مال منگوایا اور بھیجا کرتے تھے۔ کافی دیر وہ میرے پاس بیٹھا رہا۔ جب جانے لگا تو کہنے لگا ’’کوئی خدمت بتائیے؟‘‘ میں نے اْس کا شکریہ ادا کیا۔ جب وہ اْٹھا‘ تومجھے اس لڑکے کا خیال آ گیا۔

میں نے ٹرانسپورٹر سے پوچھا کہ کیا ایک لڑکے کو ڈرائیوری کی ملازمت مل سکتی ہے؟ اْس نے فوری طور پر وزیٹنگ کارڈ پر اپنے منیجر کو لکھا کہ اس آدمی کو بطور ڈرائیور رکھ لیا جائے۔ شام کو میں یہ کارڈ لیے مٹھائی والے کی دکان پہ پہنچ گیا۔ دکاندار سے کہا کہ تمھارے بھائی کے لیے ملازمت کا انتظام ہو چکا۔

دکاندار نے بتایا ’’اللہ تعالیٰ پہلے ہی اس پر فضل کر چکے۔ دو روز قبل کچھ لوگ اسے ڈھونڈتے ہوئے آئے اور کہا کہ ہمیں پتا چلا ہے، تمھیں پہاڑی علاقوں میں گاڑی چلانے کا تجربہ ہے۔ ہم تمھیں ڈرائیور رکھنا چاہتے ہیں۔ وہ ٹورازم ڈیویلپمنٹ کارپوریشن کے ملازم تھے۔ اس طرح اسے گھر بیٹھے ملازمت مل گئی۔ اللہ تعالیٰ بڑا کارساز ہے۔‘‘

٭٭

۱۹۹۳میں جب ہماری کمپنی نے چھٹنی کی تو ڈیلی ویجز پہ کام کرنے والے تمام لوگوں کو فارغ کرنا پڑا۔ میرے پاس بھی ڈیلی ویجز پہ چھے چوکیدار کام کرتے تھے۔ وہ کئی برس سے یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ مستقل ہو جائیں گے لیکن انھیں فارغ ہونا پڑا۔ ان چوکیداروں میں سے ایک چوکیدار، چاچا عزیز کی عمر ۵۵ سال تھی۔ اس کی نوکری جانے پر مجھے بڑا افسوس ہوا۔ اسے بلا کر میں نے کہا ’’چاچا! مجھے آپ کی ملازمت ختم ہونے پر بڑا افسوس ہوا۔ اب آپ کیا کریںگے؟‘‘

چاچا عزیز بڑے پْرسکون انداز میں بولا ’’سر! مجھے نہ کوئی افسوس ہے نہ کوئی فکر کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ ہے۔ جہاں وہ رحیم و کریم ہے، وہیں ’’رزاق‘‘ بھی ہے۔ بعض چیزیں اس نے اپنے اختیار میں لے رکھی ہیں جیسے رزق کا معاملہ! وہ خود میرے رزق کا انتظام کرے گا۔ میں ۵۵سال سے کبھی بھوکا نہیں سویا۔ اللہ مالک ہے۔‘‘

چند روز بعد سینئر جنرل منیجر ہمارے دفتر کا معائنہ کرنے آئے۔ ہمارا اسٹور ایک خالی پلاٹ میں واقع اور بہت بڑی جگہ گھیرے ہوئے تھا۔ انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ یہاں کتنے چوکیدار ہوتے ہیں؟ میں نے بتایا کہ ۸گھنٹے کے بعد شفٹ تبدیل ہو جاتی ہیں۔ گویا ۲۴گھنٹے میں تین چوکیدار ہوتے ہیں۔ کہنے لگے، رات کو کتنے چوکیدار ہوتے ہیں؟ میں نے بتایا کہ ایک چوکیدار! بولے ’’رات کو دو چوکیداروںکا انتظام کیجیے۔ ایک چوکیدار آگے ہو اور دوسرا پیچھے! سیکیورٹی کے لحاظ سے رات کو دوچوکیداروں کا ہونا ضروری ہے۔‘‘

میں نے کہا ’’پہلے ہم ڈیلی ویجز پر چوکیدار رکھ لیتے تھے۔ لیکن اب ہم اس انداز میں کوئی چوکیدار اور چپراسی نہیں رکھ سکتے۔

کہنے لگے ’’آپ چوکیدار کے بارے میں لکھ کر بھیجیے۔ ڈیلی ویجز پہ اس کی منظوری ایم۔ڈی سے لے کر میں بھجوا دوں گا۔ یہ سیکیورٹی رسک ہے۔ آپ فوری طور پر ایک چوکیدار کا انتظام کیجیے۔‘‘

چناںچہ میں نے چاچا عزیز کو فوراً بلوایا اور کہا کہ اپنی ڈیوٹی سنبھالو، اللہ تعالیٰ نے تمھاری سن لی۔ یوں رب کائنات پہ پختہ یقین رزق فراہم کرنے کا ذریعہ بن گیا۔

شیئر کیجیے
Default image
حبیب اشرف صبوحی