ریوڑ

(اردو ڈائجسٹ لاہور سے ماخوذ ایک کہانی جس کے حقائق جغرافیائی حدود میں قید نہیں۔)
سر…!‘‘

شبیر کی آواز پر میں نے سر اٹھا کر دیکھا۔ وہ میلے سے حلیے میں ایک آدمی کو لیے کھڑا تھا۔

’’کیا بات ہے، یہ کون ہے؟‘‘میں نے پوچھا۔ ساتھ ہی اس آدمی کو غور سے دیکھا۔ پینتیس چالیس کے درمیان عمر ہو گی۔ چہرے پرعجیب بے نیازی تھی۔ کپڑے بوسیدہ اور پائوں میں پرانی چپل…

’’سر یہ آدمی کبھی ہمارے دفتر کے سامنے بیٹھا ہوتا ہے۔ کبھی سڑک کے پار اور کبھی کالونی کے مین گیٹ کے پاس۔ پچھلے ہفتے دس دن سے اس کا یہ ہی معمول ہے۔ مشکوک بندہ لگتا ہے۔‘‘

’’ہاں بھئی، کیا نام ہے تمھارا؟‘‘

’’آپ کو میرے نام سے کیا لینا دینا؟‘‘ جواب آیا۔

’’ہوں! اچھا تم یہاں وہاں کیوں بیٹھے رہتے ہو؟‘‘ میں نے نرم لہجے میں پوچھا۔

’’میں تو بس انتظار کرتا ہوں…‘‘

’’کس کا انتظار؟ یہ کہہ کر میں نے اسے غور سے دیکھا۔ اگر یہ کوئی جاسوس یا ایجنٹ تھا تو بڑا کمال کا… چہرے پر کوئی تاثر نہیںتھا… بے نیازی کی سی کیفیت، نہ خوف نہ تردّد، نہ صفائی پیش کرنے کا جذبہ… بس چہرے پر یہ پیغام طاری تھا کہ ’’مجھے تمھاری نہ کوئی پروا ہے نہ کوئی خوف۔‘‘

’’واہ بھئی، بڑا جری ہے۔‘‘ میں نے دل میں سوچا۔ ہیڈ کوارٹر کے پاس ایسی دیدہ دلیری کے ساتھ جاسوسی کرنا اور ذرا خوف نہ کھانا!لیکن ابھی میرے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ اس پر غور کرتا…شبیر کو اشارہ کیا کہ مہمان بنا لواور وہ بھی خاص لیکن میں آ کر اِسے دیکھوں گا… اچھی طرح تلاشی لے لینا… رپورٹ مظہر کو دینا۔ باقی واپس آ کر بتائوں گا…

میں پھر سوچنے لگا ’’ہونہہ! ہم چھٹیاں بھی اپنی مرضی سے نہیں گزار سکتے۔ اب کل کی پرواز سے لندن جانا ہے۔ سیاست دان اگر ملک کے اندر ہی اپنی جوڑ توڑ کی میٹنگ رکھ لیا کریں تو کتنا بھلا ہو… ملک کا!! ویسے بھی وہ کون سا ٹکا اپنی جیب سے خرچ کرتے ہیں۔ بوجھ تو ملکی خزانے پر ہی پڑتا ہے… پھر بھلا یہ بھی کوئی تْک ہے کہ ہم ان کے ساتھ ساتھ ٹھہرتے رہیں؟ لیکن نہیں بھئی، ہم کون ہوتے ہیں اعتراض کرنے والے…حکم تو حکم ہے بجاآوری لازم…

’’میں بھی چلوں گی۔‘‘ جب میں نے بیگم کو اپنے دورے کا بتایا تو فرح سنتے ہی بولی۔

میں نے حیرت سے کہا ’’ارے، ایک فوجی کی بیوی ہو تم! ایسے دوروں میں اہل خانہ کو لے جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔‘‘

’’اوہ ہو! بھئی کیا فوجی کی بیوی روبوٹ ہوتی ہے؟‘‘

’’جانتی تو ہو پھر بھی…‘‘ میں نے جملہ ادھورا ہی چھوڑ دیا۔

بیکار ہے، کوئی بات بھی کرنا… یہ وہ بھی جانتی ہے اور میںبھی۔ میں نے الماری سے دو قمیصیں اور دو پتلونیں نکال کر مسہری پر ڈال دیں۔ سامان باندھ دینا۔ کل صبح کی پرواز ہے۔ میں ذرا اپنی فائلیں دیکھ لوں‘‘ …میں نے فرح سے کہا۔

’’بابا… آپ پھر اکیلے جا رہے ہیں؟ آپ نے دبئی کی سیر کرانے کا وعدہ کیا تھا؟‘‘ دروازے پر روشنا، عدیلہ اور فاران کھڑے تھے۔

’’ہوں تم لوگ…کیسے؟… سوئے نہیں؟‘‘

’’بابا ہم شب بخیر کہنے آئے تھے۔ ‘‘

’’میں تمھارے پاس آ ہی رہا تھا۔‘‘ میں نے فاران کو گود میں اٹھایا۔ روشنا اور عدیلہ کو پیار کیا۔ ’’مجھے اپنا وعدہ یاد ہے… ان شاء اللہ جلد چلیں گے۔‘‘ میں نے انھیں بہلا کر سونے بھیج دیا۔

لندن میں یہ تیسرا دن تھا جب مجھے کچھ گھنٹوں کی فرصت ملی۔ جب کہ ان کی اپنی اپنی مصروفیات تھیں۔ وہی خاص جن کے لیے انھیں کچھ تنہائی درکار تھی۔ صدر دفتر کو رپورٹ کر کے میں نے بھی سکھ کا سانس لیا کہ انھوں نے میری ڈیوٹی کچھ اور طرح کی نہیں لگائی۔

موسم سرد نہ تھا اورہوا خوشگوار تھی، لہٰذا لندن کی ڈبل ڈیکر سے پورے شہر کے نظارے کا سوچا۔ ایسی بس کا انتخاب کیا جس کی چھت کھلی تھی۔ لندن کی سڑکیں تنگ ہیں لیکن ان پہ ہجوم نہیں ہوتا۔ ایک جگہ فٹ پاتھوں پر جگہ جگہ لمبی قطاریں لگی تھی۔ سیل والی دکانوں میں داخلے کے لیے لوگ صبر سے اپنی باری کے منتظر تھے۔ مادام تسائو کا عجائب گھر میں پہلے کئی دفعہ دیکھ چکا تھا۔ اس کے باہر بھی فٹ پاتھ پر غیر ملکی سیاح قطار لگائے اپنی باری کے انتظار میں کھڑے تھے۔

مجھے یاد آیا، انگریزوں کا ہالو وین (Halloween) تہوار آنے والا ہے۔ اس موقع پر مرد، عورت، بچہ بوڑھا ہر کوئی بھیس بدل کر دوسروں کو شرارتوں اور عملی مذاق کا نشانہ بناتا ہے۔ ہمارے ہاںسیاست دان اور حکومتیں ہی ہالووین تہوار مناتی ہیں۔ آخر انھیں اپنے عوام کو ڈرا دھمکا اور ڈرامے و تھیٹر لگا کر قابو میں رکھنا ہوتا ہے۔ شوق عوام کو بھی ہے لیکن ڈرنے اور بیوقوف بننے کا۔ سو بنتے رہتے ہیں۔ کوئی بننے کو تیار اور کوئی بنانے کو تو پھر بھلا جھگڑا کاہے کا ہے؟ میں نے اپنے اونگھتے ہوئے ضمیر کو تھپکیاں دیتے ہوئے سوچا۔

پچھلے چھ سات سال یہ معمول رہا کہ بیوقوف بنتے عوام میں سے جنھیں افسر شاہی مشکوک سمجھتی یادوسرے الفاظ میں جو عقل مند بننے کی کوششیں کرتے، انھیں غائب کر دیا جاتا۔ بارہ سنگھوں، ہرنوں اور بھینسوں کے پیچھے لگے لگڑ بھگے موقع پاتے ہی کسی بچے کو غائب کر دیتے۔ باقی غول خوف کے باعث افراتفری کا شکار ہو کر تتر بتر ہو جاتا۔ پکڑے جانے والے بچے کی ماں امید اور مایوسی کی ملی جلی کیفیت میں کچھ دیر شکاری کے پیچھے بھاگتی اور پھر تھک ہار کر دوبارہ تماشا دیکھتے ہوئے ریوڑ میں شامل ہو جاتی۔

بس اب ٹاور آف لندن کے پاس سے گزر رہی تھی۔ یہ انگریز بادشاہوں کی قلعہ نما رہائش گاہ ہے۔ انگریزوں کے پہلے بادشاہ کا دور1066 تا 1087 تک رہا۔ یہ بات مجھے یوںیاد رہ گئی کہ پچھلی بار ٹاور آف لدن کی سیر کرتے کرتے مجھے لال قلعہ اور شاہی قلعہ بہت یاد آئے… بادشاہوں کی قلعہ نما رہائش گاہیں۔ آج بھی وہاں جائیں تو ہیبت سی محسوس ہوتی ہے، بلند اور وسیع، کاریگری میں بے مثال! لیکن ٹاور آف لندن ساری سجاوٹ اور دیکھ بھال کے باوجود ایک مختلف تاثر چھوڑتا ہے۔

دماغ میں بار بار خیال آتا ہے کہ ہم بلند پایہ تاریخ رکھنے والی مضبوط اور بہادر قوم کے امین ہیں… اس کے باوجود بار بار غلامی کی طرف لپکتے ہیں؟ آزاد ہونے کے بعد پھر غلام بننا اور بنے رہنا کہاں کی عقل مندی ہے؟دراصل ہمارے ذہن غلام بن چکے۔ ذہنوں کو غلامی سے نجات اس صورت میں مل سکتی ہے کہ ہم اپنی اصل اور بنیاد کی طرف پلٹ جائیں۔ اس پر شرمانے اور جھجکنے کے بجائے فخر محسوس کریں۔ معمولی سی مثال ہے۔ میرا بیٹا میری انگریزی کے تلفظ میں غلطیاں نکالے تو میں دل ہی دل میں خوش ہوتا ہوں کہ کیا زبردست انگریزی بولتا ہے۔ جب کہ اردو کے الفاظ غلط بولے تومیں کبھی اسے نہیں ٹوکتا بلکہ اس کی ماں اپنی سہیلیوں سے فخریہ کہتی ہے ’’میرے بیٹے کو اردو بولنا نہیں آتی۔‘‘

آخر ہم کس قوم کے فرد اور کس ملک کے نمائندے ہیں؟

لندن میں تین کے بجائے چار دن لگ گئے۔ شاید جوڑ توڑ میں کچھ کسر رہ گئی تھی۔ صاحب سے الوداعی ملاقات اور اجازت کے بعد واپسی کا ارادہ کیا۔ واپسی کے بعد دفتر کا پہلا دن ہمیشہ انتہائی مصروف ہوتا ہے۔ پتا ہی نہیں چلا کہ کب شام ہوئی۔ آخر فرح کا فون آیا ’’کہاں ہیں؟‘‘

’’آ رہا ہوں بھئی… آ رہا ہوں!‘‘ میں نے فون رکھا۔ شبیر سر پر کھڑا تھا۔

’’کیا بات ہے شبیر؟‘‘

’’سر! آپ کے مہمان کا کیا کرنا ہے؟‘‘

’’مہمان؟‘‘ پھر مجھے وہ یاد آ گیا۔ پوچھا ’’کچھ بتایا اس نے ؟‘‘

’’نہیں سر! بڑا پکا ہے۔ کچھ نہیں پھوٹتا، کہتا ہے عتیق کا ساتھی ہوں۔ وہ تم ہی لوگوں کے پاس ہے۔‘‘

’’بلائو اس کو، میں بھی دیکھوں کتنا بڑا جاسوس ہے اور کس کے لیے کام کر رہا ہے۔ کوئی ایک دو تو ہیں نہیں… دشمنوں کی پوری فوج ہے‘‘… میں دوبارہ بیٹھ گیا۔

کچھ دیر میں دو سپاہی اسے پکڑ لائے۔ لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ اس نے کمرے میں قدم رکھا۔ اچھی خاصی خاطر داری کی گئی تھی۔ لیکن چہرے پر وہی عجیب سی بے نیازی طاری تھی۔ لگتا تھا، اسے کسی چیز کی پروا ہی نہیں۔

’’ہوں کیا بات ہے …بولتے کیوں نہیں ہو؟ ‘‘ میں نے درشت لہجے میں مخاطب کیا۔

’’کیا بتائوں؟ بتاتا تو ہوں ،عتیق الرحمن کا ساتھی ہوں۔ اس کی ماں اور باپ، دونوں بیٹے کی گمشدگی کے بعد ذہنی مریض بن چکے۔ بتائو، کہاں ہے وہ؟‘‘

میں نہیں وہ مجھ سے سوال کر رہا تھا۔’’عتیق پانچ بہنوں کا اکلوتا بھائی ہے۔ اس کا باپ بوڑھا ہے۔‘‘

’’اچھا… لیکن تم کس لیے بیٹھے رہتے ہو… کس کی جاسوسی کر رہے تھے؟‘‘

’’ہونہہ… میں… میرے تو دونوں بھائی مار دیے گئے…ماں باپ دونوں ختم ہو چکے۔ اب تو مجھے بس انتظار ہے‘‘ وہ مکمل سکون سے بولا

’’انتظار؟ کس چیز کا؟‘‘

’’خدا کی پکڑ کا… مظلوم کی دادرسی کا… دیکھو کب ہوتی ہے!‘‘

اس نے اپنی سرخ آنکھوں کے ساتھ مجھے غور سے دیکھا۔ اس کے لہجے میں نہ خوف تھا نہ تردد، نہ صفائی پیش کرنے کا جذبہ… اورلہجہ برفیلا تھا۔ ایک کپکپاہٹ میرے دل سے نکل کر گویا جسم کے ایک ایک حصے پر طاری ہو گئی۔ قدموں نے بوجھ سہارنے سے انکار کر دیا۔ میں کرسی پر گر سا گیا۔ تبھی دل نے دعا مانگی ’’الہٰی! مجھے رب کی پکڑ اور مظلوم کی بددعا سے بچا لے۔

شیئر کیجیے
Default image
ریوڑ