2

بڑے دیگ کی بریانی

ایک لمبی سی چمچماتی ہوئی کار سے وہ نیچے اُترا۔ اُس نے سفید سوٹ زیب تن کیا ہوا تھا اور پیروں میںاُجلے قیمتی جوتے۔ اوپرسے نیچے تک اُجلے پیرہن میں ملبوس وہ کافی بارعب و پُروقار لگ رہا تھا۔ کار کا دروازہ کھول کر جیسے ہی اُس نے قدم زمین پررکھے اُس کے استقبال کے لئے دلہن کا بھائی شامیانے کے اندر سے دوڑتا ہوا آگیااور انتہائی گرم جوشی کے ساتھ مصافحہ کرتے ہوئے دانت نکال دیئے اوروہ شانِ بے نیازی کے ساتھ اپنے سر کو ایک ہلکا سا خم دیتے ہوئے صرف مسکرا کر آگے بڑھ گیا۔اندر ہال نما شامیانے میںکرسیوں پر کئی مہمان براجمان تھے۔ وہ بھی ایک خالی کرسی پر بیٹھ گیا۔ کئی ایک شناسا لوگوں نے اُس سے رسمی جملے کہتے ہوئے مصافحہ کیا ۔ اِتنے میں دلہا آگیا۔قاضی صاحب پہلے سے ہی تخت پر تشریف فرما تھے اور ضروری خانہ پُری کرنے میں مصروف تھے۔ دولہے نے نکاح نامے پردستخط کئے اور کچھ لمحوں بعد نکاح خوانی شروع ہو گئی ۔

نکاح ہو گیا ۔ ساتھ والے پنڈال سے بریانی کی اشتہا انگیز ہلکی ہلکی خوشبو پھیل رہی تھی۔ اُس نے بے چینی کے ساتھ پہلو بدلتے ہوئے اپنی کلائی پر بندھی جگ مگ کرتی گھڑی دیکھی ۔ دولہے کو مبارکباد دیتے ہوئے مصافحہ کرنے کے فوراََ بعدقاضی صاحب نے دلہا دلہن کے خوش آئند مستقبل کے لئے حاضرینِ محفل سے شمولیت کی درخواست کرتے ہوئے دعا کے لیے ہاتھ اُٹھادیئے ۔وہ حالتِ اضطراب میں اِس طرح اُٹھ کھڑا ہواجیسے کہیں جانے کی جلدی میں ہو۔اُدھردعا ختم ہوتے ہی چاروں طرف مبارک سلامت کا شور گونجنے لگا تھا۔ لڑکی کے ماماکو جو عجلت میں کہیں دوڑے جا رہے تھے اُس نے لپک کر مبارک باد دی اور خدا حافظ کہا۔وہ ٹھٹک کر اُسے دیکھنے لگے اور بولے۔

’’آپ کہیں جا رہے ہیں کیا؟ارے نہیں ! ایسا کیسے ہو سکتا ہے!! آپ کو کھانا کھا کر جانا پڑے گا۔ آئیے نا۔ کھانا لگ چکا ہے ۔تناوُل فرما لیں پھر چلے جائیں‘‘

وہاں سے گزرتے ہوئے کسی لڑکے کو اُنہوں نے آواز دے کر پاس بلاتے ہوئے اُسے تنبیہ کی۔

’’دیکھو! یہ صاحب شاید جلدی میں ہیں اِور ایسے ہی جانا چاہتے ہیں ۔ خبردار،بغیرطعام کے اِنہیں جانے مت دینا بیٹا۔۔۔۔۔۔۔ ہاں‘‘

لڑکے کوہدایت دیتے ہوئے وہ اُس کی طرف دیکھ اِنکساری کے ساتھ ایک بار پھرمسکرا ئے اور جلدی سے دوسری طرف چل دیئے۔وہ لڑکا انہیں ساتھ والے پنڈال میں لے گیا اور وہ گویا گھسٹتا ہوا سا اُس کے ساتھ چلنے لگا ۔

پنڈال کے اندر یہاں سے وہاں تک چاندنی کی طرح اُجلی چادروں سے ڈھکی لمبی میزیں بچھی ہوئی تھیں جن کے اوپرشفاف پانی کے گلاسوں کے ساتھ پلیٹیں اوندھی رکھی ہوئی تھیں۔گلاس اور پلیٹوں کے اِرد گرد رنگ برنگے پھولوں کی خوشبودارپتیاں بکھیردی گئی تھیں اور میزوں کے ساتھ قطار میں کرسیاں لگی تھیں۔مہمانوں کی تواضع اور کھانا لگانے پر معمور خدمت گار لڑکے مخصوص لباس میں ملبوس مودبانہ انداز میںاپنے فرض کی ادائیگی میں مصروف تھے۔

دِل کے ارمان نکالنے کے بہانے صاحبِ ثروت لوگوںکی یہ نمود و نمائش ، پُر تکلف سجاوٹ و بیش قیمت آرائش ہی تو ہے جس نے مفلس و خستہ حال طبقے کی جان آفت میں ڈال رکھی ہے۔ لمبی سی سجی سجائی کھانے کی میزوں پریہاں وہاں اِکّا دکّا لوگ بیٹھے تناول فرما رہے تھے۔ اُس نے متعجب ہو کر سوچا۔

’’بازی مارگئے بد معاش! میں نے تو فقط ناشتہ نہیں کیا ، ہو نہ ہو اِنہوں نے کل رات سے کچھ نہیں کھایا ہے۔ اِسی لئے شایدمجھ سے بھی زیادہ اُتاولے ہو رہے ہیں ‘‘

مزیداربریانی کی زبردست خوشبو فضا میں چکرا رہی تھی ۔میزوں پربیچوں بیچ تازہ بتازہ بریانی کے قاب پر قاب اُتر رہے تھے ۔ جسے دیکھ بے اختیار منہ میں بھر آ رہے اور بہہ نکلنے پر آمادہ پانی کو منہ پر رومال رکھے وہ بمشکل نگلنے کی کوشش کرنے لگا۔آن کی آن میں ساری کرسیاں بھرگئیں۔ اپنی ہوشیاری پر اُس نے دل ہی دل میں شکر ادا کیا ۔کھانے کی طرف ہاتھ بڑھانے سے پہلے ہی میزبان لڑکے نے لپک کر دو تین چار بڑے چمچ بھر بھر کر اُس کی پلیٹ میں ڈال دیئے ۔ بھاپ اُٹھاتی گرما گرم بریانی کی باس نتھنوں سے ٹکرائی تو اُس کے پیٹ میں اینٹھن ہونے لگی۔ اِرد گرد کی پروا کئے بغیر بے اختیار اُس نے گرم کھانے میں ہاتھ ڈال دیااور ایک بڑا سا جلتا ہوا نوالہ منہ میں بھر لیا۔ بے ضابطہ نگاہوں سے بچنے کے لئے پھٹی پھٹی گیلی آنکھیں اوپر چھت کی طرف مرکوز کر دیں۔ وہ تو خیر ہوئی کہ جملہ حا ضرینِ مجلس کا دھیان اپنے سامنے چنی ہوئی رکابی پر مرکوز تھااور میزبان لڑکے کی توجہ بھی کہیں اور تھی۔پورا و قت وہ اُس کی کرسی کے پیچھے عین اُس کے سر پر کھڑا رہاتھا۔ اُس کے ساتھ دوچارہم عمر لڑکے بھی شامل ہو گئے تھے۔ اُن سب نے مل کر گویا مہمان نوازی کی مثال قائم کر دی۔

عام طور پر اِس نوعیت کی تقریبات میںجدید و قیمتی لباس میںملبو س نوخیز لڑکے اور لڑکیاں جو دلہا اور دلہن کے رشتے دار ہوتے ہیںاپنے لباس و حلیے کی بابت کچھ زیادہ ہی حساس ہو جاتے ہیں ۔ مہمانوں کے درمیاںاپنے آپ کو نمایاں کرنے کی کوشش میں قصداََسب کے ساتھ اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کررہے ہوتے ہیں ۔ ایک دوسرے کے ساتھ ہلکی پھلکی چھیڑ خانی اور ہنسی مذاق بھی چلتارہتا ہے۔ گویارنگ و نور، حسن و ادا ،ناز و انداز اور خوشبوؤں کا طوفان آیا ہوتا ہے جس میں معمر لوگ ہاتھ میں چراغ نہ سہی مگر ایکسرے جیسی نگاہیں لئے اپنے بیٹے، بیٹی،بھتیجایابھانجی کے لئے رشتے کی کھوج میں سرگرداں دکھائی دیتے ہیں۔

خوب سیر ہو کر کھانے کے بعد اُس نے بڑے اِطمینان کے ساتھ پان کی گلوری منہ میں دبائی ۔ساری گہما گہمی اور تکلّفات سے بے تعلق سا سیدھے اپنی کار کا رُخ کیا اور گھر پہنچ گیا۔داخلی دروازے پر موجود دربان نے مستعدی کے ساتھ آگے بڑھ کر اُس کے لئے کار کا دروازہ کھولا۔چابیوں کا گچھا اُنگلیوں پرگھماتے ہوئے وہ گھر کے اندر داخل ہوا۔اُس کے چہرے سے عیاں تاثر کو دیکھتے ہی بیوی نے اندازہ لگا لیا تھاکہ آج کی دعوت میں بریانی کافی مزیدار رہی اوریہ تو طے تھا کہ وہ آج رات کا کھاناسرے سے کھائے گا ہی نہیں یا پھر کچھ ہلکا پھلکا یاشربت پر اکتفا کرلے گا۔

وہ ایک اچھا خاصا متمول آدمی تھا۔ چلتا ہوا کاروبار تھا۔ اپنے گھر پر بَڑھیا سے بَڑھیا کھانے کی استطاعت رکھتا تھا۔ بیوی بھی اُس کے شوق و جنون کو دیکھتے ہوئے اکثر گھر پر بریانی کے علاوہ انواع و اقسام کے پکوان بنایا کرتی تھی لیکن چھوٹی سی پتیلی میںبنی ذرا سی بریا نی کا اپنا الگ ذائقہ تھا ۔یار دوستوں سمیت اُس کی تو بڑی دیگ کی بریانی پر جان جاتی تھی۔یہ اور بات تھی کہ اگر وہ چاہتا تو ہر دن خود اپنے گھر میں ایک بڑی دیگ اُتروا سکتا تھا۔ مسکینوں،غرباء اور یار دوستوں کے عیش کروا سکتا تھا لیکن جب وہی نعمت بغیر جیب ہلکاکئے اور ہاتھ پیر ہلائے مفت میں دستیاب ہو تو کون مصیبت اُٹھائے ۔

وہ چار دوست تھے۔ ہم راز،ہم پیالہ و ہم نوالہ جو ایسی دعوتوں پر اکثرساتھ مل کر جایا کرتے تھے لیکن آج کسی وجہ سے اُسے اکیلے جانا پڑا تھا۔ اگر اُن میں سے کسی ایک کوبھی اپنے قریبی عزیز کے یہاں سے بلاوہ آیا ہوتا تو وہ بلا تکلف جملہ دوستوں کو لے کر پہنچ جاتا۔ سب کا آپس میں یہی چلن تھا۔کم از ہفتے میں دو تین دفعہ تو یہ موقع حاصل ہو ہی جاتا۔دوسروں کے خرچ پر عیش کرنے کا اپنا ہی مزہ تھا۔

پچھلے دنوں اُس کے اپنے بیٹے کی شادی طے کرنے کے سلسلے میںوہ سب مل کر لڑکی کے گھر گئے تھے۔لوگ پیسے والے نہ سہی لیکن لڑکی بے حد خوبصورت، سگھڑ اور پڑھی لکھی ہونے کے علاوہ ایک عالی خاندان سے تھی۔ یہ خود لڑکے کی ماں کا انتخاب تھااور اُسی کی اِیما پر یہ رشتہ ہونے جا رہا تھا۔اُس گھر کی حالت دیکھ اِن سب نے ناک بھوں چڑھالی تھی۔ صاف ظاہر تھاکہ اُن لوگوںسے جہیز یا کسی بھاری رقم کی اُمید رکھنا فضول تھا۔لیکن مردانے میں بیٹھے ہوئے لڑکے کے والد اور اُس کے دوستوں نے مل کرمہمانوں کے لئے کم از کم ایک شاندار دعوت کی فرمائش کرہی ڈالی۔ اُنہوں نے بے حد انکساری و عاجزی کے ساتھ معذرت کرنی چاہی۔ اپنی لاچار ی و مالی کمزوری کا واسطہ دیا لیکن اِصرار بڑھتا گیااور درپردہ دھمکی کی صورت اختیار کر گیا۔ مرتا کیا نہ کرتا، سب کے دباؤ میں آکر اپنی لختِ جگر کے صدقے کے طور پر ہی سہی حامی بھرنی پڑی۔ بے چارے دم بخود تھے کہ اِتنا بڑا اِنتظام کیسے ہو گا آخر؟ پھر بھی اِس فرمائش کو ٹالنے کی ہمت نہ کر پائے کیوںکہ اپنی نورِ نظر کے شاندار مستقبل کے پیش نظر کسی طوراِس رشتے کو کھونا نہیں چاہتے تھے۔

آخر کار وہ مبارک دن سر پر آپہنچا۔ ۔بلا کم و کاست اُس نے شہر کی تقریباََ ہر تقریب میں اپنی حاضری دی تھی، لہٰذا بے شمار بلائے بِن بلائے لوگ مبارکباد دینے کے بہانے آپہنچے۔ سارے انتظامات اِستطاعت سے کہیں بڑھ کرکئے گئے تھے۔پھر بھی صورتِ حال قابو سے باہر ہو گئی۔ ساری تیاریاں دھری رہ گئیںاور افراتفری مچ گئی۔ بد نظمی کا گلہ کرتے ہوئے مہمانوں کے ذریعے لڑکی کے والد کو بے نقط سنائی جانے لگی ۔ نہ جانے کس قدر تگ و دو کر کے یہ سارا اہتمام کیا گیا تھاجو کسی اورکے کرتوت کے باعث ملیامیٹ ہو گیا۔ مارے ہتک و بے عزتی کے اُس بے چارے کودل کادورہ پڑنے کی نوبت آگئی تھی ۔ مجبوراََاپنی دستاراُتار کر روٹھے ہوئے سمدھی کے قدموں میں رکھ دی کیونکہ وہ بطور حرجانہ دلہن کو رخصت کروانے سے پہلے ایک بڑی رقم کا مطالبہ کربیٹھے تھے۔

دفعتہََ سب کو متعجب رہ جانا پڑا کیونکہ دلہن خود بیچ پنڈال میں آکر کھڑی ہو گئی تھی۔وہ شعلۂ جوالہ بنی ہوئی تھی۔ سرخ و سپید چہرا تمتما اُٹھا تھا اور اُس کا حسین سراپاہتک و غصے کی شدت سے کانپ رہا تھا۔خلافِ توقع وہ یکبارگی اُس کے قدموں میں جھک گئی۔۔۔۔۔۔۔۔پھر لوگوں نے دیکھا کہ وہ باپ کی دستار اپنے ہاتھوں میں تھامے ہوئے ہے جسے بڑے احترام کے ساتھ اپنے ہاتھوں اُس کے صحیح مقام یعنی اُن کے سر پر رکھ دیا اور اُن کے سینے سے لگ کرفیصلہ کن انداز میں بولی۔

’’مجھ سے اُس گھر کے بزرگوں کی تعظیم و تکریم بھلا کیسے ہو پائے گی جن کے دل میں نہ تو خوفِ خدا ہے اور نہ اپنی برتری وخودداری کا احساس۔ابو ! بارات لوٹا دیجئے ۔ دنیا میں مجھے آپ کی عزت اور وقارسے زیادہ کچھ بھی پیارا نہیں ہے۔ جہاںہمارے خاندان، خصوصاًآپ کی قدر و قیمت نہ ہو اُس گھرانے سے رشتہ مجھے قطعی منظور نہیں۔‘‘

دلہن کے چہرے پر چھائے جلال و لہجے کے استقلال کو دیکھتے ہوئے صاف ظاہر تھا کہ اُس کا فیصلہ پتھر کی لکیر کی طرح اٹل ہے۔مہمانوں کے اندر کھلبلی مچ گئی۔ خیر خواہوں نے سمدھیوں کے بیچ مصالحت کروانے کی بہت کوشش کی اورخاندان کے کچھ بزرگوں کے ذریعے زمانے کی اونچ نیچ کا حوالہ دیتے ہوئے دلہن کے دل سے رنج و ملال اوردماغ پر چھائے ہوئے باغیانہ خیالات کو فرو کرنے کی سعی کی گئی لیکن اُس کے آہنی اِرادے کے آگے کسی کی ایک نہ چلی۔

نئی پیڑھی کے ہاتھوں منہ کی کھا کر چار و ناچار اپنا سا منہ لئے بارات کو خالی ہاتھ لوٹنا پڑا۔ افسوس،اپنے جگری دوستوں سمیت آج پہلی بار کسی دعوت میں بڑی دیگ کی بریانی پر ہاتھ صاف کرنے کا موقع نہیں مل سکاتھا۔

سماج میں اُس کی اپنی بھی کوئی ساکھ تھی جو آج مٹی میں مل گئی تھی۔حالات کے اِس طرح پلٹا کھانے سے وہ ششدر تھا۔ ہاتھوں کے طوطے اُڑ گئے تھے ۔بیٹاالگ روٹھا بیٹھاہوا تھااور بیوی کی لعن طعن متواتر جاری تھی۔ اچانک یہ کیا ہو گیا ۔ایک ناقابلِ تلافی غلطی اُس سے سرزد ہو چکی تھی۔ہمیشہ جو دوسروں کاتماشا بنتے دیکھ لطف اندوز ہوا کرتا تھا آج خودایک تماشا بن کر رہ گیا تھا۔

آدھی رات کو اُس کے سینے میں زبردست درد اُٹھا۔ فوراََ اسپتال لے جایا گیا۔ اُس کی زندگی بچانے کے لئے فوری طور پرکئی قیمتی اِنجکشن دیئے گئے اورمتعدد ٹسٹ کروائے گئے۔ایک عرصہ اسپتال میں گزارنے کے بعد آخر کار ڈاکٹر نے صلاح دی کہ آئندہ صحت کے معاملے میں اُسے بے حد چوکسی برتنی ہوگی ورنہ جان سے ہاتھ دھوبیٹھے گا اور اگلی بارکوئی دوائی کارگر ثابت نہ ہوگی۔ احتیاطاً کھانے میں سخت پرہیزاختیارکرنے کا مشورہ دیا گیا۔ مرغن کھانے جیسے کباب ،مرغی، پلاؤ، گوشت چربی کا استعمال بالکل بند۔یہاں تک کہ شکراور نمک والا کھانا بھی ممنوع قرار دیا گیا تھا۔

اُس کی اپنی عالیشان طعام گاہ کے اندروہ ایک شاندار کھانے کی میز پربیٹھا ہوا تھا۔ سامنے انواع و اقسام کے لذیذ کھانے چنے ہوئے تھے۔سب لوگ چٹخارے لے کرکھا رہے تھے اوروہ اپنے آگے رکھی ہوئی رکابی کو گھورے جا رہا تھا جس میں سوکھی چپاتی کے ساتھ اُبلی ہوئی پھیکی ترکاری پروسی ہوئی تھی۔lll

شیئر کیجیے
Default image
پروفیسر شاہدہ شاہین

تبصرہ کیجیے