شادیوںمیںفضول خرچی

شدی ایک ایسا اسلامی اور سماجی عمل ہے جس سے بہت سے خوش گوار احساسات وابستہ ہوتے ہیں۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق مسلمانوں کے لیے یہ ایک اسلامی فریضہ کا درجہ رکھتی ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ ہم مسلمان ہیں اور مسلمان کی حیثیت سے ہمارا معاشرہ ایسا اسلامی معاشرہ ہونا چاہیے جہاں اسلام کے اصولوں اور احکامات کی پیروی کو اولین فرض تصور کیا جائے اور ہر شعبہ زندگی میں اسلامی نظریات کو مدنظر رکھا جائے۔ مگر افسوس کہ مسلم معاشرے کا حصہ ہونے کے باوجود ہم میں بہت سی ایسی قابل مذمت رسومات، رواج پاگئی ہیں جو سراسر غیر اسلامی اور غیر شرعی ہیں۔ ان ہی میں ایک شادیوں میں اسراف کی لعنت ہے۔ شادی کے موقع پر ہمارے معاشرے میں فضول خرچی کی ایسی ایسی اعلی مثالیں قائم کی جاتی ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔

شادی کا اصل مقصد شرعی طور پر دو افراد کے درمیان ایک پاکیزہ رشتہ قائم کرنا ہے۔ ہمارے یہاں یہ عمل بجائے سادگی اور پاکیزگی کے ایک دکھاوا بن کر رہ گیا ہے۔ صرف ’’نکاح‘‘ کی حد تک شرعی روایات کو برقرار رکھا جاتا ہے۔ ہر قدم پر ہونے والی فضول رسومات اور روایات نے شادی کو ایک جھنجھٹ بنا دیا ہے۔ خاص طور پر لڑکی کے مہندی سے لے کر ولیمے تک کپڑوں، زیورات اور سنگھار پر ہزاروں روپے خرچ کردیے جاتے ہیں۔

دلہن کا جوڑا جو صرف ایک دن پہنا جاتا ہے اس کی قیمت لاکھوں تک پہنچ جاتی ہے حیرت ہے کہ لوگ اس صورت حال سے پریشان ہونے کے باوجود ہزاروں اور لاکھوں روپے شادی کے نام پر خرچ کر رہے ہیں۔ چاہے اس کے لیے قرضہ لینا پڑے یا زمین جائداد بیچ ڈالنا پڑے۔ شادی کا کھانا جس طرح برباد کیا جاتا ہے اس کو دیکھ کر تو لگتا ہی نہیں کہ ہم اس مذہب سے تعلق رکھتے ہیں جس میں رزق کی بے حرمتی گناہ عظیم قرار دیا گیا ہے۔ ایسے موقع پر ان لوگوں کو کیوں بھول جاتے ہیں جو روٹی کے ایک ایک ٹکڑے کو ترس ترس کر زندگی گزار رہے ہیں، اور گھاس اور جڑی بوٹیاں ابال کر کھانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ کیا ایسے موقع پر ہمارا رزق کو یوں برباد کرنا اسلامی اقدار سے میل کھاتا ہے۔

شادی زندگی میں ایک بار ہوتی ہے ہر انسان کا حق ہے کہ وہ اپنے ارمان اس موقع پر نکالے اور اپنی شادی کو یاد گار بنائے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اس اہم موقع پر فضول خرچی اور اسراف کے ریکارڈ توڑ دیں۔

شیئر کیجیے
Default image
عمرہ ناصر (اورنگ آباد)