آزادیِ نسواں کا مطلب کیا!

مغرب کے روشن خیال طبقے نے نصف صدی قبل تحریک آزادیِ نسواں کے نام پر عورتوں کو آزادی دلانے اور مرد و زن کی یکساں معاشرتی ذمہ داریوں اور کاموں میں شمولیت کے لیے ایک تحریک کا آغاز کیا۔ پیش نظر یہ تھا کہ عورت گھر میں کیوں قید ہے اسے گھر سے نکل کر مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنا چاہیے۔ اصل ہدف مغرب کا اپنا معاشرہ ہوسکتا ہے مگر اپنے مخصوص دینی و معاشرتی مزاج اور تہذیب و ثقافت کے حامل ہونے کی وجہ سے اس کا خاص اثر مسلم معاشرے پر بھی پڑا۔ اسی اثر کو دیکھتے ہوئے بعض لوگ کہتے ہیں کہ تحریک آزادیِ نسواں کا اصل ہدف مسلمان عورت اور اسلام کے خاندانی نظام کو شکست و ریخت سے دوچار کرنا تھا۔ بات حقیقت کے قریب ہویا نہ ہو اتنا طے ہے کہ اس مہم جوئی میں عالمی میڈیا اور عالمی ادارے بالخصوص اقوامِ متحدہ ایک تھے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ مساوات مرد و زن سے شروع ہونے والی یہ تحریک آج ہم جنس پرستی، بے راہ روی، برہنگی، بن بیاہی ماں اور بن باپ کے بچوں، شرحِ طلاق میں اضافے اور موزی امراض پر منتج ہوئی۔

لندن کے اخبار ڈیلی میل میں ایک خاتون صحافی ایمنڈا پلیٹل اپنے مضمون میں رقم طراز ہے:

’’ہم (خواتین) نے آزادیِ نسواں کی جنگ تو جیت لی ہے لیکن ہم پہلے سے زیادہ ناخوش کیوں ہیں؟ آزادیِ نسواں کی جنگ کا بڑی اچھی خواہشات سے آغاز کیا گیا تھا، لیکن اس کا انجام بہت افسوس ناک ہوا۔ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ آخر کون جیتا؟ مرد یا عورت؟‘‘

آکسفورڈ میں ۱۹۷۰ء میں پہلی آزادیِ نسواں کی کانفرنس منعقد ہوئی۔ آج متعدد سروے یہ بتا رہے ہیں کہ آزادیِ نسواں کی تمام کوششوں کے باوجود عورت کے مسائل بڑھے ہیں، کم نہیں ہوئے۔ آزادیِ نسواں کی تحریک ان کی نجات کا باعث نہیں بلکہ ان کے غم میں اضافے کا باعث بنی ہے۔ آزادیِ نسواں نے عورتوں کے مسائل میں اضافہ کیا ہے۔ وہی سب سے زیادہ زیادتی کا نشانہ بنی ہیں۔ چناں چہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس وقت دنیا بھر میں خواتین کے خلاف جرائم کا ایک سیلاب امڈا پڑتا ہے۔ وہ نہ گھر میں اپنے خاندان کے لوگوں کے درمیان محفوظ ہے اور نہ گھر کے باہر دفتروں اور کارخانوں میں محفوظ و مطمئن ہے۔

لندن اسکول آف اکنامکس کی ڈاکٹر سلویا پیزین نے ۲۰ سال میں عورتوں پر چار چیزوں کے اثرات کا جائزہ لیا: ۱- مانع حمل کی ادویات کا استعمال ۲- اسقاطِ حمل ۳- خلع کے لبرل قوانین ۴-اور کام کرنے والی عورتوں کے حقوق۔

ان ہی چار باتوں کو عورتوں کی آزادی کا ضامن قرار دیا گیا تھا۔ یعنی اب ان کو اپنے جسم پر پورا کنٹرول حاصل ہوگا۔ شادی بیاہ میں برابرکے حقوق حاصل ہوں گے اور کام والی جگہوں پر ان کو پوری سیکورٹی حاصل ہوگی۔

ڈاکٹر پیزین نے ۱۲ یورپین ممالک میں ۲۳ سال کے عرصے میں ساڑھے چار لاکھ خواتین کے حالات معلوم کیے۔ اس کی تحقیق ایک افسوسناک اور افسردہ تصور پیش کرتی ہے۔ اس کی رو سے عورت کا وہ خواب آزادی شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔ مانع حمل ادویات کی کھلے عام دستیابی نے جنسی آوارگی کو خوب فروغ دیا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ۱۴ سال کی کم عمر بچیاں بھی مانع حمل ادویات استعمال کرنے لگیں۔ وہاں کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ یورپ میں کم عمر لڑکیوں کے حاملہ ہونے کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ اسقاطِ حمل کی بڑھتی ہوئی تعداد مغربی و مشرقی دنیا کے منہ پر طمانچہ ہے۔ شادی شدہ جوڑوں میں علیحدگی کی تعداد پہلے سے بہت زیادہ ہے اور بلا نکاح ازدواجی تعلقات قائم کرنے کا رواج بھی عام ہو رہا ہے۔آزادانہ جنسی تعلقات کے نتیجے میں لڑکے اور لڑکیوں کے اندر ایڈز کا مرض عذاب اور لعنت کی صورت میں بڑھ رہا ہے۔

یہ تمام معاشرتی، سماجی مسائل برطانیہ و امریکہ میں خصوصاً زیادہ شدت سے محسوس کیے جا رہے ہیں۔ جنسی آوارگی نے صحت و معاشرت کے مسائل میں اضافہ کیا۔ طلاق نے شادی شدہ جوڑوں میں علیحدگی کا رجحان بڑھا دیا اور ازدواجی تعلقات اور رشتے کچے دھاگے کی مانند ہوگئے ہیں۔ عورت کو گھر سے باہر نکالنے کی ترغیب میں اور عورت کے خود باہر نکلنے کے پیچھے اس سوچ کا بھی بڑا دخل تھا کہ گھریلو خواتین کو دوسرے درجے کا شہری سمجھ لیا گیا اور تعمیر نسل اور گھر داری کو بے کار اور بے فائدہ عمل تصور کیا جانے لگا اور پھر ہمارے حکمرانوں نے صنعت کا پہیہ چلانے کے لیے عورت کو گھر سے باہر آنے کی ترغیب دی، جس سے گھریلو زندگی متاثر ہوئی۔ وہ لکھتی ہیں: ’’آزادیِ نسواں کے گھناؤنے نتائج کا ہم ادراک نہیں کرسکے۔ ہم سمجھے کہ آزادی، کیریئر اور دولت ہمیں خوشیاں فراہم کردیں گے۔ حالاں کہ یہ غلط فہمی تھی۔ جو کامیاب گھریلو زندگی ہمیں سکونِ محبت دے سکتی تھی، اسے ہم نے خود روند ڈالا۔ ہمیں اپنا احتساب کرنا چاہیے کہ ہم نے کیا کھویا کیا پایا۔ بے راہ روی اور بے لگام آزادی کا خمیازہ ہم خود بھگت رہے ہیں۔‘‘

یہ ہے مغربی خاتون کا تجزیہ۔ ہمارے ہاں عورتوں کی آزادی کی طلب گار خواتین کو اس سے عبرت حاصل کرنی چاہیے۔

شیئر کیجیے
Default image
ثریا نواز (علی گڑھ)