مشورہ حاضر ہے!

میرے والد جن کی عمر لگ بھگ ستر سال ہے، پچھلے۲ماہ سے ہچکی کا شکار ہیں۔ ہچکی ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی۔ بہت سے ٹوٹکے اور علاج کرنے کی کوشش کی لیکن شفا نہ مل سکی۔ برائے مہربانی اس مصیبت سے چھٹکارا حاصل کرنے میں ہماری مدد کریں۔

 ہچکی کا علاج بتانے سے پہلے اس کی وجوہ پیش ہیں تاکہ آپ کے ساتھ ساتھ دیگر قارئین بھی ان ہدایات پر عمل پیرا ہوں اور اس کیفیت تک نوبت ہی نہ پہنچے۔ تیز گرم، تیز ٹھنڈی یا تیز مرچ مصالحہ دار غذائوں سے حتیٰ الامکان اجتناب کیجیے۔ اسی طرح بعض اوقات زیادہ پیٹ بھر کر کھانابھی اس کا باعث ہے۔ لہٰذا ان چند بے اعتدالیوں سے اجتناب کر کے اس آفت سے بچا جا سکتا ہے۔

ہچکی کے علاج کے سلسلے میں میرے والد محترم حکیم محمد عبداللہ نے ایک واقعہ اپنی کتاب خواص ہلدی میں لکھا ہے۔ وہ نسخہ ہی یہاں نقل کر رہی ہوں۔ اللہ تعالیٰ سے پوری امید ہے کہ آپ کے والد کو اس نسخے سے شفا ملے گی۔

ہلدی کا طلسمی ٹوٹکہ

یہ طلسمی ٹوٹکہ میرے ایک جواں مرگ عزیز دوست، پنڈت کرشن کنوردت شرما کا عطا کردہ ہے۔ موصوف کے والد محترم بھی اپنے علاقہ کے مشہور ئویدوں میں سے تھے۔ ایک روز ان کے ہاں ایک مریض آیا جسے تین روز سے ہچکی لگ رہی تھی اور وہ شدت مرض سے نہایت بے چین تھا۔ پنڈت کرشن صاحب کی والدہ محترمہ بھی آیورویدک صحائف کی عالمہ تھیں۔ چنانچہ انہوں نے اشارتاً اپنے پتی کو سمجھایا کہ اس مریض کو پسی ہوئی ہلدی چلم میں رکھ کر پلا دیں۔ وید جی نے ایسا ہی کیا اور دیکھتے دیکھتے مریض کی ہچکی کش والے دھوئیں کے ساتھ ہی اڑ گئی۔

پنڈت کرشن جی نے اس کے بعد بھی متعدد مرتبہ یہ ٹوٹکہ آزمایا اور ہمیشہ کامیاب پایا۔ خود ہمارے چند احباب نے ٹوٹکہ کو آزمایا ہے۔ انہوںنے بھی اسے مفید الاثر دیکھا۔ پورا نسخہ درج ذیل ہے:

ھوالشافی: پسی ہوئی ہلدی دو ماشہ کے قریب چلم میں رکھ کر پلائیں۔ یا سگرٹ کی طرح کاغذ میں لپیٹ کر اس کا دھواں کشید کرائیں۔ ان شاء اللہ شدید سے شدید ہچکی کا دورہ دوچار کش میں دور ہو جائے گا۔ سگرٹ بنا کر پلانے کی صورت میں بعض اوقات ہلدی آسانی سے نہیں جل سکتی۔ صرف کاغذ ہی جلتا ہے۔ لہٰذا اس صورت میں اگر ہلدی کے چھٹے حصہ کے برابر قلمی شورہ بھی ملا لیا جائے تو ہلدی جلانے میں معاون ثابت ہو گا۔ چلم میں رکھ کر پلانا ہو تو قلمی شورہ ملانے کی ضرورت نہیں۔

کانچ کا شکار بچہ

میرا بیٹا جس کی عمر ۴سال ہے، کانچ نکلنے کے مسئلے سے دوچار ہے۔ میں ایک پسماندہ علاقے میں رہتی ہوں اور یہاں علاج کی مؤثر سہولیات نہ ہونے کے باعث اس کا کوئی مستقل علاج نہیں کروا سکتی۔ اس پریشانی سے نجات حاصل کرنے کے لیے مجھے کیا کرنا چاہیے؟

آمنہ بیٹی یہ مرض عام طور پر بچوں میں ہمیں ملتا ہے۔ بعض اوقات بڑی عمر میں بھی ہو جاتا ہے۔ شدید قبض یا مستقل پیچش رہنے سے مقعد کے عضلات ڈھیلے ہو جاتے ہیں وہ پھر خروج مقعد کا باعث بنتے ہیں۔ شروع میں تو کانچ اجابت کے وقت ہی نکلا کرتی ہے ،آہستہ آہستہ نوبت یہاں تک پہنچتی ہے کہ زور سے کھانسنے یا ہنسنے سے بھی نکل جاتی ہے۔ ذیل میں ایک دو آسان نسخے درج کر رہا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی ذات شفا عطا کرنے والی ہے۔

٭…پھٹکری اور مائیں (مازو سے مشابہ پھل جو بطور دوا استعمال ہوتا ہے)کو پانی میں جوش دے کر استنجا کروائیں، پھٹکڑی اور جوتے کی راکھ کانچ پر لگا کر اندر داخل کر دیں۔

٭…پھٹکری 1۱تولہ دو سیر پانی میں حل کر کے کسی کھلے برتن یا ٹب کے اندر ڈال کر مریض کو دس منٹ اس میں بٹھا دیں۔ ان شاء اللہ چند دنوں میں کانچ نکلنا بند ہو جائے گی۔

گرم غذائوں اورزیادہ زور اور محنت کے کام سے بچئے۔ مریض کو نرم غذا کا استعمال کرنا چاہیے۔

آنکھوں سے پانی آنا

میں طالب علم ہوں۔ دوران مطالعہ اکثر آنکھوں سے پانی بہنے لگتا ہے، جس کی وجہ سے مطالعہ کم کر پاتا ہوں۔ کوئی نسخہ بتائیے ۔ اللہ آپ کو جزائے خیرسے نوازے۔

 اللہ تعالیٰ آپ کے علمی ذوق و شوق اور علم میں اضافہ کرے۔ آنکھوں سے پانی بہنا ایک برا مرض ہے۔ دراصل اس کا علاج دماغ کو تقویت دینے میںپوشیدہ ہے۔یہ پانی دراصل دماغی کمزوری کے سبب ہی جاری ہوتا ہے۔ ایک آسان سا نسخہ درج ہے۔ بنائیے، استعمال کیجیے اور دعائوںمیں یاد رکھیے۔

ھوالشافی: روزانہ بوقت صبح ۱۲ بادام کی گریاں پانی میں بھگو کر چبا لیں۔مربہ آملہ و ہڑہڑ ایک ایک دانہ صبح شام خالی پیٹ پانی یا دودھ سے کھا ئیے۔ ان شاء اللہ چند دنوں میں پانی آنا بند ہو جائے گا۔

شیئر کیجیے
Default image
حکیم محمد سلمانی