بال

بالوں کی خشکی کو نظر انداز نہ کریں

ہر خاتون کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اس کے بال گھنے، لمبے اور چمکدار ہوں، بال لمبے، گھنے اور چمکدار ہونے کا گہرا تعلق اچھی صحت سے ہے۔ جلد کی طرح بال بھی صحت کے سچے عکاس ہوتے ہیں۔

بیماری، غذائیت کی کمی اور ذہنی دباؤ بالوں کی صحت پرمنفی اثرات مرتب کرتے ہیں اور پھر بال مختلف مسائل کا شکار ہونے لگتے ہیں۔ ان مسائل میں خشکی، بال گرنا اور قبل از وقت سفید ہونا شامل ہے۔ یہ مسائل خواتین کے لیے زیادہ سنگین اور پریشان کن ہوتے ہیں۔ پھر سرد موسم ان پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے تو بالوں کی خوب صورتی ماند پڑنے لگتی ہے لیکن ان مسائل کے حل موجود ہیں، جو بالوں کو خوبصورت بنانے میں کافی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

بالوں کی خشکی سے مراد کی جلد پر پیدا ہونے والے بھوسے جیسے سفید چھوٹے چھوٹے چھلکے ہیں، جو بالوں میں جمع ہوتے رہتے ہیں۔ اور پھر یہ چھلکے ابروؤں، کندھوں اور کپڑوں پر گرتے رہتے ہیں۔ خشکی بالوں کو نقصان پہنچانے کے علاوہ بدنما بھی لگتی ہے۔ یہ بالوں کے فطری حسن کی دشمن ہے۔ عموماً یہ جسمانی کم زوری یا خون کی کمی کا نتیجہ ہوتی ہے۔

جسم کی قوت مدافعت جب کم ہونے لگتی ہے تو زیر جلد چکنائی پیدا کرنے والے غدود کی کارکردگی کا توازن بگڑ جاتا ہے۔ ان غدود سے خارج ہونے والی رطوبت کی مقدار بڑھ جاتی ہے، یہی رطوبت جلد پر باریک جھلی کی طرح جم جاتی ہے اور پھر چٹخ کر چھوٹے چھوٹے چھلکوں میں تبدیل ہوجاتی ہے۔

خشکی کی یہ شکایت سر تک ہی محدود نہیں رہتی، بلکہ یہ مرض تمام جسم پر ہوسکتا ہے، لیکن اس کا زیادہ زور سر کی جلد اور کبھی کبھی چہرے اور ناک پر ہوتا ہے۔

کمزوری کی وجہ سے گرمی یا سردی لگنے سے پسینے کے اخراج اور اس پر گرد و غبار چمٹنے کی وجہ سے سر پر باریک بھوسی کی طرح کے سفید چھلکے بننے لگتے ہیں، جن کی وجہ سے سر میں خارش ہونے لگتی ہے۔ پھر سردی کے موسم میں اس خارش میں مزید اضافہ ہونے لگتا ہے۔ بالوں کو برش کرنے یا انگلیاں پھیرنے سے خشکی کی ذرات گرنے لگتے ہیں۔ بعض اوقات سر میں سخت قسم کی خارش ہونے لگتی ہے اور کھجانے سے جلد سرخ ہوکر متورم ہو جاتی ہے۔ عمومی صحت میں خرابی، خون میں فاسد مادوں کے اضافے، قبض اور تعدیے (انفکشن) والے امراض کے بعد طاقت و توانانی میں کمی، اس شکایت کے بڑے اسباب ہیں۔ ذیل میں چند نسخے دیے جا رہے ہیں جن پر عمل کر کے بالوں کے ان امراض کا علاج کیا جاسکتا ہے۔

 بالوں میں ناریل یا سرسوں کے تیل کی مالش کریں، تیل لگانے سے پہلے اسے ہلکا سا گرم کرلیں۔صبح نہانے اور بال دھونے سے پہلے تھوڑا سا لیموں کا رس لے کر بالوں کی جڑوں میں مالش کریں۔ـ پھر کسی معیاری صابن یا شیمپو سے بالوں کو دھوکر صاف کرلیں۔ یہ خشکی دور کرنے کے لیے مفید ہے۔

 سر کی جلد کی باقاعدہ صفائی ضروری ہے ، تاکہ مردہ خلیوں کا اجتماع کم سے کم ہو۔ بالوں کو روزانہ برش کیا جائے۔ اس سے بھوسی اترنے کے علاوہ سر کی جلد میں خون کی گردش بھی تیز ہوجاتی ہے۔ سر کی جلد پر خشک مساج بھی روزانہ کرنا چاہیے، یہ مساج انگلیوں کی پوروں سے ایک ترتیب کے ساتھ پورے سر پر کیا جائے۔

 متعدد گھریلو نسخے خشکی دور کرنے میں کامیاب ثابت ہوچکے ہیں ان میں سے ایک میتھی کے بیجوں کا استعمال ہے۔ اس نسخے کے مطابق دو کھانے کے چمچے میتھی کے بیج رات بھر بھگونے کے لیے رکھ دیں۔ اگلی صبح یہ نرم ہوچکے ہوں گے، ان نرم بیجوں کو کوٹ کر گاڑھا آمیزہ (پیسٹ) بنا کر سر میں لگائیں۔ آدھے گھنٹے تک اسے لگا رہنے دیں۔ پھر ریٹھے کے پانی یا سکاکائی سے سر دھولیں۔ بعد میں سادے پانی سے سر دھوکر ایک چائے کا چمچہ تازہ لیموں کا رس بالوں میں خوب اچھی طرح لگالیں۔ اس سے نہ صرف بالوں کی چمک برقرار رہے گی، بلکہ خشکی سے بھی تحفظ ملے گا۔ سر کہ ملے پانی سے بال دھونا بھی خشکی سے نجات دیتا ہے۔

 خشکی سے نجات پانے کے لیے دہی کا استعمال بھی مفید ثابت ہوتا ہے۔ دہی بالوں میں لگانے سے خشکی دو رہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ دہی میں چند قطرے لیموں ملا کر روزانہ بالوں میں لگانا بھی فائدہ دیتا ہے۔

 رات کو سوتے وقت زیتون یا ناریل کا تیل خوب اچھی طرح سر میں لگایا جائے۔ اس طرح سر میں جمنے والی بھوسی کی پپڑیاں اچھی طرح پھول کر جلد سے الگ ہونے کے لیے تیار ہوجاتی ہیں۔ صبح نیم گرم پانی سے بال دھولیں، اس طرح بال بھی نرم و ملائم رہیں گے اور خشکی بھی دور ہوجائے گی۔ یہ عمل ہفتے میں کم از کم دو تین بار ضرور کرنا چاہیے۔

شیئر کیجیے
Default image
زینب غزالی

تبصرہ کیجیے