چھوٹے بچوں میں یرقان کی شناخت اور علاج

یرقان کا مطلب جلد اور جسم کے ریشوں اور مائعات کی رنگت کا زرد ہونا ہے۔ یہ رنگت زیادہ تر جلد یا آنکھوں کے سفید حصہ میں نمایاں نظر آتی ہے۔ اس کا سبب بیلیروبن (ہیمو گلوبن کے مادہ) کی جسم میں نشو نما ہے۔ بیلیروبن ایک رنگدار مادہ ہے جو سرخ خون کے خلیوں کے اندر موجود ہوتا ہے اور جیسے ہی یہ خلیے اپنی جگہ تبدیل کرتے ہیں یہ مادہ قدرتی طور پر آزاد ہو جاتا ہے۔ نوزائیدہ بچوں میں یرقان عام ہوتا ہے۔ تمام نوزائیدہ بچوں میں سرخ خون کے خلیے ان کی ضرورت سے زیادہ ہوتے ہیں۔ بچے جب پیدا ہوجاتے ہیں، تو انہیں جسم میں آکسیجن ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کے لیے اتنے زیادہ سرخ خون کے خلیوں کی ضرورت نہیں رہتی جتنی انہیں بچہ دانی میں ہوتی ہے۔ جب یہ زائد سرخ خون کے خلیے ٹوٹتے ہیں تو یہ بیلیروبن کو آزاد کردیتے ہیں۔ زندگی کے پہلے چند دنوں میں نومولودکو یرقان ہونا ایک عام بات ہے۔ یہ نقصان دہ بھی نہیں ہوتا۔ نوزائیدہ کے خون میں بیلیروبن کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے، جس کی وجہ مندرجہ ذیل ہے:

انفکشن، غیر متوازن کا یا بدل، یا دوسری وجوہات سرخ خلیوں کو توڑنے کا کام آسانی سے کردیتے ہیں۔ جگر یا چھوٹی بڑی آنتوں کے مسائل۔ بیلیروبن کو نکالنے میں سستی کا باعث بنتے ہیں۔ اس تاخیر کی وجہ مختلف قسم کی ادویات بھی ہوسکتی ہیں۔ نوزائیدہ بچے کے بیلیروبن آنتوں کے ذریعے مقعد سے نکلنے کی بجائے واپس خون کے دھارے میں شامل ہوجاتے ہیں۔ نوزائیدہ بچے جو اپنی خوراک اچھی طرح نہیں لیتے ان کے بیلیروبن دوبارہ ضم ہو جاتے ہیں۔ نوزائیدہ بچوں میں یرقان ہونے کی عام وجوہات یہی ہیں۔ اگر مجھے یہ بتایا جائے کہ میرے بچے کو ماں کا دودھ یا چھاتی کا دودھ پینے کے باعث یرقان ہے تو مجھے کیا کرنا چاہیے؟ آپ نے کچھ لوگوں سے سنا ہوگا کہ وہ یرقان کو ماں کی چھاتی سے حاصل ہونے والی خوراک یا دودھ سے منسوب کرتے ہیں۔ اگرچہ کچھ یرقان ماں کے دودھ سے منسوب کیے جاسکتے ہیں لیکن یہ نارمل ہے اور اس سے بچے کو کوئی نقصان نہیں ہوتا۔

اپنے بچے کو جتنا زیادہ ممکن ہو اتنا ماں کا دودھ پلانا ہمیشہ اچھا ہوتا ہے۔ کنیڈین پیڈیا ٹرک سوسائٹی اور دیگر پیڈیا ٹرک ایسوسی ایشنز کم از کم چھ ماہ تک بچے کو ماں کا دودھ پلانے کا مشورہ دیتی ہیں۔ کچھ صورت احوال میں، بچوں اور ماؤں کو ماں کے دودھ کے حوالے سے مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ آپ کا ڈاکٹر، بچے کو دودہ پلانے کے حوالے سے کنسلٹنٹ یا ایک تجربہ کار نرس دودھ پلانے کے حوالے سے آپ کے سوالات یا مسائل کے جوابات میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔

یرقان کی نشانیاں اور علامات

عام طور پر یرقان کے باعث بچے کی جلد اور آنکھوں کی رنگت زرد ہوجاتی ہے۔ اس سے بچہ غنودگی میں رہتا ہے اور ٹھیک طرح سے اپنا پیٹ نہیں بھر پاتا۔ پیدائش کے بعد بچے کا پاخانہ ممکن ہے کہ ایک لمبے عرصے کے لیے کالے یا سیاہ رنگ کا ہی رہے اس نوزائیدہ بچے کی بہ نسبت جسے یرقان نہیں ہوتا۔

یرقان میں ا ڈاکٹر کیا کرسکتا ہے

ڈاکٹر بچے کا جسمانی معائنہ کرتا ہے اور جسم میں بیلیروبن کی مقدار چیک کرنے کے لیے ایک سادہ سا ٹیسٹ کے ذریعے یرقان کی تشخیص کرتا ہے۔ بعد ازاں ڈاکٹر بچے کی ٍعمر اور وزن کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اور ٹیسٹ کے نتائج کو سامنے رکھتے ہوئے علاج شروع کرتا ہے۔ جب آپ اور آپ کا بچہ ہسپتال سے رخصت ہوتے ہیں تو ڈاکٹر یا نرس آپ کو وضاحت سے بتائیں گے کہ بچے کی یرقان سے نپٹنے کے لیے کیسے مدد کی جاسکتی ہے۔ اگر ٹیسٹ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ بچے میں بیلیروبن کا درجہ عام درجے سے زیادہ ہے اور اسے مناسب علاج کی ضرورت ہے تو ڈاکٹر ایک فالواب وزٹ کا اہتمام کرے گا تاکہ بچے کا دوبارہ معائنہ اور ٹیسٹ کیا جاسکے۔ اگر ڈاکٹر کو یہ شبہ گزرے کہ یرقان کی وجہ پیچیدہ ہے تو وہ کچھ مزید ٹیسٹ بھی کروانے کا فیصلہ کرسکتا ہے۔

یرقان کی پیچیدگیاں

کچھ بچوں میں یرقان کو شدت اختیار کرنے سے روکنے کے لیے علاج کی ضرورت درکار ہوتی ہے۔ شدید یرقان میں مبتلا بہت کم تعداد میں بچوں میں انتہائی کیفیت رونما ہوسکتی ہے جسے کرنکٹیرس یعنی دماغ میں اساسی ابھاروں کی بائل سٹیننگ کہتے ہیں۔ ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ کرنکٹیرس کے باعث بچے کے دماغ اور سماعت کو نقصان ہو۔

یرقان کا علاج فوٹو تھراپی

(روشنی سے طریقہ علاج)

فوٹو تھراپی کا مطلب ہے روشنی سے علاج کرنا، ڈاکٹر یا نرس آپ کے بچے کے کپڑے اتار دیں گے، اس کی آنکھوں کو ڈھانپ کر محفوظ کر دیا جائے گا اور اسے ایک مخصوص روشنی کے سامنے لایا جائے گا۔ آپ کے بچے کی جلد اور خون روشنی کی یہ شعاعیں جذب کرتے ہیں۔ یہ شعاعیں بیلیروبن کو ایسی صورت میں تبدیل کردیتی ہیں جو پانی میں حل ہوسکتی ہے، تاکہ بچے کا جسم بہ آسانی اس سے نجات پاسکے۔ اس کے علاوہ اور مصنوعات بھی دسیتاب ہے جسے ’’بلی بلینکٹ‘‘ کہتے ہیں جو کہ بچے کے یرقان کے علاج کے لیے متبادل یا اضافی طریقے کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ یہ کمبل ایک جیکٹ کے ساتھ لگا ہوا پیڈ ہوتا ہے او ریہ ایک لمبے سرمئی پائپ کے ساتھ ایک مشین سے جڑا ہوتا ہے، یہ مشین بیڈ کو روشن کردیتی ہے۔ یہ طریقہ علاج مکمل طور پر محفوظ ہوتا ہے۔

فوٹو تھراپی کے ذیلی اثرات

نوزائیدہ بچے کو پاخانہ معمول سے زیادہ اور بہت پتلا آسکتا ہے بعض اوقات اس کی رنگت سبز ہوتی ہے۔ یہ ایک نارمل بات ہے کیوں کہ بچے کا جسم بیلیروبن کو پاخانے کے راستے خارج کر رہا ہوتا ہے۔ جیسے ہی علاج ختم ہوتا ہے یہ ذیلی اثرات بھی غائب ہوجاتے ہیں۔ فوٹو تھراپی سے علاج والے بچوں کو مشاہدے میں رکھا جاتا ہے، تاکہ ان کے جسم میں پانی کی کمی نہ ہوجائے۔ کچھ بچوں کو انٹراوینس لائن (آئی وی) یعنی رگوں کے راستے مائعات فراہم کرنے کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔

یرقان سے بچاؤ

پیدائش کے بعد پہلے گھنٹوں اور ابتدائی ایام میں بچے کو تھوڑی تھوڑی دیر بعد دودہ پہلانا، خصوصاً ماں کا دودھ پلانا، سنجیدہ نوعیت کے یرقان کے خطرات کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ دودھ پینے کے بعد آپ کا بچہ زیادہ پاخانہ کرے گا، اور یہ دودھ بچے کے جگر کو اتنی توانائی دے گا کہ جس کی بیلیروبن کے عمل کو دفع کرنے میں مدد ملتی ہے۔

طبی معاونت کی ضرورت کب پڑتی ہے

اپنے بچے کے فیملی ڈاکٹر سے فوری رابطہ کریں اگر:

آپ کا بچہ یرقان زدہ (زرد) ہو رہا ہے۔

آپ کا بچہ بہت زیادہ سست یا ڈھیلا نظر آرہا ہے۔

آپ کا بچہ دودھ ٹھیک طرح نہیں پی رہا یا اس میں پانی کی کمی کے آثار نظر آرہے ہیں۔

آپ کا بچہ قے کر رہا ہے (دودھ پیتا ہے نکال دیتا ہے)۔

آپ کے بچے کو بخار ہے۔

آپ کو پریشانی ہو رہی ہے کہ یرقان بگڑ رہا ہے اور بچے کا ڈاکٹر دستیاب نہیں۔

اہم نقاط

طبی امداد اسی دن حاصل کریں اگر آپ کے بچے میں یرقان زیادہ محسوس ہو رہا ہے۔

اپنے بچے کو ماں کا دودھ پلائیں

اگر آپ کا بچہ دودھ ٹھیک طرح نہیں پی رہا، تو اسی دن طبی معاونت حاصل کریں۔ اگر آپ کو یہ کہا جاتا ہے کہ ڈسچارج ہونے کے بعد دوبارہ ہسپتال آئیں تاکہ بچے کے بیلیروبن یا یرقان کا لیول دوبارہ چیک کیا جاسکے تو بے حد احتیاط سے ہدایات پر عمل کریں۔

شیئر کیجیے
Default image
میم ضاد فضلی