حلق کے چوکیدار

آپ نے خواتین کو پریشان لہجے میں یہ کہتے ضرور سنا ہو گا ’’منے کو ٹانسلز ہو گئے ہیں۔‘‘

دلچسپ بات یہ ہے کہ ’’ٹانسلز‘‘ کوئی بیماری نہیں بلکہ یہ بافتوں کے ایک مجموعے کا نام ہے۔یہ بافتیں(Tissues)انسان کو تندرست رکھنے میں نمایاں کردار ادا کرتی ہیں۔ البتہ جب یہ ’ٹانسلز‘(Tonsils)خود خراب ہو جائیں تو انسان بھی بیمار پڑ جاتا ہے۔

پہلے بہتر ہے کہ ’ٹانسلز‘ کا تعارف کرا دیا جائے۔ انسانی حلق کے اندر لوزیا بادام کی شکل کی دو چھوٹی چھوٹی گلٹیاں ہوتی ہیں۔ انھیںاردو و عربی میں’’لوزتین‘‘ کہا جاتا ہے۔یہی ٹانسلز ہیں۔ اگر منہ کھول کر حلق کا معائنہ کیا جائے تو انھیں بخوبی دیکھا جا سکتا ہے۔ انہی گلٹیوں کا ورم ’’ورم لوزتین‘‘ یا ’’ٹان سیلائٹس‘‘ کہلا تا ہے۔

دیکھا گیا ہے کہ چند بار لوزتین میں ورم ہوا اورگلا دکھنے آیا تو ان گلٹیوں کو آپریشن کر کے نکال دیا جاتا ہے۔ کیا واقعی لوزتین اتنے ہی غیر ضروری ہیں کہ خرابی کی صورت انھیں جسم سے نکال کر باہر پھینک دیا جائے؟ اور کیا انھیں نکال دینے سے صحت پر کوئی برا اثر نہیں پڑتا؟ ان باتوں کا ہمیں بغور جائزہ لینا چاہیے۔

ہمارے جسم کو امراض سے محفوظ رکھنے کے لیے قدرت نے’’نظام لمفاوی‘‘ یا ’’لمفیٹک سسٹم‘‘ بنایا ہے۔ اسی نظام کے تحت چھوٹی چھوٹی گلٹیاں ان جسمانی راستوں پر پیدا کی گئی ہیں جہاں سے جراثیم جسم میں داخل ہو کرامراض پیدا کر سکتے ہیں۔دراصل یہ گلٹیاں چوکیدار کے فرائض انجام دیتی اور ہمہ وقت چوکس رہتی ہیں۔ اگر کسی مرض کے جراثیم جسم کے اندر داخل ہونے لگیں تو یہ انھیں اپنے میں جذب کر کے ختم کر دیتی ہیں۔ لیکن جب بار بارجنگ کا سلسلہ جاری رہے یا جراثیم بھرپور طریقے سے وار کریں تو پھر یہ کمزور ہو جاتی ہیں۔ حتیٰ کہ ان میں سوزش اور ورم پیدا ہو جاتا ہے۔

جسم میں حلق ایک ایسا مقام یا جنکشن ہے، جہاں سے کئی راستے شروع ہوتے ہیں یا ان کا اختتام ہوتا ہے۔ مثلاً جہاں منہ کی حدود ختم ہوں، وہاں سے غذا و ہوا کی نالیاں شروع ہوتی ہیں۔ دونوں کانوں اور آنکھوں سے بھی ایک باریک ٹیوب حلق میں جا کر کھلتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی دوا کان یا آنکھ میں ڈالی جائے تو کچھ ہی دیر بعد اس کا ذائقہ منہ میں محسوس ہوتا ہے۔اسی طرح روتے وقت آنسو ناک و حلق میں پہنچ جاتے ہیں۔ ناک کے سوراخوں کا اختتام بھی حلق میں ہوتا ہے۔

انہی وجوہ کی بنا پر حلق کو جنکشن کہا جا سکتا ہے، جہاں جراثیم ایک راستے سے آ کر دوسرے میں داخل ہوتے ہیں۔اس لیے وہاں بیماری پھیلنے کے خطرات ہر وقت رہتے ہیں۔ حلق کی اسی ’’فوجی اہمیت‘‘ کے پیش نظر قدرت نے وہاں مضبوط ’’چیک پوسٹ‘‘ قائم کر دی اور اس حفاظتی چوکی پر پہرے دار بٹھا دیے۔ غالباً یہ وضاحت کرنے کی ضرورت نہیں کہ یہ پہرے دار ’’لوزتین‘‘ یا ’’ٹانسلز‘‘ ہیں۔ یہ حلق کے ذریعے حملہ آور ہونے والے جراثیم روک کر انھیں ہلاک کرتے ہیں، تاکہ انھیں نقصان پہنچانے کی مہلت نہ مل سکے۔

لیکن جب بار بار یہ غدود جراثیم سے آلودہ ہوں، تو خود بھی کمزور پڑ جاتے ہیں۔ ان میں سوزش اور ورم رہنے لگتا ہے۔لیکن اس باعث لوزتین کو جسم سے نکال دیا جائے تو کئی راستوں سے جراثیم کی یلغار حلق میں روکنے والا کوئی نہیں ہو گا۔ نتیجتاً انھیں بڑھنے اور خطرناک امراض پیدا کرنے کی کھلی چھٹی مل جائے گی۔ جس طرح کسی ملک میں سرحدوں کی نگرانی کرنے والی فوجوں کو ہٹا دیا جائے اور دشمن بلا کھٹکے اندر دور تک گھستا چلا آئے۔

یہ ضرور ہے کہ بعض صورتوں میں لوزتین نکالے بغیر کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ مثلاً ان کی ساخت اتنی خراب ہو جائے کہ جراثیم کا قلع قمع کرنے کے بجائے خود ان کی آماجگاہ بن جائیں۔ ان میں پیپ پڑ جائے اور وہ گندگی، غذا و پانی کے ذریعہ جسم کے اندرونی حصوں تک پہنچے اور جسم کو خطرات سے دوچار کر دے۔ تاہم بہتر یہی ہے کہ خراب لوزتین نکلوانے سے پہلے انھیں ٹھیک کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ لوزتین نکلوا دینے سے مختلف بیماریاں مثلاً حلق و پھیپھڑوں کے امراض، پیٹ کی خرابی اور ناک کے امراض انسان کو گھیر لیتے ہیں۔وجہ یہ ہے کہ جدید تحقیق کی رو سے لوزتین ہمیں مختلف بیماریوں سے بچانے والے ٹی خلیے(T. Cells)پیدا کرتے ہیں۔

یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ اگر کسی شخص کے لوزتین بار بار متاثر ہو ں، ان میں تکلیف بڑھ جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مریض میں بعض جراثیم مستقل مرض پیدا کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ لیکن لوزتین آڑے آنے کی وجہ سے وہ مرض اپنے قدم نہیں جما پا رہا۔

ورم لوزتین عام طور پر بچوں یا جوانوں کو لاحق ہوتا ہے۔ یہ ایک سے دوسرے کو لگ جانے والی بیماری ہے۔ زیادہ تر موسم سرما میں چمٹتی ہے۔ وہ لوگ بھی اس مرض کا شکار ہوتے ہیں جو ایسے تنگ و تاریک مکانات میں رہیں جن میں صاف ہوا کی آمدورفت کا معقول انتظام نہیں ہوتا۔ واضح رہے، دھوپ خود بہت تیز جراثیم کش اثرات رکھتی ہے۔ پانی میں بھیگنا، سردی لگنا، کھٹی چیزوں یا بہت تیز مرچ مسالے کا کثرت سے استعمال اور چکنائی والی اشیا کھانے کے بعد پانی پی لینا بھی ورم لوزتین پیدا کرتا ہے۔

ایسے لوگ بھی، جو بہت چیخ چیخ کر باتیں کریں یا اونچی آواز میں گانے کا شوق رکھتے ہیں اور اس سلسلے میں اعتدال سے کام نہیں لیتے، اپنا گلا خراب کر لیتے ہیں۔ چھوٹے بچوں میں چیونگم، ٹافی اور چاکلیٹ کے زیادہ استعمال اور دانت صاف نہ کرنے سے یہ بیماری جنم لیتی ہے۔ بہت چھوٹے بچے جنھیں چسنی چوستے رہنے کی عادت ڈال دی جائے، ان کے لوزتین بھی اکثر خراب رہتے ہیں۔ چسنی مستقل طور پر چوستے رہنے سے منہ و حلق پر زور پڑتا ہے۔

بعض امراض کے نتیجے میں بھی ورم لوزتین پیدا ہوتا ہے۔ مثلاً جوڑوں کا درد، خواہ بڑے جوڑوں میں ہو یا چھوٹے میں۔ اس کے علاوہ ورم لوزتین بہت دنوں تک رہے اور اس کا مناسب علاج نہ کیا جائے تو قلب متاثر ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔ خصوصاً دل پر استر کرنے والی جھلیوں میں سوزش ہو جاتی ہے۔ دل کے والو بھی خراب ہو جاتے ہیں۔یہی وجہ ہے ، ورم لوزتین کا علاج پوری سنجیدگی کے ساتھ کرنا چاہیے۔

کبھی کبھی یہ مرض بطوروبا پھیلتا ہے۔ اس مرض کی شروعات عموماً گلے کی خرابی سے ہوتی ہے۔ نتیجتا گلے میں تکلیف ہو جاتی ہے۔ درد بڑھنے کی صورت میں ٹیسیں کانوں تک پہنچتی ہیں۔ اگر مرض کا حملہ شدید ہو تو سردی لگ کر بخار چڑھ آتا ہے۔ منہ کھول کر اگر حلق کا معائنہ کیا جائے، تو زبان کی جڑ کے ساتھ ساتھ دونوں جانب لوزتین گلٹیاں سرخ اور بڑھی ہوئی نظر آتی ہیں۔ باہر کی جانب زیریں جبڑے کے نیچے ہاتھ لگانے سے ورم محسوس ہوتا ہے۔ کوئی چیز کھائیں تو نگلنا دشوار ہو جاتا ہے۔ ساتھ ہی درد بھی ہوتا ہے۔

مناسب علاج اور غذا و پرہیز سے عام طور پر پانچ دن میں ورم اور تکلیف کم ہونے لگتی ہے۔ آٹھ دس دن میں آرام آ جاتا ہے۔ اگر یہ مرض بار بار ہوتا رہے اور لوزتین کی ساخت بھی خراب ہو جائے تو پھر ان کا معائنہ کرتے وقت سفید یا زردی مائل پیپ کے دھبے بھی نظر آتے ہیں۔ یہ تشویشناک صورت حال ہے۔ ایسی صورت میں انھیں آپریشن کے ذریعہ نکالنا ہی مناسب ہے۔

چھوٹے بچوں میںاگر اس مرض کے حملے بار بار ہوں تو ان کی جسمانی نشوونما رک جاتی ہے۔ وہ دن بہ دن کمزور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ ذرا سی بے احتیاطی یا بدپرہیزی سے ان کا گلا خراب ہو جاتا ہے۔ کبھی مرض کے بار بار حملے لوزتین کو سخت کر دیتے ہیں، خصوصاً کمزور نوجوانوں میں۔کبھی یہ اس قدر بڑھ جاتے ہیں کہ سانس لینا دو بھر ہو جاتا ہے… اور آواز تبدیل ہو جاتی ہے۔

جس زمانے میں یہ مرض وبا کی صورت پھیلے، تو غذا میں بہت احتیاط کرنی چاہیے۔ بازاری غذائیں، بہت تیز مرچ مسالے اور کھٹی چیزیں ترک کر دیں۔ صاف ماحول میں وقت گزارئیے۔ منہ اور د انتوں کی صفائی پر توجہ دیجیے۔ بہت تیز ٹھنڈا پانی بھی مضر ہے۔ مریض کو چاہیے کہ وہ اپنا گلاس و تولیہ وغیرہ الگ رکھے تاکہ دوسروں تک بیماری نہ پہنچ سکے۔

چھوٹے بچوں کو پیار کرنے میں بھی احتیاط برتنی چاہیے۔ چھوٹے بچے بہت نازک ہوتے ہیں۔ بیماری کے جراثیم جلد قبول کر لیتے ہیں۔ کھانستے اور چھینکتے وقت تولیہ یا رومال منہ پر رکھیں اور اپنا منہ دوسری جانب پھیر لیں۔ چیخ کر باتیں نہ کی جائیں۔ صبح سو کر اٹھنے اور سوتے وقت گرم پانی نمک میں ملا کر غرارے کیجیے۔ نمک کی مقدار اس میں اتنی ہی ہوجتنی کھانے میں شامل کی جاتی ہے۔

ورم لوزتین کے علاج میں خصوصاً سیاہ شہتوت بہت مفید ہیں۔ ان کے رس سے تیار ’’شربت توت سیاہ‘‘ بازار میں مل جاتا ہے۔ چائے کا ایک چمچہ شربت دو، دو گھنٹے بعد آہستہ آہستہ نگلا جائے۔ نگلنے کا انداز چوسنے والا ہو تاکہ حلق میں لگتا ہوا جائے۔ اس شربت کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اس میں نصف گرام ’’ڈیکامالی‘‘ (ایک پودے کا گوند) یا ’’نمک چرچٹہ‘‘ (ایک بوٹی کا نمک) باریک پیس کر ملا لیتے ہیں۔ شہتوت کے پتوں سے غرارے کرنا بھی سود مند ہے۔ دس پتوں کو تھوڑے سے نمک کے ساتھ دو پیالی پانی میں اچھی طرح جوش دیجیے۔ اس کے بعد چھان کر نیم گرم پانی سے صبح اور سوتے وقت غرارے کیجیے۔

دوسری مؤثر دوا ’’مغزا ملتاس‘‘ ہے۔ املتاس کی پھلی سے نکلنے والا یہ گودا دوا فروشوں سے مل جاتا ہے۔ ویسے بھی املتاس کے درخت شہروں میںکثرت سے نظر آتے ہیں۔ انھیں سڑکوں کی دونوں جانب یا باغوں میں لگایا جاتا ہے۔ مارچ اور اپریل کے مہینے ان درختوں میں زرد رنگ کے پھول لڑیوں کی شکل میں لگتے ہیں۔ پھر تقریباً دو فٹ لا نبی پھلیاں لگتی ہیں، جن کی رنگت ابتدا میں سبز ہوتی ہے۔ پکنے پر سیاہ ہو جاتی ہے۔

سیاہ پھلیوں کا گودا ہی ’’مغزاملتاس‘‘ کہلاتا ہے۔ اس سے تیار کردہ دوا کو ’’لعوق خیارشنبر‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس کے دو چمچے ایک پیالی گرم پانی میں ملا کر سوتے وقت اور صبح پیئں۔ یہ کھانسی اور قبض میں بھی مفید ہے۔ مغزاملتاس سے غرارے بھی کرائے جاتے ہیں۔ ۵۲گرام مغز کو ایک پیالی دودھ اور ایک پیالی پانی میں ملا کر ہلکا جوش دیجیے۔ جب ایک جوش آ جائے تو چھان کر نیم گرم پانی سے غرارے کیجیے۔ مرض کے آغاز میں ہی معالج سے مشورہ کرنے سے مزید پیچیدگیاں پیدا نہیں ہوتیں اور جلد آرام آ جاتا ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
حکیم عبد الحنان