کیا یہ نصیحتیں قبول ہیں؟

[حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کے نام خواجہ حسن بصریؒ کا تاریخی مکتوب، جو مسلم حکمرانوں، اجتماعی قیادت اور دینی و ملی اداروں اور تنظیموں کے قائدین کے لیے عبرت اور فلاح کا ذریعہ ہے]

تاریخ میں ہمیں ایسی کئی مثالیں ملتی ہیں کہ جب قیادت اور حکمرانوں کے انداز بدلے تو ملک و قوم کی تقدیر بدل گئی۔ ان میں سے ایک بہترین مثال حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کی ہے۔

بنو امیہ کے حکمراں ایک خاص ڈھب سے حکمرانی کر رہے تھے لیکن جو نہی اللہ کا یہ بندہ حکمراں بنا تو ملک و قوم کی تقدیر بدل گئی۔ عمرؓ بن عبد العزیز پہلے اسی نظام حکومت کے ایک کارندے تھے جو برسوں سے مسلط تھا لیکن جوں ہی اقتدار کی ذمہ داری آپ کے کاندھوں پر آن پڑی، آپ کا نقطہ نظر ہی بدل گیا اور نتیجتاً خلفائے راشدین کی یاد تازہ ہوگئی۔ یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ آپ نے خود کو اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے وقف کردیا تھا۔ آپ اکثر اللہ کے نیک بندوں سے رابطے کرتے، کبھی خطوط کے ذریعے اور کبھی بالمشافہ ملاقاتوں کے ذریعے۔ مقصود ان سے مشورے حاصل کرنا، نصیحتیں قبول کرنا ہوتا۔ اس کا اندازہ حضرت حسن بصریؒ کے اس خط سے لگایا جاسکتا ہے جو آپ نے حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کو کیں؟ حضرت حسن بصریؒ اس خط میں تحریر فرماتے ہیں:

’’امیر المومنین! آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ امام عادل کا وجود مسعود ہر کج رو کے لیے راست روی کا موجب، ہر مفسد کے لیے پیغام صلح و فلاح، ہر کمزور کے لیے باعث قوت و نصرت، ہر مظلوم کے لیے داد رسی کا موجب اور ہر پریشان حال کے لیے امن و سکون اور وجہ اطمینان ہوتا ہے۔

’’اے امیر المومنین! امام عادل ایک گڈریے کی طرح ہوتا ہے جو اپنے اونٹوں پر بڑا مہربان ہو۔ ان کے لیے بہترین چراگاہ کا انتخاب کرے، انہیں مہلک چراگاہوں سے بچائے، درندوں سے محفوظ رکھے اور سردی و گرمی سے بچاؤ کا اہتمام کرے۔

’’امیر المومنین! عادل امیر ایک شفیق والد کی طرح ہوتا ہے جو بچپن میں بچوں کی دیکھ بھال کرتا ہے، بڑے ہونے پر انہیں لکھاتا پڑھاتا ہے، زندگی میں ان کے لیے کماتا اور بہ وقت موت ان کے لیے ذخیرہ چھوڑ جاتا ہے۔

’’امیر المومنیئن! امام عادل لطیف و شفیق والدہ کی طرح ہوتا ہے جو بحالت حمل اولاد کو بطن میں اٹھاتی، پھر زحمت ولادت گوارا کرتی ہے، بچپن میں ان کی تربیت کرتی ہے، دودھ پلاتی اور پھر چھڑاتی ہے۔ اولاد کی خوشی میں اس کی خوشی اور ان کے رنج میں اس کا رنج ہوتا ہے۔

’’امیر المومنین! انصاف پسند امیر یتیموں کا غم خوار اور مسکینوں کا خزانچی ہوتا ہے۔ وہ چھوٹوں کی تربیت کرتا ہے اور بڑوں کے لیے نان و نفقہ مہیا کرتا ہے۔ انصاف پسند امیر کو کسی ملک میں وہی حیثیت حاصل ہوتی ہے جو دل کو جسمانی اعضا میں حاصل ہے۔ اگر دل کی حالت درست ہے تو سب اعضا صحیح و سالم ہیں، اور اگر دل میں فساد پیدا ہوجائے تو سب اعضا بگڑ جاتے ہیں۔

’’امیر المومنین! امام عادل عبد اور معبود کے درمیان ایک واسطے کا کام دیتا ہے۔ وہ اللہ کا کلام سنتا اور بندوں کو سناتا ہے۔ خود خدا کو دیکھتا اور بندوں کو اس کا مشاہدہ کراتا ہے، خود خدا کی اطاعت کرتا اور بندوں کی قیادت کا فریضہ انجام دیتا ہے۔

’’امیر المومنین! آپ اس غلام کی طرح نہ ہوں، جس کے آقا نے اسے امین سمجھ کر اپنا مال و متاع اس کے سپرد کر دیا۔ غلام نے مال ادھر ادھر ضائع کردیا اور اہل و عیال کو منتشر کر دیا، جس کے نتیجے میں آقا دونوں سے محروم ہوگیا۔

’’امیر المومنین! آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ خدا نے شرعی حدود کو اس لیے نازل فرمایا کہ لوگ فحشاء و منکرات سے رک جائیں۔ جب والیِ حکومت خود ہی ان کا ارتکاب کرنے لگیں تو آپ ہی فرمائیے اس کا کیا انجام ہوگا؟ خدا نے قصاص کو انسانی جانوں کے لیے مشروع فرمایا ہے۔ جب قصاص لینے والا خود ہی لوگوں کو قتل کرنے لگے تو ان کی حفاظت کون کرے گا؟

’’امیر المومنین! موت اور اس کے بعد کے حالات یاد رکھئے جب آپ کی امداد کرنے والا کوئی نہ ہوگا۔ پس آپ موت اور اس کے بعد آنے والے شدید حوادث کے لیے زاد راہ جمع کیجیے۔

’’امیر المومنین! جہاں آپ سکونت پذیر ہیں، اس کے علاوہ بھی ایک منزل ہے جہاں عرصہ دراز تک آپ ٹھیرے رہیں گے۔ سب دوست احباب ایک گڑھے میں آپ کو تن تنہا ڈال کر چلے جائیں گے۔ اس کے لیے آپ ایک ایسا توشہ جمع کیجئے جو آڑے وقت میں کام آئے۔ اللہ رب العزت قرآن حکیم میں ارشاد فرماتا ہے:

’’جب آدمی اپنے بھائی سے بھاگ جائے گا۔ اپنی ماں سے، اپنے باپ سے اور بیوی اور بیٹوں سے راہِ فرار اختیار کرے گا)۔

’’امیر المومنین! وہ وقت یاد رکھئے جب قبروں والے اٹھائے جائیں گے اور سینوں کے راز فاش کر دیے جائیں گے اور کتاب الٰہی چھوٹے بڑے گناہوں کو نہیں چھوڑتی بلکہ اسے محفوظ کرلیتی ہے۔

’’امیر المومنین! اب اعمال صالح انجام دینے کا وقت ہے، اب آپ کو فرصت ہے، ابھی آخری وقت نہیں آیا، ابھی مایوسی کے آثار بھی ظاہر نہیں ہوئے۔

’’امیر المومنین! جہلاء کے قول کے مطابق فیصلہ نہ کیجئے، نہ ظالموں کی راہ پر چلئے اور نہ بڑوں کو چھوٹوں پر مسلط کیجئے کیوںکہ وہ کسی مومن کی قرابت داری اور عہد کی پروا نہیں کرتے۔ اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو اپنے گناہوں کے علاوہ دوسروں کے گناہوں سے بھی بوجھل ہوں گے اور اپنے بوجھ کے ساتھ دوسروں کا بوجھ بھی اٹھائیں گے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ جو لوگ عیش کی زندگی بسر کرتے ہیں وہ آپ کی تکلیف کا موجب ہوں۔ وہ لوگ جو دنیا میں لذائذ و طیبات سے لطف اندوز ہوتے ہیں، کہیںآپ کو اخروی طیبات سے محروم نہ کردیں۔

آپ اپنی موجودہ قدرت پر نگاہ نہ رکھیں بلکہ یہ دیکھیں کہ آئندہ آپ کو کس قدر قدرت حاصل ہوگی جب آپ موت کے پنجے میں جکڑے ہوں گے اور انبیاء و رسل کی ہدایات کے مطابق خدا کے روبرو کھڑے ہوں گے۔ اللہ رب العزت قرآن حکیم میں ارشاد فرماتا ہے:

’’سب چہرے خدائے حی و قیوم کے سامنے جھک جائیں گے۔‘‘

امیر المومنین! اگرچہ عقلائے سلف کی طرح میں نصیحت کا فریضہ ادا نہیں کرسکا، تاہم میری یہ معروضات شفقت و ہمدردی کی ترجمان ہیں، جس میں میں نے کسی کوتاہی سے کام نہیں لیا۔ میرے اس خط کو یوں تصور کیجئے جیسے ایک دوست کڑوی دوا پلا کر اپنے دوست کا علاج کرتا ہے کیوں کہ اسے امید ہوتی ہے کہ اس دوا سے وہ صحت یاب ہوجائے گا۔ والسلام علیک یا امیر المومنین و رحمۃ اللہ و برکاتہ!‘‘

شیئر کیجیے
Default image
محمد ایوب طاہر