کتب بینی کا ذہن و دماغ پر اثر

کتب بینی اور کثرت مطالعہ وہ چیز ہے جو آپ کی ذہانت کو پختہ اور ارتکاز کو بہتر بناتی اور آپ کی قوت فکر و تخلیق کو ایک نہایت مثبت رخ پر ڈال دیتی ہے۔ اس سے انسان کے اندر تحقیق و تجسس اور قوت دریافت اور انکشافات کی خواہش مضبوط ہوتی ہے۔ مطالعہ انسان کے اندر وہ زاویہ نگاہ پیدا کرتا ہے جس کے ذریعے واقعات کو آپ دنیا کے ہر منظر نامہ سے مختلف اور تعمیری زاویہ نگاہ سے دیکھنے لگتے ہیں۔

ناخواندگی کے ۲۶ سال

ایک ڈرامائی پس منظر میں میں پڑھائی لکھائی سے بہت کتراتا تھا، لیکن وقت بدلا اور جہالت میں ڈوبی ہوئی میری زندگی کے ۲۶ سالہ عرصہ کے بعد میری سوچ بدلی۔ چناں چہ میں چاہوں گا کہ میں اپنے ایسے تجربات بیان کروں جو میرے اندر مطالعہ و کتب بینی سے دلچسپی و انہماک پیدا کرنے کی وجہ بن سکے۔ اس امید کے ساتھ کہ شاید آپ کے اندر بھی ذوق و شوق مطالعہ و کتب بینی کا اضافہ ہوسکے۔

مطالعہ و علم دوستی وہ چیز ہے جس کے ذریعے آپ بلندیوں کے اعلیٰ ترین مقام کو پاسکتے ہیں۔ اسی سے آپ کے اندر وہ صلاحیت و شعور پیدا ہوتے ہیں کہ آپ حقائق عالم کو مختلف زاویوں سے دیکھ سکتے ہیں اور بعد از تجربہ ان حقیقتوں پر ایک مضبوط و ٹھوس نظریہ قائم کرسکتے ہیں۔

مشہور مصنف Gardenar نے اپنی کتاب "Execptional minds” میں ذہین اور چنندہ افراد کی خاص خوبیاں بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ معاشرہ کے افراد اپنی تمام تر طاقت و صلاحیت اپنے پسندیدہ اور اپنی ضرورت سے متعلق موضوع پر مواد اور مصادر کی کھوج میں صرف کرتے ہیں، ان کے اندر علم دوستی کا ایک الگ ہی رنگ جھلکتا ہے یہ لوگ نہایت ثبات قدمی سے مسلسل و پیہم طلب علم میں لگے رہتے ہیں اور انہیں اپنی کتابوں کی محبوب دنیا سے کوئی الگ ہی نہیں کر پاتا۔

اسی کتاب کے صفحہ ۱۳۸ پر انہوں نے ایک بات نقل کی ہے کہ ’’لازمی طور پر ہم اپنے بڑے صاحب علم بزرگوں کا ادب و احترام اور ان سے محبت کریں۔ ماضی میںعلما کرام کا یہ مشن تھا کہ لوگ وقت کے اصحاب علم کو مطمح نظر بنائیں اور ان کے حالات زندگی کو اپنی توجہ کا مرکز سمجھیں۔‘‘

میری ناقص رائے میں مندرجہ بالا اقتباس سے ہمیں یہ تعلیم ملتی ہے کہ اپنے اسلاف کی سیرت و سوانح کے مطالعہ سے ہی ہم کچھ سیکھ اور زندگی میں کچھ کرسکتے ہیں، کیوں کہ مطالعہ کے ذریعہ ہمیں ان بلند پایہ شخصیتوں مثلاً آئنسٹائن، ایڈیسن، جیمس واٹ وغیرہ کی زندگی، محنت اور کامیابی کے پیچھے چھپے اسرار و رموز کا علم ہوتا ہے۔ اس طرح ہمیں ان خوبیوں کو اختیار کرنے اور ان اصول و نقوش کو اپنانے میں آسانی ہوجاتی ہے جو ان کی کامیابی کا سبب بنے۔ چند خصوصیتیں ایسی ہیں جو ان برگزیدہ شخصیتوں میں نسبتاً مشترکہ ہیں۔ اس طرح انہیں سمجھنا اور اختیار کرنا اور آسان ہوجاتا ہے۔

لوگ کیسے سیکھیں

موجودہ دور میں تعلیم و تعلم کے بے شمار طریقے ہیں، جن میں عملی مشق کے ساتھ ساتھ آڈیو اور ویڈیو بھی ایک مقبول ذریعہ ہے۔ اور اس کے علاوہ اور بھی بہت سارے ذرائع ہیں۔ لیکن یہاں میرا زور ترکیز مطالعہ و کتب بینی ر زیادہ ہے کیوں کہ اس کی اہمیت میرے اعتقاد کا حصہ بن چکی ہے۔ جیسا کہ کارڈنر نے مطالعہ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’جب مطالعہ و کتب بینی سے شوق و انہماک جنون کی حد کو پہنچ جاتا ہے تو وہی ایک نہایت وسیع و عریض فکری زندگی کا نقطہ آغاز بن جاتا ہے۔‘‘

کتابیں ایک عظیم سرمایہ ہیں، میں ایک ایسا پڑھا لکھا ہوں جس نے ایک لفظ بھی کتاب سے نہیں سیکھا، کیوںکہ میں سوچتا تھا کہ ’’بیٹھ کر کتابوں کی ورق گردانی میں وقت برباد کیوں کرو جب کہ وہی معلومات مجھے صرف دو گھنٹے کی فلموں اور ٹی وی پروگراموں سے حاصل ہو جاتے ہیں، لیکن آج یہ سوچ اور یہ باتیں مجھے اندر سے کتنا شرمندہ کرتی ہیں وہ صرف میرا دل جانتا ہے۔

ستمبر ۲۰۰۹ء کو میری والدہ کے وصال نے میرے دل میں ایک گہرا زخم کر دیا اور اس وقت میں نے کتابوں کی ورق گردانی کو اس درد کا درماں اور زخم کا مرہم بنانے کے لیے چنا۔ جس کے ذریعے ہم نے زندگی کی مزید حقیقتیں جاننے کی کوشش کی۔ بلاشبہ یہ کتابیں، یہ لائبریریاں مجھے میری ماں واپس نہیں دے سکیں لیکن ایک مثبت و لازوال چیز ضرور دے گئیں۔ وہ ہے میرا تعلیم و تعلم سے ذوق و لگن۔ اور آج میں جو چیز بھی سیکھتا ہوں اسے عملی جامہ دیتا ہوں اور اپنے علاوہ دوسروں کی اس بات میں مدد کرتا ہوں کہ وہ کیسے اپنے علم و معرفت کو اپنی عملی زندگی میںکام میں لائیں۔

میری فیملی کے ایک فرد کی موت نے اس چھوٹی سی عمر میں مجھے یہ سکھا دیا کہ ہمیں دوسروں کی مدد کرنی چاہئے اور انہیں بتانا چاہئے کہ وہ خدا کی بخشی ہوئی زندگی جیسی نعمت کی قدر کریں۔ اس کتابی دنیا نے میری توجہ میں ارتکاز، ذہن کو سکون و قرار اور نفس کو پاکیزہ بنا دیا جو تیزی سے سیکھنے کے عمل میں بڑے معاون ثابت ہوتے ہیں۔

آج میری حالت یہ ہے کہ ہمہ وقت میری کار میں ایک نہ ایک کتاب ضرور بلکہ دو تین کتابیں رہتی ہیں اور ہر ہفتہ کچھ نہ کچھ وقت ان کتابوں کے مطالعہ کے لیے خاص کرلیتا ہوں۔ اگر ہفتہ میں روز نہیں تو کم از کم چار دن تو ایسا کرتا ہی ہوں۔ میرا یہ احساس و ادراک ہے کہ جس طرح ہم جسمانی ورزش و صحت اور غذا کا خیال رکھتے ہیں اس سے کہیں زیادہ ہمیں اپنی فکری و ذہنی ترقی و بلندی کا خیال رکھنا چاہیے تاکہ جہاں ہم جسمانی صحت میں مضبوط و طاقت ور بنیں وہیں ذہنی و عقلی طور پر ذہین و عبقری رہیں۔

میں گزشتہ چار سالوں میں ۲۵ ہزار صفحات سے زائد پڑھ چکا ہوں (حالاں کہ یہ بہت زیادہ نہیں) تاکہ یہ میری عقل و ذہن کو فکری طور پر مہمیز کرے، آپ جانتے ہیں کیوں؟ کیوں کہ اسی نے میرے اندر علم و معرفت کا نشہ پیدا کر دیا، میں نے اس مضمون میں یہ کوشش کی ہے کہ کتابوں سے محبت ولگاؤکا یہ فلسفہ آپ کے سامنے بیان کردوں تاکہ آپ بھی سمجھیں کہ مطالعہ کے ذریعے آپ کی شخصیت کو کیسی پرواز، آپ کی فکر کو کیسی بلندی و بالیدگی اور ذہن کو کیسی پاکیزگی ملتی ہے۔

آغاز کیسے کریں؟

یہ بالکل ایسے ہی جیسے جسمانی ورزش و ریاضت کا عمل ہوتا ہے کہ آہستہ آہستہ شروع ہوتا ہے پھر بتدریج بڑھتا جاتا ہے۔ ابتدا میں کسی دلچسپ موضوع کا انتخاب کیجئے۔ اس سے متعلق معتبر اور وسیع معلومات دینے والی ہلکی پھلکی کتاب نہ کہ انسائیکلو پیڈیا جیسی کتاب نکالئے۔ پھر بیٹھ کر بالکل توجہ و یکسوئی سے چند صفحات پڑھئے، آپ کو محسوس ہوگا کہ آپ کے علم و معرفت میں اضافہ ہو رہاہے۔ میری رائے میں ناول اور افسانوں جیسی کتابوں سے مطالعہ کا شوق پروان نہیں چڑھتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ کتابیں ذہنی لذت اور وقت گزاری سے زیادہ کچھ نہیں دیتیں۔ اور بامقصد مطالعہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ آپ کے علم و تجربہ میں اضافہ کا ذریعہ ہو۔ جب انسان کو علم و معرفت و تجربہ و معلومات میں اضافہ کی بھوک ستانے لگتی ہے تو یہاں سے ذوق مطالعہ کے ارتقاء کا آغاز اور انسان کی شخصیت اور ذہن و فکر کے ارتقاء کا عمل شروع ہوتا ہے۔

مطالعہ صرف اسلیے اہم نہیں کہ وہ ایک فرد کے ذہن و فکر اور علم و عمل کی قوتوں میں اضافہ کرتا ہے۔ بلکہ وہ اس لیے بھی اہم ہے کہ کتب کے مطالعہ اور مطالعہ سیرت و سوانح سے جو علم و تجربہ حاصل ہوتا ہے وہ انسان کو اس بات کے لیے آمادہ اور بے چین کرتا ہے کہ وہ اسے دنیا کے سامنے عملی و نظری دونوں اعتبار سے پیش کرے۔ اس طرح مطالعہ فرد ہی نہیں بلکہ سماج و معاشرے کی بہتری اور ارتقاء کا بھی ذریعہ ہوتا ہے، جو مختلف صورتوں میں اپنا اثر دکھاتا ہے۔

مطالعہ انسان کو دنیاوی زندگی میں تو کامیاب بنانے میں مددگار ہوتا ہی ہے، اخروی زندگی کے لیے بھی برکات کا سبب اس طرح بنتا ہے کہ انسان علم و معرفت حاصل کرنے کے بعد اس سے مختلف انداز میں انسانوں کو فائدہ پہنچاتا ہے اور اکثر اوقات وہ اپنے علم و معرفت میں انسانوں کو شریک کر کے انسانوں کو فائدہ پہنچانے کا ایک سلسلہ اور زنجیر بنا دیتا ہے۔ اس طرح اس بات کا پورا موقع ملتا ہے کہ آپ آخرت کی زندگی کے لیے بھی صدقہ جاریہ کی کئی صورتیں چھوڑ جائیں۔

شیئر کیجیے
Default image
تحریر: جمال خطاب، ترجمانی: اشرف علی ندوی