سہیلیاں

سہیلیاں اور ان کی ضرورت

زندگی گزارنے کے لیے جہاں اور بہت سی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے وہاں سہیلیاں بھی ضروری ہیں تاکہ راز کی بات کہنے، مشورہ لینے، دکھ سکھ کا ماجرا سنانے اور ہنسی خوشی میں شریک ہونے کے لیے کسی کی کمی محسوس نہ ہو۔ اگر سہیلیاں نہ ہوں تو زندگی بے کیف ہوجائے،ہر چیز کا لطف جاتا رہے۔ شادی سے پہلے سہیلی ایک Must کی حیثیت رکھتی ہے کیوں کہ شادی کے بعد تو شوہر اور اولاد وغیرہ کسی حد تک اس کی کمی پوری کردیتے ہیں۔ خوشی کا صحیح لطف بھی سہیلیوں کے جھرمٹ میں ہی ہوتا ہے اور غم کو غلط کرنے کے لیے بھی سہیلی سے بڑھ کر کوئی دوسرا مونس و غم خوار نہیں ہوسکتا۔ خدا کرے مخلص سہیلیاں آپ کا ساتھ دیں۔

ذیل یں ہم اچھی سہیلیوں کی خصوصیات بیان کرتے ہیں تاکہ آپ کو ان کے انتخاب میں آسانی ہو۔ کیوں کہ غلط قسم کی سہیلی آپ کو دنیا اور آخرت دونوں میں رسوا کرسکتی ہے۔ اس لیے سہیلیوں کے بارے میں خوب سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا چاہیے۔

اچھی سہیلی میں عموماً یہ اوصاف ہونا ضروری ہیں۔

۱- بہنیں بازو ہوتی ہیں، سہیلیاں دل ہوتی ہے۔ اس لیے تندرست اور پاکیزہ دل کو اپنے پاس جگہ دیں۔

۲- نیک سہیلی ہمیشہ اچھا مشورہ دیتی ہے۔

۳- سہیلیاں تو ایسی باتوں سے بھی واقف ہوتی ہیں جن کے متعلق گھر والوں کو گمان بھی نہیں ہوتا۔ اس لیے سہیلی اگر نیک ہوگی تو گم راہ نہیں ہونے دے گی۔

۴- سہیلیوں سے احسان کیا کرو اس سے محبت بڑھتی ہے۔

۵- آپ کی دوستی اللہ اور رسولﷺ کے بعد صرف ایسی ایمان دار نیک سہیلیوں سے ہونی چاہیے جو نمازی ہوں، سچ بولنے والی ہوں، ہمدرد ہوں، نیک باتوں کا حکم دیں اور برائی سے روکیں۔

۶- گھریلو معاملات اور خانہ داری کے امور سے واقف ہوں ان میں دلچسپی لیتی ہوں اور آپ کا ہاتھ بٹا سکتی ہوں۔

۷- عیاش، آوارہ گرد، بد کردار لڑکوں کی باتیں کرنے اور ان کا تعاقب کرنے والی لڑکیوں سے بچی رہیں۔

۸- جو لڑکیاں دین کا مذاق اڑائیں، اسلامی تہذیب و تمدن اخلاق اور غیرت کا مذاق اڑائیں، اس سے بغاوت کریں آپ ان کے قریب ھی نہ پھٹکیں۔

۹- سہیلیوں سے اللہ واسطے کی محبت کریں، ان سے لالچ نہ رکھیں، کیوں کہ اللہ رب العزت کا فرمان ہے کہ: ’’میں ایسے لوگوں کو قیامت کے دن اپنے سایہ میں جگہ دوں گا جو صرف میری خاطر ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔‘‘

۱۰- حضور نبی اکرمﷺ کا ارشاد ہے کہ: ’’اگر تم لوہار کے پاس بیٹھوگے تو ایک دن اپنے کپڑے جلاکر اٹھوگے مگر عطار کے پاس بیٹھوگے تو تمہیں ہر وقت خوشبو آئے گی۔

یعنی برے دوست سے بدنامی ہوگی اور نیک دوست سے نیک نامی ہوگی۔

یاد رکھئے!

A Man is known by the company he keeps. یعنی آدمی اپنے دوستوں سے پہچانا جاتا ہے۔

اگر سہیلیاں نیک، ہوشیار، ایماندار، مخلص اور شریف گھرانوں کی نور نظر ہوں گی تو آپ کی عزت ہوگی اور اچھی شہرت ملے گی اور اگر کسی کمینے، بدکردار، بد اخلاق اور بدنام گھرانے کی لڑکیاں ہوں گی تو آپ کی بدنامی ہوگی۔ آپ کے خاندان کی بدنامی ہوگی اور آپ کے مستقبل پر اس کا بہت برا اثر پڑے گا۔ یاد رکھئے شوہر اپنی بیوی کے متعلق ذرا سے شک و شبہ میں مبتلا ہوکر اسے گھر سے نکال سکتا ہے اس لیے اپنی عزت عصمت اور شہرت کو برباد نہ ہونے دیں اور اچھی سہیلیاں اس سلسلے میں معاون و مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔ اگر آپ خود اچھی عادات و اخلاق کی مالک ہوں گی، تو انشاء اللہ آپ کو سہیلیاں بھی اچھی ملیں گی کیوں کہ نیک نیک کو ہی ڈھونڈتا ہے۔

۱۱- اگر سہیلی میں کوئی عیب نظر آئے تو نہایت محبت اور احتیاط سے اسے آگاہ کردیں اور اس سے چھٹکارا پانے میں اس کی مدد کریں۔

۱۲- سہیلیوں سے بحث مباحثہ کرتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ دلوں میں رنجش نہ پیدا ہوجائے اگر بحث کو جیت کر سہیلی کو کھو دیا تو یہ گھاٹے کا سودا ہے، اس لیے بحث کو اس کی حدوں سے آگے نہ بڑھنے دیں۔

اپنی سہیلیوں کو اپنی والد یا اپنی بڑی بہنوں سے ملواتی رہیں تاکہ وہ اپنے تجربے کی بنا پر آپ کو مناسب ہدایات دیتی رہیں او رکسی غلط قسم کی سہیلی کے ہتھے چڑھنے سے آپ کو بچاتی رہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کی مدد فرمائیں اور سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائیں۔

شیئر کیجیے
Default image
علی اصغر چوہدری

تبصرہ کیجیے