بچے کی صحت میں ماں کا رول

ایک ماں کا اوّلین فرض یہ ہے کہ وہ جنم دینے والے بچے کی نگہ داشت حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق کرے، آج کا بچہ کل کا ذمہ دار شہری اس وقت ہی بن سکتا ہے جب وہ جسمانی اور ذہنی طور پر تندرست ہو۔ ایک بڑے ہسپتال میں ۱۲ سال کام کرنے کے بعد مجھے یہ اندازہ ہوا کہ ہمارے ہاں زیادہ تر ذہنی پسماندگی کی وجہ ماؤں کی لاپروائی اور ناخواندگی ہے۔

روزانہ ہزاروں بچے عورتوں کی ناخواندگی کی وجہ سے یا تو موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں یا پھر سوکھے جیسے مرض میں مبتلا ہوکر عام بچوں کی طرح زندگی بسر نہیں کر پاتے اور ذہنی پسماندگی کا بھی شکار ہوجاتے ہیں۔

ہسپتال میں آنے والے بچوں کی زیادہ تعداد سوکھے کے مرض میں مبتلا ہوتی ہے۔ اکثر آنے والے بچے غذائیت کی کمی کا شکار ہوتے ہیں۔ در اصل دیہی ہندوستان میں ماؤں کو باقاعدہ تربیت کی ضرورت ہے۔ یہ کتنے دکھ کی بات ہے کہ اچھا بھلا بچہ صرف غذائیت کی کمی اور بے احتیاطی کے باعث ذہنی معذوری کا شکار ہو جاتا ہے اور ساری عمر کے لیے معاشرے اور خود والدین کے لیے بوجھ بن کر رہ جاتا ہے۔

ٹھوس غذا کا آغاز تیسرے ماہ سے کر کے مائیں بچے کی ذہنی اور جسمانی نشو و نما کی تکمیل کرسکتی ہیں۔ یقین جانئے آپ کا بچہ بہت سی بیماریوں سے نجات حاصل کرسکتا ہے کیوں کہ جسم اگر کم زور ہوگا تو ہر قسم کی بیماری آپ کے بچے پر حملہ آور ہوسکتی ہے۔

ایک نئی ماں کے لیے یہ کام بہت مشکل ہو جاتا ہے، وہ بات بات پر پریشان ہو جاتی ہے اس لیے گھر کی بزرگ خواتین کو چاہیے کہ وہ ان کی مدد کریں۔ گوکہ اب پہلے زمانے کی بہ نسبت بچے کی دیکھ بھال کے طریقہ کار میں خاصی تبدیلیاں رونما ہوچکی ہیں۔ مشترکہ خاندان کی ریت ٹوٹ چکی ہے۔ عورت ملازمت بھی کرتی ہے اور بچے بھی پالتی ہے۔ بچے کو اپنی چھاتی کا دودھ زیادہ عرصہ اس خوف سے نہیں پلاتی کہ کہیں اس کی باڈی فِگر خراب نہ ہوجائے۔ اس طرح بھی بچے ایک اہم اور طاقت ور غذا سے محروم ہونے کے علاوہ جسمانی یا ذہنی طور پر کمزور ہو جاتے ہیں۔

بچے کو تین سے چار ماہ کی عمر میں مسلا ہوا کیلا، نرم انڈہ، دلیہ، ۶ ماہ سے ایک سال کی عمر تک نرم چاول، گلا ہوا گوشت، مسور کی دال کا سوپ وغیرہ دینا چاہیے۔ ایک سال کی عمر تک بچے کو ہر قسم کی غذا کا عادی بنا دینا چاہیے تاکہ یہ غذائیت کی کمی کے باعث ذہنی پسماندگی کا شکار نہ ہونے پائے۔ کیوں کہ اگر ایک دفعہ بچہ غذائیت کی کمی کا شکار ہو جائے تو نارمل حالت میں آتے آتے بہت دیر لگتی ہے۔ چھوٹے بچوں اور اسکول جانے والے بچوں کی غذا کا ہر ممکن خیال رکھنا والدین کی پہلی ذمہ داری ہے۔ صحت مند دماغ صرف اس وقت ہی تشکیل پاسکتا ہے جب اسے بہتر غذا میسر ہوگی۔

حمل کے دوران ماں اگر ذہنی طور پر پریشان رہے تو بھی بچے ذہنی طور پر معذور پیدا ہوسکتے ہیں۔ مختلف ادویات جنہیں ہم نیند آور دواؤں کا نام دے سکتے ہیں، کا استعمال بھی پیٹ میں نشو و نما پانے والے بچے کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

اگر ماں ذیا بیطس کا شکار ہے تب بھی بچوں میں ذہنی معذوری کے اثرات پائے جاسکتے ہیں۔ لہٰذا ذیابیطس میں مبتلا خواتین کو حمل کے دوران اپنا خاص طور پر خیال اور لیڈی ڈاکٹر سے رابطہ بھی برقرار رکھنا چاہیے تاکہ وہ آنے والے بچے کو مختلف امراض سے بچا سکے۔ ذہنی طور پر پسماندہ بچہ بھی نارمل بچوں کی طرح ہوتا ہے، وہ تمام اعضا کے ساتھ پیدا ہوتا ہے، وہ دیکھ سکتا ہے، سوچ سکتا ہے، اس کے جذبات بھی عام بچوں کے مانند ہوتے ہیں۔ اس کی پسماندگی کو بہتر تربیت سے کام لے کر دور کیا جاسکتا ہے۔ لہٰذا اس سلسلے میں گھر کے تمام افراد کو ایسے بچے کی تربیت میں حصہ لینا چاہیے اور یہ سب اس وقت ممکن ہوسکتا ہے، جب ماں تربیت یافتہ اور سمجھ بوجھ کی مالک ہو۔

بہت سی ایسی باتوں کا ذکر میں پہلے بھی کرچکی ہوں جو بچوں مین ذہنی پسماندگی کا باعث بنتی ہیں۔ ابتدائی جسمانی نشو ونما کا چارٹ بچے کی نشو و نما کے سلسلے میں ماں اور ڈاکٹر کے لیے رہبر ثابت ہوسکتا ہے۔ ہر بچے کے بارے میں ماں کا سب کچھ یاد رکھنا کسی حد تک ناممکن ہے کیوں کہ ہر بچے کی حرکات و سکنات یاد نہیں رہتیں۔ لہٰذا بچے کی ابتدائی جسمانی بڑھوتری کا نقشہ تیار کرنے سے ماں کے لیے آسانی ہو جاتی ہے۔ اگر بچہ چارٹ کے مطابق جو ڈاکٹروں کے پاس ہوتا ہے نشو و نما نہ پا رہا ہو تو ماں بروقت بچے کو ڈاکٹر کے پاس لے جاسکتی ہے۔ اس چارٹ کی روشنی میں بچے کی ابتدائی بالیدگی یعنی جسمانی بڑھوتری کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ذیل میں دیا گیا چارٹ ماں کو تیار کرنا چاہیے۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ اگر خدا نخواستہ مستقبل میں کبھی بچے کو بیمار ہونے کی صورت میں ڈاکٹر کے پاس لے جانا پڑے تو ماں آسانی سے ڈاکٹر کے مختلف سوالوں کا جواب دے سکے گی جو عموماً بچے کی ابتدائی حرکات و سکنات کے بارے میں ہوتے ہیں۔ کیوں کہ وہ دور گیا جب حکیم یا ڈاکٹر نبض پر ہاتھ رکھ کر یا صرف سینے پر اسٹیتھ اسکوپ لگا کر مرض کا علاج کرلیا کرتے تھے۔ آج کل ڈاکٹر ماں سے بچے کی ابتدائی نشو و نما، غذا اور حرکات و سکنات کے بارے میں متعدد سوالات پوچھتا ہے اور اکثر ماں کو بچے کی نشو و نما کے سلسلے میں یہ سب کچھ یاد نہیں رہتا کہ بچے نے کس عمر میں بیٹھنا سیکھا گردن سنبھالی وغیرہ وغیرہ جب کہ یہ تمام باتیں ماں کے لیے یاد رکھنا بہت ضروری ہیں۔ ان سب کا یاد رکھنا یوں بھی ضروری ہے تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ بچہ نارمل طور پر نشو و نما پا رہا ہے یا نہیں۔اگر چارٹ کے مطابق بچے کی حرکات و سکنات میں فرق ہے تو سمجھ لیں کوئی گڑبڑ ہے یا بچہ کمزور ہے تاکہ بروقت ڈاکٹر سے آپ رابطہ قائم کرسکیں اور معمولی علاج سے بچہ ٹھیک ہوسکے۔

ذہنی پسماندگی کا پتہ بہ آسانی اس نقشے کی مدد سے لگایا جاسکتا ہے لیکن یہ رائے ڈاکٹر بچے کے بارے میں تیار شدہ چارٹ کو دیکھنے کے بعد ہی دے سکتا ہے کہ بچہ نارمل طور پر بڑھ رہا ہے یا کوئی جسمانی کمزوری ہے۔ لہٰذا ڈاکٹر بہتر مشورے دے سکتا ہے کہ بچہ کی دیکھ بھال میں ماں کو کیا کرنا ہوگا۔

چارٹ کو دیکھئے اور اسی کے مطابق اپنے بچے کی ابتدائی نشو ونما کے بارے میں تفصیلات لکھئے تاکہ ڈاکٹر کو تشخیص میں آسانی ہوجائے اور آپ بھی بہ آسانی جواب دے سکیں۔ اور آپ کو یہ پتہ چل سکے کہ بچہ نارمل ہے یا نہیں۔

جسمانی نشو و نما عمر (مہینوں میں)

۱- سر اٹھانے کے قابل ہوتا ہے ۲-۳

۲- بچہ خود بیٹھنے لگتا ہے ۶-۸

۳- گھٹنوں کے بل چلنے لگتا ہے ۱۰-۱۲

۴- بچہ خود کھڑا ہونے لگتا ہے ۱۰-۱۴

۵- بچہ چلنے لگتا ہے ۱۲-۱۸

بول چال اور دیگر حرکات عمر (مہینوں میں)

۱- غوں غوں کرنے لگتا ہے ۲-۴

۲- بولنے کی کوشش کرتا ہے ۴-۷

۳- بامقصد الفاظ کہنا ۹-۱۵

۴- ایک لفظ کے ساتھ دوسرے الفاظ کا ۱۵-۱۸

۵- چھوٹے چھوٹے جملے ادا کرنا مثلاً میں کھاؤں گا وہ چاہیے، میں اسکول جاؤں گا وغیرہ ۲۴-۳۲

اگر کسی بچے کی نشو و نما نقشے کے مطابق نہیں ہو رہی ہو تو ماں کو ایسے بچے کے بارے میں فکر مند ہونا چاہیے اور بروقت کسی ماہر طب سے مشورہ کرنا چاہیے۔ یہ چند ابتدائی اشارات بچے کی ابتدائی بالیدگی سے گہرا تعلق رکھتے ہیں اگر ماں سمجھتی ہے کہ بچہ اس طرح باتیں نہیں کرتا جس طرح اس کا دوسرا بچہ اس عمر میں کرتا تھا تو یہ بات بھی قابل غور ہے۔

ذہنی پسماندگی کے مختلف درجے ہیں۔ بچوں میں سوچنے کی قوت اور سمجھنے کی صلاحیت الگ الگ ہوتی ہے۔ وہ اپنی محدود صلاحیتوں کے باعث اپنے ہم عمر بچوں میں گھل مل نہیں سکتے ان کی جسمانی اور ذہنی نشو ونما نارمل رفتار سے نہیں ہوتی، جس کی وجہ سے ان کی بقیہ صلاحیتیں متاثر ہوتی ہیں۔ بعض بچے جسمانی طور پر نارمل بچوں کی طرح بڑھتے ہیں مگر ذہنی پسماندگی کی وجہ سے ایسی جگہ پیچھے رہ جاتے ہیں جہاں مقابلہ سخت ہو۔ یہ ذہنی معذوری کی ایک بہت معمولی قسم ہے ایسے بچے عموماً عام اسکولوں میں زیر تعلیم رہتے ہیں اور بار بار فیل ہوجاتے ہیں۔ مگر نہ والدین کو ان کی جسمانی اور ذہنی پسماندگی کا علم ہوتا ہے اور نہ ہی استاد کو علم ہو پاتا ہے۔ ہمارے ہاں اسکولوں میں مغربی ممالک کے برعکس داخلے کے ٹیسٹ صحیح خطوط پر نہیں ہوتے مغربی ممالک میں بچے کی ذہنی صلاحیتوں کا اندازہ لگانے کے لیے اس قسم کی ٹیسٹ بہت ضروری سمجھے جاتے ہیں۔ ان ٹیسٹوں سے بچے کی صلاحیت اہمیت اور رجحان کا علم ہو جاتا ہے۔ عام طور سے یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ اصل وجہ جانے بغیر والدین اور اساتذہ بچے کو سزا دیتے رہتے ہیں اس طرح بچہ مزید الجھنوں کا شکار ہوکر رہ جاتا ہے۔ وہ دیگر بچوں کے ساتھ نفرت آمیز رویہ اختیار کرلیتا ہے اور بڑا ہوکر ذہنی پسماندگی کے مجرم کی حیثیت سے معاشرے میں ابھرتا ہے۔ بچے کی یہ پسماندگی والدین اساتذہ اور دیگر افراد کی مدد سے مناسب توجہ سے دور کی جاسکتی ہے۔

بعض بچوں میں اس قدر شدید ذہنی معذوری ہوتی ہے کہ ان کو خود کا ہوش نہیں رہتا اس قسم کے بچے ایک مقام پر چند منٹ کے لیے بھی خاموشی سے نہیں بیٹھ سکتے ہر وقت بے چین رہتے ہیں اور اعصابی اضطراب کا شکار رہتے ہیں۔ ذہنی پسماندہ بچے کم زوری اور محدود صلاحیتوں کی وجہ سے معمولی وزن کی چیزوں کو بھی اچھی طرح سنبھال نہیںسکتے۔ بسا اوقات ایسے بچے بول نہیں سکتے یا پھر بولنے میں ان کو مشکل پیش آتی ہے۔ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اپنے خیالات کا اظہار مناسب طریقے سے نہیں کرپاتے۔ اس سے نقصان یہ ہوتا ہے کہ لوگ یا گھر کے افراد ان کی باتوں کو جب نہیں سمجھتے تو ان کی جانب توجہ دینا ختم کر دیتے ہیں۔ ایسے بچوں کو ہر وقت ایک رہ نما کی ضرورت رہتی ہے۔ باقاعدہ تربیت سے وہ اپنے کام خود بخود کرنے لگتے ہیں۔ یہ بچے توجہ چاہتے ہیں۔ والدین کو ابتدا ہی میں ان کی مشکلات کو سمجھ لینا چاہیے تاکہ وہ بھی دوسرے نارمل بچوں کے ساتھ مل کر تھوڑا بہت کام کرسکیں۔ گھر کے تمام افراد کو اس قسم کے بچوں کی بھرپور مدد کرنی چاہیے۔

شیئر کیجیے
Default image
مسرت اکرم