کاش

تجسس اور کھوج عین فطرت ہے۔ یہ عنصر مردوں کے مقابلہ میں خواتین میں زیادہ پایا جاتا ہے۔ گزشتہ دو ماہ سے یہ نئے کرایہ دار جو محلے میں آئے تو اڑوس پڑوس کی خواتین میں تجسس بڑھ گیا اور چے میگوئیاں ہونے لگیں۔ آخر یہ لوگ ایسے کیسے شہنشاہ ہیں جو ہر روز صبح و شام بلا ناغہ غرباء کو کھلاتے ہیں۔ کوئی سائل ان کے در سے مایوس نہیں لوٹتا۔ ویسے یہ چھان بین کرچکے کہ صاحب خانہ آفیسر ضرور ہیں مگر کثیر العیال بھی تو ہیں ہاں ملازمت بے داغ ہے۔ محلے کی چند خواتین نے یہ ٹھان لیا کہ معلوم تو کریں کہ آخر ماجرا کیا ہے۔

ایک دن دوپہر میں وفد کی شکل میں گھر پہنچ ہی گئیں۔ میزبان خاتون نے بڑی خوش دلی سے سب کا استقبال کیا اور سب مہمان خانہ میں براجمان ہوئیں۔ اپنا اپنا تعارف کروایا بات پر بات نکلی، آخر ایک خاتون سے رہا نہ گیا اور پوچھ ہی لیا، بھابی برا نہ مانو تو پوچھوں آخر آپ لوگ ہر روز بلا ناغہ صبح و شام فقراء کو کھلاتے ہیں اور آپ کے در سے کوئی خالی ہاتھ نہیں جاتا اور ہمیشہ مہمانوں کا تانتا لگا رہتا ہے آخر یہ ماجرا کیا ہے؟ میزبان خاتون نے کہا کہ ہمیں شرمندہ نہ کیجئے۔ ہم کیا ہماری ہستی کیا کہ کسی کو کھلائیں۔ ان خواتین میں ایک اسی پچاسی سالہ خالہ بھی تھیں۔ انہوں نے کہا بیٹا، ان چھوریوں کا کیا! بتاؤ تو بھلا؟ تب ان محترمہ نے کہا کہ ہم ماہانہ سودا ایک دن لاتے ہیں جس میں ایک حصہ فقرا اور مساکین کے لیے نکال لیتے ہیں۔ ہر روز صبح و شام سب ایک ساتھ دسترخوان پر نوش فرماتے ہیں۔ ہر ایک اپنی رکابی سے کھانا شروع کرنے سے قبل ایک نوالہ برکت کی رکابی میں ڈالتا ہے اور اسی نسبت سے سالن بھی یوں آسانی سے ایک فرد کا انتظام ہو جاتا ہے۔ سب نے کہا ماشاء اللہ ایک دوسری محترمہ نے کہا کہ اللہ نظر بد سے بچائے ماشاء اللہ۔ آپ خود کثیر الاولاد ہیں اس پر محلے کے بچے روز شام کھیلنے آتے ہیں کیا آپ بور نہیں ہوتیـ؟ جواب میں محترمہ نے کہا کہ وہ درخت اچھا جو پھول اور پھل دے چمن کی زینت پھولوں سے ہے۔ یہی ہماری زندگی کا چمن ہے یہی میرے چمن کے پھول ہیں۔ بھلا بوریت کیسی؟ سب تعجب و حیرت سے سن رہے تھے۔ اشارہ پاکر ملازمہ نے سب کو چائے پیش کی ایک پیالی بچ گئی خالہ ماں نے کہا سب کو پلا کر تم کیوں نہیں پیتے، خالہ میں روزہ سے ہوں۔ یہ بھی آپ لے لیجئے خالہ نے اتنا سنا تھا کہ پہلی ختم بھی نہ ہوئی دوسری پیالی ہونٹوں سے چپک گئی۔

جاتے جاتے ایک محترمہ نے پوچھا! آپ کو خوشی کب ہوتی ہے اور افسوس کب؟ محترمہ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ جب مہمان گھر آتے ہیں تو بہت خوشی ہوتی ہے اور جب کانوں میں حی علی الصلوٰۃ، حی علی الفلاح کی آواز گونجتی ہے۔ اور افسوس جب ہوتا ہے، جب سائل کی آواز بہت دیر سے آئے۔ ایک خاتون نے عاجزانہ انداز میں کہا کہ بھابی ہمیں کچھ نصیحت فرمائیں۔ نصیحت تو نہیں پر میری یہ التجا ہے جب بھی اچھی حالت میں ہوں، باوضو رہنا، دل میں ورد ِ درود پاک ہو اور زبان پر اللہ اللہ کا ذکرچلتا رہے اور ہمیشہ سر پر پلو اوڑھے رہنا۔ یہ سننا تھا خالہ ماں سے رہا نہ گیا۔ ان گنت بلائیں لیں پیشانی کو چوما اور ٹھوڑی کو پکڑ کر حسرت سے کہا کاش میری ایک ایسی پوتی یا نواسی ہوتی؟

کاش! ہر خاتون کا ایسا اخلاق و کردار اور جذبہ ایمانی ہو تو دنیا بدل جائے۔ آمین !

شیئر کیجیے
Default image
محمد مصطفی علی انصاری