5

موسم بدل جاتے ہیں

جہیز کے متعلق آپ اپنے خیالات کو ہر حال میں عملی صورت میں ڈھالنے پر مصر رہے تو بڑی مشکل ہوجائے گی۔ دس منٹ قبل جہیز پر میری ختم ہونے والی تقریر کے جواب میں خمسہ نے چائے کی پیالی میری طرف سرکاتے ہوئے کہا:

’’ کیوں؟‘‘ میں نے چائے کی چسکی لی جس میں خمسہ کے خوبصورت ہاتھوں کی خوشبو رچی ہوئی تھی۔

’’امی ابو کا تو آپ کو پتہ ہے، وہ رشتے داروں اور ملنے والوں کی کب یہ بات سنیں گے کہ وہ اپنی بیٹی کو کچھ نہ دے سکے۔‘‘

’’بھئی، اپنے ذمے کچھ نہ لیا جائے۔ پوچھنے والوں کو بس یہ بتایا جائے کہ لڑکے والوں نے جہیز کی شدت سے مخالفت کی تھی، لہٰذا ہم مجبور تھے۔‘‘

’’لیکن سب لوگ پھر بھی باتیں بنائیں گے کہ انہوںنے لوگ ہی ایسے ڈھونڈے ہیں یا ان کی اندرونی مالی حالت پتلی ہوگئی ہے اور اس طرح کی سو باتیں۔‘‘

’’اتنی باتیں لوگ نہیں بناتے جتنی ہم قیاس ہی قیاس میں خود طے کرلیتے ہیں۔ اگر لوگ باتیں بنا بھی لیں تو کیا فرق پڑتا ہے۔ اول تو اتنی سپرٹ ہونی چاہیے کہ لوگوں کی فضول باتوں پر کان نہ دھرے جائیں اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو ان کی فضول باتوں کا ویسا ہی جواب دیا جائے۔‘‘

’’کچھ بھی ہو زمان یہ کوئی آسان کام نہیں۔ آپ کو تو رشتے داروں کا پتہ ہے۔ آخر وہ آپ کے بھی رشتہ دار ہیں۔‘‘

’’فضول روایت کو توڑنا مشکل تو ہوتا ہے لیکن مشکل کو اپنے اوپر حاوی کرلینے سے تو بات نہیں بنے گی۔‘‘

باہر بارش شروع ہوچکی تھی۔ ہم پندرہ بیس منٹ تک چپ چاپ بجلی کے قمقموں کی روشنی میں بارش کو گاڑیوں کی چھتوں اور شیشوں پر گرتے دیکھتے رہے۔

’’مجھے آپ عائشہ کے ہاں چھوڑ دیجئے گا۔ میں وہیں سے گھر فون کردوں گی۔‘‘

جونہی خمسہ نے سکوت توڑا میں نے ویٹر کو بل لانے کا کہا۔

٭٭٭

’’زمان! جواد بتا رہا تھا کہ آج کل تمہارے خیالات انقلابی ہوتے جا رہے ہیں۔‘‘

’’کیوں جواد، کیا بات ہے؟ میں نے ناصر کی بات کی جواد سے تفسیر چاہی۔

’’بات کیا ہونی ہے۔ میں ایسے ہی سرسری ناصر سے بات کر بیٹھا تھا کہ زمان جہیز کے بہت خلاف ہے بس اسی کا اب یہ ڈھنڈورا پیٹ رہا ہے۔‘‘ جواد بولا۔

ناصر نے کہا ’’ڈھنڈورا نہیں پیٹ رہا، آخر مجھے بھی پتہ چلے جناب کے جذبات کا۔‘‘

’’یار چھوڑو اس بحث کو، جب اس پر عمل کریں گے، تب دیکھا جائے گا۔ میں نے جان چھڑانا چاہی۔

’’واہ میری جان، ارادے تو بڑے مصمم ہیں۔‘‘ ناصر بولا۔

’’تمہارا کیا خیال ہے لڑکے کو جہیز لینے سے انکار کر دینا چاہیے۔‘‘

’’ہاں یوں ہی سمجھو۔‘‘ میں یہ کہہ کر گھاس پر نیم دراز ہوگیا۔

’’لیکن لڑکی والے اگر اپنی خوشی سے دیں تو پھر کیا بری بات ہے…‘‘

’’لڑکی والے خوشی سے نہیں بلکہ معاشرے کی ریت روایت کو سامنے رکھتے ہوئے اکثر مجبور ہوکر ایسا کرتے ہیں۔‘‘ جواد نے ناصر کو ٹوکا۔

’’لڑکی والے اگر خوشی سے دیں تو بھی مقابلے کی ایک ایسی فضا قائم ہوگئی ہے کہ ہر ماں باپ کے لیے مقابلے کے اس معیار تک پہنچنا ناممکن ہوتا ہے۔‘‘ میں نے جواد کی بات میں اضافہ کیا۔

’’ہر شخص اپنی چادر کے مطابق پاؤں پھیلائے۔‘‘

’’ناصر چن! یہی تو مشکل ہے، اس معاملے میں ایسا ہو نہیں سکتا۔‘‘

’’خیر چھوڑو ان رسمی باتوں کو۔ تم صرف یہ بتاؤ کہ تمہارے جہیز نہ لینے پر معاشرے میں کیا انقلاب برپاہوگا۔‘‘ جواد اب مجھ سے مخاطب ہوا۔

’’میں نے کب معاشرے میں انقلاب برپا کرنے کا دعویٰ کیا ہے؟ نہ میں اپنے اس فیصلے کوکوئی بڑا عظیم کارنامہ تصور کرتا ہوں، یہ تو ایک ایسا فرض ہے جسے ہر باشعور آدمی کو نبھانا چاہیے۔‘‘

’’زمان کچھ لوگوں نے پہلے بھی ایسے قدم اتھائے ہیں لیکن کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔ دوسرے جہیز کوئی بری چیز بھی نہیں۔ اتنے مہنگائی کے دور میں ضروریات زندگی خریدناجان جوکھوں کا کام ہے۔ اگر یہی چیزیں شادی ہوتے ہی میسر آجائیں تو کیا مضائقہ ہے۔ آخر حضور ﷺ نے بھی اپنی بیٹی کو اس وقت کے مطابق ضروریات زندگی کی چیزیں جہیز میں دی تھیں۔‘‘

’’ناصر! تمہاری یہ بات صحیح ہے کہ جہیز کے خلاف کیے گئے چند ایک اقدامات سے کوئی خاص فرق نہیں پڑا لیکن تھوڑا بہت ضرور پڑا ہے۔‘‘

’’اگر یہ کام ہمارے تمہارے کرنے کے بجائے بڑے زمین دار، صنعت کار اور اعلیٰ افسران کریں تو حوصلہ افزا صورتِ حال سامنے آئے گی۔‘‘ ناصر کی باقی باتوں کا جواب دینے سے پہلے جواد نے اپنی رائے دی۔

’’اس میں کوئی شک نہیں کہ جاگیر داروں، صنعت کاروں اور اعلیٰ افسران کے ایسے مثبت رجحان سے کایا پلٹ سکتی ہے۔ لیکن ہمیں بھی انسان ہونے کے ناتے اپنے شعور سے کام لینا چاہیے۔ ورنہ حیف ہے ہم پر۔ اور یہ بات کہ جہیز کوئی بری شے بھی نہیں ایک حد تک درست ہے۔ لیکن اب جہیز کشمکش، کھینچا تانی، مقابلے اور ذہنی تناؤ کا باعث بن چکا ہے۔ کتنے والدین کی نیندیں حرام ہوچکی ہیں، کتنی معصوم جوانیاں اس کی نذر ہو رہی ہیں، کتنے جرائم اس عذات کی سختی کی وجہ سے نشو ونما پا رہے ہیں۔ رشوت کا پودا اس کے بدولت اب تناور درخت بن چکا ہے۔ حضورﷺ نے اپنی بیٹی کو جہیز میں ضروریاتِ زندگی کی اشیاء اس قدر دی تھیں جتنی اس وقت ایک عام شخص بھی دے سکتا تھا۔ آج بھی اگر ایک آدمی کی حیثیت کو مدنظر رکھتے ہوئے جہیز میں ضروریات زندگی کا تعین ہو اور ہر خاص و عام اس پر عمل کرے یا پھر گورنمنٹ کی مقرر کردہ حد میں رہا جائے تو اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر یہ لعنت ہے اور ہمیں خود غرضی کی فصیل سے باہر نکل کر اس کا مکمل طور پر خاتمہ کرنا ہوگا۔ ضروریات زندگی کی فراہمی کی حد تک زیادہ سے زیادہ یہ ہونا چاہیے کہ عزیز، رشتے دار دولہا کو سلامی دینے کی بجائے، جسے دولہا کے لیے واپس کرنا مسئلہ ہوتا ہے، اپنی حیثیت کے مطابق کوئی تحفہ دے دیں۔ مثلاً کوئی ڈنر سیٹ دے دے، کوئی واٹر کولر، کوئی ٹی سیٹ، اس طرح ضروریات کی بنیادی چیزیں تو اکٹھی ہو سکتی ہیں۔‘‘

’’بس بس میری جان، سمجھ گیا، اب تمہیں سلامی کے بجائے واٹر کولر دوں گا، اب تو چپ ہوجاـ۔‘‘

’’اور چھیڑ زمان کو۔‘‘ جواد، ناصر کی بے ساختگی پر کھلکھلاکر ہنس دیا، میں بھی مسکرا پڑا۔

٭٭٭

’’دیکھو میرے لال اگر تم سمجھتے ہو کہ اپنے اندھا دھند جذبا ت سے کوئی غیر معمولی کام کروگے تو پھر سن لو، تم دونوں میاں بیوی کو زیادہ سے زیادہ ایک کمرہ ملے گا کیوں کہ تمہیںگھر میں کمروں کی تعداد کا علم ہے۔ اسی ایک کمرے میں پھر ساری عمر گزارا کرنا پڑے گی۔ مجھے یقین ہے کہ تم اس مہنگائی کے دور میں آئندہ دس سال تک اپنا گھر نہیں بنا سکوگے۔ امید تو بہت تھی کہ خواجہ صاحب اپنی بیٹی کو جہیز میں گھر دیں لیکن تمہاری ایسی قسمت کہاں۔‘‘ ابو عینک اتار کر اس کے شیشے رومال سے صاف کرنے لگے۔ ان کی آنکھوں میں گہرا ملال تھا جیسے ان کی عمر بھر کی کمائی ضائع ہوگئی ہو۔

قبل اس کے کہ میں ابو کی بات پر کچھ کہتا، امی مجھ سے مخاطب ہوئیں۔

’’تونے کبھی سوچا ہے تیرے اس رویے سے تیری بہنوں کے مستقبل پر کیا اثر پڑے گا۔ لوگ یہ سوچ کر ہمارے دروازے پر بھی نہیں پھٹکیں گے کہ ان کٹر لوگوں سے کیا ملے گا۔‘‘

’’امی! مجھے اس بات کا احساس ہے کہ بہنوں کے سلسلہ میں ہم بے بس ہیں کیوں کہ مثبت سوچ والوں کا ملنا مشکل ہے، لہٰذا ہم سے جو بن پڑے گا، کریں گے، میں انشاء اللہ بڑھ چڑھ کر آپ کا ساتھ دوں گا۔‘‘

’’تو کیا ساتھ دے گا، شادی کے بعد تو کسی کام کا رہے گا ہی نہیں۔‘‘ امی ہنس پڑیں، وہ کچھ دھیمی پڑ گئی تھیں۔

’’اچھا بھئی، اللہ بہتری کرے۔ مجھے تو خطرہ ہے کہ کہیں خواجہ صاحب شادی سے انکار ہی نہ کردیں، ناک کے وہ بڑے پکے ہیں۔‘‘

ابو کے ڈرائینگ روم سے باہر جانے پر یہ عدالت برخاست ہوگئی۔

٭٭٭

خمسہ کے ابو ابھی گھر نہیں آئے تھی۔ کمرے میں خمسہ، نازی باجی اور ان کی بچی بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں نازی باجی کا چھوٹا لڑکا اندر آیا۔

’’آپ کے فرینڈز آئی ہیں۔‘‘

’’میری؟‘‘ خمسہ بولی۔

’’جی آنٹی۔‘‘

’’اچھا‘‘ خمسہ اٹھ کر باہر چلی گئی۔

اب کمرے میں میں اور نازی باجی رہ گئے تھے، ان کی بچی اپنے بھائی کے ساتھ یا تو باہر چلی گئی تھی یا پھر خمسہ کی سہیلیاں دیکھنے۔ خمسہ کی امی دانستہ طور پر اندر نہیں آئی تھیں۔

’’زمان! تمہیں پتہ ہے تین چار روز بعد تمہارے گھر والے شادی کی تاریخ طے کرنے آرہے ہیں؟‘‘

’’جی۔‘‘

’’جہیز کے بارے میں تمہارے ارادوں کی بھنک جو میرے کانوں میں پڑی ہے، کیا وہ اٹل ہے۔‘‘

’’انشاء اللہ۔‘‘ میں مسکرا پڑا۔

’’تم جہیز کے اتنے انکاری کیوں ہو؟‘‘

’’نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں۔ میرے خیال میں لڑکی کی تعلیم و تربیت اچھی ہو، اس کا کردار اچھا ہو، اس سے بڑا جہیز کیا ہوگا؟‘‘

’’تم لوگوں کو ایک سے زائد کمرہ شاید ہی مل سکے، اس میں گزارہ کیسے کروگے۔ جب کہ ابو خمسہ کو گھر بھی دینے کا سوچ رہے ہیں۔‘‘

’’اس موضوع پر خمسہ سے میری بات ہوچکی ہے، میرا خیال ہے کہ وہ رضا مند ہے۔‘‘

’’زمان اس کی رضا مندی اپنی جگہ لیکن حقیقت اپنی جگہ۔‘‘

حقیقت کیا ہے یا کیا نہیں، میں اس بحث میں الجھنا نہیں چاہتا تھا سو خاموش رہا۔

’’ویسے ابو کو ابھی تک تمہارے جذبوں کا علم نہیں ہوا۔ جب انہیں معلوم ہوگا تو بڑی آفت آئے گی۔ ان کے تو ایک سے بڑھ کر ایک کاروباری دوست ہیں۔ اور وہ ان کے بچوں کی شادیوں میں شرکت بھی کرتے رہتے ہیں۔ ان سے تو فقیرانہ رنگ برداشت نہیںہوگا۔ سچ پوچھو تو یہی خدشہ ہے کہ کہیں وہ اپنا فیصلہ بدل نہ دیں۔‘‘

’’باجی! پھر آپ ہی کچھ کیجئے نا پلیز۔‘‘

’’تم باز نہیں آوگے؟‘‘

’’مشکل ہے۔‘‘ یہ کہہ کر میں ہنس دیا۔

’’توبہ، اچھا تو پھر یوں کرو،، کسی طرح اپنے ابو کو اس بات کا قائل کرلو کہ جب وہ میرے ابو سے ملیں تو تمہارے اس ارادے کا اظہار فخر سے کریں اور انہیں اس بات کا احساس دلائیں کہ ایسا کرنا کس قدر ضروری ہے اور اگر اس برائی کے خلاف جہاد کیا جائے تو کتنے گھر آباد ہوسکتے ہیں۔ انکل ابو کو دلائل دیں، قرآن شریف و حدیث کی روشنی میں انہیں سمجھائیں کہ اس جہاد کے مجموعی فوائد کیا ہیں، معاشی، معاشرتی، نفسیاتی، روحانی، حتی کہ جسمانی۔‘‘

’’باجی! ابو کو قائل کرنا بھی کوئی آسان کام نہیں۔‘‘

’’میرے بھائی، یہ تو پھر کرناہوگا۔‘‘

’’ہاں، یہ کام تو واقعی کرنا ہوگا۔‘‘ میں اٹھ کھڑا ہوا۔

٭٭٭

’’زمان! آج میں اخبار میں آپ کی فرم کے ایم ڈی صاحب کی طرف سے ملبوسات کے خواتین ڈیپارٹمنٹ کی ایڈمنسٹریشن کے لیے گریجویٹ لڑکی کی پوسٹ کا اشتہار پڑھ رہی تھی۔ اگر آپ اجازت دیں تو میں بھی ایپلائی کردوں۔ گھر کے کام کر کے بھی خاصا وقت بچ جاتا ہے اور وہ ایسے ہی گپ شب اور فضول باتوں میں ضائع ہو جاتا ہے۔‘‘

’’گڈ، بہت اچھا خیال ہے۔ اس طرح ہم ویسے بھی ایک ہی فرم میں کام کریں گے۔‘‘

’’پھر بات کریں گے نا آپ اپنے ایم ڈی صاحب سے۔‘‘

’’بالکل جنات، آپ اپنی جاب پکی سمجھیں۔‘‘

خمسہ خوشی کی خوشبو سے سرشار پھول کی طرح کھل اٹھی۔ ہماری شادی کو دو ماہ ہوچکے تھے۔

اب ہم ایک ہی فرم میںکام کر رہے تھے۔ وہ ملبوسات کے شعبہ خواتین سے منسلک تھی جب کہ میرا کام فرم کی مختلف فیکٹریوں سے تیار ہونے والے مال کی پیکنگ سے متعلق تھا۔

خمسہ کی جاب کی سبب اب ہم نے دونوں بہنوں روزینہ اور ثمینہ کے جہیز کے لیے امی ابو کے پاس ماہانہ جمع کروانے والے پیسوں میں دو گنا اضافہ کردیا اور یہ سب کچھ خمسہ کی خوشی سے تھا۔ ہماری شادی کے کوئی سال سوا سال بعد روزینہ کی منگنی ہوگئی۔

روزینہ کی شادی کے دن قریب آرہے تھے۔ اس دن میں روزینہ کا گہنا بنوانے کے سلسلے میں دفتر سے جلدی جانے کا سوچ رہا تھا کہ علی، روزینہ کا منگیتر آگیا۔

چائے کے دوران ادھر ادھر کی رسمی باتوں کے بعد کہنے لگا:

’’زمان بھائی! مجھے اس بات پر شرمندگی محسوس ہوتی ہے کہ اپنے گھر والوں کی غیر تعمیری سوچوں اور رویے کی جال میں بری طرح جکڑا ہوا ہوں ۔‘‘

’’ارے یار! کیوں کیا بات ہے؟ خیر تو ہے؟‘‘

’’ارے گھر والوں کے جہیز کے رویے کے بارے میں سوچتا ہوں تو دور دور تک حماقیتں ہی حماقتیں بکھری نظر آتی ہیں۔ بہتیرا کہتا ہوں کہ گہنے بنانے کی جو دھن آپ پر سوار ہے اسے ترک کردیں، بلکہ ادھر بھی منع کردیں۔ سادگی سے کام لیں، سونا تو پتھر کی صورت اختیار کرلے گا۔ اچھا خاصا روپیہ خواہ مخواہ پھنس جائے گا۔ اور اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا لیکن میری سنتا ہی کوئی نہیں۔‘‘

’’میرے بھائی، سنا کر کرنا بھی کیا ہے۔‘‘ میںنے مذاقاً جواب دیا۔

’’بھائی جان، مجھے اندازہ ہے کہ آپ کس طرح اپنا پیسہ پتھر میں بدل رہے ہیں۔ جو پیسہ پھنس جائے، اسی پیسے سے اگر آپ کوئی ضمنی کاروبار کرتے تو کسی ایک آدھ بیروزگار کو روزگار مہیا ہوسکتا تھا، ملک کی مجموعی آمدنی میں اضافہ ممکن تھا۔‘‘

’’ملک کی مجموعی آمدنی میں کتنے بلین اضافہ ہوتا۔‘‘ میں نے مذاق جاری رکھا۔

’’یوں ہی قطرہ قطرہ کر کے دریا بنتا ہے۔

علی میری باتوںکی پروا کیے بغیر اپنی دھن میں بولے جا رہا تھا۔ مجھے اس سے اتفاق تھا۔ لیکن مسئلہ بہن کا تھا، اس لیے میںکھل کر اس کی تائید نہیں کرسکتا تھا۔

’’بولتے بولتے تھک جانے کے بعد علی خاموش ہوگیا، پتہ نہیں وہ کتنے عرصے سے بھرا بیٹھا تھا۔ اس نے ایک کپ مزیدچائے کا بنایا۔ اور سوچوں کے سمندر میں گم، خاموشی سے پیتا رہا۔ میں بھی خاموش رہا۔‘‘

’’جب تک میں ہمت، جرات اور بے لوث پن سے کام نہیں لوں گا، کچھ نہیں ہوگا۔ غیر تعمیری جذبوں پر یلغار کے لیے مجھے اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لانا ہوں گی۔ زمان بھائی! اجازت دیں، میں چلوں‘‘ علی کی آنکھیں لمحے بھر کے لیے توانائی کی بھرپور روشنی سے چمک اٹھیں۔

’’امی یہ کیا؟‘‘

’’بیٹا اب مجھے اتنے روپوں کی ضرورت نہیں رہی۔ جتنی ضرورت ہے وہ میرے پاس ہیں۔ یہ ایک لاکھ تیرے کام آئے گا۔‘‘

’’امی جان! ابھی روزینہ کے لیے ریفریجریٹر اور رنگین ٹیلی ویزن بھی خریدنا ہے اور پھر آپ نے کل میرے ساتھ سوہا بازار بھی جانا ہے۔‘‘

’’بیٹے، اب ان کی ضرورت نہیں رہی۔ رات علی کے امی ابو شادی کی تاریخ طے کرنے آئے تھے، انہوں نے جہیز لینے سے انکار کر دیا ہے۔ وہ یہ کہہ کر گئے ہیں کہ انہیں روزینہ جیسی اچھی بیٹی کے ملتے ہوئے جہیز کی قطعاً ضرورت نہیں۔ اب بیٹا وہ لڑکے والے ہیں، ہم کیا کہہ سکتے ہیں۔‘‘

علی کی چمکدار دآنکھوں کی روشنی سے ارد گرد سب کچھ روشن ہوگیا۔

’’خمسہ! تمہارے لیے سونے کا ہار بنوانے کو جی چاہ رہا ہے، شادی پر تمہیں ایک انگوٹھی، دو بندے اور چند چوڑیاں ہی نصیب ہوئی تھیں۔‘‘

’’کیا فضول خرچی کی باتیں سوچ رہے ہیں۔‘‘

خمسہ نے چائے کی پیالی میں چینی ہلا کر اسے میری طرف بڑھاپا۔

ہم فورٹریس اسٹیڈیم کے شیزان میں بیٹھے ہوئے تھے۔

ہم فورٹریس اسٹیڈیم کے شیزان میں بیٹھے ہوئے تھے۔

’’پتہ ہے میں کیا سوچ رہی ہوں؟‘‘ خمسہ کی آنکھیں بھی علی کی آنکھوں کی طرح چمک اٹھی تھیں۔

’’کیا؟‘‘ میں اس چمک سے کچھ مرعوب سا ہوگیاـ۔

’’کسی جگہ کوئی فلیٹ وغیرہ کرایہ پر لے کر وہاں سوئیٹر بننے کی مشین، رنگائی کا کام اور ریڈی میڈ کپڑوں کی چند مشینیں لگاتے ہیں۔‘‘

’’جاب چھوڑنے کا ارادہ کرلیا کیا؟‘‘

’’ابھی تو نہیں، وہاں تین چار ماہر عورتیں رکھ لوں گی۔ آفس کے بعد کچھ دیر وہاں کے کام کی نگرانی کرلیا کریں گے۔‘‘

’’کرلیا کریں گے؟‘‘ میں نے اسے چھیڑا۔

’’آپ تعاون نہیں کریں گے کیا؟‘‘ خمسہ کچھ روہانسی سی ہوگئی۔

’’مائی ڈیئر! اتنا ہی جتنا تم نے مجھ سے کیا ہے، بلکہ کچھ بڑھ کر۔‘‘

خمسہ کی آنکھوں کی چمک میں محبت اور تعاون کے احساس سے اور نکھار آگیا۔

’’ابتدائی کام ساٹھ ہزار روپے سے شروع ہوجائے گا، اب ہم اتنا تو کرہی لیں گے۔‘‘

’’انشاء اللہ۔‘‘

باہر گہرے بادل برسات کے آغاز کا اعلان کر رہے تھے۔

’’زمان ہماری اس منصوبہ بندی سے نہ صرف یہ کہ تین چار لڑکیوں کو باوقار روزگار مہیا ہوگا بلکہ ملکی پیداوار میں ہمارا حصہ بھی شامل ہوجائے گا۔ جاب کے تجربے سے میں یہ کام کرنے کی خود کو اہل محسوس کرتی ہوں۔ ہماری آمدنی میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔‘‘

بارش کا آغاز یک دم چھینٹوں سے ہوا۔ پھر یہ چھینٹے موسلا دھار بارش کا روپ دھار گئے۔ چند گھنٹے قبل پڑنے والی شدید گرمی کا زور ٹوٹ گیا۔ موسم بدل چکا تھا۔ خمسہ میری پسند کے رنگ کے کپڑوں میں ملبوس بڑی چاہت سے مغز مسالا میری پلیٹ میں ڈال رہی تھی۔ ایسے برسات کے بادل بھی تو مجھے کم پسند نہیں۔

شیئر کیجیے
Default image
طاہر اسلم

تبصرہ کیجیے