صبح کا بھولا

آج مدت ہائے دراز کے بعد ذاکر کا خط ملا۔میں نے خوشی اور تجسس کے ملے جلے احساسات کے ساتھ لفافہ کھولا۔ خط میں القاب و آداب کے بعد بس مختصر سی تحریر یہ تھی کہ ملے ہوئے عرصہ دراز ہوگیا۔ بہت یاد آتے ہو بس جتنا جلد ممکن ہوسکے مل جاؤ۔‘‘ میں ٹکٹکی باندھے دیر تک اس تحریر کو بار بار پڑھتا رہا۔ کتنی مختصر کتنی مخلصانہ تحریر۔ ذاکر کی ساری شخصیت آنکھوں میں پھر گئی۔ کم و بیش پندرہ سال کے بعد اس نے یاد کیا تھا۔ کالج میں وہ اور ہم جب ساتھ ساتھ پڑھتے تھے میں نے اس کے سامنے یہ تجویز رکھی تھی ’’ذاکر یار برا نہ مانو تو ایک بات کہوں، یہ کہ تم ذکیہ سے شادی کرلو اور اس نے یہ تجویز مان لی تھی۔

تعلیم سے فراغت کے بعد میں نے ذاکر اور ذکیہ کے والدین سے بات چیت کی تھی اور دونوں کے والدین کو صاف طریقے سے بتا دیا تھا کہ ذکیہ و ذاکر ایک دوسرے سے بہت رغبت رکھتے ہیں عمر اور رنگ روپ میں بھی یکتائے روزگار ہیں اور ہم جماعت ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے سے اچھی طرح واقف بھی ہیں۔ والدین نے اس تجویز کو منظور کرلیا تھا اور ذاکر کے برسر روزگار آنے کے بعد شادی بھی ہوگئی تھی۔ شادی کے ایک دو سال بعد تک تو دونوں سے ربط رہا اور میں ملنے کے لیے دو بار شملہ بھی گیا مگر پھر تعلقات میں وہ گرم جوشی نہیں رہی، بلکہ تحریر میں لب و لہجہ بھی شاکی ہونے لگا۔ ایک خط میں تو ذاکر نے لکھا تھا بھائی تم سے کیا کہوں ذکیہ میں روز بروز منفی ہی ارتقا، ہو رہا ہے۔

بیگم دیر سے اٹھتی ہیں۔ جی میں آیا تو الٹا سیدھا ناشتہ پانی بنا دیا ورنہ خیر۔ کبھی رات میں اگر تاخیر ہو جاتی ہے تو فرما دیتی ہیں۔ دیکھئے سب چیزیں فرج میں رکھی ہیں میںبچے کے پاس سے نہیں اٹھ سکتی آپ خود سالن گرم کرلیں اور جب چائے بنائیں تو ایک پیالی میرے لیے بھی بنا لیں۔ دو تین سال کے بعد پھر ایک خط آیا۔ لکھا تھا: بھائی تم نے دوستی کا حق خوب ادا کیا، آکر ذرا ذکیہ کی کرتوتیں تو دیکھ جاؤ۔ کسی کو اندر تو کیا بلاؤں ڈرائنگ روم میں بھی بیٹھاتے ہوئے شرم آتی ہے۔ کوئی میز ڈھنگ سے رکھی ہے نہ کرسی۔ کتابیں ایسے ڈھنگ سے رکھی ہیں، جیسے کباڑی کی دکان۔ کئی روز ہوئے چاندو بوا سے بھی محترمہ نے دو دو ہاتھ کرلیے۔ اس نے اپنے بچوں کے لیے بچا ہوا کھانا کیا مانگ لیا بس قیامت ہی تو آگئی۔ کھانا تو دیا ہی نہیں ہاتھ پکڑ کر دروازے سے باہر کر دیا۔ میں کیا کروں، میرے ضبط کا پیمانہ تو بس اب چھلکنا ہی چاہتا ہے۔ سوچتا ہوں ہاتھ میں ایک مختصر سی تحریر دے کر میکے کا رستہ دکھادوں مگر تمہاری رفاقت اور خود ذکیہ کی بھولی صورت مانع آتی ہے۔

جواب میں میں نے ذاکر کو صبر ہی کی تلقین کی تھی اور اس کو زور دے کر جلد بازی سے باز رہنے کو کہا تھا۔ وقت اور مزاج کا کچھ پتہ نہیں کب بدل جائے۔ میرے خط کا فوری طور پر تو کوئی جواب نہیں آیا۔ البتہ یہ پتہ چلا تھا کہ ان کے یہاں دو چڑواں بچے ہوئے ہیں وہ بھی لڑکے۔ میںنے مبارکباد کا خط لکھا لیکن اس اللہ کے بندے نے اس خط کا کوئی نوٹس نہیںلیا اور جب تین سال کے بعد یہ خط آیا کہ ذکیہ کے پرس میں رکھا ہوا تمہارا تین سال پہلا خط مجھ کو آج ملا اس وقت جب کہ میں نے ذکیہ سے کہا کہ مجھے باہر جانا ہے۔ میرے پاس کچھ پیسے کم پڑ رہے ہیں اور آج اتوار ہے تمہارے پاس ہوں تو دے دو۔ اس پر اس نے تنک کر کہا پرس میں سے لے لیں۔ تب ہی نوٹ کے ساتھ آپ کا خط بھی ملا۔ بھائی میں آپ سے صاف کہتا ہوں میں اس مزاج کی عورت کے ساتھ اب زیادہ دن نہیں رہ سکتا۔ ابھی تو ہاتھ پیر سلامت ہیں خدانخواستہ کوئی بات ہوگئی تو یہ عورت ہاتھ بھی نہیں لگائے گی اور میں فقیر و محتاج ہوکر رہ جاؤں گا۔ بہتر یہ ہے کہ آپ اس کو خود اس کے میکے پہنچا دیں۔ میں اور شادی نہ کرسکا نہ سہی اکیلے ہی بسر کرلوں گا اوربچوں کو کسی ہوسٹل میں داخل کر دوں گا۔ ہوسکتا ہے پریشانیاں اور بڑھ جائیں مگر اس جہنم سے تو نجات مل جائے گی۔ اگر تم ہفتہ بھر میں ذکیہ کو اس کے میکے پہنچانے نہیں آتے تو بس میرا یہ آخری خط سمجھو۔

میںذاکر کے پاس گیا تو نہیں مگر آج اس کی مختصر سی تحریر نے ساری باتیں ایسی تازہ کردیں گویا یہ کل ہی کا واقعہ ہو۔

میں نے یہ سوچ کر کہ آتی جاتی دنیا ہے پتہ نہیں کون پہلے کون بعد کو۔ خاک ڈالو سب شکوے شکایت پر، بس میںنے رخت سفر باندھ لیا، اور اپنے سفر کا پروگرام اس طرح بنایا کہ صبح سویرے ذاکر کے یہاں پہنچ جاؤں اور پھر ایسا ہی ہوا۔ میں صبح آٹھ بجے کے آس پاس ایک کوٹھی نما اچھے بڑے مکان کے دروازے پر تھا۔ بیل بجانے پر دو بچے دوڑتے ہوئے دروازے پر آئے۔ ہمیں سلام کیا اور نام پوچھا۔ ہم نے کہا بیٹا کہنا بنارس سے آپ کے دوست چچا میاں آئے ہیں۔ اور پھر چند ساعت بعد ہی ذاکر میرے سامنے تھے۔ توقع کے خلاف ہشاش بشاس، مجھ سے فوراً بغل گیر ہوئے اور اندر لے گئے۔ بیٹھے ہی تھے کہ ذکیہ آگئیں، بہت خوش ہوئیں آنے کا بہت ہی اور بار بار شکریہ ادا کیا۔ بچوں کو حکم دیا فوراً چچا میاں کے ہاتھ پیر دباؤ اور ان کے پاس بیٹھو، میں پہلے ایک ایک چائے پلاتی ہوں اور پھر سب مل کر ناشتہ کریں گے۔ بچوں سے ہم نے کہا بیٹے ہم اتنے نہیں تھکے ہیں کہ ہمیں ہاتھ پیر دبوانے کی ضرورت ہوجائے تم لوگ اپنے کام سے لگو اپنے ابو کو بھیجو۔ بڑی مشکل سے بچوں سے پیچھا چھڑایا۔ ڈرائنگ روم دیکھ کر میرا سر چکرا رہا تھا کہاں وہ سابقہ خطوط اور کہاں یہ سلیقہ مندی اور رکھ رکھاؤ۔ میں کہیں اور آگیا ہوں، یا وہ خطوط ذاکر کے نہ ہوکر کسی اور کے تھے یا میرے ساتھ کوئی ڈرامہ ہو رہا تھا۔ میں اسی شش و پنج میں تھا کہ ذاکر ناشتہ کی ٹرے لیے ہوئے آگئے۔ اور کہنے لگے تم پہلے ان چیزوں پر ہاتھ صاف کرو اور پھر ذکیہ کچھ اور اپنی پسند کی نعمتیں سجا کر لا رہی ہیں۔ دیکھتے ہیں مہمان جیتتا ہے یا میزبان۔ میں نے کہا بھائی یہ جیت ہار تو ہوتی رہے گی، پہلے یہ بتاؤ تمہارے پیر میں یہ لنگ تو نہیں تھا کیا ماجرا ہے، میں نے پہلی نظر میں تاڑ لیا تھا۔ ٹرے تمہارے ہاتھ سے گرتے گرتے رہ گئی تھی۔ ذاکر بولے تم نے صحیح اندازہ لگایا۔ سب باتیں ہوں گی اور دل کھول کر ہوں گی پہلے یہ ہلکا پھلکا ناشتہ کرلو اور پھر فریش ہوجاؤ۔ اس کے بعد کرنا کیا ہے باتیں ہی تو کرنی ہیں اور درمیان میں جو طویل وقفہ رہا ہے اس کی بھی بھرپائی کرنی ہے۔ انشاء اللہ

ناشتہ وغیرہ سے فارغ ہوکر میں نے پیر کے لنگ کی بات پھر چھیڑ دی۔ ذاکر اس کو ٹالنا چاہتے تھے لیکن میری بے چینی تھی کہ بڑھتی ہی جا رہی تھی۔ آخر کار ذاکر نے پوری تفصیل سے مجھے اس لنگ کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ میں موٹر سائیکل سے جا رہا تھا کہ ایک موڑ پر دوسری طرف سے آنے والی جیپ سے ٹکرا گیا۔ مجھے نہیں پتہ پھر کیا ہوا، حادثے کے آٹھ گھنٹے بعد میری آنکھ کھلی تو میں اسپہتال کے اسپیشل بیڈ پر تھا اور ذکیہ میرے سرہانے زارو قطار رو رہی تھیں۔ میں نے گردن گھما کر کمرے کا جائزہ لیا لیکن کچھ یاد نہیں آرہا تھا۔ میںنے آنکھیں کھولیں تو ذکیہ کو کچھ تسلی ہوئی اس نے مجھ سے کچھ پوچھنا چاہا لیکن میں بوجہ تکلیف جواب نہ دے سکا۔ اللہ نے جان بچا دی تھی یہ اس کا کچھ کم احسان نہ تھا۔

ایک ہفتہ اسپتال میں رہنے کے بعد ہم گھر آگئے اور تقریباً دو ماہ میں میں اپنے پیروں سے بہ آسانی چلنے پھرنے کے قابل ہوسکا۔ القصہ مختصر یہ کہ ذکیہ سامنے بیٹھیں ہیں اس اللہ کی بندی نے اتنی زبردست خدمت کی ہے کہ کیا کہوں۔ نہ اپنا کھانا دیکھا نہ آرام۔ ہر وقت میری خدمت اور ایسی زبردست خدمت کہ کوئی کرہی نہیں سکتا۔ ماں کی مشقتوں کی یاد تازہ کردی۔ اس کے بعد سے ذکیہ کی زندگی میں جو تبدیلی آئی اور اس نے جو انی ذمہ داریوں کو سنبھالا ہے تو مجھے ہر محاذ پر لاجواب کر دیا۔ میرے لیے کوئی چارہ کار نہیں بچا سوائے اس کے کہ میں سجدے میں گر جاؤں، اللہ تعالیٰ کا بے پناہ شکر ادا کروں اور اپنی کوتاہیوں اور حق تلفیوں کی اللہ تعالیٰ سے بھی معافی چاہوں اور ذکیہ سے بھی۔

مجھے یہ تمام واقعات جان کر بے انتہا خوشی ہوئی۔ ایک گہری اور ٹھنڈی سانس لی اور اپنے رب کا شکر ادا کیا کہ اس نے میرے تمام اندیشے غلط ثابت کردیے۔ میں نے اٹیچی اٹھائی اور اس میں سے ایک بڑا سا لفافہ ذاکر کو دیا لو یہ تمہارے وہ تمام خطوط ہیں جو تم نے مجھ کو موقع بہ موقع لکھے تھے۔ ذاکر نے میرے ہاتھ سے لفافہ لیا اور ذکیہ کو دے دیا ’’جاؤ ان سب کو چولھے میں جلا دو اور لاؤ کچھ اور کھلاؤ پلاؤ۔‘‘

ذکیہ جو ابھی تک سراپا حیرت اور سکوت بنی بیٹھی تھی اٹھی اور نعمتوں بھری ٹرے لے کر آگئی۔ کواڑ کھلنے سے ہمیں کچھ دھکا سا لگا مگر ہم نے دیکھا ذکیہ کی آنکھوں میں نمی تیر رہی ہے۔

کسی نے سچ کہا ہے ’’صبح کا بھولا اگر شام کو گھر آجائے تو بھولا نہیںکہا جاتا۔‘‘

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر محمد داؤد