غیرمسلموں پر احسانات نبوی ﷺ

ہمدردِ بنی نوع انسان حضرت احمد مجتبیٰؐ نے غیروں کے ساتھ جس مفاہمت و رواداری کا برتاؤ کیا اس کی نظیر دنیا میں بالکل ناپید ہے۔ اس امر سے قطع نظر کہ آپؐ کو فطرتاً اپنے اور بیگانے سب سے محبت تھی، آپؐ منجانب اللہ اس بات کے لیے مامور تھے کہ غیروں کی طرف بھی محبت اور دوستی کا ہاتھ بڑھائیں خواہ وہ کیسی ہی شدید عداوت رکھتے ہوں۔ چناں چہ ارشاد خداوندی ہے: ’’اگر اعداء صلح کی طرف جھکیں تو آپ بھی صلح پر مائل ہوجائیے۔‘‘

آپؐ نے اس کوشش میں کہ واجب القتل اعداء زیادہ سے زیادہ تعداد میں بری کیے جائیں، حکم دے رکھا تھا کہ ہر ادنی سے ادنی مسلمان بھی غیر مسلم مجرم کو پناہ دے سکتا ہے اور وہ سفارش کرنے کا مجاز ہے۔ ام المومنین حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ اگر کوئی عورت بھی کسی مشرک کو امان دیتی تو وہ امان درست ہوا کرتی تھی (ابوداؤد) یعنی ہر مسلمان پر اس امان کا احترام لازم ہوتا تھا۔

حضورؐ غیر مسلموں کے ہدیے قبول فرماتے اور ان کی طرف ہدایا بھیجا کرتے۔ ایلہ کے حاکم نے آپؐ کو ایک سفید خچر ہدیۃً بھیجا تو آپ نے اس کے لیے ایک چادر بھجوائی اور شہر کی حکومت اس کو لکھ دی (بخاری)۔ حجاز اور شام کے مابین دومہ نام کا ایک شہر ہے۔ وہاں کے عیسائی حاکم نے جس کا نام دومہ تھا، آپ کے پاس سندس یعنی بیش قیمت دیبا کا ایک جبہ یدیہ بھیجا۔ یہ جبہ ایسا نرم اور خوشنما تھا کہ تمام لوگ اس کی نفاست و پاکیزگی پر اش اش کرتے تھے۔ (بخاری)

چھوت چھات کی ناگواری

مگر نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم ٹوٹے دلوں کو جوڑنے اور رابطہ محبت استوار کرنے کے لیے دنیا میں تشریف لائے تھے۔ آپؐ نے اپنے پیروؤں کے لیے کسی قسم کی تنگ خیالی اور بنی نوع کی تحقیر قطعاً گوارا نہ فرمائی، چناں چہ جس طرح خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر میں ایک یہودی عورت کے گھر کا کھاناکھایا اسی طرح اپنے پیرووں کو بھی غیر مسلموں کے ہاتھ کی چیز کھانے کی اجازت دی بشرطیکہ اس غذا کا کھانا شرعاً ممنوع نہ ہو۔ چوں کہ چھوت چھات کا جذبہ سراسر انسان کی تذلیل اور اس سے نفرت پر ابھارتا ہے۔ اسلام اس قسم کی چھوت چھات اور تفریق کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔

غیر مسلم اقرباء سے حسن سلوک

رحمت عالمﷺ نے اپنے خویش و اقارب کے ساتھ جو مربیانہ سلوک کیے ان کی نظیر بھی تاریخ عالم میں بمشکل ملے گی۔ لیکن یہ شفقتیں اور نوازشیں صرف مسلمان اقرباء کے ساتھ مخصوص نہ تھیں بلکہ غیر مسلم رشتے داروں کے ساتھ بھی یکساں تھیں۔ جنگ بدر میں پیغمبرﷺ کے عم محترم حضرت عباسؓ اور آپؐ کے چچازاد بھائی نوفل بن حارث اور حضرت علی مرتضیٰ کے حقیقی بھائی عقیل بن ابو طالب، جو عمر میں حضرت علیؓ سے بیس برس بڑے تھے، قریش مکہ کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف لڑنے آئے تھے اور مسلمانوں کے ہاتھوں گرفتار ہوگئے تھے۔ اس وقت تک تینوں میں سے کسی نے اسلام قبول نہیں کیا تھا۔

جنگ بدر کے اختتام پر آپؐ نے حضرت علیؓ سے فرمایا: ’’جاکر دیکھو ہمارے گھرانے بنو ہاشم کے کون کون آدمی گرفتار ہوئے ہیں۔‘‘ جناب علی مرتضیٰ نے جاکر دیکھ بھال کی اور آکر گزارش کی کہ چچا عباس و بھائی عقیل اور نوفل بن حارث اسیروں میں ہیں۔ یہ سن کر آپ تینوں قیدیوں سے ملنے تشریف لے گئے اور حضرت عقیلؓ کے پاس کھڑے ہوکر فرمایا: ’’ابو جہل مارا گیا ہے۔‘‘ عقیلؓ بولے: ’’اب تہامہ میں مسلمانوں کا کوئی مزاحم نہیں رہا۔‘‘ حضرت عقیلؓ بالکل تہی دست تھے، اس لیے ان کے چچا حضرت عباسؓ نے اپنی گرہ سے ان کا فدیہ ادا کر کے انہیں آزاد کرایا۔

غیر مسلم رضاعی بہن پر شفقت

پیغمبر خداؐ ایام رضاعت میں حلیمہ سعدیہ کادودھ پیتے رہے تھے جو قبیلہ ہوازن میں سے تھیں۔ ان کی بیٹی شیماء آپؐ کو بچپن میں گود کھلاتی رہی تھیں۔ حلیمہ سعدیہ جنگ حنین سے پہلے داعی اجل کولبیک کہہ چکی تھیں، البتہ شیماء زندہ تھیں۔ قبیلہ ہوازن نے جب پیغمبرؐ کے خلاف لشکر کشی کی تو اپنے اہل و عیال اور مال مویشی بھی ساتھ لے آئے تھے۔ غزوہ حنین کے اسیرانِ جنگ میں شیماء بھی شامل تھیں۔ جب مسلمانوں نے انہیں گرفتار کیا تو کہنے لگیں کہ میں تمہارے پیغمبر کی بہن ہوں۔ صحابہ کرامؓ انہیں تصدیق کے لیے حضورؐ کے پاس لے آئے۔ ان کو دیکھ کر فرط محبت سے آپؐ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ ان کے بیٹھنے کے لیے خود اپنی ردائے مبارک بچھائی۔ دیر تک محبت آمیز گفتگو کرتے رہے اور چند اونٹ اور بکریاں عنایت فرمائیں۔ اس کے بعد ارشاد ہوا کہ جی چاہے تو مدینہ چل کر رہو اور چاہو تو تمہیں تمہارے گھر پہنچا دیا جائے۔ انہوں نے وطن جانا چاہا، چناں چہ نہایت عزت و احترام کے ساتھ گھر پہنچا دی گئیں۔

غیر مسلم ماں کی امداد

عہد جاہلیت میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کی دو بیویاں تھیں۔ ایک قتیلہ بنت عبد العزیٰ جن کے بطن سے عبد اللہ اور حضرت اسماءؓ پیدا ہوئے، دوسری ام رومان بنت عامر جو عبد الرحمنؓ اور ام المومنین حضرت عائشہؓ کی والدہ تھیں۔ موخر الذکر ایمان لائیں اور ہجرت کر کے مدینہ منورہ آئیں۔ حضرت اسماءؓ کا بیان ہے کہ جن دنوں حدیبیہ کے مقام پر قریش سے معاہدہ ہوا، میری والدہ مکہ معظمہ سے میرے پاس مدینہ منورہ آئیں اور مجھ سے مالی امداد طلب کی۔ میں نے آستانہ نبوت میں حاضر ہوکر التماس کی یا رسول اللہ! میری والدہ مکہ سے آئی ہیں اور ایسی حالت میں کہ اسلام سے بیزار ہیں، مجھ سے مدد مانگتی ہیں۔ کیا مجھے کچھ اعانت کرنی چاہیے یا نہیں۔ فرمایا: ہاں ضرور امداد کریں۔

غیر مسلم اقرباء کو صحابہؓ کی امداد

چوں کہ حضورؐ اپنے غیر مسلم اقارب کے ساتھ نہایت فیاضانہ سلوک کرتے تھے اس لیے صحابہ و اہل بیت بھی اپنے غیر مسلم رشتے داروں کی طرف دست اعانت دراز کرنے کے عادی تھے، ایک مرتبہ سرکار دو عالمﷺ نے حضرت فاروق اعظم کو ایک ریشمی جوڑا عطا فرمایا تو انہوں نے وہ اپنے ایک غیر مسلم بھائی کے پاس جو مکہ معظمہ میں تھا، بھیج دیا۔ ام المومنین صفیہؓ ایک یہودی سردار حی بن اخطب کی بیٹی تھیں۔ انہوں نے اپنے ایک یہودی رشتے دار کے لیے ایک جائداد وقف کی تھی۔

دربار خلافت میں ام المومنین کی چغلی

ایک مرتبہ ایک لونڈی نے امیر المومنین حضرت عمر فاروقؓ سے جاکر یہ بات کہی کہ ام المومنین صفیہؓ سبت یعنی ہفتے کے دن کا احترام کرتی ہیں اور یہود پر بڑی شفقتیں فرماتی اور انہیں عطیات سے نوازتی ہیں۔ حضرت فاروق اعظمؓ نے ام المومنینؓ سے دریافت کرایا کہ آپ کی لونڈی نے یہ شکوہ کیا ہے۔ حضرت صفیہؓ نے جواب میں کہلا بھیجا: ’’جب سے حق تعالیٰ نے مجھے نعمت ایمان سے سرفراز فرمایا اور جمعہ کا دن عطا کیا میںنے سبت سے کبھی محبت نہیں کی۔ رہے یہود، تو ان سے میری قرابت ہے اور گو وہ غیر مسلم ہیں مگر صلہ رحمی کے خیال سے انہیں خوب دیتی ہوں۔‘‘

اس کے بعد انہوں نے لونڈی سے دریافت کیا کہ اس شکایت کا منشا کیا تھا۔ لونڈی نے کہا مجھے شیطان نے ورغلایا تھا۔ ام المومنینؓ کہنے لگیں جا میں نے فی سبیل اللہ تجھے آزاد کیا۔

حضرت خیر البشرؐ کے غیر مسلم مہمان

آں حضرتﷺ کا خوان کرم مسلم وغیر مسلم سب کے لیے بچھا ہوا تھا۔ ابو بشرہ غفاریؓ اسلام لانے سے پہلے کاشانہ نبوت میں آکر مہمان رہے۔ آپؐ کے گھروں میں کھانا بہت کم پکتا تھا۔ زیادہ تر شام کے وقت تھوڑا سا بکری کا دودھ پی کر گزر بسر کرلیتے۔ ابو بصرہؓ رات کو گھر کی تمام بکریوں کا دودھ پی گئے لیکن آپؐ خاموش رہے۔ متواتر انتہائی اخلاق سے پیش آتے رہے اور اہل بیت نبویؐ کو رات بھر فاقہ کرنا پڑا۔

اسی طرح حضور کے پاس ایک غیر مسلم مہمان آیا۔ اسے ایک بکری کا دودھ پینے کو دیا گیا۔ وہ اس نے پی لیا اور مزید کا طلب گار ہوا۔ آپؐ نے ایک اور بکری کا دودھ دوہنے کا حکم دیا۔ وہ بھی پی گیا۔ آپؐ نے تیسری بکری دوہنے کے لیے فرمایا۔ وہ اس کا دودھ بھی اڑا گیا۔ غرض مہمان یکے بعد دیگرے سات بکریوں کا دودھ پی گیا۔ چوں کہ گھر میں کھانے کی اور کوئی چیز موجود نہیں تھی تمام اہل بیت فاقہ کشی پر مجبور ہوئے لیکن آپؐ اس سے بدستور اخلاق اور نوازش سے پیش آتے رہے۔

اس حسن اخلاق سے متاثر ہوکر وہ دوسرے دن حلقہ اسلام میں داخل ہوگیا۔ اس روز اس کے لیے ایک بکری دو ہی گئی اور اس کا دودھ اسے پلایا گیا۔ پھر دوسری دوہی گئی لیکن اس کا دودھ بھی پورا نہ پی سکا۔ یہ دیکھ کر حضرت سرور عالمﷺ نے فرمایا: ’’مومن ایک ہی آنت میں پیتا ہے اور غیر مسلم سات آنتوں میں۔‘‘ (ترمذی) یعنی مومن کامل تھوڑے پر قناعت کرلیتا ہے اور غیر مسلم چوں کہ حرص و ہوا کا بندہ ہے ، اکل و خور اور لذات دنیوی کو اس نے حاصل زندگی قرار دے رکھا ہے، اس لیے تھوڑی چیز پر قانع نہیں ہوتا۔

کافر کامال جائز نہیں

یہود نے اپنے جو خرافات، کلامِ الٰہی تورات میں شامل کردیے تھے ان میں سے ایک خرافہ یہ تھا کہ کافر کا مال چٹ کر جانا جائز ہے۔ وہ کہتے تھے کہ عرب کے باشندے بت پرست اور بد دین ہیں، لہٰذا ان کا مال غصب کرلینے پر ہمارا کوئی مواخذہ نہ ہوگا۔ سیدنا محمدﷺ نے یہود کو اس کج روی پر متنبہ کیا اور علی الاعلان فرما دیا کہ مومن ہو یا غیر مومن، بلا اجازت کسی کے مال میں تصرف کرنا جائز نہیں۔

اس زمانے میں یہود کے سب سے بڑے عالم عبد اللہؓ بن سلام تھے۔ ان کے مشرف بہ اسلام ہونے کے بعد ایک بت پرست نے ان کے پاس کئی سیر سونا امانت کے طور پر رکھا اور جب مالک نے طلب کیا تو انہوں نے فی الفور لاکر حاضر کر دیا۔ اس کے برعکس انہی دنوں ایک یہودی ایک بت پرست کی اشرفی لے کر مکر گیا۔ اس پس منظر میں حق تعالیٰ نے فرقان حمید میں فرمایا:

’’اہل کتاب میں سے کسی (عبد اللہؓ بن سلام) کی تو یہ حالت ہے کہ اگر اس کے پاس خزانہ بھی امانت رکھ دو تو وہ مطالبے کے ساتھ ہی لا حاضر کرے گا اور انہی اہل کتاب میں سے وہ شخص بھی ہے کہ ایک دینار کی امانت واپس کرنے میں بھی اس وقت تک برابر پہلو تہی کرے گا، جب تک اس کے سر پر کھڑے نہ رہو۔ اس عدم ادائیگی کا سبب ان یہود کایہ مقولہ ہے کہ ہم پر غیر کتابی کا مال اڑا لینے کے بارے میں کسی طرح کا الزام عائد نہیں ہوتا۔ ‘‘ حالاں کہ یہ لوگ دیدہ و دانستہ حق تعالیٰ پر افتراء باندھ رہے ہیں۔

شیئر کیجیے
Default image
ابو القاسم رفیق