خود کو اور اہل و عیال کو بچانے کی فکر! [خرم مراد ؒ کی وصیت کا کچھ حصہ جو انہوں نے اپنے بچوںکو کی تھی]

اپنے گھر کی اصلاح تمہارے اختیار میں ہے ۔اس گھر میں اللہ کے کلمے کو غالب رکھنا ،اللہ کی حکومت قائم کرنا، اسے اللہ کی مرضی کے مطابق بنانا اور چلانا تمہارا سب سے بڑا اور اہم کام ہونا چاہئے ۔اپنی ذات کے بعد تم سے انھیں چیزوں کے بارے میں سوال اور مواخدہ ہوگا،جو تمہارے اختیار میں ہے ۔ ان میں سب سے اہم تمہارا گھر ہے ۔گھر کی اصلاح تمہاری ذات کی اصلاح پر منحصر ہے اور تمہاری ذاتی اصلاح گھر کی اصلاح پر ۔گھر اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق چلے گا تو تمہیں اطمینان و سکون کی بیش بہا دولت نصیب ہوگی۔ آج کوئی گھر باہر سے آنے والے اثرات سے محفوظ نہیں ہو سکتا پھر بھی تمہاری کوششوں سے بہت کچھ ہو سکتا ہے ۔

اے ایمان وانوں اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو جہنم کی آگ سے بچائو۔ (التحریم: ۶)

یہی بات گھر کی زندگی کے لئے رہنما اصول ہو۔ گھر چلانے اور گھر میں باہمی تعلقات میں یہی روح جاری و ساری اور کارفرما ہو۔گھر کا ساز و سامان ہو ،گھر کا کھانا پینا ہو ،بچوں کی تعلیم ہو ، ان کی تربیت ہو، ان کے شوق ہوں ، ان کا مستقبل ہو ، میاں بیوی کا تعلق ہو ، بچوں کے ساتھ برتائو ہو ، ملازموں کے ساتھ سلوک ہو۔یہی پیش نظر رکھنا کہ کوئی بات ایسی نہ ہو جو اللہ کی آگ کا مستحق بنے اوریہی جنت کے حصول کا ذریعہ ثابت ہوگی۔

اس کے یہ معنی نہیں کہ آگ کا سوچتے رہنے سے گھر دنیا کے مزوں اور تفریحوں سے خالی ہو جائے گا۔ نہیں، بلکہ اس کے باوجود دل جوئی اور مودت بھی ہوگی، باہمی پیار بھی ہوگا ،عفو و درگزر بھی ہوگا ،حلال طیب سے لذت اندوزی بھی ہوگی، مناسب سامان زینت بھی ہوگا ۔ اس لئے کہ یہ سب اللہ کی آگ سے بچنے کے لئے ضروری ہے۔

کوئی دو انسان ایک جیسے نہیں ہوتے ۔جب ایک جگہ ہر دم رہنا ہے تو کھٹ پٹ ،ناراضی اور اختلافات سے مفر نہیں لیکن شوہر یہ یاد رکھیں کہ رسول اللہ ﷺ کیسے شوہر تھے ۔آپ ﷺ نے اس بارے میں کیا ہدایات دی ہیں ۔ عورتوں کی دل جوئی کو ان کا حق قرار دیا ہے۔سفر میںجاتے تو ان کو ساتھ لے جاتے۔ روزانہ ان کے ساتھ وقت گزارنے کا اہتمام کرتے۔ ان کے ہنسی مذاق میں شریک ہوتے ان کے ساتھ دوڑ بھی لگائی۔ شکستہ توقعات اور کسر و انکسار پر آمادہ نہ ہونا یہی تعلقات کی خرابی کی اصل وجوہ ہیں ۔

بچوں کی عزت نفس کا خیال رکھنا لیکن ان کی تربیت میں کوئی کمی نہ کرنا۔ یاد رکھنا کہ بچوں سے بڑھ کر دو رنگی کو پہچاننے والا اور کوئی نہیں ہوتا ہے۔ اس لئے گھر میں تم اور کچھ کرو نہ کرو قول و فعل کی دو رنگی سے خود کو ضرور بچانا ۔بچوں کو آداب کی تعلیم ضرور دینا۔ سلام و ملاقات کے ،بڑوں کی خدمت و احترام کے گفتگو کے ،مہمانون کی میزبانی کے، کھانے پینے کے اور ایسے ہی دیگر آداب۔

میری تمنا تھی کہ بچوں کے بچے پہلے قرآن ختم کریں۔ قرآن سے محبت و تعلق ان کے دلوں میں بیٹھ جائے۔ وہ انگریزی اسکولوں میں نہ جائیں ۔اس عمر میں ان کے حافظوں کی لوحوں پر’ بابا بلیک شپ‘ کے گانے نہ کندہ ہوں۔قرآن کی آیات ،حضورﷺ کے ارشادات، حمد،نعت، اقبال و حالی جیسے شاعروں کا کلام ،دینی ادب کے شہ پارے نقش ہوں۔یہ سب تو ہو نہ سکا بس اب کم سے کم قرآن اور دینی ادب کی تعلیم جتنی دے سکو دو اور اس طرح دو کہ ان کی اہمیت اور محبت بھی دل میں بیٹھتی جائے تو میری روح کو بہت خوشی ہوگی ۔میں ٹی وی کے حرام ہونے کا فتویٰ نہیں دیتا لیکن خدا کے لئے اپنے گھروں کو اس لعنت اور گندگی سے پاک رکھنا ۔فحش اور عریاں تصاویر اور رسالوں اور کتابوں سے گھر کی فضا کو جتنا پاکیزہ بنا سکو اور رکھ سکو اتنا ضرور بنانا اور رکھنا ۔

گھر میں باقاعدہ اجتماع ہو سکے تو اچھا ہے ۔لیکن روز مرہ کے معمولات میں اللہ کی یاد اور بھلائیوں کی تلقین اور برائیوں سے اجتناب کی نصیحت کو ضرور سمونا، جہاد اور شہادت کے قصے بھی سنانا۔

اپنے کو کچھ سمجھنا اور دوسروں کو حقیر سمجھنا امہات الخبائث میں سے ہے اس سے بچو۔تواضع اختیار کرو۔ جب تک قیامت کے دن اللہ تمہیں بری نہ کردے اور تمہاری عبادات قبول نہ کر لے اس وقت تک تم اپنے بارے میں کچھ بھی نہیں کہہ سکتے۔ اگر اس نے تمہیں رد کر دیا تو تم سے زیادہ ذلیل و رسوا کون ہوگا؟ آج دنیا کے قید خانے میں خود کو دوسرے مجرموں سے برتر خیال کرنے سے بڑی حماقت کیا ہو سکتی ہے ؟ جب تک مالک یوم الدین کا فیصلہ صادر نہ ہو جائے ۔ہر مسلمان کو اپنے سے بہتر سے بہتر سمجھو۔ دوسروں کی خوبیوں پر نظررکھو ، عیوب پر نہیں۔ بھلائیوں کا تذکرہ کرو ،برائیوں کا نہیں۔ عیبوں کا اظہار اور تحقیر اپنی بھی نہ کرو لیکن اللہ کے سامنے ایک ذلیل و رسوا غلام کی طرح رہو۔ اس جسم پر کیا اکڑ فوں جسے کیڑوں اور پیپ کی غذا بن جانا ہے ۔

محبت تو فاتح عالم ہے۔ جو چیز نرمی سے حاصل ہوگی وہ سختی سے ہرگز نہ ہوگی۔سہولت اور آسانی پیدا کرو۔ گناہ گاروں سے نفرت نہ کرنا، گناہوں سے نفرت کرنا۔انہیں شیطان کی چال میں آکر لعنت ملامت نہ کرنا بلکہ ان کے لئے استغفار اور دعائیں کرنا ۔یہ شیطان کے خلاف ان کی مدد کرنا ہوگا۔اپنے کو جتنا معافی کا مستحق سمجھتے ہو اس سے زیادہ دوسروں کو سمجھو۔ جتنے مطالبات اپنے سے کرتے ہو اس سے کم اور نرم مطالبات دوسروں سے کرو ۔ اختلاف کو برداشت کرنا۔ اس سے آپسی تعلقات متاثر نہ ہوں ۔ تنقید کو حلم و تحمل اور فراخدلی سے سننا۔ دعا اور حوصلے سے کام لینا۔ اچھی بات کو قبول کرنا، غلط بات کو نظر انداز کر دینا۔ انشاء اللہ اس روش میں بڑی خیرو عافیت ہے ہر کس و ناکس کے لئے۔

ان پر عمل کرنے کے لئے تمہیں قوت و استعداد کی ضرورت پڑے گی۔ اس قوت کا سرچشمہ ،اس بات کا دھڑکا اور یقین ہے کہ اللہ کے پاس جانا ہے،اس سے ملاقات کرنا ہے ۔اصل کامیابی وہیں کی کامیابی ہے اصل زندگی وہی ہے۔ تم کو ایک دفعہ اس بات کا فیصلہ کرنا ہے ،کرنا چاہئے اور جتنا جلد کر لو اتنا اچھا ہے کہ تمہیں ہر کام اسی کے لئے کرنا ہے،ہر لمحہ اسی طرح گزارنا ہے۔ ہر پیسہ اسی لئے خرچ کرنا ہے ہر تعلق اسی طرح کرنا ہے کہ وہ آخرت میں تمہارے کام آئے۔ اور ہر شحص یہ دیکھے کہ اس نے کل کے لئے کیا سامان تیار کیا ہے ۔اکثر لوگ دو کشتیوں میںسوار ہو کر چلنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ دونوں میں ہی نقصان اٹھاتے ہیں۔ تم فیصلہ کر لو کہ تمہیں دنیا کی پوری زندگی سے آخرت اور صرف آخرت کمانا ہے۔ دنیا کمانا ہے تو وہ بھی اسی لئے کہ اس سے آخرت کمانا ہے ۔

شیئر کیجیے
Default image
ناز آفرین