5

ایمان اور کامیابی

اسلام کامیابی کا تصور ہمہ گیر ہے اور محض دنیاوی جاہ و حشم اور مال و دولت کو کامیابی تصور نہیں کرتا۔ بلکہ آخرت کی ابدی زندگی کی کامیابی کو اصل کامیابی مانتا ہے۔ وہ اپنے ماننے والوں کو اس بات کے لیے آمادہ کرتا ہے کہ آخرت کی کامیابی کی خاطر وہ دنیا کی ہر مصیبت کو عارضی سمجھ کر جھیل جائیں اور یہاں کی ہر نعمت کو اگر وہ آخرت کی کامیابی راہ میں آتی ہو تو عارضی سمجھ کر اسے ٹھکرادیں۔ اس کی دلیل کے طور پر قرآن میں گزشتہ قوموں کی ترقیوں کو اور پھر ان کی ناکامیوں کو بھی پیش کیا گیا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہے: ’’اور جھٹلایا (رسولوںکو) ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے۔ اور یہ تو ان کی ترقی کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے، جو ہم نے انھیں دی تھی۔ پس، انھوںنے جھٹلایا ہمارے رسولوں کو تو (دیکھو) کیسی تھی ہماری نکیر۔‘‘ (سبا: ۴۵)

اسلام کے تصورِ فلاح و خسران کو کلامِ مبین میں کئی مقامات پر صراحت کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ سورہ المؤمنون میں فرمایا: ’’یقینا فلاح پائی ہے، ایمان لانے والوں نے، جو اپنی نماز میں خشوع اختیار کرتے ہیں۔ لغویات سے دور رہتے ہیں، زکوٰۃ کے طریقے پر عامل ہوتے ہیں، اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں… اپنی امانتوں اور عہد کا پاس کرتے ہیں اور اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں، جو وارث ہیں، جو میراث میں فردوس پائیں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ (المؤمنون: ۱-۱۱)

سورہ الاعلیٰ میں فرمایا: ’’فلاح پاگیا وہ، جس نے پاکیزگی اختیار کی اور اپنے رب کا نام یاد کیا۔ پھر نماز پڑھی، مگر تم لوگ دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو حالانکہ آخرت بہتر ہے اور باقی رہنے والی ہے۔‘‘ (الاعلیٰ:۱۴-۱۷)

صاحبِ تفہیم القرآن لکھتے ہیںکہ سورۃ المؤمنون کی ابتدائی آیات میں چار اہم مضمون بیان ہوئے ہیں:

اول یہ کہ جو لوگ بھی قرآنِ مجید اور محمدؐ کی بات مان کر یہ اوصاف اپنے اندر پیدا کرلیں گے، اور اس رویے کے پابند ہوجائیں گے، وہ دنیا و آخرت میں فلاح پائیں گے۔ قطع نظر اس سے کہ کسی قوم، نسل یا ملک سے ہوں۔

دوم یہ کہ فلاح محض اقرار ایمان یا محض اخلاق اور عمل کی خوبیوں کا نتیجہ نہیں ہے۔ بلکہ دونوں کے اجتماع کا نتیجہ ہے۔ جب آدمی خدا کی بھیجی ہوئی ہدایات کو مانے، پھر اس کے مطابق اخلاق اور عمل کی خوبیاں اپنے اندر پیدا کرے، تب وہ فلاح سے ہمکنار ہوگا۔

سوم یہ کہ فلاح، محض دنیوی اور مادی خوش حالی اور محدود وقتی کامیابیوں کا نام نہیں ہے، بلکہ وہ ایک وسیع تر حالت خیر کا نام ہے، جس کا اطلاق دنیا اور آخرت میں پائیدار و مستقل کامیابی و آسودگی پر ہوتا ہے۔ یہ چیز ایمان اور عمل صالح کے بغیر نصیب نہیں ہوتی۔ اس کلیے کو نہ تو گمراہوں کی وقتی خوشحالیاں اور کامیابیاں توڑتی ہیں، نہ مؤمنین و صالحین کے عارضی مصائب کو اس کی نقیض ٹھہرایا جاسکتا ہے۔

حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:

عن سفیان بن عبداللّٰہ الثقفی قال قلت یا رسول اللّٰہ ﷺ قل لی فی الاسلام قولاً لا اسئل عنہ احداً بعدک؟ قال قل امنت باللّٰہ ثم استقم۔ (مسلم کتاب الایمان)

’’حضرت سفیان بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! مجھے اسلام کے سلسلے میں ایک ایسی بات کی تلقین فرمائیے کہ میں آپ کے بعد کسی سے کچھ پوچھنے کی ضرورت محسوس نہ کروں؟ آپؐ نے فرمایا: کہو، میں اللہ پر ایمان لایا پھر (مضبوطی کے ساتھ اپنے اس پر) جم جاؤ۔‘‘ یعنی یہ تسلیم کرو کہ اللہ ہی تنہا اس کائنات کا مالک، معبود اور ہمہ مقتدر ہے اور میں اس کے احکامات کی پیروی کروں گا اور مرتے دم تک نظریۂ توحید سے انحراف نہ کروں گا اور صرف اس کی اطاعت میں سرگرم عمل رہوں گا۔ ایمان کامل کی علامت بیان کرتے ہوئے آپؐ نے فرمایا:

عن رسول اللّٰہ انہ قال: من احب للّٰہ وابغض للّٰہ واعطی للّٰہ ومنع للّٰہ فقد استکمل الایمان۔ (ابوداؤد عن ابی امامہ، کتاب السنۃ)

’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس شخص کے کامل ایمان ہونے میں کوئی شبہ نہیں، جس کی دوستی اور دشمنی اللہ کے لیے ہو اور جو مال خرچ کرنے اور نہ کرنے میں اللہ کی رضا کو ملحوظ رکھتا ہو۔‘‘

گویا اللہ کی رضا کا حصول مؤمن کا نصب العین ہوتا ہے۔ وہ صرف اللہ کی خوشنودی کے لیے، کسی سے جڑتا ہے اور کسی سے کٹتا ہے۔ ایک حدیث میں ایمان کو صبر اور سماحت سے موسوم کیا گیا ہے اور حلاوت ایمان کے حصول کے ضمن میں فرمایا:

قال رسول اللّٰہ ﷺ ذاق طعم الایمان من رضی باللّٰہ ربا و بالاسلام دیناً و بمحمد رسولا۔ (بخاری و مسلم عن ابن عباس)

فرمایا:’’ایمان کا مزہ چکھا اس شخص نے جو اللہ تعالیٰ کو اپنا رب بناکر اسلام کو اپنا دین مان کر اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا رسول تسلیم کرنے پر راضی ہوگیا۔‘‘

گویا ایمان کی مٹھاس سے وہی شخص لطف اندوز ہوگا، جس نے اللہ کی بندگی اختیار کرلی اور اپنے آپ کو نبی کریم ﷺ کی رہنمائی میں دے دیا اور یہ عزم کرلیا کہ اسے ہر حال میں انھی نقوش راہ کو سنگ میل بنانا ہے، جو اس کے لیے اس کے مالک نے متعین کیے ہیں۔

شیئر کیجیے
Default image
نوشین ناز

تبصرہ کیجیے