اے انسان تیری حقیقت؟؟؟

ایک انسان کی اپنی حقیقت کیا ہے؟یہ انسانی زندگی کا سب سے بڑا اور اہم سوال ہے۔ اگر انسان اپنے وجود کے بارے میں سوچے اور اپنے وجود کی حقیقت جان لے تو وہ کامیاب ہوجائے گا۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ بار بار اپنے بندوں کو اس طرف متوجہ کرتا ہے کہ وہ اپنی حقیقت کو جان لیں۔ ایسا اس وجہ سے ہے کہ انسان کی تخلیق سے لے کر زندگی کے آخری ایام بلکہ اس کے بعد بھی انسان کے لیے بے شمار نشانیاں ہیں، جن میں اگر وہ غوروفکر کرے تو اپنے خالق کو پہچان سکتا ہے اور اس کے آگے اپنا سرجھکاسکتا ہے۔قرآن میں اللہ تعالیٰ یوں فرماتا ہے:

ترجمہ: ’’کیا انسان دیکھتا نہیں ہے کہ ہم نے اسے نطفہ سے پیدا کیا اور پھر وہ جھگڑالو بن گیا۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے انسان کو سوچنے سمجھنے کی قوت اور عقل عطا کی اور بے شمار ایسی صلاحیتیں دیں جن کے نہ ہونے کی صورت میں انسانی زندگی معطل ہوجاتی ہے اور اس میں ایک ناقابلِ تلافی کمی ہوجاتی ہے۔ آپ تصور کیجیے کہ ایک اچھا بھلا صحت مند انسان ہو مگر آنکھوں سے دیکھ نہ سکتا ہو تو اس کے لیے زندگی کے کیا معنی رہ جاتے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ انسان کو قوتِ گویائی، بصارت، سماعت کے علاوہ بھی بے شمار صلاحیتیں عطا فرمائیں ہیں اور اس کے جسم کو بھی حسین بنایا ہے۔

ذرا غور کیجیے، اللہ تعالیٰ نے انسان کے سر پر بال بنائے ہیں، یہ بال اگر ہم چھلوادیتے ہیں تو اس سے ہماری صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا، لیکن جب یہی بال خود بہ خود جھڑنے لگتے ہیں تو ہم پریشان ہوجاتے ہیں اور علاج و معالجہ کراتے ہیں۔ اسی حقیقت کی طرف اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں متوجہ کیا ہے:

’’ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا۔‘‘

اللہ تعالی کی ان نشانیوں کے باوجود انسان نے نہ اپنے مقصدِ زندگی کو جانا او رنہ ہی اپنے وجود اور مقصدِ وجود کو۔ حالانکہ تعلیم و ترقی کے اس دور میں وہ دنیا کی کئی بڑی بڑی ڈگریاں حاصل کیے ہوئے ہیں۔ اناٹومی، فیزیالوجی، سائیکالوجی، وغیرہ وغیرہ نہ جانے کتنے علوم کا علم حاصل کرلیا، مگر اس کا علم اسے اللہ تعالیٰ تک پہنچانے میں ناکام رہا اور اللہ کی بے شمار نشانیوں کے ادراک کے باوجود وہ اللہ کے وجود تک رسائی حاصل نہ کرسکا۔ کاش کہ آج کا انسان اس پر غور کرتا کہ انسان کا دل دورانِ خون کے نظام میں خود کس طرح پمپ کرتا ہے۔ نہ اس مشین میں آئل کی ضرورت ہوتی ہے نہ بٹن کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور یہ مشین ہمارے دخل کے بغیر کام کررہی ہے اور اس کا لمحے بھر کے لیے رک جانا انسانی زندگی کو روک دیتا ہے۔

اے انسان! کیا تو نے کبھی اپنے ناخنوں کو دیکھا وہ کسی بھی تکلیف کے بغیر بڑھتے ہیں۔ اے انسان! جس کوک سے تو نے جنم لیا ہے، اس کے متعلق سوچا ہے کہ ماں کے پیٹ کی چھوٹی سی فیکٹری میں کس طرح تو تیار ہوتا ہے۔ اس کا علم تو خود ماں کو بھی نہیں ہوتا۔ اور تو اور اسی کوک سے جنم لینے والے دو بھائی کی صورت، سیرت، آواز تک الگ الگ ہوتی ہے۔ لیکن تو نے اس حقیقت پر کبھی غور کیاہی نہیں۔

اے انسان! تو اپنی حقیقت کو جان لے، کیونکہ تیرے پاس اب وقت نہیں ہے۔ موت ہر پل آنے کو تیار ہے۔ اس دنیا کا کونسا وقت،کونسا دن، تیرے لیے آخری ہوگا پتہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے تو غفلت کے پردوں کو چاک کرکے روشنی کی کرنوں میں داخل ہوجا۔ اپنی زندگی کو مالک الملک کے قانون کے مطابق ڈھال لے۔

شیئر کیجیے
Default image
ہادیہ نوشین، کاغذ نگر