تین طلاقوں کا ظلم کب ختم ہوگا؟

ظلم کے مختلف طریقے انسانی سماج میں ہمیشہ سے رائج رہے ہیں، ظلم کی شکلیں مختلف ہوتی ہیں، اور سماج میں در آنے کے راستے مختلف ہوتے ہیں، لڑکی کو زندہ درگور کردینے کا رواج غیرت کے جھوٹے تصور اور غربت کے بے بنیاد اندیشہ سے عام ہوا تھا۔ انسانوں کو غلام بنانے کا رواج طاقت اور دولت کے نشے نے عام کیا تھا۔ ایک ہی بار میں تین طلاق دینا بھی ظلم کی ایک شکل ہے ، اور اس کے رواج میں عوام کی ناسمجھی اور علماء دین کی کوتاہیوں کا بڑا دخل رہاہے۔

ایک ہی بار میں تین طلاقوں کا رواج اسی طرح ظالمانہ ہے، جس طرح کسی زمانے میں انسانوں کو غلام بنالینے اور بیوی کو شوہر کی چتا پر زندہ جلادینے کا رواج ظالمانہ تھا۔بلکہ اس ظلم کا نشانہ تونہ صرف بیوی بنتی ہے ،معصوم بچے بنتے ہیں بلکہ اکثر خود طلاق دینے والا مرد بھی بنتا ہے۔دور حاضر میں جہاں ظلم کی مختلف نئی شکلیں رائج ہوئیں وہیں ظلم کی پرانی شکلیں مٹانے کی انسانوں نے سنجیدہ کوششیں کیں۔ افسوس کہ ان کوششوں میں مسلمان امام کے بجائے مقتدی بنا۔ چنانچہ غلامی کے خاتمہ کا اعلان ہوا، ستی کی رسم کو غیر قانونی جرم قرار دیا گیا، تاہم تین طلاقوں کے رواج کو ختم کرنے کی ابھی تک کوئی سنجیدہ اور بھرپور کوشش کسی طرف سے نہیں ہوئی۔

اندیشہ ہے کہ اگر مسلمانوں کی طرف سے خود اس ظلم کے سد باب کی کوشش نہیں ہوئی اور دوسرے انسانوں نے اس ضرورت کو محسوس کرکے مسلمانوں کے اوپر کوئی فیصلہ مسلط کرنے کی کوشش کی تو وہ اس امت کی بدترین خواری کا وقت ہوگا جس امت کا رسول ہر طرح کے ظلم کے خاتمہ کے لئے آیا تھا۔

معاشرہ میں بار بار پیش آنے والے طلاق کے واقعات اور "نکاح” جیسی فلموں میں دل سوزمناظر دیکھنے والا سادہ دل مسلمان پریشان اور بے چین ہوجاتا ہے کہ یہ تین طلاقوں والا ظلم جو مرد عورت پر روا رکھتا ہے ، اللہ کی شریعت میں کیسے جائز ہوسکتا ہے۔اللہ تو رحمان اور رحیم ہے۔

واقعہ یہ ہے پوری دنیا میں اور خاص طور سے ہندوستان میں اسلام کو بدنام کرنے میں تین طلاقوں کا بہت بڑا کردار رہا ہے۔ مسلمانوں کی باہمی فرقہ آرائی کو بھی تین طلاقوں سے خوب غذا ملی ہے۔ یوٹیوب پر دیکھ لیجئے تو تین طلاقوں پر علمائکرام کی ایک دوسرے کے خلاف بے شمار تقریریں ہیں۔ کتب خانے اور رسائل وجرائد بھی تین طلاقوں کی طویل بحثوں سے بوجھل ہوچکے ہیں۔ نہ تو علماء میں یہ بحث دم لے رہی ہے کہ تین طلاق ایک ہوں گی یا تین ، اور نہ عوام میں تین طلاقوں کا سلسلہ رک رہا ہے۔

ہوا یہ کہ علمائے دین نے تین طلاقوں کے مسئلہ پر اتنی بحثیں کیں کہ عوام کے ذہن ودماغ میں تین طلاقیں ہی بیٹھ گئیں، انجام کار یہ کہ "نکاح” فلم ہو یا ہندوستان کا عام مسلم سماج، جب بھی زبان طلاق کے لئے حرکت میں آتی ہے، تو تین طلاقیں ہی نکلتی ہیں۔طرہ یہ کہ ہمارے وکلاء بھی جب طلاق نامہ تحریر کرتے ہیں تو تین طلاق ہی لکھ کر اس پر دستخط لیتے ہیں۔علماء کے بارے میں تو نہیں کہہ سکتا لیکن بہت سارے مولویوں کا بھی یہی سمجھنا ہے اور یہی وہ سمجھاتے بھی ہیں کہ اگر طلاق مکمل طور پر دینا ہے تو تین کی گنتی تو پوری کرنی ہی پڑے گی۔

اہل حدیث حضرات نے اس ظلم کے تدارک کے لئے یہ طریقہ تجویز کیا کہ ایک بار کی تین طلاقوں کو ایک ہی مان لیا جائے، اس طریقہ کی خامی یہ ہے کہ یہ ان باقی لوگوں کو مطمئن نہیں کرسکاجن کا مسلک یہ ہے کہ تین طلاقیں تین ہی ہوتی ہیں۔ خاص طور سے جبکہ یہ فقہ کے چاروں اماموں کا مسلک رہا ہے۔

مجھے یقین ہے کہ علماء کتنی ہی بحثیں کرڈالیں، اور کتنی ہی دلیلیں جمع کرڈالیں، یہ بحث ختم نہیں ہوسکتی کہ تین طلاقیں ایک مانی جائیں یا تین مانی جائیں کیونکہ اس اختلاف کی جڑیں اتنی گہری اور اس قدر مضبوط ہیں کہ وہ انسانوں کے بس سے باہر ہیں۔ پھر معاملہ چونکہ طلاق کا ہے اس لئے تین طلاقوں کو ایک طلاق مان لینے کے بعد بھی یہ شبہ دل میں مستقل طور پر رہ سکتا ہے کہ کہیں تین طلاقیں تین ہی تو نہیں ہوتی ہیں، اور یہ کہ تین کو ایک مان لینے کے بعد میری ازدواجی زندگی حلال گذر رہی ہے یا حرام۔

میں طویل غوروفکر اور بحثوں کی لمبی سماعت کے بعد اس نتیجہ پر پہونچا ہوں کہ صورتحال کی اصلاح کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ یہ کہ صورتحال جس وجہ سے بگڑی ہے اس وجہ کو دور کردیا جائے۔

لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ شافی وکافی طلاق جس سے طلاق دینے کا مقصد حاصل ہوجائے وہ تین طلاقیں ہیں۔ ہمیں لوگوں کو یہ بتاناہوگا کہ مکمل طلاق جس سے طلاق دینے کا مقصد حاصل ہوجائے وہ صرف ایک طلاق ہے۔ایک طلاق تہائی طلاق نہیں بلکہ مکمل طلاق ہوتی ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہر موقف کے علماء اخلاص کے ساتھ عوام کو یہ بتانیکی مہم چلادیں کہ ایک مسلمان کامسلک تین طلاق دینا ہے ہی نہیں، مسلمان تو جب بھی ضرورت ہو ایک ہی طلاق دیتا ہے، اور اگر ان کو ایک طلاق کے فائدوں اور برکتوں سے واقف کرائیں تو تین طلاقوں والا ظالمانہ رواج بھی ختم ہوجائے اور ساتھ ہی تین طلاقوں والی بحث بھی از خود ختم ہوجائے۔

یہ بات درست نہیں ہے کہ لوگ صرف غصہ میں تین طلاقیں دیتے ہیں، یہ بھی صحیح نہیں ہے کہ صرف جاہل اور ان پڑھ تین طلاق دیتے ہیں۔ میرا مشاہدہ ہے کہ لوگ عام طور سے ہر حال میں تین طلاقیں دینے لگے ہیں۔ کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ تین ہی طلاق دی جاتی ہے بیوی سے جدا ہونے کے لئے۔ میں نے بہت سارے نوجوانوں سے گفتگو کرتے ہوئے جب انہیں ایک طلاق کے بارے میں بتایا تو وہ حیران ہوگئے، انہیں معلوم ہی نہیں تھا، کہ شریعت میں جو طریقہ بتایا گیا ہے وہ ایک بار میں ایک طلاق دینے کا ہے، اور اس ایک طلاق سے شوہر اور بیوی کی مطلوبہ علیحدگی ہوسکتی ہے۔

بات سادہ سی ہے، زید اور اس کی بیوی کے تعلقات بے حد کشیدہ ہوچکے ہیں، وہ اسے ایک طلاق دیتا ہے۔ عدت کے دوران زید اپنے فیصلہ پر نادم ہوتا ہے تو رجوع کرلیتا ہے، نادم نہیں ہوکر رجوع نہیں کرتا ہے تو وہ عدت پوری ہونے کے بعد اس کا گھر چھوڑ دیتی ہے۔اس کے بعد اس کی شادی کہیں اور ہوجاتی ہے ، تو وہ اپنے نئے شوہر کے ساتھ رہنے لگتی ہے۔ اور اگر اس کی شادی کہیں اور نہیں ہوتی ہے، اور وہ دونوں دوبارہ میاں بیوی بن کر رہنا چاہتے ہیں تو دونوں کے لئے گنجائش ہے کہ نکاح کرکے اپنی ازدواجی زندگی بحال کرلیں۔ طلاق کی کہانی صرف اتنی ہی ہے اور وہ صرف دوبار دوہرائی جاسکتی ہے، تیسری بار کہانی کا اختتام حتمی جدائی پر ہوجاتا ہے۔

اس پر بعض نوجوان حیران ہوکر کہتے ہیں، کیا تین طلاق کے بغیر وہ لڑکی کسی اور سے شادی کرسکتی ہے؟ کیونکہ ان کے ذہن میں یہ ہوتا ہے کہ ایک طلاق تو پوری طلاق ہوتی نہیں ہے کہ وہ لڑکی کسی اور سے شادی کرسکے۔جب انہیں یہ بتایا جاتا ہے کہ ایک طلاق بیوی سے مکمل طور سے الگ ہونے کے لئے کافی ہے تو وہ مزید حیرا ن ہوتے ہیں کہ اگر ایسا ہے تو پھر تین طلاق کا سبق اتنے زور وشور سے کیوں پڑھایا جاتا ہے۔

طلاق جیسے انسانیت دوست خدائی انتظام کو تین طلاقوں کے تصور نے اس قدر خراب کرڈالا کہ اپنوں کو آپس میں لڑنے کا موقعہ ملا اور وہ خوب خوب لڑے، مخالفوں کو اسلام کی ہنسی اڑانے کا موقعہ اور انہوں نے بہت ہنسی اڑائی۔

دراصل ایک بار میں ایک طلاق دینا ہی وہ صحیح طریقہ تھا جس پر مسلمانوں کو بوقت ضرورت عمل کرنا چاہئے تھا۔ یہ طریقہ معاشرہ کے لئے بے حد زندگی بخش اور فرد کے لئے حد درجہ اطمینان بخش تھا۔ سارے علماء کو مل کر اس طریقہ کی صحیح تشریح وتفہیم پر توجہ دینا چاہئے تھی۔ لیکن ہوایہ کہ کسی نے تین طلاق دینے کی حماقت کی، اسے حماقت اس لئے کہنا پڑتا ہے کہ تین طلاقوں سے اسے جتنی تشفی چاہئے تھی وہ اپنا نقصان کئے بغیر ایک طلاق سے بھی حاصل کرسکتا تھا۔ اس حماقت کا اس کو احساس ہوا یا نہیں ہوا، لیکن علماء کے درمیان تین طلاق کے اوپر فضول بحثیں چھڑ گئیں۔ اور اتنی زور وشور سے چھڑیں کہ عوام کے ذہن میں ایک طلاق کی جگہ تین طلاق کا تصور بیٹھ گیا۔ان بحثوں کو فضول کہنے کی وجہ یہ ہے کہ چند مخصوص دلائل سے آگے بات نہیں بڑھی اور انہیں کو لے کر دھینگا مشتی اور باہم طعن وتشنیع میں لوگ لگے رہے۔

عیسائیوں کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ربانیت اور خدا ترسی کا درس دیا تھا، انہوں نے غلو کا راستہ اختیار کیا اور رہبانیت کے عذاب میں مبتلا ہوگئے۔ مسلمانوں کو اللہ کی طرف سے ایک طلاق کا طریقہ رحمت اور نعمت کے طور پر عطا کیا گیا تھا۔ مسلمانوں نے طلاق کو تین سے ضرب دے کر خود کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم اور ایک ذلت بھرے عذاب میں گرفتار کرلیا۔

مجھے کامل یقین ہے کہ آج ملت کا دانشور اور سمجھدار طبقہ متحد ہوکر اور ایک زبردست مہم چلاکر تین طلاقوں کا مزاج اور رواج ختم کرنے اور ایک طلاق کے تصور کی تفہیم کرنے میں کامیاب ہوجائے تو شریعت کا احترام نہ صرف مسلمانوں بلکہ غیر مسلموں کے دلوں میں بھی جگہ بناسکتا ہے۔

میں نے ایک طلاق کے قرآنی انتظام پر جس قدر غور کیا، اللہ کی رحمت کو اتنا زیادہ قریب محسوس کیا۔اور تین طلاقوں والی طلاق کے نتائج پر جس قدر سوچا اسے محض ایک بدعت نہیں بلکہ ایک بدترین بدعت اور زہر ناک سماجی لعنت پایا۔

شیئر کیجیے
Default image
محی الدین غازی