اہلِ ایمان کے باہمی تعلقات (گزشتہ سے پیوستہ)

پانچواں عہد

اسلامی اخوت کا پانچواں فریضہ یہ ہے کہ اپنے بھائی کی غلطیوں کو نظر انداز کریں۔ اگر اس کی غلطی دینی معاملہ ہے تو آپ اس کو پوری ہمدردی سے تنہائی میں سمجھائیں۔ اگر وہ اصلاح نہیں کرتا تو دو صورتیں ہیں یا تو آپ قطع تعلق کرلیں، یا آپ تعلقات قائم رکھیں۔ حضرت ابوذرؓ کی رائے ہے کہ آپ قطع تعلق کرلیں، جو اس اصول پر ہے الحب للہ والبغض للہ یعنی اللہ کی خاطر محبت کرنا اور اللہ کی خاطر دشمنی کرنا۔ لیکن حضرت ابودرداءؓ کی رائے یہ ہے کہ قطع تعلق نہ کریں۔ اس طرح سمجھانے بجھانے کا راستہ بند ہوجائے گا اورممکن ہے وہ راہِ راست پر واپس آجائے۔

دو بھائیوں کا قصہ ہے، ایک نے دوسرے کو بتایا وہ کسی خواہش میں مبتلا ہوگیا ہے، لہٰذا دوسرا بھائی چاہے تو اخوت کا عقد ختم کردے اس کے بھائی نے جواب دیا میں تمہاری ایک غلطی پر ایسا نہیں کرسکتا۔ پھر اس نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اس کا بھائی بری عادت سے نجات پالے۔ چالیس دن بعد دوسرے بھائی نے بتایا کہ اس نے اس خواہش سے نجات پالی ہے۔

چھٹا عہد

اسلامی اخوت کا چھٹا تقاضا یہ ہے کہ آپ اپنے بھائی کے لیے دعا گو رہیں۔ اس کے فوت ہونے پر اس کی مغفرت کی دعا کریں۔ اپنے بھائی کی بھلائی کے لیے ایسی دعا مانگیں جیسی آپ اپنے لیے مانگتے ہیں۔ حدیث میں آتا ہے جب آپ اپنے بھائی کے لیے خیر کی دعا مانگتے ہیں تو فرشتے جواب میں کہتے ہیں، آپ کو بھی ایسی چیز ملے۔ روایت میں ہے کہ ممکن ہے آپ کی اپنے لیے مانگی ہوئی دعا مستجاب نہ ہو لیکن آپ کے بھائی کے لیے مانگی ہوئی دعا ضرور قبول ہوگی۔ خاص طور پر جب ایک بھائی تنہائی میں اپنے بھائی کی بھلائی اور بہتری کے لیے دعا کرتا ہے۔

ابو دردہؓ کہتے ہیں: میں اپنے ستر بھائیوں کے نام لے کر ان کی بہتری کی دعا مانگتا ہوں۔ محمد ابن یوسف الاصفہانی کہتے ہیں، اس جیسا نیک بھائی کون ہوگا، جو رات کی تاریکی میں اپنے بھائی کی بہتری کے لیے دعا مانگتا ہے۔ روایت میں ہے کہ جب انسان مرتا ہے تو لوگ پوچھتے ہیں اس نے پیچھے کیا چھوڑا ہے۔ جب کہ فرشتے پوچھتے ہیں کہ وہ آخرت کے لیے کیا لایا ہے۔ فرشتے اس کے سرمایہ آخرت پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ فوت شدہ شخص ایک تباہ حال جہاز کی مانند ہے، جسے ہر قسم کی امداد کی ضرورت ہے۔ وہ اپنے لواحقین کی دعاؤں کا منتظر رہتا ہے۔ یہ دعائیں فرشتے تھال میں سجا کر پیش کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ یہ آپ کے فلاں رشتہ دار کی طرف سے ہے۔ اس پر وہ شخص خوشی کا اظہار کرتا ہے۔

ساتواں عہد

ساتواں فریضہ ہے، اخلاص اور وفاداری۔ وفاداری سے مراد بھائی چارے میں ثابت قدم رہنا ہے۔ نہ صرف اس کی زندگی میں بلکہ مرنے کے بعد اس کی فیملی سے بھی حسن سلوک سے پیش آنا۔ اخوت تو ہے ہی صرف آخرت کے نقطہ نظر سے، موت سے یہ تعلق ختم نہیں ہوتا۔ آپ نے فرمایا جن سات لوگوں کو اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اپنے سایہ عاطفت میں رکھے گا، ان میں سے دو وہ بھائی ہوں گے جن کا تعلق صرف اللہ کی رضا اور خوش نودی کے لیے تھا۔ مرنے کے بعد کی چھوٹی سی وفاداری زندگی کی طویل وفاداری سے بہتر ہے۔

حدیث میں مروی ہے کہ ایک دفعہ ایک خاتون حضور اکرمﷺسے ملنے آئی آپؐ نے بڑے تپاک سے اسے خوش آمدید کہا۔ جب اس کی وجہ پوچھی گئی تو آپؐ نے فرمایا: ’’یہ خاتون خدیجہؓ کی زندگی میں ہمارے گھر آتی تھی۔‘‘

دوستی کو نبھانا دین کا حصہ ہے۔ اسلامی اخوت کا تقاضا ہے کہ انسان اپنے بھائی کے تمام رشتہ داروں سے بھی حسن سلوک سے پیش آئے۔ یہ اخلاص حقیقی بھائی چارے کی روح ہے۔ شیطان کو سب سے زیادہ خوشی دو بھائیوں میں تفرقہ اور نفاق کو دیکھ کر ہوتی ہے۔ ابن مبارک فرماتے ہیں دنیا میں عزیز ترین متاع میرے بھائی کی محبت اور ہم نشینی ہے۔ اللہ کی خاطر محبت کرنا ایک انتہائی پائیدار رشتہ ہے۔ جب کہ دیگر بنیادوں پر قائم کیے گئے تعلقات عارضی اور ناپائیدار ہوتے ہیں۔ اللہ کی رضا کی خاطر قائم کیے گئے رشتے میں رشک اور حسد نہیں آسکتا۔ کیوںکہ ’’وہ بھائیوں کو اپنی ذات پر بھی ترجیح دیتے ہیں۔‘‘ (قرآن:9/59)

وفاداری کا تقاضا یہ بھی ہے کہ اگر ایک شخص دنیوی لحاظ سے زیادہ بہتر پوزیشن میں آجاتا ہے تو وہ اپنے بھائی کو نہیں بھلاتا بلکہ پہلی نظروں سے دیکھتا ہے۔ مروی ہے کہ امام شافعیؒ نے ایک شخص کو بغداد میں اپنا بھائی قرار دیا۔ جب وہ گورنر بن گیا تو اس کے رویے میں تبدیلی آگئی۔ امام شافعیؒ نے اس کو لکھا: میرے دل میں آپ کا احترام ختم ہوچلا ہے۔ اگر آپ نے پہلی والی روش اختیار کی تو میرے دل میں آپ کی عزت بحال ہوجائے گی، ورنہ اس کو طلاق رجعی سمجھیں۔ اگر آپ کا رویہ نہ بدلا تو پھر اس کو طلاق مغلّظہ سمجھیں۔ آپ کو گورنری مبارک ہو۔

باہمی اخوت کا عقد ایک نازک مسئلہ ہے۔ اس کی حفاظت کرنی پڑتی ہے، صبر و تحمل، عفو و درگزر کے ساتھ، اپنی اچھائیوں کا ذکر نہیں کیا جاتا اور دوسروں کی خامیوںکی پردہ پوشی کی جاتی ہے۔ کسی نے کہا میرے ساتھ دوستی کی تین شرائط ہیں۔ میرے بارے میں افواہوں پر کان نہ دھریں، کسی معاملے میں میری مخالفت نہ کریں، اور مجھے اشتعال نہ دلائیں۔

وفاداری کا تقاضا یہ بھی ہے کہ آپ اپنے بھائی کے دشمنوں سے تعلق نہ رکھیں۔ امام شافعیؒ نے کہا: اگر تمہارا دوست، تمہارے دشمن کے ساتھ تعلق رکھتا ہے تو سمجھو وہ بھی تمہارا دشمن ہے۔

آٹھواں عہد

آٹھواں فریضہ اپنے بھائی کی مصیبت و پریشانی میں اس کی مدد کرنا ہے۔ اور کبھی بھی اپنے بھائی سے غیر ضروری فرمائش نہ کریں، جسے پورا کرنے سے وہ قاصر ہو۔ اگر دو بھائیوں کے تعلق میں کوئی کمی ہو تو سمجھیں ان میں سے کسی ایک کا کوئی قصور ہے۔ حضرت عائشہؓ نے فرمایا: ایک مومن دوسرے مومن کا بھائی ہے، نہ اس سے زیادتی کرتا ہے نہ اسے پریشان کرتا ہے۔ کسی نے پوچھا: ہم کس کو اپنا بھائی بنائیں، جواب ملا، وہ جو آپ کے خراب حالات میں آپ کی مدد کرے اور حوصلہ دے۔ جعفر ابن محمد الصادق کا قول ہے: میرے دل پر ہر وہ شخص گراں گزرتا ہے جس کے ساتھ مجھے تکلف برتنا پڑے۔ بے تکلف دوست میرے لیے باعث راحت ہوتا ہے۔

آپ کسی دینی بھائی کا ہاتھ پکڑیں تو تمام اچھی باتوں پر خود عمل کریں، بجائے اس کے کہ آپ اس سے تمام باتوں کی توقع کریں۔ ایک آدمی نے الجنید سے کہا۔ آج کل اچھا بھائی ملنا بہت مشکل ہے، میں کہاں تلاش کروں۔ جنید نے جواب دیا۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ کوئی بھائی تمہاری مدد کرے اور تمہارا بوجھ اٹھائے تو بلاشبہ ایسا بھائی ملنا یقینا بہت مشکل ہے، لیکن اگر آپ دوسروں کی مدد کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو بہت مل جائیں گے۔

کسی نے کہا میںنے طویل عرصہ تک دوستی نبھائی ہے اور اس میں کبھی کوئی دراڑ نہیں پڑی۔ اس لیے کہ میں اس کے ساتھ ایسے رہتا تھا جیسے میں اکیلا رہ رہا ہوں۔ بلا تکلف دوستی زیادہ پائیدار ہوتی ہے۔ جیسے ایک بھائی دوسرے کے گھر بلا تکلف کھانا کھائے، نماز پڑھ سکے، سو سکے، اپنی فیملی کے ہمراہ وہاں قیام کرسکے۔ ان شرائط پر پورا اترنے والے حقیقی بھائی ہوتے ہیں۔

ایک بزرگ کا قول ہے: میں اپنے تمام بھائیوں کو اپنے سے بہتر سمجھتا ہوں۔ جو مجھے بہتر سمجھتا ہے۔ در حقیقت وہ مجھ سے بہتر ہے۔ اس میں کوئی خیر نہیں جو اپنے کو دوسروں سے بہتر سمجھتا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: اپنے بھائی کو حقیر سمجھنا ایمان کے منافی ہے۔ بھائی چارہ کا تقاضا یہ بھی ہے کہ کوئی بات بھائی سے چھپائی نہ جائے۔ بھائی کو جب دیکھیں تو پیار بھری نظروں سے دیکھیں۔ نبی کریمﷺ اپنی مجلس میں تمام حاضرین کو ایک جیسی نظروں سے دیکھتے تھے، اور برابر کی توجہ دیتے تھے۔ آپ مجلس میںتبسم فرماتے، صحابہؓ سے بے تکلفی محسوس کرتے تھے۔

اپنے بھائی کی بات توجہ سے سنیں اور دوران گفتگو نہ ٹوکیں، نہ بولیں۔ معذرت کرنی ہو تو خوشی سے معذرت کرلیں، اس میں بخل سے کام نہ لیں۔ اس طرح زبان کے استعمال میں اونچی آواز سے بات نہ کریں۔ ایسی عالمانہ گفتگو نہ کریں جو اس کی سمجھ سے بالا تر ہو۔ اپنے ہاتھوں سے اس کے کام میں تعاون کریں۔ ساتھ چلتے وقت اس کے آگے نہ چلیں۔ مجلس میں جہاںبیٹھنا ہو انکساری سے بیٹھ جائیں۔

اگر کسی حکمران سے ملاقات ہو تو اپنے آپ کو نیزے کی نوک پر سمجھو۔ اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ وہ کل آپ کے خلاف نہ ہوجائے۔ اس کے ساتھ ایسی گفتگو کرو جیسے کسی بچے سے کی جاتی ہے۔ کوئی گناہ والی بات نہ کریں۔ اس کے ساتھ زیادہ فری ہونے کی کوشش نہ کریں۔ اس کے ساتھ بیوی بچوں سے ملنے سے احتراز کریں۔ ایسے دوست سے بہت دور رہو جو ہوا کے رخ پر چلتا ہے اور اپنی دولت کو اپنی عزت سے زیادہ تصور نہ کریں۔

کسی مجلس میں جائیں تو سب سے پہلے سلام کریں۔ جو آپ کے پاس بیٹھے ہوں، ان کو بھی سلام کریں۔ ایک دفعہ بیٹھ جائیں تو اپنی نگاہیں نیچی رکھیں۔ مظلوم کی مدد کریں، کمزور سے تعاون کریں۔ نیکی کی تلقین کریں، بدی سے منع کریں۔ آرزوؤں کو کم کریں۔ گفتگو کریں تو مختصرا اور معقول، جلد بازی میں کوئی قدم نہ اٹھائیں جب غصہ دور ہوجائے تو پھر بولیں۔

کسی ہجوم میں شامل نہ ہوں، ہوجائیں تو خاموش رہیں۔ یاوہ گوئی اور گالم گلوچ پر کوئی توجہ نہ دیں، اسے نظر انداز کردیں۔ کم گفتگو کریں جو ناگزیر ہو۔ اگر کوئی شخص ایسی مجلس میں موجود تھا، جہاں ہنسی مذاق ہو رہا تھا تو وہ اٹھتے وقت اللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگے اور کلمہ شہادت پڑھے۔ (ختم شد)

شیئر کیجیے
Default image
پروفیسر عبد الحق