حجاب کے نام

اہم مسائل

ماہنامہ حجابِ اسلامی خواتین و طالبات کا منفرد رسالہ ہے، جو حقیقت میں دینی مزاج پیدا کرنے اور معاشرتی اصلاح کے ساتھ ساتھ نئی نسل کے اندر دینی اقدار اور دینی شعور کی بیداری کا مشن رکھتا ہے۔ کیونکہ رسالہ ایک بڑے مشن کا حصہ ہے، اس لیے بڑی ذمہ داریوں کا بھی حامل ہے۔

یہ بات اب ہر انسان محسوس کرتا ہے کہ اکیسویں صدی میں ہمارے سماجی اور معاشرتی مسائل اور زیادہ پیچیدہ ہوئے ہیں اور ہوں گے۔ حالات نے ہمارے سامنے کئی سنگین سماجی مسئلے پیدا کردیے ہیں، ان میں سب سے اہم اور بڑا مسئلہ اپنے نونہالوں کی عملی اور فکری حفاظت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے بچے خواہ لڑکے ہوں یا لڑکیاں وہ کہیں بھی محفوظ نہیں اور اس بات کا اندیشہ رہتا ہے کہ وہ مجرمانہ ذہنیت کے افراد کا شکار نہ ہوجائیں۔ ایسے میں ان کو کیسے بتایا جائے کہ وہ ان باتوں کو سمجھ سکیں جن کی آئے دن خبریں آتی رہتی ہیں۔

اس وقت ہمارے معاشرے کے والدین اپنے بچوں کی ذہنی، نفسیاتی اور فکری تربیت پر توجہ نہیں دیتے اور صرف ان کی مادی ضرورتوں کی تکمیل میں دن رات لگے رہتے ہیں۔ حالانکہ اس سے زیادہ اہم ان کی ذہنی، فکری اور نفسیاتی تربیت ہے۔

اس خط کا مقصد یہ ہے کہ والدین کو اس طرف متوجہ کیا جائے اور آپ کو بھی متوجہ کیا جائے کہ معاشرے کی اس ضرورت کو پورا کرتے ہوئے آپ والدین اور نئی نسل کی رہنمائی کریں۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ اب بچوں سے بہت سی باتیں کھل کر کی جانی چاہئیں لیکن یہ اسی وقت ممکن ہوسکے گا جب ہم بچوں سے دوستانہ تعلق بناسکیں گے۔

ش۔ا۔ف

ورنگل (اے پی)

حجاب اور موجودہ معاشرہ

ماہنامہ حجابِ اسلامی کا اکتوبر کا شمارہ سامنے ہے، ’حجاب مقبول ہورہا ہے‘ کے تحت خصوصی گوشہ پسند آیا۔ اس گوشہ میں دیے گئے مضامین اس بات کا احساس دلاتے ہیں کہ موجودہ زمانے میں جو کچھ بھی حجاب کے خلاف کوششیں ہورہی ہیں وہ مخالفین کی امیدوں کے برعکس اس کی مقبولیت کا ذریعہ بن رہی ہیں۔

ایسے میں مسلم خواتین اور نوجوانوں لڑکیوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ حجاب ہمارے لیے کسی شرمندگی یا ہچک کا سبب بننے کے بجائے ہمارے اندر ’بولڈنس‘ پیدا کرے۔ اور جو لوگ اس کے خلاف باتیں کریں انھیں ہم معقول انداز میں سمجھا سکیں۔ موجودہ حالات کے تناظر میں جب کہ دنیا بھر میں خواتین کے خلاف جرائم بڑھ رہے ہیں، حجاب کی ضرورت اور اہمیت خود وہ لوگ محسوس کررہے ہیں جو اسلام کو تو نہیں مانتے مگر خواتین کے خلاف بڑھتے جرائم کو روکنا چاہتے ہیں۔

قاضی ذوالفقار احمد

اجین (ایم پی)

حجاب کی خوبی

اکتوبر کے حجاب اسلامی میں شائع تمام ہی مضامین پسند آئے۔ ’منفی جذبات کو مثبت شکل دیجیے‘ بہت پسند آیا۔ حجابِ اسلامی کی یہ بات مجھے بہت پسند ہے کہ وہ مثبت سوچ کا حامل رسالہ ہے اور تعمیر وترقی اور آگے بڑھنے کا جذبہ فراہم کرتا ہے۔ رسالہ کی یہ خوبی ہے کہ وہ موجودہ بگاڑ کے دور میں اصلاح معاشرہ اور استحکام خاندان کی بات کرتا ہے۔ رسالہ وقت کی ضرورت ہے اور اسے ہر گھر میں پہنچنا چاہیے۔

خوش دل بانو

موتیہاری

(بہار)

رسالہ کا تنوع

نومبر کے حجاب اسلامی کے مضامین اچھے لگے۔ رسالہ میں تنوع تھا اور وسیع موضوعات کا احاطہ کرتاتھا۔ قرآن کی رو سے ترقی کا مفہوم اگرچہ پرانا ہے مگر قارئین کے لیے معلوماتی اور فکری ہے اور اسلام کا نظریہ پیش کرتا ہے۔ اسی طرح حجاب کی سماجی و معاشرتی اہمیت بھی پسند آیا۔ ڈاکٹر محی الدین غازی نے جس موضوع پر لکھا ہے وہ بڑا اہم ہے۔ رشتوں اور گھر کے افراد کے درمیان تعلقات میں توازن، اعتدال اور انصاف پسندانہ رویہ پر اور کچھ لکھنے کی ضرورت ہے۔ میرے خیال میں غازی صاحب کو اس موضوع پر لکھتے رہنا چاہیے۔

عالیہ اقبال

(بذریعہ ای میل)

شیئر کیجیے
Default image
شرکاء