فلسطین میں ظلم و ستم

غزہ پر حملے اور شکست سے جھنجھلائے اسرائیل نے فلسطین میں اپنے ظلم و ستم کا نیا باب کھولتے ہوئے مسجدِ اقصیٰ اور مدینہ القدس کو یہودی راجدھانی بنانے کی نئی کوشش شروع کرتے ہوئے نمازیوں پر تشدد اور وہاں کے باشندگان کو نئے انداز سے پریشان کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ اس دوران نمازیوں کو وہاں آنے سے روکنا اور اسرائیلی پولیس اور فوج کا ان پر تشدد اب اسرائیل کا معمول بن گیا ہے۔ شدت پسند یہودی مملکت نے اپنے منصوبہ کے تحت وہاں نئی یہودی بستیاں بسانے اور مسلمان عربوں کے مکانات پر زبردستی قبضوں کا نیا سلسلہ شروع کردیا ہے، جو عالمِ اسلام کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ لیکن داعش کے خلاف جنگ اور اس کو ختم کرنے کی امریکی کوششوں کے درمیان اس کی خبریں میڈیا میں کم ہی آرہی ہیں۔ یہ سلسلہ صرف القدس کے علاقے ہی میں نہیں بلکہ مغربی کنارے میں بھی جاری ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ۲۱؍نومبر کو یہودی شدت پسندوں نے فوج اور پولیس کی موجودگی میں ایک مسجد کو کھلے عام نذرِ آتش کردیا۔ اور وہاں موجود لوگوں پر تشدد کیا۔ یہ بڑی تشویشناک اور افسوسناک بات ہے، جس پر فلسطینی اتھارٹی اور محمود عباس نے بھی سخت ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔ لیکن عالمِ اسلام کی قیادت خصوصاً عرب حکمرانوں کی جانب سے اس کا کوئی خاص نوٹس نہیں لیا گیا۔ حالاںکہ یہی حکمراںISISکے خلاف متحدہ کوششوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔

غزہ میں گزشتہ دنوں جو کچھ ہوا اور ہوتا رہا اس پر بھی عرب حکمرانوں نے اسرائیل اور امریکہ کی درپردہ حمایت کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ اور غزہ کی تعمیرِ نو کے وعدے اور اس سلسلے میں ہوئی کانفرنس میں جمع مالی وسائل ہنوز تباہ شدہ غزہ نہیں پہنچ سکے۔ اس وعدہ کی تکمیل میں جو تساہلی اور غفلت جان بوجھ کر عالمی برادری کررہی ہے، اور جس پر اقوامِ متحدہ نے بھی ناراضگی ظاہر کی ہے، اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وعدہ کرنے والی طاقتیں وہاں تعمیر نو کے عمل میں دلچسپی نہیں رکھتیں اور وہ محض سیاسی خانہ پُری کرنا چاہتی ہیں۔

تباہ حال غزہ اور ظلم و جبر کی چکی میں پستے فلسطینی عوام کی حالت یہ ہے کہ انھیں تعاون اور مدد کی کوئی امید نہ عالمی برادری سے نظر آتی ہے اور نہ ان عرب ممالک سے جنھوں نے غزہ کی تعمیر نو کانفرنس میں اہلِ غزہ کے آنسو پونچھنے کا وعدہ کیا تھا اور اس مہم کی قیادت کرتے نظر آئے تھے۔

پٹرول کی دولت سے سرفراز عرب ممالک اگر چاہتے تو اپنے وعدہ کو بہت اچھی طرح پورا کرکے غزہ کی تعمیر نو کا کام شروع کرسکتے تھے اور عالمِ اسلام میں اپنی اس ساکھ کو دوبارہ بحال کرسکتے تھے، جو اسرائیل کے غزہ پر حملہ کے دوران تعاون کے سبب نقصان سے دوچار ہوئی تھی۔ مگر لگتا ہے کہ انھیں نہ اپنی متاثر ہوتی ساکھ کی کوئی فکر ہے اور نہ فلسطین کی، نہ ہی غزہ کے تباہ حال انسانوں کا کچھ خیال۔ یہ صورتِ حال اگر اسی طرح جاری رہی اور ان کی مظلومیت پر وہ اسی طرح خاموش تماشائی بلکہ معاون ظلم و ستم بنتے رہے تو ان کا وقار اور ان کا اقتدار دونوں اندرونی و بیرونی خطرات سے لاحق ہوسکتے ہیں۔ بعید نہیں کہ تیزی سے سیاسی تبدیلیوں کا شکار ہوتی عرب دنیا کے اصحابِ اقتدار نئے مسائل سے دوچار ہونے لگیں۔

معصوم بچوں کا اسکول میں تحفظ

گزشتہ کچھ مہینوں سے اخبارات میں مسلسل ایسی خبریں آرہی ہیںکہ اسکولوںمیں معصوم بچیوں کے ساتھ شرمناک حرکتیں ہورہی ہیں۔ بنگلور کے اسکول میں بالکل ابتدائی کلاس کی چار پانچ سالہ بچی کے جنسی استحصال کے بعد دہلی میں بھی اسی قسم کے واقعات ہوئے ہیں اور ان واقعات کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ اہلِ وطن کے لیے بڑی تکلیف دہ بات ہے کہ سڑکوں پر خواتین محفوظ نہ رہیں اور اسکولوں میں معصوم بچے اور بچیاں جنسی استحصال کا شکار ہوں۔ حالانکہ اسکول وہ جگہ ہے جہاں بچوں کو صد فیصد محفوظ اور مامون ہونا چاہیے۔ ایسے میں والدین کے لیے کونسان راستہ بچ رہتا ہے کہ وہ اپنے نونہالوں کے سلسلے میں مطمئن رہیں، سمجھ میں نہیں آتا۔ جبکہ یہ ناممکن ہے کہ والدین اپنے بچوں کو اسکول نہ بھیجیں۔ یہ واقعات اگرچہ اکا دکا ہی پیش آتے ہیں، مگر جب پیش آنے لگتے ہیں تو یہ خطرہ بہ ہرحال واقعی ہے کہ نامعلوم کون ، کب اور کہاں ہوس کا شکار ہوجائے۔

اس قسم کے حادثات میں اگرچہ اسکول انتظامیہ کا کوئی رول نہیں ہوتا، مگر اس کے باوجود اس کی ذمہ داری سے انتظامیہ کو بری نہیںکیا جاسکتا۔ اس قسم کے حادثات میں اکثر انتظامیہ اسکول معاملے پر پردہ ڈالنے اور لیپ پو ت کرنے کا رویہ ہی رکھتی ہیں، جو نہیں ہونا چاہیے۔

اس قسم کے واقعات اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ سماج میں مجرمانہ ذہنیت والے افراد نہ صرف سڑکوں پر گھومتے ہیں بلکہ محفوظ سمجھے جانے والے مقامات پر بھی موجود ہیں۔ اور اگر ایسا ہے اور حقیقت میں ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اسکول کے ذمہ داروں کو اور زیادہ ذمہ دار اور جواب دہ ہونا پڑے گا اور بچوں کے تحفظ کے لیے کچھ نئے اقدمات کرنے پڑیں گے۔ ان اقدامات کی نوعیت کیا ہو یہ تو اسکولوں اور تعلیمی اداروں کے ذمہ داران ہی حسبِ حالت سمجھ سکتے ہیں مگر اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے کہ اسکول کی چہاردیواری میں بھی بچوں کے تحفظ کے مضبوط اقدامات ہونے چاہئیں۔

دوسری طرف والدین کی ذمہ داری ایسے حالات میں کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ اس سلسلے میں جو سب سے اہم بات ہے وہ یہ کہ والدین بہت دانشمندی اور سمجھ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے بچوں کے دوست بن جائیں اور بہتر طریقے سے انھیں ممکنہ خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے یہ بتادیں کہ اگر کوئی آپ کے ساتھ ’کچھ ایسا ایسا‘ کرے تو وہ کیا کریں۔ یہ اسی وقت ممکن ہے، جب والدین خصوصاً مائیں اپنے بچوں کی بے تکلف اور محبوب دوست بن گئی ہوں کہ بچے بلا جھجھک ان سے اپنے مسائل کا تذکرہ کرسکیں۔

عمر کا یہ حصہ بڑا نازک ہے۔ اوریہ بڑا مشکل مرحلہ ہے کہ کم عمر بچوں سے کیا بات کی جائے اور کیا بات نہ کی جائے۔ مگر اچھی ماؤں کا یہی کمال ہوگا کہ وہ اس مسئلہ کو کیسے ہینڈل کرتی ہیں اور اخلاقی برائی کے بجائے بہتر انداز میں بچوں کو وہ کچھ سمجھا دیتی ہیں جو انھیں ممکنہ خطرات سے محفوظ رہنے کا طریقہ سکھادے۔

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی