وقت

وقت کا مفید اور موثر استعمال

اس کائنات کا طغرائے امتیاز وہ تبدیلی ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ اس میں وقوع پذیر ہوتی رہتی ہے۔ اس میں ہر قسم کی تبدیلی شامل ہے۔ چاہے اس کی نوعیت طبعی ہو مثلاً ہیئت کی تبدیلی، ارتقائی تبدیلی وغیرہ یا پھر معاشرتی تبدیلی ہویا تاریخی تبدیلی۔ نوعیت، زمان و مکان، رفتار و عوامل اور تبدیلی کے اثرات کے لحاظ سے تو مختلف تبدیلیوں میں فرق کیا جاسکتا ہے مگر ان میں کچھ قدریں مشترک بھی ہوتی ہیں۔

بعض تبدیلیوں کا ہر شخص مشاہدہ کرسکتا ہے (مثلاً ایک بیج کا پہلے پودا بننا پھر تناور درخت میں تبدیل ہو جانا) جب کہ کچھ تبدیلیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کا مشاہدہ کرنا ہر شخص کے بس کی بات نہیں (مثلاً اس کائنات میں بتدریج حرارت کا اضافہ، جو ایک دن اس کی ہلاکت کا سبب بھی بنے گا) اسی طرح بعض تبدیلیاں مطلوب ہوتی ہیں اور بعض غیر مطلوب۔ ہم سب ایک تبدیلی کے خواہاں ہیںاور وہ تبدیلی اس زمین کا مقدر بن چکی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ تبدیلی کن کے ہاتھوں آتی ہے اور کپ آتی ہے۔ اس تبدیلی کو ہم غلبہ حق کا نام دیتے ہیں۔

جب ہم تبدیلی کے مختلف عوامل کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس میں دو اجزا بہت ہی نمایاں نظر آتے ہیں۔

٭ تبدیلی کی نوعیت

٭ تبدیلی کے لیے مدت مطلوب

ان دونوں اجزا کو سمجھنے کے لیے اور ان کے آپس کے ربط کو جاننے کے لیے ایک مثال پیش کی جاتی ہے۔ ایک داعی اپنے کسی ہدف کے متعلق یہ رائے قائم کرتا ہے کہ اس کا ہدف دعوت کے آغاز میں کس مقام پر ہے اور ھر ایک منصوبہ بناتا ہے کہ اسے کن کن منازل سے گزرنا ہے۔ عین ممکن ہے کہ آخر میں منزل تک پہنچانے میں اس داعی کو اپنے ہدف کو نماز سکھانی پڑے، قرآن پڑھانے کا انتظام کرنا پڑے، اس کی خدمت کرنی پڑے، تدریجاً اسے کتابیں پڑھانی پڑیں۔ اس سے بہت ساری ذاتی ملاقاتیں کرنی پڑیں … پھر کہیں جاکر اس کا ہدف مکمل ہوگا۔ ان تمام منازل سے گزارنے کا نام یہاں ’’تبدیلی کی نوعیت‘‘ رکھا گیا ہے ظاہر ہے کہ یہ تبدیلی فی الفور تو آنے سے رہی اس کے لیے یقینا کچھ نہ کچھ مدت درکار ہے۔ جب ’’تبدیلی کی نوعیت‘‘ اور اس کے لیے وقت مطلوب کو پیش نظر رکھ کر غور کیا جائے گا تو پھر وہ عوامل سامنے آئیں گے جن پر عمل کر کے وقت متعین میں وہ نتیجہ حاصل کیا جاسکے گا۔ وقت سے بے نیاز ہوکر کام کرنا دانش مندی نہیں۔ صحیح عمل کی دنیا میں یہ وہ موقع ہوتا ہے جہاں ’’وقت‘‘ ہر عمل سے وابستہ ہوتا ہے۔

وقت کی تعریف

سینٹ اگسٹین (وفات ۶۰۴ یا ۶۰۵ء) نے اپنی کتاب Confession میں لکھا ہے کہ اگر مجھ سے کوئی پوچھے کہ وقت کیا ہے؟ تو میں اس کے سوال کا جواب نہیں دے سکوں گا لیکن کوئی نہ پوچھے تو مجھے معلوم ہے کہ وقت کسے کہتے ہیں اور اس کی تعریف کیا ہونی چاہیے۔ اس سے معلوم ہوا کہ وقت کی تعریف عام فہم انداز میں کچھ آسان نہیں ہے۔ یہاں اس بات کی کوشش کی جائے گی کہ وقت کو مختلف انداز میں سمجھا جائے تاکہ وقت کاصحیح چہرہ سامنے آسکے۔

وقت کو مختلف ادوار میں مختلف انداز سے سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے ان میں سے بعض یہاں پیش کیے جاتے ہیں۔

الف: کسی بھی غیر متحرک چیز کا محل وقوع معلوم کرنے کے لیے تین سمتوں کی ضرورت ہوتی ہے لیکن متحرک چیز کے لیے وہ تین سمتیں ناکافی ہوتی ہیں، اس کے لیے ایک چوتھی سمت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ سمت وقت کی سمت ہوتی ہے اس طرح خلا۔ وقت کے چار سمتی تسلسل میں وقت چوتھی سمت ہوتا ہے۔

(ب) قابل پیمائش چیزوں میں سے وہ چیز جو کسی بھی ایک واقعہ کو دیگر تمام واقعات میں اس کا مقام عطا کرتی ہے اور ترتیب کا تعین کرتی ہے وقت کے نام سے تعبیر کی جاتی ہے۔

(ج) سر آئزک نیوٹن کا کہنا ہے کہ وقت ایک سمندر ہے جس میں کائنات کا جہاز تیر رہا ہے اور حرکت کرتا ہے۔

(د) ماہر عمرانیات کا کہنا ہے کہ وقت ہمارے تجربات اور عوامل کا ایک حصہ ہے۔

وقت کی اہمیت

سورۃ العصر میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے وقت کی قسم کھا کر اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ وقت کی چکی میں ہر چیز نچوڑی جا رہی ہے اور اس عمل کے نتیجہ میں ہلاکت یقینی ہے سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے ایمان لاکر نیک عمل کیا اور حق کی تلقین کی اور صبر کی تلقین کی۔ متذکرہ صفات کے حامل صرف اس لیے بچ جائیں گے کہ وہ وقت کو انمول اور قیمتی جان کر اس کے ایک ایک لمحہ کو استعمال کرتے ہیں۔

وقت در حقیقت ایک محدود سرمایہ ہے جسے روپے کی طرح استعمال کیا جاسکتا ہے، بچایا جاسکتا ہے، ذخیرہ کیا جاسکتا ہے (ایسے عمل کرکے جو آئندہ کام آئیں) اور اسے ضائع بھی کیا جاسکتا ہے۔ وقت کا صحیح تصور قائم کرنے کے لیے وقت کی تاریخ پر ایک اجمالی نظر ڈال لی جائے۔

وقت کی پیمائش کے لیے مختلف وحدتیں (Units) استعمال کی جاتی ہیں ان میں سب سے چھوٹی وحدت ایک سکینڈ ہے، ایک سیکنڈ میں کتنا کام کرنا ممکن ہے جسے ایک ٹیبل کی شکل میں پیش کیا جا رہا ہے۔

ایک سیکنڈ میں ہونے والے کام

۱- ایک مرتبہ لا الہ الا اللہ یا اللہ اکبر یا سبحان اللہ یا الحمد للہ کہا جاسکتا ہے جس کا اجر بہت ہے۔

۲- انسان، ۲۷ء۱۲ میٹر دوڑ سکتا ہے۔

۳- چیتا، ۸۰ء۳۰ میٹر دوڑ سکتا ہے۔

۴- ریل گاڑی ۰۰ء ۵۹ میٹر دوڑ سکتی ہے۔

۵- خاص قسم کی موٹر ۷۸ء ۲۷۸ میٹر دوڑ سکتی ہے۔

۶- کونکورڈ Concord جہاز، ۵۶ء ۴۵۶ میٹر پر واز کرسکتا ہے۔

۷- عام روشنی، ۱۰۸×۳ میٹر کا سفر کر سکتی ہے۔

اس ٹیبل پر ایک نظر اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ ایک سکینڈ بھی بہت قیمتی سرمایہ ہے بشرطیکہ اسے صحیح طور پر استعمال کیا جائے۔ ایک دوسرے پہلو سے اسے یوں بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک عام شخص کی اوسط عمر ۵۹ سال ہے ابتدائی ۲۹ سال ہر قسم کی تعلیم و تربیت کے لیے مختص کر دیے جائیں تو بقیہ زندگی کے ۳۰ سال بچتے ہیں جس کے۹۱۰ سیکنڈ (تقریباً) بنیں گے۔ اسی وقت کو استعمال کر کے انسان کامیاب ہوسکتا ہے یا پھر خسارے کا سودا کرلیتا ہے۔

قرآن و سنت سے ہدایت

اسلام اللہ کا پسندیدہ دین ہے اور قرآن آخری کتابِ ہدایت، اس میں جہاں بعض بعض احکامات بہت ہی واضح انداز میں پیش ہوئے ہیں وہیں بعض باتوں کے لیے اصولی اشارات کردیے گئے ہیں تاکہ ان سے نتیجہ اخذ کر کے عمل کی راہ نکالی جاسکے۔ کچھ یہی کیفیت وقت کے موثر استعمال کے سلسلے میں قرآن حکیم میں پائی جاتی ہے جن میں سے چند کا ترجمہ یہاں پیش کیا جاتا ہے۔

٭ اور جاہلوں سے اعراض کرو (۷:۱۹۹)

٭ یوسف اب اس بات سے صرف نظر کرو (۱۲:۲۹)

اور جو لوگ لاحاصل چیزوں سے منہ موڑ لیتے ہیں (۲۳:۳)

٭ اور جب بے علم لوگ ان سے باتیں کرنے لگتے ہیں تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ سلام ہے۔ (۲۵:۳۶)

٭ اور جو لوگ جھوٹی گواہی نہیں دیتے اور جب کبھی ان کا لغو چیز پر گزر ہوتاہے تو شریف آدمیوں کی طرح گزر جاتے ہیں۔ (۲۵:۷۲)

مندرجہ بالاآیات کا ترجمہ اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ اہل ایمان کی نمایاں صفات میں لاعلم لوگوں کے منہ نہ لگنا، لوگوں کی زیادتیوں کو معاف کر دینا، لا حاصل قول و فعل سے دور رہنا، جھوٹی گواہی نہ دینا اور شریف النفس بن کر رہنا شامل ہیں۔ اور یہ ساری صفات وہ ہیں جو غیر ضروری اور لغو کاموں سے بچاتی ہیں جس سے وقت کی بچت ہوتی ہے۔

اسی طرح حدیث میں بھی ہمیں ہدایات ملتی ہیں صرف نمونہ کے طور پر ایک حدیث کا ترجمہ پیش کیا جاتا ہے۔

روایت ہے ابن مسعودؓ سے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ ابن آدم کے دونوں قدم اس کے رب کے پاس سے نہ ھٹیں گے جب تک اس سے پانچ چیزوں کے متعلق دریافت نہ کرلیا جائے۔ اول اس نے اپنی عمر کہاں صرف کی۔ دوسرے اپنی جوانی کس میں خرچ کی۔ تیسرے اس نے مال کہاں سے کمایا۔ چوتھے کس کام میں لگایا پانچویں کتنا عمل کیا۔ اپنے علم میں سے (ترمذی، باب القیامہ)

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ زندگی کے یہ ایام مہلت عمل کے طور پر ہمیں میسر آئے ہیں۔ ان کے متعلق جواب دینا ہوگا کہ انہیں کس طرح استعمال کیا گیا۔

وقت کی فطری تقسیم

رسولِ اکرمﷺ کی حیات طیبہ سے یہ نمونہ سامنے آتا ہے کہ جب کبھی امن کی صورت میں مدینہ میں ہوتے تھے تو آپ کے روزانہ کے معمولات کی نوعیت کچھ اس طرح ہوتی تھی۔

٭ آپﷺ فجر سے پہلے کا وقت قیام کے لیے استعمال کرتے تھے۔

٭ صلوۃ الفجر کے بعد مصلی پر لوگوں کی طرف رخ کر کے بیٹھتے تھے۔ اس عرصہ میں آپ اپنا خواب (اگر اس رات دیکھا ہو) بیان فرماتے لوگوں کے بیان کردہ خواب کی تعبیر پیش کرتے، سوالات کے جوابات دیتے اور ضرورت کے مطابق تعلیم و تربیت کے لیے کچھ کہتے۔ یہ سلسلہ سورج کے نکلنے تک جاری رہتا۔

٭ دن نکل آنے پر آنے والوں سے ملاقات، تبلیغی وفود بھیجنا، خطوط کے جوابات تحریر کروانا، سرایا کے لیے وفود ارسال کرنا اور کبھی مدینہ کے بازاروں میں جاکر دین کا کام کرنا، آپ کے معمولات میں شامل تھے۔

٭ عصر کی نماز کے بعد بالعموم آپ ازواج مطہرات اور حضرت فاطمہؓ کے گھروں میں تشریف لے جاتے اور ہر ایک کے یہاں تھوڑی دیر قیام کے بعد اس گھر میں تشریف لے آتے جہاں رات گزارنے کا پروگرام ہوتا اسی جگہ تمام ازواج مطہرات بھی آجاتیں۔

٭ یہ سلسلہ عشاء کی نماز سے پہلے تک جاری رہتا۔ بیچ میں مغرب کی نماز کے لیے وقفہ ہوتا، عشا کی نماز کے فوراً بعد آپ سونے کی تیاری کرتے الا دو صورتوں کے۔ زوجہ مطہرہ کی خدمت میں مصروف ہوتے یا پھر کسی مہمان کی خاطرداری اور تواضع فرما رہے ہوتے۔ آپؐ کی زندگی کے معمولات کئی اصولی باتوں کی وضاحت کرتے ہیں، جن میں سے خاص خاص باتیں درج ذیل ہیں:

٭ آپ نے عام حالات میں ہر کام کے لیے وقت کا تعین کیا ہوا تھا۔

٭ کام کی ابتدا صبح سویرے (فجر سے پہلے) کرتے تھے۔ یہ وقت قیام، تعلیم و تربیت اور اہم ہدایات کے لیے مناسب ہے۔

٭ عمومی نوعیت کے کام دن میں انجام دیتے تھے۔

٭ عصر کے بعد کا وقت گھر والوں کے لیے مختص کر رکھا تھا۔ اس وقت کو ذاتی ضروریات، گھر کے کام کاج اور اہل خانہ کی تعلیم و تربیت کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

٭ سویرے سونا، آپ کے معمولات میں شامل تھا۔

وقت کو نتیجہ خیز اور مفید طور پر استعمال کرنے کے لیے ضروری ہے کہ درج بالا اصولوں کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔ ہنگامی حالت میں رد و بدل کیا جاسکتا ہے، اس کے علاوہ ذاتی ضرورت اور طبیعت کو بھی پیش نظر رکھ کر پروگرام بنایا جاسکتا ہے۔

بالعموم وقت کی تنظیم ان لوگوں کی سب سے بڑی ضرورت ہے جو اپنے وقت کے خود مالک نہیں ہوتے بلکہ اپنے وقت کو معاوضہ کے عوض کسی فرد یا ادارے کے سپرد کردیا ہوتا ہے اس کے برخلاف جو لوگ اپنے وقت پر قادر ہیں ان کے لیے یہ چیز اتنی سنگین نہیں۔ معاملہ کسی کا کیوں نہ ہو۔

اس بات کو ہمیشہ ذہن میں مستحضر رکھنے کی ضرورت ہے کہ وقت کی تنظیم ان اجزا میں سے ایک ہے جن پر کامیابی یا ناکامی کا انحصار ہے۔

دفتر میں کام کرنے والوں کے لیے وقت کی تقسیم اور پھراس کے لحاظ سے تعین کار ایک اہم مسئلہ ہے۔ اس میں ذاتی ذوق اور طبیعت کا بھی خاصا عمل دخل ہے۔ کوئی ایسا کلیہ پیش کرنا جو ہر ایک کے حسب حال ہو آسان نہیں۔

وقت کی تنظیم کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اس کی اہمیت کا شعور رہے اور حتی المقدور اسے صرف اور صرف ضروری اور نتیجہ خیز کاموں میں استعمال کیا جائے۔

اس بات کا تذکرہ یہاں پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ہر شخص کو یومیہ ۲۴ گھنٹے ہی عطا کیے ہیں اور ان ہی کا استعمال کر کے عظمت کی منزل حاصل کی جاسکتی ہے اور بالآخر فوز و فلاح سے ہمکنار ہوا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کبھی بھی ان لوگوں کی سوانح پڑھی جائے جنہوں نے تاریخ کے صفحات پر اپنے اپنے نقش چھوڑے ہیں تو دو باتیں سب میں قدر مشترک کے طور پر سامنے آتی ہیں:

۱- ذہنی یکسوئی

۲- وقت کی قدر و قیمت کا شعور

یہاں صرف دو مثالیں پیش کی جاتی ہیں۔ کسی نے حضرت لقمان سے ان کی عظمت کا سبب پوچھا: انہوں نے فرمایا:

٭ اللہ کا فضل

٭ امانت کی ادائیگی

٭ سچائی

٭ بے نفع کاموں کو چھوڑ دینا۔

ایک موقع پر مولانا اشرف علی تھانویؒ نے مفتی شفیع کو تین باتوں پر عمل کرنے کی نصیحت کی۔

٭ تقویٰ اختیار کرنا

٭ لایعنی کام، کلام، مجالس، ملاقات سے پرہیز، لایعنی سے مراد وہ کام ہیں جن سے نہ دین کا فائدہ ہو اور نہ ہی دنیا کا۔

٭ بقدر ہمت و فرصت تلاوت قرآن روزانہ کرنا

دونوں واقعات اس بات کی غمازی کر رہے ہیں کہ عظمت کا حصول وقت کی تنظیم کے بغیر ممکن ہی نہیں۔

وقت کیوں کر بچایا جاسکتا ہے

اللہ ہی ہے جس نے ہرچیز کی تخلیق کی ہے اور پھر اس کی ایک تقدیر مقرر کی ہے۔ تقدیر مقرر کرنے میں اس کی صورت، جسامت، قوت و استعداد، اوصاف و خصائص، کام اور کام کا طریق، بقا کی مدت، عروج و ارتقاء کی حد اور دوسری وہ تمام تفصیلات مقرر کی ہیں جو اس چیز کی ذات سے متعلق ہیں۔ ہر چیز کی عمر یا مدت زیست کا بھی تعین ہوچکا ہے، عام بول چال میں تو یہی کہا جاتا ہے کہ تخلیق یاوجود کے بعدوقت کے ساتھ ساتھ اس کی عمر بڑھ رہی ہوتی ہے لیکن فی الحقیقت اس کی مدتِ بقا بتدریج کم ہو رہی ہوتی ہے۔ یہ عمل اس لیے ہوتا ہے کہ وقت ایک ہی سمت میں حرکت کر رہا ہے۔ اس لیے جو وقت گزر گیا اسے کسی بھی حال میں واپس نہیں لایا جاسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ وقت جو اپنے مقصد حیات سے قریب ہونے کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا اسے ضائع ہونے کے زمرے میں شمار کیا جاتا ہے۔

کون سا وقت مفید کاموں میں استعمال ہو رہا ہے اور کتنا وقت ضائع ہو رہا ہے یہ معلوم کرنے کے لیے خاصا اہتمام کرنا پڑتا ہے۔ اب چوں کہ وقت بہت ہی قیمتی چیز ہے اس لیے اس اہتمام کو کرنے میں جتنی بھی محنت کی ضرورت ہو ضرور کرنی چاہیے۔

اس کام کے لیے بالعموم روزانہ کے تمام معمولات کو پندرہ پندرہ منٹ کے وقفے سے کم سے کم دو ہفتہ تک بلا ناغہ درج کیا جاتا ہے اور پھر اس کا جائزہ لیا جاتا ہے۔اس جائزہ کے نتیجہ میں دونوں پہلو سامنے آجاتے ہیں اور اجتماعیت کو وقت کی تنظیم کاجائزہ لینے کے لیے ایک جامع اور قابل عمل منصوبہ بنانا چاہیے۔ جس پر عمل پیرا ہوکر (انفرادی لحاظ سے) وقت بچایا جاسکتا ہے، جسے بالآخر دعوت و تبلیغ کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

جب کبھی ہم سے دعوتی و دینی کاموں کے بارے میں سوال ہوتا ہے تو بالعموم یہی دفتری یا معاشی مصروفیتوں کا رونا روکر پیچھا چھڑا لیا جاتا ہے۔ بہانے کے طور پر تو یہ بہت ہی عمدہ جواب ہے لیکن جب ہم لوگوں کی مصروفیات کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لیتے ہیں تو بادل ناخواستہ یہ کہنا پڑتا ہے کہ اکثر مسلمانوں نے اپنے مقصد وجود کو نہیں سمجھا ہے جو تعلیم و تربیت اور قرآن، حدیث، سیرت اور دینی لٹریچر سے دوری کا نتیجہ ہے یا وقت کے معاملہ میں انتہائی غیر منظم ہیں۔ سبب جو بھی ہو، نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ ایسے تمام لوگ ذیل کے کام کے لیے وقت کا ایثار پیش کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔

اس لیے ذرا اس بات کاجائزہ لیا جائے کہ ایک عام ملازم پیشہ اپنے ۲۴ گھنٹے کس طرح استعمال کرتا ہے۔ اس وقت ملک میں دو متوازی نظام عمل چل رہے ہیں۔ پانچ دن فی ہفتہ اور چھ دن فی ہفتہ ظاہر ہے کہ چھ دن فی ہفتہ کی صورت میں یومیہ مدت کار کم ہو جائے گی۔ عام صورت حال کو پیش نظر رکھنے کے لیے چھ دن فی ہفتہ اور ہر دن آٹھ گھنٹے مدت کار کی بنیاد پر حساب لگایا جارہا ہے۔ ہر دن آٹھ گھنٹے معاش کے لیے، دو گھنٹے آمد و رفت کے لیے، سات گھنٹے نیند اور آرام کے لیے، تین گھنٹے صلوۃ و طعام کے لیے اور دو گھنٹے اہل خانہ کے لیے۔ اس طرح تمام فرائض اور واجبات کی ادائیگی کے بعد بھی دو گھنٹے یومیہ بچ رہتے ہیں جنہیں اپنی صواب دید کے مطابق استعمال کیا جاسکتا ہے۔ لہٰذا چھ دنوں میں بارہ گھنٹے کی بچت ہوئی۔ ساتواں دن جو چھٹی کا دن ہوتا ہے اس دن دس گھنٹے کی بچت ہوگی یوں ایک ہفتہ میں بائیس گھنٹے بچ گئے۔ نتائج کا انحصار اس بات پر ہے کہ یہ بائیس گھنٹے کس طرح اور کہاں استعمال کیے جاتے ہیں اس وقت کا بیشتر حصہ ذاتی مطالعہ، تزکیہ اور اضافی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے استعمال کیا جائے اور صرف بیس فیصد وقت دعوت و تبلیغ کے لیے مختص کر دیا جائے تب بھی چار چار گھنٹے اس اہم کام کے لیے نکل آتے ہیں جس سے استفادہ کرتے ہوئے ہفتہ وار اجتماعات میں شرکت، علاقے کے تبلیغی وفود میں شرکت، اعانت کی وصولی، دعوتی مقصد سے ذاتی ملاقاتیں، احباب سے ملاقات اور دعوت سے متعلق دوسرے کام بہ آسانی کیے جاسکتے ہیں۔پس اس تجزیہ سے معلوم ہوا کہ دعوتی کام سے اعراض کا سبب وقت کی تنگی ہرگز ہرگز نہیں ہے۔

وقت کی بچت کے سلسلے میں سب سے زیادہ ممد و معاون وہ شعور ہوتا ہے جو انسان وقت کی نسبت سے اپنے اندر پیدا کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ کچھ دیگر اجزاء بھی ایسے ہیں جن پر ہماری نظر رہنی چاہیے ان میں سے بعض کا یہاں ذکر کیا جاتا ہے۔

۱- تمام کاموں کے لیے ترجیحات کا تعین ضروری ہے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ کام کرنے والوں کو معلوم ہوجائے گا کہ کس کام کے لیے کتنی محنت کرنی ہے اور کتنا وقت دینا ہے۔

۲- صحیح منصوبہ بندی

۳- ہر کام کے لیے صحیح اور مناسب طریقہ کار

۴- ہر کام کے لیے وقت کا تعین

۵- ٹیلی فون کے استعمال میں احتیاط۔

بسا اوقات بہت ہی غیر ضروری باتیں سامنے آجاتی ہیں اور کبھی دوسری جانب سے غیر متعلقہ باتیں اور تفصیل بیان کی جاتی ہیں، ایسے مواقع پر حکمت سے کام لیتے ہوئے مختصر کرنے کی کوشش ہونی چاہیے۔ بلا وجہ بھی اسے استعمال کرنا مناسب نہیں۔

۶- فضول گوئی سے اجتناب

۷- چھوٹے چھوٹے معاملات پر فیصلے جلد ہوجایا کریںـ۔

۸- کام کا آغاز صبح سویرے کیا جائے۔

۹- بے جا مداخلت سے پرہیز۔

۱۰- بعض معاملات میں انکار کر دینا یا منفی جواب دینا مثلاً یہ کہہ دینا کہ یہ نہیں ہوسکتا، معذرت خواہ ہوں، ممکن نہیں، اصول کے خلاف ہے میرے پاس وقت نہیں، کسی اور وقت رجوع کریں وغیرہ۔ کچھ لوگ اس رویہ کو رواداری کے خلاف سمجھتے ہیں جب کہ سیرت میں کئی ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں آپؐ نے انکار کیا۔ خود کلمہ طیبہ کی ابتدا تمام الہ کے انکار سے شروع ہوتی ہے۔

۱۱- دو یا دو سے زیادہ کام بیک وقت کرنا مثلاً ناشتہ کرنا اور ریڈیو سے خبریں سننا، دفتر جاتے ہوئے سواری پر اخبار پڑھنا، چہل قدمی کرنا اور معمول کے وظائف کی تکمیل، جہاز کے سفر میںلکھنا پڑھنا…

جس طرح اور چیزوں میں برکت ہوتی ہے اسی طرح وقت میں بھی برکت ہوسکتی ہے لیکن اس کے لیے تقویٰ کی روش ضروری ہے۔

آخری بات

سب کچھ جان لینے کے بعد کہ وقت کی حقیقت کیا ہے، اس کی اہمیت کیا ہے اور اسے کیوں کر بچایا جاسکتا ہے۔ ایک سوال اب تک رہ گیا ہے وقت کس لیے بچایا جائے؟ کارخانے دار تو ایک چیز کو بنانے میں وقت اس لیے بچانا چاہتا ہے تاکہ اس کی قیمت میں کمی واقع ہو، اس طرح ایک خاص مدت میں زیادہ تعداد میں بنا کر زیادہ منافع حاصل کرسکے۔ مغربی دنیا وقت بچا کر سالانہ تعطیل کی میعاد میں اضافہ چاہتی ہے۔ ہم وقت بچا کر کیا کریں گے؟ ہمارا بچاہوا وقت اللہ کے دین کو اس کی سر زمین پر قائم کرنے میں لگایا جائے گا۔ ظاہر ہے کہ جب اس کام کو زیادہ لوگ کرنے لگیں اور زیادہ محنت اور ہوشیاری سے کیا جائے تو نتیجہ مقابلتاً جلد سامنے آسکتا ہے۔ میری یہ دعا ہے کہ ایساہی ہو۔(ایشیا، اگست ۸۷سے)

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر منصور علی

تبصرہ کیجیے