ازدواجی زندگی کا اہم پہلو

میرے جاننے والوں میں ایک شخص کا اپنی بیوی سے ہمیشہ جھگڑا رہتا تھا۔ ان دونوں کی کوئی گھڑی سکون اور عافیت سے نہیں گزرتی تھی۔ اگر بیوی نے ہاں کہا تو انہوں نے نہیں اور اگر انہوں نے ہاں کہا تو بیوی نے فوراْ اسے رد کر دیا۔ یہاں تک کہ اگر وہ کسی چیز کو سفید کہتے تو بیوی اسے سیاہ کہتی اور بیوی اسے سیاہ کہتی تو وہ اسے سفید کہتے۔ اسی طرح دونوں ہر بات میں بالکل متضاد رائے کا اظہار کرتے تھے۔ کھانا پکانے، جھاڑو دینے، گھر سجانے اور دستر خوان پر بچوں کی نگہداشت اور خادم سے کام لینے میں ایک دوسرے سے اختلاف رکھتے تھے، لوگ انہیں ہر وقت جنگ و پیکار میں سرگرم دیکھتے۔ ہر وقت جنگ کی تیاری، آستینیں چڑھی ہوئیں۔ ہر ایک، ایک دوسرے کی گھات میں لگا رہتا تھا۔

نوبت یہاں تک پہنچی کہ ہر صبح خیال ہوتا کہ ان دونوں کا یہ آخری دن ہے اور اس کے بعد طلاق، اور جب شام آتی تو معلوم ہوتا کہ یہ آخری رات ہے اور اس کے بعد جدائی۔

وہ میرا دوست تھا! ایک دن میں نے اس سے کہا کہ بھئی کیا تم میری ایک بات مان لوگے!

اس نے کہا ’’وہ کیا ہے؟‘‘

میں نے جواب دیا کہ میرے پاس تم دونوں کا علاج ہے! اگر تم اس کا تجربہ کر لو تو تمہارا گھر، امن و عافیت اور محبت و الفت کا گہوارہ بن جائے گا۔

اس نے بے قراری سے سوال کیا: ’’وہ کیا؟‘‘

میں نے کہا: ’’میرے دوست تم دونوں میدانِ جنگ کے دو دشمن سپاہیوں کی طرح ہو۔ ہر ایک کو امن کی خواہش ہے۔ اور عافیت کی آرزو، لیکن ڈر ہے کہ کہیں اگر وہ اپنا ہتھیار کھول کر سوگیا تو دوسرا حملہ نہ کردے۔ اس وجہ سے دونوں ہر وقت جنگ کی تیاری میں رہتے ہیں لیکن اگر کبھی ایک سپاہی اپنے مقابل کو امن پسندی سے مطمئن کردے تو دونوں میٹھی نیند سوئیں اور کسی قسم کے خوف کا ان میں مطلقاً اندیشہ نہ رہے۔ تو کیا جاکر تم اپنی بیوی سے یہ کہوگے کہ میں نے یہ طے کرلیا ہے کہ اب کبھی بھی غصہ نہیں کروں گا اور نہ کسی کام کے کرنے پر عتاب کروں گا نہ کسی چیز کے کرنے سے تمہیں روکوں گا؟‘‘

اس نے گھبرا کر کہا ’’پھر وہ گھر کو درہم برہم کردیں گی اور سب کچھ بگاڑ کر رکھ دیں گی۔‘‘

میں نے کہا: ’’جی نہیں بلکہ وہ سب کچھ بنائیں اور سنواریں گی، تم تجربہ کر کے دیکھو۔‘‘ تھوڑی دیر کے بعد وہ راضی ہوگئے اور مجھ سے عہد و پیمان کیا کہ اب وہ ہمیشہ ہشاش و بشاش رہیںگے۔

ان کی بیوی انہیں پورے دن شک کی نگاہ سے دیکھتی رہیں اور اسے انہوں نے اپنے شوہر کا کوئی داؤ سمجھا مگر جب انہیں شک نہ رہا تو سکون و اطمینان سے کام شروع کر دیا۔

ان کا یہ دن اس طرح گزرا کہ گویا جنت کے دنوں میں سے ایک دن تھا جس میں نہ شور و شغب تھا اور نہ بدمزگی اور چپقلش تھی۔ پھر ہمیشہ کے لیے ان کا یہی رویہ ہوگیا اور آج ایک سال گزر چکا ہے لیکن نہ وہ لڑے نہ جھگڑے اور نہ کوئی اختلاف ہوا اور اس طرح ان کی زندگی امن و عافیت اور خوشی و مسرت سے مالا مال ہوگئی۔ کیا قارئین حجاب میں سے کوئی اس تجربہ کے لیے تیار ہے؟

حضرت عمرؓ کے پاس ایک خوب صورت عورت حاضر ہوئی، اس کے ساتھ ایک نوجوان تھا جس کے بال لمبے اور پریشان حال تھے اور اس کا پورا جسم میل کچیل سے اَٹا پڑا تھا۔ مہینوں سے نہ پانی کے قریب گیا تھا اور نہ نائی کی صورت دیکھی تھی۔ اس کے ناخن لمبے ہوکر سیاہ فام اور اتنے گندے ہوگئے تھے کہ دیکھنے والے کو متلی ہونے لگتی تھی۔ اس کے کپڑے اتنے پرانے اور پھٹے ہوئے تھے کہ ان کے رنگ و روپ کا پہچاننا دشوار تھا۔

عورت نے حضرت عمرؓ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ امیر المومنین یہ شخص میرا شوہر ہے اور میرا چچا زاد بھائی بھی ہے لیکن میں اس کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی اس لیے آپ ہمیں جدا کردیں۔

نوجوان نے گھبرا کر کہا ’’امیر المومنین یہ میری بیوی ہے اور ہماری شادی کو صرف دوماہ ہوئے ہیں ابھی تو شادی کے آثار اور خوشیاں بھی نہیں ختم ہوئی ہیں۔ اور یہ طلاق کا مطالبہ کر رہی ہے حالاں کہ میں نے اس کے ساتھ نہ کوئی جرم کیا ہے اور نہ کوئی بدسلوکی۔‘‘

عورت نے کہا: ’’بالکل صحیح ہے اس نے میرے ساتھ کوئی برائی نہیں کی ہے لیکن میں اسے نہیں چاہتی۔‘‘

حضرت عمرؓ نے عورت سے فرمایا: ’’کل آنا۔‘‘

اس کے بعد آپ نے اپنے خادم کو پوری بات سمجھا دی وہ اس نوجوان کو نائی کے یہاں لے گیا۔ اس کے بال ترشوائے اور ناخن کٹوائے پھر حمام لے جاکر خوب اچھی طرح سے غسل کروایا اور اس کے پھٹے پرانے بدبودار کپڑوں کو اتار کر نئے اور صاف ستھرے کپڑے پہنا کر اسے واپس لایا تویہ نوجوان بالکل ہی بدل گیا گویا ازسرنو اس کی تخلیق ہوئی۔ اس کی نوجوانی اور خوب صورتی نکھر آئی اور صحت مند و توانا نظر آنے لگا۔ عورت نے اسے دیکھتے ہی اپنی نظریں نیچی کرلیں۔ اس خیال سے کہ وہ کوئی غیر ہے۔ حضرت عمرؓ نے نوجوان کو اشارہ کیا کہ عورت کو اپنے ساتھ لے جاؤ۔

شوہر کے آگے بڑھتے ہی عورت بپھر پڑی اور اس کا چہرہ غصہ و حیا سے سرخ ہوگیا اور تیزی سے پیچھے ہٹ کر کہا:

’’اے فاسق تو مجھ سے دور ہو! کیا تو امیر المومنین کے سامنے میری پردہ دری کرنا چاہتا ہے؟ چل دور ہو۔‘‘

حضرت عمرؓ نے فرمایا: ’’ارے تیرا بھلا ہو۔ یہ تو تیرا ہی شوہر ہے!‘‘ عورت نے اس نوجوان کو گھور کر دیکھا گویا اپنی آنکھوںپر اعتماد نہیں تھا۔ تھوڑے تردد کے بعد اس نے اپنے سر کو جھکا دیا۔ پھر دونوں خوش خوش گھر واپس ہوگئے۔

اس کے بعد حضرت عمرؓ نے یہ حکیمانہ جملہ ارشاد فرمایا: ان (عورتوں) کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کرو، وہ چاہتی ہیںکہ تم ان کے لیے اچھی صورت و شکل بناؤ جس طرح تم چاہتے ہو کہ وہ تمہارے لیے بناؤ سنگار کریں۔

شیئر کیجیے
Default image
سید اجتباء الحسینی ندوی