2

لوگوں نے خدا کو بھلا دیا ہے!

[ روس کے عظیم نوبل انعام یافتہ جلا وطن ادیب الیگزینڈر سولزنٹسن کی ۳۸ سال پرانی تحریر جو طویل وقت گزرنے کے باوجود زندہ و جاوید معلوم ہوتی ہے۔]
جب بچپن میں، میں اسکول جانے لگا تو میرے اسکول کے ساتھی بچے بچوں کی کمیونسٹ تنظیم کے اشارے پر میرے گلے میں صلیب دیکھ کر مجھے چھیڑتے تھے اور پوچھتے تھے کہ میں اپنی ماں کے ساتھ گرجا گھر کیوں جاتا ہوں؟ روسی انقلاب کے بعد ہمارے شہر میں بس وہی ایک گرجا گھر باقی رہ گیا تھا جہاں میری والدہ مجھے اپنے ساتھ لے جایا کرتی تھی، ایک مرتبہ بچوں نے مجھ پر حملہ کر کے میرے گلے کی صلیب توڑ دی، جب میں صلیب تڑوا کر گھر آیا تو مجھے یاد ہے کہ ہمارے محلے کے بہت سے بوڑھوں کو میں نے یہ کہتے سنا کہ روس پر جو آفتیں نازل ہو رہی ہیں ان کی اصل وجہ یہ ہے کہ لوگوں نے خدا کو بھلا دیا ہے، یہی وجہ ہے کہ مبتلائے عذاب ہو رہے ہیں۔

اس وقت سے لے کر آج تک میں روسی انقلاب کو مسلسل دیکھ اور اس پر غور کر رہا ہوں اور اس پر پچاس برس کی مدت گزرنے کو آرہی ہے، روسی انقلاب کے سلسلے میں میں نے سینکڑوں کتابیں پڑھیں ہزاروں صفحات چھان مارے، او رسینکڑوں ہی لوگوں سے ان کی ذاتی شہادتیں حاصل کیں، انقلاب روس پر میں نے جو لکھا ہے وہ بھی آٹھ جلدوں پر پھیلا ہوا ہے، اس کے باوجود اگر آج مجھ سے سوال کیا جائے کہ اس تباہ کن انقلاب کا اصل سبب کیا تھا جو ہمارے ۶۰ لاکھ افراد کو نگل گیا تو میرے پاس اس کے سوا کوئی جواب نہیں ہے کہ لوگ خدا کو بھول گئے ہیں۔

اگر اس سے بھی بڑھ کر مجھ سے دریافت کیا جائے کہ پوری بیسویں صدی عیسوی کی مرکزی خصوصیت کیا ہے تو میں اس کے سوا او رکچھ بیان نہیں کرسکتا کہ ہمیں اس پر غور کرنا چاہیے کہ ہم اپنے خالق سے کیسے بیگانہ ہوئے ہیں۔ اس صدی کے تمام جرائم کی اصل وجہ ہمارے انسانی شعور کا بتدریج زوال پذیر ہونا ہے جو اپنے مقدس ناطے سے محروم ہوچکا ہے۔

دوستو وسکی (ایک لافانی روسی ادیب) نے ہمیں انتباہ دیا تھا کہ بڑے بڑے واقعات ہمیں اچانک آپکڑیں گے او رہم ان سے عہدہ برآ ہونے کے لیے ذہنی طو رپر تیار نہیں ہوں گے۔ اس کی پیش گوئی سچ ثابت ہو رہی ہے، یہی کچھ ہو رہا ہے، بیسویں صدی الحاد اور اپنے ہاتھوں تباہی کے بھنور میں پھنس کر رہ گئی ہے۔ تباہی اور ہلاکت کے گڑھے میں یہ گراوٹ مقامی نہیں عالمگیر ہے، مشرق و مغرب اس میں مبتلا ہیں۔ پھر یہ گراوٹ ایسی نہیں جو صرف سیاسی نظاموں کی وجہ سے ہو اور نہ یہ محض معاشی اور ثقافتی سطح کی ہے۔

دوستو وسکی کی یہ بات بھی سچ ہے جو اس نے انقلاب فرانس اور اس کی مذہب کے خلاف شدید نفرت کے بارے میں کہی تھی۔ یہ کہ انقلاب کے لیے لازم ہے کہ اس کا آغاز الحاد سے ہو۔ لیکن دنیا نے اس سے قبل انکار خدا اور الحاد کو اس قد رمنظم، گھناؤنی اور جارحانہ شکل میں کبھی نہ دیکھا تھا جیسا کہ کمیونزم نے اختیار کر رکھی ہے۔ مارکس اور لینن کے فلسفیانہ نظام میں اصل قوت محرکہ خدا کے خلاف نفرت اور مبارحانہ الحاد ہے۔ اپنے مقصد کے حصول کے لیے کمیونزم کو بس ایسی آبادی چاہیے جو مذہب سے بیگانہ ہو۔ ملحد دنیا مذہب کی جان کی کس قدر پیاسی، لیکن مذہب اس کے گلے میں کس طرح اٹکا ہوا ہے اس کا اندازہ اس سازش سے ہوتا ہے جو پوپ پال پر ۱۹۸۱ء میں قاتلانہ حملے سے منکشف ہوئی تھی۔

پھر روس میں ــــ جہاں عبادت گاہوں کو پیوند خاک کردیا گیا ہے، جہاں لاکھوں پادریوں، راہبوں اور راہبات کو عقوبت خانوں میں ایذائیں پہنچائی گئیں۔ انہیں تہ خانوں میں بند کر کے گولی ماری گئی۔ پھر انہیں وحشت خیز کیمپوں میں بھیج دیا گیا۔ جہاں فاتحانہ قہقہے لگاتا ہوا الحاد دوتہائی صدی سے پاکوب ہے، جہاں لوگوں کو آج بھی مذہبی عقائد کی بنا پر مشقتی کیمپوں میں بھیجا جاتا ہے۔ اس روش میں مذہبی ایمان آج بھی زندہ ہے۔

اسی بنا پر ہم کو آج بھی اس کی تاریکی میں امید کی کرن دکھائی دیتی ہے۔ کمیونزم اپنے ٹینکوں اور راکٹوں کے ساتھ کتنا ہی ناقابل شکست دکھائی دے یہ نہتے مذہب کے ہاتھوں ضرور شکست کھا کر رہے گا۔

مغرب کو کمیونسٹ حملے کا تجربہ نہیں، یہی وجہ ہے کہ مذہب کو یہاں پر ابھی آزادی حاصل ہے لیکن افسوس کہ مغرب کا مذہبی شعور اب بتدریج مر جھاتا چلا جا رہا ہے۔ قرون وسطیٰ کے بعد سے سیکولرزم مغرب پر غالب آتا چلا گیا۔ ایمان اندر سے کھوکھلا ہوتا جا رہا ہے کیوں کہ ایمان کو اصل خطرہ باہر سے نہیں اندر سے ہوتا ہے۔

مغرب میں اب زندگی کامفہوم اس کے سوا کچھ نہیں رہ گیاہے کہ خوش حالی کی تلاش کی جائے۔ مغرب کے تمام آئین و دساتیر اپنے شہریوں کو اسی کی ضمانت دیتے ہیں۔ خیر و شر کے تصورات ذہنوں سے محو ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ ازلی و ابدی تصورات کے حوالے سے بات اب اچھی معلوم نہیں ہوتی اور یہ بات بھی تکلیف دہ محسوس ہوتی ہے کہ سیاسی نظام میں داخل ہونے سے پہلے شر ہر فرد کے دل میں اپنی جگہ بناتا ہے۔

جب خارج میں حقوق بے لگام ہوں توپھر ذلیل افعال سے بچنے کے لیے کوئی اپنے آپ سعی کیوں کرے؟ نسل، طبقات اور نظریے کی بنیاد پر جھلس دینے والی نفرت سے آخر کوئی بچنے کی کوشش کیوں کرے؟ ملحد معلم جب نسل نو کو خود اپنے معاشرے سے نفرت کی تلقین کرے تو پھر ایسی نفرت دلوں کو اندر سے کیوں نہیں کھا جائے گی؟ جب شخصی آزادیوں میں وسعت ہوگی اور ان کی بنیاد پر خوش حالی میں اضافہ ہوگا تو اس اندھی نفرت میں تضادات اور بھی زیادہ شدید اورنمایاں ہوں گے۔

واقعات عالم پہاڑوں کی مانند جوں جوں ابھریں اورہم پر جھکیں گے ہم کو توں توں محسوس ہوگا کہ ایسے ماحول میں یہ بات کہنی درست نہیں کہ ہمارے عدم وزیست کی کنجی ہمارے اندر پائی جاتی ہے۔ ہماری اس ترجیح میںپائی جاتی ہے کہ ہم خیر کو پسند کرتے ہیںیا شر کو ۔ لیکن میں کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اصلی قابل اعتماد کنجی یہی ہے جتنے بھی سماجی فلسفے آج تک پیش ہوئے ہیں وہ دیوالیہ ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے ہماری انگلی پکڑی اور ہمیں بند گلی میں لاکر چھوڑ دیا۔

جس دلدل میں آج کی دنیا پھنسی ہوئی ہے اس سے نکلنے کا اس کے سواکوئی راستہ نہیں کہ ہم اپنے پروردگار کی طرف توبہ و انابت سے رجوع کریں۔ اپنی زندگی کی تزئین و آرائش کے لیے جو بھی وسائل و ذرائع ہم نے مخصوص کر رکھے ہیں وہ اس کی انجام دہی کے لیے قطعی ناکافی ہیں۔ ہمیں سب سے پہلے اس دہشت کو جاننے اور پہچاننے کی ضرورت نہیں جو ہماری خارج میں واقع ہے یا طبقاتی کشمکش اور قومی دشمنوں کی پیدا کردہ ہے۔ بلکہ اسے شناخت کرنا ہے جو ہر فرد اور ہر سوسائٹی کے باطن میں واقع ہوتی ہے۔

زندگی مادی خوش حالی کا نام نہیں بلکہ روحانی ارتقاء کا نام ہے۔ آپ وہ چیزیں تلاش کریں جو آپ کی روح کو بالیدگی عطا کریں۔ ہماری پوری دنیوی زیست کسی بلند تر ارتقائی حرکت کا ایک مرحلہ ہے۔ مادی قوانین سے نہ تو زندگی کا مفہوم سمجھا جاسکتا ہے نہ اس سے رہ نمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ قوانین طبیعات و عضویات، اس اسلوب کو کبھی منکشف نہیں کر سکتے جس میں خالق ہم سب کے کاروبار زندگی میں مسلسل شریک رہتا ہے۔ اسی طرح پورے کرہ ارض کی زندگی میں بھی وہ مقدس روح پوری قوت کے ساتھ سرگرم عمل رہتی ہے۔

پچھلی دو صدیوں میں جو امیدیں باندھی اور جو خواب دیکھے گئے تھے ان کی طرف پوری توجہ نہیں کی گئی۔ ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ ان سب میں خدا کا مہربان ہاتھ کار فرما تھا۔ حالاں کہ اس توجیہ کی جانب توجہ دینا بھی لوگ پسند نہیں کرتے، اگر ہم اس نقطہ نظر سے اپنی تاریخ کا معالعہ کریں گے تو بیسویں صدی کی غلطیاں ہم پر منکشف ہوں گی اور ہم ان کی تصحیح کی جانب توجہ دے سکیں گے۔

ہمارے براعظم ایک بگولے کے لپیٹ میں ہیں لیکن اسی ابتلاء میں انسانی ہمت و صلاحیت بروئے کار آتی ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
ادارہ

تبصرہ کیجیے