باپ(سچی کہانی )

ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم نمبر۲ پر مسافروں کا ہجوم تھا۔ ہر طرف گہماگہمی اور شور تھا۔ ریلوے کے پرانے لیمپ پوسٹ میںلگا زرد روشنی بکھیرنے والا بلب بمشکل اپنا حلقہ روشن کررہا تھا۔ بلب پر دھواں اور گرد کی اتنی دبیز تہ جم چکی تھی کہ کم روشنی کے باعث ماحول نیم تاریک تھا۔ بلند کھمبوں پر ڈبوں میں رکھے ٹی وی سے نیوز بلیٹن نشر ہو رہا تھا۔

سگریٹ اور ہوٹل کے دھوئیں نے فضا کو سخت آلودہ کیا ہوا تھا۔ پلیٹ فارم پر بلغم اور پان کی پچکاریاں فائن آرٹس کا نقشہ پیش کررہی تھیں۔ دکانوں پر مکھیوں اور مچھروں نے قبضہ گروپ کی طرح روٹیوں اور بسکٹوں کو یرغمال بنا رکھا تھا۔ ہجوم اتنا تھا کہ دھکم پیل ہو رہی تھی۔ رفتار اور ترقی گزیدہ عجلت کے شکار مسافر تیز تیز قدم اْٹھاتے، گرتے پڑتے، اپنی اپنی بوگی کی طرف لپک رہے تھے۔

مسافروں کے ساتھ ساتھ جیب تراش، اْچکے اور بردہ فروش بھی تاک میں تھے۔ نائٹ ڈیوٹی کرکے واپس جانے والے ٹکٹ چیکر اور دیگر عملہ نیند سے بوجھل تھکے تھکے قدموں کے ساتھ ڈگمگاتے قدموں سے گھر جا رہے تھے۔ اس ہنگامہ خیز ماحول میں ایک، عمر رسیدہ بوڑھا ہاتھ میں لاٹھی، دوسرے میں ایک بڑی اور بھاری گٹھڑی اٹھائے ، موٹے عدسوں کی گول عینک لگائے، لڑکھڑاتا ، بمشکل ہجوم کو چیرتا ، ایک ایک بوگی کے قریب جاکر کھڑکی سے اندر جھانک کر آواز دیتا:’’عبداللہ بیٹا! عبداللہ بیٹا!‘‘ جب چار پانچ مرتبہ آواز دینے کے بعد جواب نہ ملتا، تو اپنی عینک درست کرتے ہوئے مسافروں اور پولیس والوں سے دھکے کھاتا ہوا آگے بڑھ جاتا۔

بوڑھا نہایت بے چینی اور فکرمندی سے بیٹے کی جدائی کے صدمے سے کپکپاتی آواز سے اگلی کھڑکی میں جھانک کر پکارتا:’’سوہنے پتر! میرے بیٹے! میں تجھے روکنے یا واپس لینے نہیں آیا۔ بیٹا تونے جانا ہے تو جا، لیکن یہ دیکھ میں تیرے لیے کیا کیا چیزیں لایا ہوں۔ بیٹا! تو جلدی اور ناراضی میں یہ قیمتی سامان گھر بھول آیا تھا۔ میں سامان دینے آیا ہوں۔‘‘

اِسی دوران ایک ٹکٹ چیکر نے بابا کی حالت پر ترس کھاتے ہوئے اس کا کندھا تھپتھپاتے ہوئے پوچھا:’’بزرگو! کسے تلاش کررہے ہو؟‘‘

بوڑھا عینک اور گٹھڑی سنبھالتے ہوئے بولا:’’ بابو جی! میرا بیٹا اعلیٰ تعلیم اور ترقی کے لیے بڑے شہر جارہا ہے۔ وہ گھر سے روانہ ہوتے وقت یہ سامان جو اس گٹھڑی میں بندھا ہوا ہے، بھول آیا تھا، میں اسے دینے آیا ہوں۔‘‘

ٹکٹ چیکر نے کہا:’’بابا جی! آپ ایک طرف کھڑے ہوجائیں۔ اتنے ہجوم میں آپ گر پڑیں گے، آپ کو چوٹ لگ جائے گی۔ آپ گھر واپس چلے جائیں، اس گٹھڑی کو رہنے دیں۔ جو سامان وہ لے گیا ہے وہی کافی ہو گا۔ اگر ضرورت ہو گی تو باقی چیزیں شہر سے خرید لے گا۔ آپ پریشان نہ ہوں، آرام کریں، گھر جائیں۔‘‘

بوڑھے نے نہایت عجز اور منت سے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا:’’بابو جی! ٹھیک ہے، وہ سارا سامان اس کے کام آئے گا۔ لیکن جو سامان اس گٹھڑی میں ہے، وہ اسے کسی دکان سے نہیں مل سکتا۔ آپ کسی طرح میرے بیٹے کو تلاش کردیں۔ اْس تک یہ سامان پہنچا دیں۔ اِس کے بغیر وہ سفر اور پردیس میں کیسے گزارہ کرے گا؟اْس کا ایک ایک دن گزارنا مشکل ہوجائے گا۔‘‘

آخر کار ٹکٹ چیکر نے بوڑھے سے اس کے بیٹے کا نام اور حلیہ پوچھا تاکہ اْسے تلاش کرسکے۔ بوڑھے نے بتایا:’’میرا پتر لمبا چوڑا، کڑیل جوان ہے۔ کھلا ماتھا ہے، گندمی رنگ ہے۔ چہرے پر چھوٹی چھوٹی ڈاڑھی ہے۔ اس کا نام عبداللہ ہے اور آدم پور کا رہنے والا ہے۔ بس تم ڈبے میں جاکر آواز دینا، بھئی عبداللہ کون ہے؟ اْس کا باپ محمد دین اس کا سامان دینے آیا ہے۔ پلیٹ فارم پر انتظار کررہا ہے۔ وہ فوراً آجائے گا۔ بڑا فرمانبردار ہے میرا بیٹا!‘‘

ٹکٹ چیکر کارِ خیر سمجھتے ہوئے ثواب کمانے کی نیت سے مختلف بوگیوں میں عبداللہ کو تلاش کرتا رہا، آواز دیتا رہا، مگر اتنے مسافروں میں اسے تلاش کرنا، ناممکن تھا۔ کافی دیر انتظار کے بعد ٹکٹ چیکر واپس نہ آیا،تو بوڑھے کو سخت پریشانی ہوئی۔

گاڑی کی روانگی کا وقت ہوگیا۔ گارڈ نے سیٹی بجائی اور گاڑی آہستہ آہستہ پلیٹ فارم کو چھوڑتے ہوئے آگے کی طرف رینگنے لگی۔ بوڑھا، بے چینی اور فکر سے بار بار اِدھر اْدھر آنے جانے والے لوگوں میں اس ٹکٹ چیکر کو تلاش کررہا تھا۔۔۔۔لیکن وہ واپس نہ آیا۔ اب گاڑی کی رفتار دھیرے دھیرے بڑھنا شروع ہوئی۔ بوڑھا مایوس ہوکر ایک بوگی کی طرف بڑھا اور ساتھ ساتھ چلتا ہوا ڈبوں کے اندر جھانک کر پھر آواز دینے لگا:’’ عبداللہ بیٹا! یہ اپنا سامان لے لو۔‘‘ لیکن اْسے عبداللہ نہ ملا۔

گاڑی کی رفتار بڑھ گئی۔ ضعیف بزرگ اپنی رعشہ زدہ، کمزور، کپکپاتی ٹانگوں کے ساتھ گاڑی کے ساتھ ساتھ مسافروں سے ٹکراتا، بچتا ہوا، دوڑنے لگا۔ اب وہ تقریباً چیختے ہوئے عبداللہ کو آوازیں دے رہا تھا:’’ بیٹا! اپنا زادِ راہ لے جائو۔ اپنا قیمتی اثاثہ لے لو۔ یہ تمھاری امانت ہے۔‘‘ گاڑی کی رفتار اور تیز ہوگئی تھی۔ بوڑھا بھی تیز دوڑنے کی پوری کوشش کررہا تھا، لیکن اس نے محسوس کرلیا تھا کہ وہ اس رفتار کا ساتھ نہ دے سکے گا۔ ایک پولیس والے نے اس کو پکڑ کر روکنا چاہا، مگر وہ اپنا بازو چھڑا کر دوڑتارہا۔

اچانک سامنے سے اْسے ایک نوجوان دوڑتا ہوا گاڑی کی طرف آتا دکھائی دیا۔ اْس نے ہاتھ جوڑ کر اس نوجوان کو روکا اور کہا:’’بیٹا! خدا کے لیے یہ گٹھڑی کسی طرح میرے بیٹے عبداللہ تک پہنچا دو۔ وہ اسی گاڑی میں سوار ہے۔‘‘ نوجوان کو اس پر رحم آگیا اور گٹھڑی لیتے ہوئے بولا:’’بابا جی! ٹھیک ہے۔ اگر مجھے راستے میں کہیں آپ کا بیٹا ملا،تو یہ سامان اس کو ضرور دے دوں گا۔‘‘

یہ نوجوان بھی اس گاڑی میں سوار ہونے کے لیے آیا تھا۔ اسے بہت جلدی تھی۔ گاڑی نے پلیٹ فارم تقریباً چھوڑ دیا تھا۔ نوجوان بمشکل آخری بوگی کے پائیدان پر اپنا قدم رکھ سکا۔ گاڑی کا دروازہ پکڑنے کی کوشش میں اس کے ہاتھ سے گٹھڑی چھوٹ گئی۔ گاڑی ہوا کے دوش پر سوار ہو چکی تھی اور وہ نوجوان معجزانہ طور پر بچتے ہوئے گاڑی میں سوار ہوگیا۔ گٹھڑی جیسے ہی اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر پلیٹ فارم پر گری، تین اْچکے جو کافی دیر سے مسلسل بابا جی کی گٹھڑی پر نظر رکھے ہوئے تھے، چیل ، کووں کی طرح جھپٹے اور پلک جھپکتے ہی گھڑی اٹھا کر پلیٹ فارم کے عقب میں ٹکٹ گھر کے سامنے ٹکٹ لینے والوں کے ہجوم میں غائب ہوگئے۔

بوڑھا جو پیچھے رہ گیا تھا، لڑکھڑاتا ہوا آرہا تھا اور شور مچا رہا تھا: ’’میں لٹ گیا۔ بچائو! میرا قیمتی سامان اْچکے لیے جارہے ہیں۔‘‘ پھر وہ چلایا:’’او ظالمو! اس میں تمھارے کام کی کوئی شے نہیں ہے۔ یہ میری عمر بھر کی پونجی ہے۔ یہ میرے بیٹے کا اثاثہ ہے۔ خدا کے لیے اسے کچھ نہ کرنا۔ میری گٹھڑی واپس کردو۔ مجھے لوٹا دو۔‘‘

اْنھوں نے بوڑھے کی ایک نہ سنی۔ کچھ دور جاکر جب انھوں نے گٹھڑی کھول کر دیکھی تو اس میں ان کو اپنے مطلب کی کوئی چیزنظر نہ آئی۔چناںچہ وہ انھیں وہیں پھینک کر، ریلوے لائن پھلانگتے ہوئے، اسٹیشن کی دوسری طرف غائب گئے۔ وہ چیختا، ہانپتا، لڑکھڑاتا ہوا، جب وہاں تک پہنچا، تو دیکھا کہ اس کا سارا اثاثہ بکھرا پڑا تھا۔ راہگیراِن اشیا کو پیروںتلے روندتے ہوئے گزر رہے تھے۔ کسی کو پروا نہیں تھی۔ وہ دھاڑیں مار مار کر رورہا تھا۔ کسی نیک دل خاتون نے اس کی حالتِ زار دیکھی تو از راہِ ترحم پوچھا’’باباجی کیا بات ہے؟ کیوں رو رہے ہو؟‘‘

’’کیا بتائوں بیٹی!‘‘ وہ ا پنے صافے سے آنسوپونچھتا ہوا بولا:’’ میرا بیٹا گائوں سے بڑے شہر گیا ہے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے۔ گھر سے چلتے وقت وہ اپنا قیمتی سامان گھر ہی بھول آیا تھا۔ میں وہ سامان اس تک پہنچانے کے لیے آیا تھا۔ گاڑی روانہ ہوگئی پر میرا بیٹا مجھے نہ مل سکا۔ دوسری قیامت مجھ پر یہ گزری کہ تین چار اْچکے میری گٹھڑی لے اْڑے، لیکن ان کم بختوں نے اپنے مطلب کی چیز نہ پاتے ہوئے میری دیسی اور خالص چیزیں زمین پر پھینک دیں۔

اْس نے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کہا:’’بیٹی! کیا بتائوں۔ میں نے اپنی زندگی کے سنہرے سال اس سامان کو جمع کرتے ہوئے صرف کیے۔ یہ میری عمر بھر کی پونجی تھی۔میں نے زندگی اور عمر کے پاٹوں میں اپنی خوشیوں اور غموں کو پیس کر محبت اور متانت کا ستّو تیار کرکے اس گٹھڑی میں رکھا تھا۔ عبداللہ کی ماں نے خاص اپنے ہاتھوں سے ممتا کے گھی میں تل کر شرم و حیا کی پِنّیاں تیار کی تھیں، وہ اسی میں تھیں۔ ہم دونوں کی دعائوں کے سِکے تھے۔ صبر و استقامت کے دانے تھے۔ مدینے کے تاجدار کے اٹل اقوال کے لعل و جواہر تھے اور بہشتی زیور تھا اس میں۔ ہائے ہائے! ان ظالم اْچکوں نے میرے بیٹے کا زادِ راہ لوٹ کر بکھیر دیا۔‘‘

وہ نڈھال سا ہو کر بیٹھا اور حسرت سے اس سامان کو دیکھنے لگا۔ خاتون کے چہرے پر حیرت اور تاسّف کے ملے جلے جذبات تھے۔’’یہ گٹھڑی میرے بیٹے تک ضرور پہنچنا چاہیے تھی کیوں کہ جس سفر پر وہ گیا ہے، راستے میں’’مدرسہ نگر، اسکول سٹاپ، جامعہ جنکشن، مسیت گڑھ(مسجد گڑھ)، مرشد آباد میں ، یہ ساری دیسی اور خالص چیزیں نہیںملتیں جو انسانی صحت کو لاحق ہر بیماری کا شافی و کافی علاج ہیں۔

شہر جانے والے کادل جوہے نا، وہ پتھر کا ہوجاتا ہے اور اللہ نہ کرے، شہر میں کسی کو نمائش اور امارت کا اژدھا ڈس لے، تو بندے کا خون پیلا پڑ جاتا ہے۔ پھر دھیرے دھیرے سفید ہوجاتا ہے۔ بندے میں سانپ والی خصلتیںپیدا ہوجاتی ہیں۔ کسی کی بھی عزت ، جان، مال اور اپنے پرائے کسی کو معاف نہیں کرتا۔‘‘

وہ نیک سیرت خاتون بابا جی کی حالت اور باتیں سن کر دم بخود رہ گئی۔ لیکن اسے بھی اپنے گھر جانے کی جلدی تھی۔ وہ بڑی مشکل سے اپنی آنکھوں میں آئے آنسو روک سکی۔ بابا کی دلجوئی کے لیے اس نے حوصلہ کرکے کہا:’’بابا جی! اب آپ اپنے بیٹے کے لیے خیر وعافیت کی دعا کریں۔

اوپر والا سب سے بہترین نگران ہے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ رخصت ہوگئی، لیکن بوڑھے دین محمد کے آنسوئوں کی نمی کو اپنی آنکھوں میں اور گٹھڑی کی بھینی بھینی خوشبو، اپنے وجدان میں محسوس کررہی تھی۔ دین محمد اس سے بے خبر، گرد آلود اور پیروں تلے روندی ہوئی چیزیں اپنے صافے میں، جس کا ایک سرا آنسوئوں سے تر ہوچکا تھا، باندھ کر واپس گائوں کی طرف اپنی کمزور اور تھکی تھکی ٹانگوں سے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا ہوا جارہا تھا۔

اْس کے الفاظ:’’عبداللہ۔۔۔!عبداللہ بیٹے۔۔۔! یہ گٹھڑی، اپنا قیمتی اثاثہ لے جائو۔۔۔۔‘ فضا میں چاروں طرف گونجتے محسوس ہو تے۔l

شیئر کیجیے
Default image
ہادی حسنین